Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raaz E Mohabbat (Episode - 30)

Raaz E Mohabbat By Mehak

پلیز مجھے چھوڑ دو…..وہ شخص اسے بازو سے پکڑ کر گھسیٹتا ہوا ایک اور اندھیرے کمرے میں لے آیا جہاں سامنے ہی چیئر پے ایک معصوم سا 10 سالہ بچہ بندھا ہوا تھا اس کی حالت نیم بیھوش تھی

یہ گن پکڑو……اس شخص نے دعا کے ہاتھوں میں گن پکڑائی اور اپنے ہاتھ اس کے ہاتھوں پر رکھ دیے اور گن کا نشانہ اس چھوٹے بچے کی طرف کیا اور دعا پھٹی آنکھوں سے کبھی اپنے ہاتھوں میں پکڑی گن کی طرف دیکھ رہی تھی تو کبھی اس بچے کی طرف

نہیں پلیز مجھے مت مارو پلیز نہیں….اس بچے نے روتے ہوئے کہا

اس سے پہلے کی دعا کچھ سمجھتی اس شخص نے دعا کی انگلی کو پریس کر کے ٹرگر دبا دیا اور گولی اس بچے کے سینے کے آرپار ہوگئی…….

اوہ فیری تم نے کسی بے گناھ کی جان لے لے مار دیا تم نے اسے فیری مار دیا……. اس شخص نے دعا کو کہا

دعا جو ابہی تک صدمے کی حالت میں تھی اس کی آواز پے اس بچے کی طرف دوڑی

اٹھو اٹھو اے بچے اٹھو……دعا نے اس بچے کے گال سہلائے

ہاہاہاہاہا نہیں اٹھے گا وہ مر چکا مار دیا ہے تم نے اسے اس شخص نے چیئر پے بیٹھتے ہوئے کہا

نہیں نہیں مارا میں نے میں نے کسی کو نہیں مارا دیکھنا ابھی اٹھ جائیگا اٹھو اٹھو پلیز اٹھو بچے

فیری مار دیا ہے تم نے اسے قاتل ہو تم فیری قاتل ہو تم

نہیں نہیں میں نے نہیں مارا۔۔۔فیری پاگکوں کی طرح چلائی تھی

ہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔تم نے ہی مارا ہے دیکھو اس لیے تو مرا ہوا ہے گن بھی تمہارے ہاتھ میں ہے قاتل ہو تم ایک قاتل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نہیں ہوں میں کوئی قاتل دیکھنا ابھی یےبچا اٹھ جائیگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اے بچے اٹھو بچے اٹھو پلیز اٹھو ۔۔۔۔۔۔۔۔بچے مجھے پتا ہے تمہیں کچھ نہیں ہوا پلیز اٹھ جائو۔۔۔۔۔بچے اٹھ جائو ۔۔۔۔۔۔بچے۔۔۔۔۔۔۔دعا اسے جواب دے کے پھر اسے بچے کے گال سہلانے لگی

یے بچا نہیں اٹھے گا مرچکا ہے یے تم نے مار دیا ہے اسے ویسے تم کیوں اتنا ڈر رہی ہو ڈیارل کےساتھ رہتی ہو قتل تو تم بھی کرتی ہوگی آخر اتنا بڑا قاتل ہے وہ پر فکر مت کرو تمہاری موت کے بعد اس کی ہی موت ہوگی تمہارے ببعد وہ ہی تمہارے پاس آئے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔

دیکھو پلیزمجھے چھوڑ دو میں کسی ڈیارل کو نہیں جانتی پلیز چھوڑدو مجھے پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔دعا نے سسکوں میں اپنی بات پوری کی اس کے آنسو تھے کی روکنے کا نام ہی لے رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔

ویسے بہت بڑی ڈرامےباز ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمہیں پتا ہےاس ڈیارل نے مجھ سے میری معصومہ کو دور کیا اب میں نے اسے تم سے دور کردیا تھا میں نے آج اس کی تڑپتی ہوئی آواز سنی سچ مانو تو مجھےبہت زیادہ سکون ملا اب بہت جلد وہ بھی ختم اور تم بھی اور پھر معصومہ صرف میری۔۔۔۔۔۔۔۔کنگ اپنی بات کہہ کے جا چکا تھا اور وہ وہاں اس لاش۔کے ساتھ اکیلی تھی اس بچے کے جسم سے خون نکل رہا تھا نیچے فرش بھی لال ہوچکا تھا اس کے خون سے اتنا خون دعا سے تو دیجھا نا جا رہا تھا اس کی حالت بہت خراب تھی اسے یاد تھا کی ایک دن وہ ڈرائیو کر رہی تھی کی اس کی کار کا ایک چھوٹا سا ایکسیڈنت ہوگیا تھا چھوٹے بچے سے اور اس چھوٹے بچے کے سر پر معمولی سی چوٹ آئی تھی اور وہ وہیں ںیہوش ہوگئی تھی اور آج اس کی وہجہہ سے اس چھوٹے بچے کا اتنا خون نکل رہا تھا اس سب کی وجہہ وہ تھی پر وہ سمجھ ناپارہی تھی کی کون ہےیے ڈیارل اور کیا کیا ہے اس نے اس کے ساتھ وہ یے تو جانتی تھی کی وہ اینجل کی بہن معصومہ کی بات کر رہا تھا معصومہ بھی اس سے ڈرتی تھی اس کے ڈر سے وہ باہر نا آتی تھی پر اس سب کا کیا کنیکشن تھا وہسمجھ نا پارہی تھی کون ہے یے ڈیارل اور اس کا نعصومہ سے کیا تعلق ہے اور وہ یے کیوں کہہ رہا تھا کی ڈیارل اس کیلئیے تڑپ رہا تھا آخر ان سب کا کیا تعلق تھا اس سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ یے سب سوچتے سوچتے وہیں ایک پلر سے ٹیک لگا کے رورہی۔ تھی کی نجانے کب روتے روتے اس کی آنکھ لگ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

