Raaz E Mohabbat By Mehak NovelR50512 Raaz E Mohabbat (Episode - 1)
No Download Link
Rate this Novel
Raaz E Mohabbat (Episode - 1)
Raaz E Mohabbat By Mehak
چلتے چلتے وہ صحرا میں آ پہنچی تھی جھاں انسان کیا کسی پرندے تک کا نشان نہ تھا اس نے اپنے آس پاس دیکھا صرف ریت ہی ریت تھی اس کا گلا اس حد تک خشک تھا جیسے صدیوں سے پیاسی ہو اوپر سے وہ سورج آب و تاب سے چمک رہا رہا تھا شاید وہ بھی آج اس کی جان کا دشمن بنا ہوا تھا وہ ننگے پاؤں اس صحرا پر دوڑ رہی تھی کیوںکہ اسے اس کے پاس پہنچنا تھا اس سنسان جگہ پے وہیں اس کو بچہ سکتا تھا…….
کتنا بھاگوگی آج تمہارا آخری دن ہے جتنا بھاگنا ہے بھاگ لو پر یاد رکھو جتنا وقت لگاوگی اتنی سخت موت دونگا اس لیے بھتر ہے دوڑنا بند کردو موت سے نھیں بھاگ سکتی تم……..
وہ جو بھاگ رہی تہی اپنے پیچہے وہیں آواز سن کے اس کا جسم کانپنا شروع ہوگیا اس نے پیچہے مڑ کے دیکھا تو ایک 26 سالہ مرد جس نے کالا لباس پہنا ہوا تھا اس کے چہرے پر نقاب تھا اس کی صرف آنکھیں نظر آرہی تھی اس کے ہاتھ میں گن تھی اور وہ اسی کی طرف بڑھ رہا تھا
گوڈ تم نے صحیح فیصلہ کیا ہے روک کر تم نھیں جانتی تمہاری موت مجھے کتنی خوشی دیگے ہاہاہاہاہا وہ پاگلوں کی طرح ہنس رہا تھا
دعا کو اس سے بھت خوف محسوس ہونے اسے لگا شاید اس شخص کا مقصد ہی اس کو مارنا ہے
نھ…..یں پل…..یز نھیں م…..یں نے کچ…….چھ نھیں کیا پلیز نھیں دعا نے اپنے خشک ہوتے ہونٹوں پر زباں پہیرتے کانپتے ہوعے کھا
ہاہاہاہاہاہاہا……مجھے پتا ہے تم نے کچھ نہیں کیا پر اس عبداللہ نے مجھ سے میری زندگی کو چھینا ھے اب میں اس سے اس کی زندگی کو چھیننا چاہتا ہوں اسے بھی تڑپتا دیکھنا چاھتا ہوں اور وہ تبھی ممکن ہے جب تم مرجاؤگی ہاہاہاہاہاہا…..
نھیں میں نھیں جانتی کسی عبداللہ کو آ………….
ابھی اس کی بات پوری بھی نا ھوئ تھی کہ کسے نے اس سیاہ لباس والے کا سر اسکے جسم سے الگ کر دیا………………..
عبداللہہہہہہہہ…… اسی چیخ کے ساتھ اٹھ بیٹھی تھی اےسی چل رہی تھی پھر بھی اسے پسینا آیا ہوا تھا
آپی کیا ہوا آپی آپ ٹھیک تو ہیں آپی… زویا کی آواز نے اسے ہوش کی دنیا میں لایا
کیا وہ سب خواب تھا….
کیا سب آپی کیا آپ نے پھر سے وہیں سب دیکھا ڈریمس میں
ہاں زویا…. وہ اپنی خوف سے تیز ہوتی دھڑکنوں کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تہی اگر وہ سب سچ ہوتا تو یہ سوچ کہ ہی اس کہ روح کانپ جاتی
آپی آپی یہ لیں پانی پییں ….. زویا کی آواز نے اسے سوچوں کے صحر سے نکالا اس نے پانی پیا تو دیکھا رات کے دو بج رہے تھے وہ تہجد کے ارادے سے اٹھے وضو کر کہ تہجد ادا کر کہ جب دعا کیلیے ہاتھ اٹھاۓ تو بے ساختہ اس کی آنکھوں سے آنسوں رواں ہو گۓ
اے میرے رب میں نہیں جانتی کہ جنہیں میں دیکھتی ہوں وہ کون ہے میرے کیوں میں پچھلے چار سال سے اس عبداللہ کو دیکھ رہی یا تو یہ کھنا بھتر ہوگا کہ صرف اس کا نام سن رہی ہوں کیوںکہ آج تک اس کا چہرا تو دیکھا نہیں ہے میں نے اپنے سسکیوں کےساتھ اس نے دعا مکمل کی اور لیٹ گئ جانتی تھی نیند تو آئگی نہیں پر صبح اس کی یونیورسٹی میں پہلا دن ہے اور وہ ان سوچوں کے زیراثر اس کو خراب نہیں کر سکتی اس لئے سونے کی کوشش کرتی رہی………….
