Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raaz E Mohabbat (Episode - 12)

Raaz E Mohabbat By Mehak

آپی کیا ہوا آپ ابھی تک سوئی کیوں نہیں…..رات کے تین بج رہے تھے زویا کو پیاس لگی تو پانی پینے کیلئیے اٹھی دعا کو اٹھا دیکھ کر وہ پریشان ہوئی

ہاں بس نیند نہیں آرہی تھی

کیوں آپی آپ ٹھیک تو ہیں نا زویا نے فکرمندی سے پوچھا

ہاں میں ٹھیک ہوں بس نیند نہیں آرہی تھی

آپی آپ خوش تو ہیں نا آئی مین آپ کو اس رشتے سےکوئی مسلئہ تو نہیں ہے نا آئی مین جب سے رشتے کی بات ہوئی ہے آپ چپ چپ ہیں

اس سوال پے دعا کا دل کیا وہ جی بھر کے روئے اور بتا دے کی وہ اس شادی سے خوش نہں ہے پر کیا کرتی ہاں ہاں میں بھت خوش ہوں تم فکر مت کرو بس کل والا حادثہ دماغ سے نہیں جارہا اور کچھ نہیں میں ٹگیک ہوں تم سوجاؤ

آپی آپ بھی رلیکس ہوکے سوجائیں کل شوپنگ پے چلنا ہے جمعے میں باقی دو دن رہتے ہیں تیاریاں بھی تو کرنی ہے

ہمم ٹھیک ہے……دعا کمفرٹر اوڑھ کے لیٹگئء جانتی تھی نیند تو اسے آئیگی نہیں

_____________________________________

میں پہلی اور آخری بار تم سے پوچھ رہا ہوں پھر نا کہنا میں نے موقعہ نہیں دیا بتا دو مجھے کی کون ہے جو میری فیری کو مارنا چاھتا ہے بتا دو ورنہ تمہارا وہ حال کرونگا کی سوچ کے بھی کانپ جاؤگے

نہیں میں نہیں جانتا اور تم ہو کون سامنے بیٹھے بندے نے کہا

اچھا تم نہیں جانتے نا مجھے چلو اب تم جان لو گے کی کون ہوں میں تم نے اپنی انہیں ہاتھوں سے فون ملایا تھا نا اس شوٹر کو میری دعا کومارنے کیلئیے ڈیارل نے اس کے دونوں ہاتھ کاٹ دیے اور خنڈر نما جگھ میں اس شخص کی چیخیں گونجی

اب بتاؤ اب بھی نہیں جانتے مجھے تم اور تم نےمیری دعا کو تکلیف پہنچائی اس کی سزا تو تمہیں ملے گی پر تم مجھے بتادوگے کی کون ہے وہ شخص تو آسان موت دونگا ورنہ موت کو بھی ترسوگے تم ڈیارل نے شعلہ اگلتی آنکھوں سے اس شخص کو دیکھ رہا تھا

میں نہیں جانتا کی تم کون ہو اور دعا کون ہے نہیں جانتا تم مجھ پے رحم کرو میں سچ میں نا تمہیں جاانتا ہوں نا دعا کو پلیز مجھے چھوڑ دو

تمہیں چھوڑ دوں یہ ممکن نہیں تم نے میری فیری ڈیارل کی فیری کو نقصان پہچانے کی کوشش کی ہے اسے اس کے ڈیارل سے دور کرنے کی کوشش کی ہے اب تمہیں چھوڑ دوں سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے

تتتتتممم ڈیارل ہو……اس شخص نے گھبراتے ہوئے کہا

ہاں دنیا مجھے ڈیارل کے نام سے جانتے ہیں تمہیں پتا ہے ڈیارل کا مطلب کیا ہے ڈیارل مطلب موت کو پکارنا اور تم اس وقت اسی موت کے قبضے میں ہو اب تم مجھے بتا دو کی کون ہے وہ جس نے میری دعا کو تکلیف پہچانے کی کوشش کی ہے ڈیارل نے اس شخص کے بازؤؤں اور اس کے زخم پے ایسڈ پھینکتے ہوۓ کہا