_____________________________________

معصومہ کی باتیں سن کے ڈیارل کا تو دماغ ہی گھوم گیا تھا ایک تو پہلے ہی اسے فیری نا مل رہی تھی اور معصومہ ایسی بات کر رہی تھی اس کو سمجھ نہیں آرہا تھا کی یے کیا ہورہا ہے۔۔۔۔اس نے اپنی گاڑی ایک کنڈر نما گھر کے سامنے روکی وہ گاڑی سے نکلا اور اس طرف چلا گیا اس گھر کا دروازہ کھول کے وہ اس کے اندر آیا اس گھر میں چاروں طرف دھول ہی دھول تھی جالا ہی جالا تھا ایسا لگ رہا تھاجیسے سالوں سےکسی نے اسے کھولا بھی نا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اس گھر کو ایک نظر دیکھ کے اندر کی طرف قدم اٹھانے لگا اور سامنے لگی ایک بڑی سی تصویر کے سامنے جا کھڑا ہوا اس تصویر میں ایک پینتالیس سالہ مرد اور ایک پینستالیس سالہ عورت کھڑی تھی اور ان کے پاس ہی صوفے پے ایک بیس سالہ لڑکا اور دو سولہ سالا لڑکے بیٹھے تھے اور ایک چودہ سالہ بچی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انہیں دیکھتے ہوئے اس کے آنکھوں سے ایک آنسو نکلا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔انکل آنٹی میں نہیں کر پارہا ہوں سب کی حفاظت کیا کروں چاہے جتنے بھی کوشش کرلوں سب کچھ بگڑتا ہی جارہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اس تصویر کو دیکھ کے کہنے لگا اور سامنے ایک صوفے پے بیٹھ گیا اور آنکھیں موند گیا ماضی کا پر منظر اس کی آنکھوں سے ایک فلم کی طرح گذرنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(ماضی)

فاروق صاحب جلدی کریں نیچے عبداللہ آپ کا انتظار کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔مسز فاروق نے فاروق سے کہا اسے اور عبداللہ کو آج پاکستان جانا تھا کسی کام سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چلو عبداللہ۔۔۔۔۔۔۔۔مسٹر فاروق نے نیچے آکےعبداللہ سے کہا ۔۔۔۔۔۔۔تایا رکیں ۔۔۔۔۔۔۔وہجانے کیلئیے مڑے ہی تھے کی چھوٹی سی معصومہ نے انہیں پکارا۔۔۔۔۔۔۔ہاں تایا کی جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔مسٹر فاروق نے اسے محبت بھری نظروں سے دیکھا۔۔۔۔۔۔۔تایا آپ اور بھیا جلدی آئینگے نا۔۔۔۔۔۔۔معصومہ نے محبت سے انہیں دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔اڑے جانے دوگی تو أئینگے نا۔۔۔۔۔اسد نے اسے چڑایا۔۔۔۔۔۔۔ہاں تایا کی جان ہم جلدی آجائینگے۔۔۔۔۔انہوں نے محبت سے اس کے گال سہلائے ماتھے پے بوسہ دیکے وہ باہر نکل گے۔۔۔۔۔۔ڈیارل اس بار کوئی بھی گڑبر نیں ہونی چاہیے سجھ رہے ہو نا تم۔۔۔۔۔جی چاچا آپ فکر نا کرہں اس بار سمگلنگ نہیں ہوگی اور نوید کا کام بھی تمام ہوجائیگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

_____________________________________

ماما میں پاس والے پارک میں جارہی ہوں۔۔۔۔۔معصومہ انہیں کہ کے وہاں سےنکل گئی اور پارک آکے بچوں کے ساتھ کھیلنے لگ

۔۔۔۔۔۔بچائو مجھے بچائو۔۔۔۔۔اس کے کانون میں کسی کی چیخ پڑی اس نے چیخ پے مڑ کر دیکھا تو ایک چھوٹا سا بچا سامنے کھڑا تھا اور اس کے سامنے ایک تیس پینتیس سالہ مرد کھڑا تھا جس نے چہرے پے ماسک لگایا ہوا تھا اس نے اس پے گن تانی ہوئی تھی اسے یوں دیکھ کے معصومہ اس بچے کی طرف بڑھی اور اس بچے کے آگے کھڑی ہوگئی سامنے کھڑے کنگ نے اس چھوٹی چودہ سالہ لڑکی کو دیکھا جو کی چھوٹی سی تھی پر بہت خوبصورت تھی اس کی بڑی بڑی آنکھیں کسی کو بھی پاگل بنا سکتی تھی وہ بہت پیاری تھی اس ک ے تیکھے نین نقش کسی کی بھی جان لے سکتے تھے۔ اور اس نے کنگ کو بھی ایک نظر میں ہی اپنا اثیر کرلیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ اسے کیوں مار رہے ہیں پلیز چھوڑ دیں اسے۔۔۔۔۔معصومہ نے بے بسی سے اس چھوٹے سے بچے کو دیکھ کے کہا

اے لڑکی پیچھے ہٹو۔۔۔۔۔۔۔کنگ کا آدمی معصومہ کی طرف بڑھا جسے کنگ نے ہاتھ کے اشارے سے روک لیا تھا

ہاں چھوڑ دیا اسے۔۔۔۔۔۔کنگ کے کہنے پے معصومہ مسکرائی تھی اور اس کے چہرے پے ڈمپل نمایاں ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔معصومہ اس سے گھبراتی اس بچے کو سائیڈ پر لےکے چلی گئی۔۔۔۔۔۔

مجھے اس لڑکی کی سب ڈیٹیل چاہیے وہ بھی جلد از جلد۔۔۔۔۔۔۔۔کنگ نے اسکی پشت کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔

______________________________

اف اتنی رات کو کون آگیا۔۔۔۔۔ڈور بیل بجنے پے مسز فاروق نے گھڑی کودیکھا جہاں رات کے گیارہ بج رپے تھے مسزفاروق نے ڈور کھولا تو سامنے ایک انجان آدمی کو کھڑا پایا اور اس کے پیچھے چار پانچ بندے اور کھڑے تھے شاید وہ اس کے باڈی گارڈ تھے۔۔۔۔۔۔۔۔وہ شخص دروازہ کھلنے پےاندر داخل ہوگیا مسز فاروق کو سائیڈ پے کرکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کون ہو آپ۔۔۔۔۔۔۔مسز فاروق نے نہیں دیکھ کے پوچجا

کنگ۔۔۔۔۔۔۔۔کنگ کے نام سن کے مسز فاروق کا رنگ لٹھے کی ماند سفید پڑا تھا اس نے کافی دفعہ ٹی ویز وغیرہ پے کنگ کا سنا تھا جو کیمافیہ کا کنگ تھا

کیا چاہیے تمہیں اور یہاں کیا کر رہے ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے معصومہ چاہیے دے دو یہیں سے چلا جائونگا ورنہ تم سب کو مار کے بھی لے جا سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔نیچے شور سن کر عمر اسد اور معصومہ بھی نیچے آئےتھے اس کی بات سن کر جہاں معصومہ ڈر گئی تھی وہیں اسد اور عمر کو اس پر غصہ آیا تھا اور اس کی طرف بڑھے تھے اس سے پہکے کی وہکنگ کی طرف پہنچتے کنگ کے آدمیوں نے ان دونوں کے پکڑ کے پیٹنا شروع کردیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پلیز چھوڑ دو میرے بچوں کو پلیز چھوڑ دو میرے بچے کو۔۔۔۔۔۔مسزفاروق چلا رہی تھی اسد اور عمر کی ہر عضوے سے خون نکل رہا تھا وہ دونوں خون سے لہولہاں تھے کنگ کی نظر جب سیڑھیوں پے کھڑی ڈری سہمی معصومہ پر پڑی تو اس کی طرف بڑھا اسے اپنی طرف بڑھتا دیکھ معصومہ جلدی سے مسز فاروق کے پیچھے چھپ گئ

پلیز میری بچی کو چھوڑ دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دیکھیں ساسو ماں میں یہاں کوئی خون خرابا نہیں چاہتا اس لیے آپ معصومہ کو دے دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پلیز چھوڑ دو میری بچی کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کے کہنے پے کنگ نے تین چار گولیاں مسز فاروق کے سینے کے آرپار کردی تھی اور وہ زمین بوس ہوچکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آنٹی آنٹی۔۔۔۔۔اٹھیں آنٹی۔۔۔۔۔آنٹی۔۔۔۔۔۔اٹھیں پلیز آنٹی۔۔۔۔۔۔۔معصومہ انہیں جہنجھوڑ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔اور رو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اوہ مائے لو روئو مت تمہاری آنکھوں میں آنسو مجھے بلکل پسند نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے معصومہ کو بازو سے پکڑ کے اٹھایا اورتیں چار زیادہ گولیاں مسز فاروق کے سینے کےآرپار کی تھی وہ معصومہ کو کھینچتا باہر کی طرف کے گیا اور وہ کسی بے جان وجود کی طرح اس کےساتھ کھینچتے چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *