Raaz E Mohabbat By Mehak NovelR50512 Raaz E Mohabbat (Episode - 17)
No Download Link
Rate this Novel
Raaz E Mohabbat (Episode - 17)
Raaz E Mohabbat By Mehak
فیری۔۔۔۔ڈیارل نے روم میں داخل ہوتے اسے پکارا
جی بولیں۔۔۔۔۔۔۔
ریڈی ہوجائو شوپنگ پے چلنا ہے۔۔۔۔۔۔۔
پر ایسے کیسے اس نے اپنی شرٹ اور جینس کی طرف اشارہ کیا جو کی اس نے ڈیارل پہنی ہوئی تھی
اچھا رکو ایک منٹ۔۔۔۔۔۔وہ اسے کہہ کے الماری سے کچھ تلاش کرنے لگا
یے لو۔۔۔۔۔۔اس نے ایک پنک کلر کا عبایا اور اسکارف اسے دیا
یے تمہارے پاس کہاں سے آیا جب کی آپ کے گھر پے تو کوئی لڑکی ہی نہیں ہے نا تو یے کہاں سے آیا ۔۔۔۔۔۔فیری نے اس عبایا کو پکڑا اور اس سے انویسٹیگیشن کرنے لگی وہ نہیں جانتی تھی کیوں شاید وہ نکاح کے دو بولوں کا اثر تھا
میری ایکس جی ایف کا تھا یے۔۔۔۔۔ڈیارل نے شرارت سے کہا
اوہ تو تمہاری جی ایف بھی تھی۔۔۔۔۔۔دعا نے اسےگھورا
ہاں فیری۔۔۔۔ڈیارل نے اس کے چہرے کےتاثرات نوٹ کرنا چاہے
کتنی جی ایفس تھی آپ کی۔۔۔۔۔
یہیں کئی بیس چالیس ۔۔۔۔۔۔۔۔ڈیارل نے لاپراہی سے جواب دیا
بیس چالیس۔۔۔۔۔۔دعا کا حیرت سے موں کھلا
ہاں بس بیس چالیس۔۔۔۔۔۔۔ڈیارل اپنی بات کہہ کے اس کی جعاب کے انتظار میں تھا پر کوئی جواب نا ملنے پے اس نے چہرہ اٹھا کے اسے دیکھا جس کی آنکھوں میں نمی تھی
یار میری کوئی جی ایف نہیں تھی فیری میرے لئیے میری پہلی اور آخری محبت تم ہی ہو میری جان بس تم تم سے میری زندگی شروع ہوتی ہے اور تم پے ختم تم میری روح ہو یو آر مائے سائول مائیے جان یو آر مائے ایوری تھنگ تم جانتی ہو تمہاری دھڑکنوں سے میری دھڑکنیں چل رہی ہے تمہاری سانسوں سے میری سانسیں تم ہو تو میں ہوں فیری ہے تو اینجل ہے ۔۔۔۔۔۔۔ڈیارل نے کھینچ کے اسے اپنے سینے سے لگایا
تو یے عبایا کس کا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔دعا نے معصومیت سے پوچھا جس پے ڈیارل کا دل چاہا وہ اپنا سر پھوڑ لے اس نے اسے اتنا سمجھایا تھا پھر بھی وہیں بات
یار یے تمہارے لئیے لیا تھا فیری میری جان ۔۔۔۔۔۔۔۔
اوہ۔۔۔۔۔
اچھا اب اسے پہن کے نیچے آئو میں انتظار کر رہا ہوں تمہارا ۔۔۔۔۔۔۔ڈیارل نیچے چلا گیا اور دعا نےجلدی سے عبایا پہنا اور نقاب کیا تیزی سے نیچے آئی و
اوہو تو باھر جارہے ہیں نیو کپلس ویسے ڈیٹ پے جارہے ہو یا ہنی مون۔۔۔۔۔۔۔حال میں ٹے وے دیکھتے اسد نے کہا
نہیں نہیں ایسا کچھ نہیں بس وہ نیری ڈریسس نہیں تھی تو شوپنگ پے جارہے ہیں اور کچھ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔دعا کے گال اس کی بات پے لال ہوئے تھے وہ تو شکر تھا کی۔نقاب میں تھی ورنہ اسد نے پھر سے کوئی مذاک کرنا تھا
اوہ اچھا تو جائو نا اینجل کو ویٹ بلکل پسند نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
ہاں ہاں ۔۔۔۔۔یے کہتے ہی وہ باھر کی طرف دوڑی وہ کار میں ہی اس کا ویٹ کر رہا تھا اس نے اسے آتا دیکھا تو فرنٹ ڈور اوپن کیا اور وہ بیٹھ گئی اس کے بیٹھتے ہی اس نے گاڑی اسٹارٹ کی۔۔۔۔۔۔۔
یے کیا سونگ لگایا ہے آپ نے ۔۔۔۔۔۔ اینجل نے کوئی سونگ لگایا تھا جوکی دعا کی تو سمجھ میں ہی نہیں آیا کی کس زبان میں ہے۔۔۔۔۔
یے اٹیلک سونگ ہے کیوں اچھا نہیں لگا۔۔۔
اچھا تو تب لگے گا جب سمجھ آئے گا پتا نہیں کیا کہہ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا جانے من چلیں ہم سونگ اوف کردیتے ہیں آپ ہی سونگ سنا دیں۔۔۔۔۔
مجھے سونگ نہیں آتے۔۔۔۔۔
اچھا جی۔۔۔۔یے بتائو آپ کا فیورٹ کلر کونسا ہے
وائیٹ۔۔۔۔دعا نے ایک لفظی جواب دیا۔۔۔اور آپ کا
ریڈ۔۔۔۔۔اچھا کھانے میں کیا پسند ہے۔۔۔ڈیارل نے اس سے پھر سوال پوچھا آج وہ اس کے پسند کے بارے میں سب جاننا چاہتا تھا اور باقی کا سفر بھی اس نے ایسے ہی چھوٹے چھوٹے سوال جواب میں گذرا اورایک مال کے باھر اس ے گاڑی روکی۔۔۔
______________________________________
وہ پچھلے چار دن سے لگاتار دن رات بغیر آرام کے ڈیارل کا پتا لگوا رہا تھا ابھی بھی وہ صغیر کی کال کا ویٹ کر رہا تھا کیوںکی اس نے کہا تھا کی آج وہ اسے پکی چبر دے دے گا کی ڈیارل کہاں اور وہ پچھلےایک گھنٹے سے بے صبری سے صغیر کی کال کا انتظار کر رہا تھا جانتا تھا اگر ڈیارل کا پتا نا چلا تو کنگ اسے ماردے گا اور وہ کنگ کےہاتھوں تو بلکل نہیں مرنا چاہتا تھا ابھی تو اسے دعا کے ساتھ زندگی گذارنی تھی
ہیلو صغیر کچھ پتا چلا۔۔۔۔صغیر کی کال آتے ہی اس نے بے صبری سے پوچھا
یس سر مجھے پتا چل گیا ہے کی ڈیارل کہاں ہے۔۔۔۔۔۔
جلدی بتائو ڈیارل کہاں ہے۔۔۔۔۔۔۔دانیال نے بے صبری سے پوچھا اسے انتظار نہیں ہورہا تھا پچھلے ایک سال سے وہ جس کی تلاش میں تھا اس کا پتا چل گیا تھا
سر ڈیارل اس وقت اٹلی میں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
پکی بات ہے نا۔۔۔۔۔۔۔
جی جی سر پکی انفارمیشن ہے۔۔۔۔۔
اٹلی میں کہاں ہے کچھ پتا ہے تمہیں۔۔۔۔۔
نہیں سر مجھے وہ نہیں پتا بس اتنا ہی پتا لگوا سکا ہوں۔۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے ارجنٹ اپنی اور میری ٹکٹ کروائو اٹلی کی۔۔۔یے کہتے دانیال نے کال رکھ لی مسٹر ڈیارل آرہا ہوں میں تیار رہو ڈیارل شاھ یے بازی دانیال شاہ کی ہے
_________________________________
اینجل نے فیری کو ڈھیر ساری شوپنگ کرائی تھی اس نے جس چیز کی طرف پسندیدگی سے دیکھا بھی تھا وہ اس کو لے کر دی تھی
بس اینجل اب میں تھک گئی ہوں۔۔۔۔۔پچھلے چار گھنٹوں سے مسلسل شاپنگ کر رہی تھی اب وہ واقعی بھت تھک گئی تھی
بس اتنی سی شاپنگ۔۔۔۔
ہیں یے اتنی سے اتنی ساری شاپنگ تو کی ہی کیا اب پورا مال خرید لوں
اچھا چلو کچھ کھاتے ہیں وہریسٹورینٹ کی طرف آئے
اگر چاہو تو وہ بھی خرید کے دے دوں گا۔۔۔۔۔۔
میں جو کہوںگی وہ دوگے مجھے۔۔۔۔۔۔دعا نے آنکھوں میں حسرت لیے اسے دیکھا
ہاں مانگ کے تودیکھو پوری دنیا تمہارے قدموں میں لا دونگا
اچھا تو پلیز مجھے میری فیملی کے پاس واپس بھیج دو۔۔۔۔۔۔۔دعا نے اپنی بات کہی جو وہ کب سے کہنا چاھ رہی تھی
مائے فیری شاید میں نے صبح بھی تم سے کہا تھا کی تمیں مجھ سے کوئی جدا نہیں کر سکتا کوئی بھی نہیں اس لئیے ان فضول سوچوں کو اپنے دماغ سے نکال دو مائے انوسینٹ فیری۔۔۔۔۔۔ڈیارل نے اپنا غصہ ضبط کیا وہ ہی جانتا تھا اس کی بات پے اسے کتنا غصہ آیا تھا اگر اس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ اب تک اس کی جان لے لیتا پر وہ اپنی فیری کو ڈرانا نہیں چاہتا تھا وہ اس کیلئے اس کا اینجل رہنا چاہتا تھا ڈیارل نہیں۔۔۔۔۔۔اس کی بات پے فیری نے کوئی جواب نہیں دیا پر اینجل اس کی آنکھوں کی نمی کو دیکھ چکا تھا
دیکھو میری جان میں تمہیں چھوڑ تو نہیں سکتا پر ہاں بھت جلد تمہیں اپنی فیملی سے ملوائونگا آئے پرامس نیری جان بھت جلد ملوائونگا
سچی۔۔۔۔اس نے اسے ایک امید سے دیکھا
مچی میری جان بھت جلد ملوائونگا میں نے واعدہ کیا ہے اور اینجل اپنے واعدے نہیں توڑتا۔۔۔۔۔۔اس کے لہجے میں یقین تھا جس سے دعا محفوظ ہوئی تھی اور باقی کا وقت انہوں نے خوشی خوشی کھانا کھایا اور پھر گھر کیلئے نکل گئے
____________________________
عمر اسے باہر گھمانے لایا تھا شاید اس کا موڈ کچھ ٹھیک ہوجائے کیوںکی وہ اپنی باندری کو یوں اداس نہیں دیکھ سکتا تھا
باندری آئیسکریم کھائوگی۔۔۔۔
پہلی بات میں باندری نہیں ہوں دوسری بات مجھے آئیسکریم نہیں کھانی۔۔۔۔۔۔
زویا تمہیں پتا ہے جب تمہارا ایسے غصے سے موں پھولا ہوتا ہے نا تب تمہارا موں بلکل تربوز جیسا لگتا ہے
اوہ تو تمیں میں تربوذ لگتی ہوں خود کی شکل دیکھے ہے آئینے میں
الحمدللہ ایک دم ہیرو جیسا ہوں
ہوں بڑا آیا ہیرو تمہاری شکل دیکھ کے تو الٹی آنے لگتی ہے۔۔۔۔
وہ کہتے ہیں نا ہیرے کی پہچان صرف جوئری کو ہوتی ہے ویسے ہی ہیرو کی پہچان صرف ہیروئن کو ہوگی باندری کو نہیں۔۔۔۔وہ اس کا موڈ ٹھیک کرنا چاہتا تھا جس میں وہ کامیاب ہورہا تھا
اچھا میں تو جارہا ہوں آئیسکریم کھانے تمہیں کھانی ہے تو آجائو۔۔۔
بھائی دو چاکلیٹی کون دینا۔۔۔۔۔وہ آئیسکریم لے کے اس کے پاس آیا
دو کیوں لی میں نے کہا تھا نامجھے نہیں کھانی۔۔۔۔زویا نے نخرے دکھائے اور عمر اس کا ہر نخرہ اٹھانے کیلئے تیار تھا بس وہ خوش ہوجائے
میں تو اپنے لیے لایا ہوں دونو۔۔۔
اس کے جواب پے زویا کو غصہ آیا اسے لگا وہ اسے منتیں کرے گا پر نہیں وہ تو الٹا اسے ہی سنا رہا تھا
اوہ کتنی ٹیسٹی ہے وائو اتنی ٹیسٹی آج تک کبھی نہیں کھائی۔۔۔۔۔۔وہ اسے جان بوجھ کے چڑا رہا تھا وہ جانتا تھا کی اسے آئسکریم بھت پسںند ہے وہ کبھی منع نہیں کرے گی آئیسکریم کیلئیے
ادھر دو دوسری مجھے ۔۔۔۔۔زویا نے اس کے ہاتھوں سے دوسری آئسکتیم لی اور کھول کے کھانے لگی
پر تمہیں تو کھانی نہیں تھی۔۔۔۔عمر نے شرارتن سوال کیا
وہ تم اتنی منتیں کر رہے تھےتو سوچا کھالوں۔۔۔
میں نے کب منتیں کی تمہیں۔۔۔۔۔
وہ وہ تم دو کھائوگے تو گلا خراب ہوجائے گا نا اس لیے بس کھا رہی ہوں۔۔۔۔۔کتنے سوال کرتا ہے باندر
اوہ اچھا۔۔۔۔۔۔اور ایسے ہی باتوں باتوں یں گھر آگیا تھا زویا اپنے روم میں چلی گئی تھی اس کاموڈ کچھ حد تک ٹھیک ہوچکا تھا
ہائے ڈیارل بھائی یے کیا کردیا آپ نے اپنی جان کو تو لے گئے پر میری باندری کو اداس کردیا