اس وقت اس کی چیخیں گونج رہی تھی

شششش شور مت کرو سر درد ہو رہا ہے آرام سے بات کرو کیوں چیخ رہے ہو ڈیارل نے اپنی خنجر اٹھائی

میں میں میں بتاتا ہوں ڈ ڈ ڈ ی ی ی ار ر رل مجھ۔۔ے اسرار بھائی کی کال آئی تھی پاکستان میں کوئی شوٹر ڈھونڈ کے اک لڑکی کی تصویر بھیجی تھی اسے اٹھانے کیلئے اس سے زیادہ میں کچھ نہیں جانتا مجھے چھوڑ دو میں نہیں جانتا کچھ بھی پلیز مجھے جو پتا تھا بتا دیا اس سے زیادہ کچھ نہیں جانتا میں پلیز مجھے چھوڑ دو ……اس شخص نے درد ضبط کرتے ہوئے اپنی باتیں مکمل کی

ہمم گڈ چھوڑ تو تمہیں سکتا نہیں پر تم نے بتا کے آسان موت چنی ہے ڈیارل نے اس کے کچھ کہنے سے پہلے ہی اپنی تلوار اٹھا کے اس شخص کا سر اس کے جسم سے الگ کردیا

تم نے میری جان کو مجھ سے الگ کرنے کی کوشش کی تھی نا یہیں حال ہونا تھا تمہارا ڈیارل نے اس کے کٹے سر کو دیکھ کے کہا

رضا……ڈیارل نے اپنے آدمی کو بلایا اور وہ بوتل کے جن کی طرح ظاھر ہوگیا اس کے بلانے پر

یہ سب صاف کرو اور اس کا بھی کفن دفن کردو……اس نے اپنے خون سے رنگے ہاتھ رومال سے صاف کیئے

اینڈ مسٹر اسرار میر تیار رہو ڈیارل سے ملنے کیلئیے اگلی باری تمہاری ہے مرنے کی

_____________________________________

ماشااللہ آپی کتنی پیاری لگ رہی ہیں آپ اس دلہن کے جوڑے میں ایک دم آسمان سے اتری حور لگ رہی ہیں آپ بھت پیاری لگ رہی ہیں آج تو دانیال جیجو کے ہوش اڑا دینگی آپ ایسا نا ہو کی وہ آپ کو دیکھ کے آج ہی رخصتی نا کرلیں……….زویا جب روم میں داخل ہوئی تو اسے ڈیپ ریڈ لہنگے جس پے گولڈن کڑھائی کی ہوئی تھی ساتھ گولڈن جیولری برائڈل میک اپ وہ ایک دم ڈول لگ رہی تھی

ٹھینکس……اس وقت اس کا دل کر رہا تھا وہ کہیں بھاگ جائے سب سے دور جہاں کوئی اس کے قریب نا آئے کوئی اسے اس نکاح کا نا کہے یا تو وہ آج ہی مر جاۓ پر اس کا نکاح نا ہو پر شاید آج اللہ پاک نے بھی اس کی ایک نہیں سننی تھی

اچھا آپی آپ ریڈی ہیں نا میں بس یہیں دیکھنے آئی تھی ماما نے کہا تھا کی دیکھ کے آؤں کی آپ تیار ہوئی یا نہیں آپ کو کچھ چاہئیے تو نہیں نا

نہیں میں ٹھیک ہوں تم جاؤ…..دعا نے اپنے بھاری سے لہنگے کو سنبھالنے کی کوشش کی جوکی اس کے نازک سے وجود پے سنورا ہوا تھا

اوہو آپی اس لہنگے میں نہیں چلا جا رہا تو بیٹھ جائیں نا

ہممم اچھا آپی میں چلتی ہوں باھر بہت مہمان ہیں آپ اپنا خیال رکھنا اوکے

زویا کے جاتے ہی اس کی آنکھوں میں رکے آنسوں رواں ہوئے دعا نے اپنے گلے پے پڑے اس لاکیٹ کو اپنے ہاتھوں سے چھوا جو کی باقی گھنوں میں چھپا ہوا تھا اسے یاد ہے جب پارلر والی نے اسے یے لاکیٹ اتارنے کا کہا تو اس نے صاف منع کردیا اور اسے ڈپٹا کی اگر تیار کرنا ہے تو ایسے ہی کرے ورنہ چلی جائے نا جانے کیوں اس لاکیٹ سے ایک الگ سی اٹریکشن ہوگئی تھی جب اس نے سب سامان جلایا تھا تب بھی اسے نا جلا پائی پر ابھی اسے نئی زندگی شروع کرنی تھی اس کیلئیے ضروری تھا کی اپنی پرانی تمام یادیں ختم کردے اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا اسے کہینچنے کیلئیے پر اس سے پہلے کی وہ اسے کہینچتی کسے نے اسے کہینچ کے اپنے طرف کیا وہ سنبھل نا پائے اور وہ جاکے سیدھا اس کے سینے سے ٹکرائی وہ خوشبو پہچاننا اس کیلئیے مشکل نا تھا یہ وہیں نقاب پوش تھا پر یہ یہاں کیسے اور کیا کر رہا تھا

یہیں سوچ رہی ہو نا میں یہاں کیا کر رہا ہوں اپنے اس چھوٹے سے دماغ پر ذیادہ زور نا دو میری جان نا سوچو یہ سب ……ڈیارل نے اسے اپنی باہوں میں قید کیا دعا نے اس کی قید سے نکلنے کی کوشش کی پر اس کی قید بھت مضبوط تھی وہ ٹس سے مس نا ہوا

اہاں بری بات میری جان جب تم میری ہو تو میری پناہوں سے کیوں آزاد ہونا چاہتی ہو ویسے تم اگر ہونا بھی چاہو تب بھی نہیں ہو پاؤگی کیوںکہ میں تمہیں خود سے دور نہیں جانے دے سکتا میری جان ……ڈیارل نے اس کے سر پر بوسہ دیا

ویسے تم گونگی ہو کیا کبھی بولتی ہی نہیں ہو……..ڈیارل کی اس بات پے حرکت کرتی دعا کے ہاتھ رکے اور اس نے حیرت سے اسے دیکھا دعا کی تو ویسے بھی دھڑکنین بے ترتیب ہو رہی تھی اس کی اس بات پے دعا کا چہرا غصے سے لال ہوا

نہیں نہیں تو میں نہیں گونگی آپ ہونگے بہرے جسے سنائی نہیں دیتا …….اس کی پناہوں میں دعا کو یہ۔بھی احساس نا تھا کی وہ کہاں ہے اس وقت وہ کتنی پریشان تھی پہلے اس وقت تو اسے صرف اتنا یاد تھا کی وہ سامنے بیٹھا شخص اس سے باتیں کر رہا تھا

اووو ریئلی تم گونگی نہیں ہو آج پتا چلا ویسے آج تک میرے سامنے کبھی بولا نہیں ہے اس لئیے پوچھا

ہاں کہہ تو وہ صحیح رہا تھا اس کی تو کبھی ہمت ہی نا ہوئی اس کے سامنے بولنے کی …..اس نے دعا کو جب سوچوں میں گم دیکھا تو اس کو بیھوشی کی انجیکشن لگا دی اور دعا اس کی باہوں میں جھول گئی

تم صرف میری ہو صرف عبداللہ کی میری جان اس نے اس کے بیہوش وجود کو باہوں میں اٹھایا اور جس راستے سے آیا تھا اسے سے چل دیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *