Raaz E Mohabbat By Mehak NovelR50512 Raaz E Mohabbat (Episode - 2)
No Download Link
Rate this Novel
Raaz E Mohabbat (Episode - 2)
Raaz E Mohabbat By Mehak
گھڑی رات کے ایک بجے کا وقت بجا رہی تھی اور یہاں سب اپنے نشے میں مدھوش ناچ رہے تھے
یہ نظارا اٹلی کے شہر روم کے شیکیٹ کلب کا تھا
اور صرف وہیں سب سے الگ ایک صوفے پے بیٹھا کسی کا انتظار کر رہا تھا اس نے چھرے پے ماسک لگایا ہوا تھا پھر بھی لڑکیاں بار بار اسے دیکھ رہی تھی آخر اس کی کالی گھری آنکھیں تھی ہی اتنی سحرانگیز اگلے کو اپنے سر میں جکڑ دینے والی
ڈیارل وہ اوپر روم نمبر 4 میں ہے….
اسد نے اس کے قریب بیٹھتے کہا
ہم اوکے…… وہ یہ کہتے ہی وہاں سے اٹھ گیا……
———-
یو نو ٹوڈے یو آر لوکنگ بیوٹیفل بیبی(you know today your are looking beautiful baby) اس نے شراب کے نشے میں اس کے کان کی لو کو چومتے ہوۓ کہا
رئیلی (really) ایلکسا نے اس شخص کے اور قریب ہوتے پوچھا
baby i wana…….. اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی کسے نے اچانک سے دروازا کھولا
you ediot what the hell is going with you out اس شخص نے ڈیارل کی طرف بڑھتے ہوۓغصے سے کہا
ششش ششش آواز نیچے احمد مرنے والے اتنا زور سے نہیں چلاتے ……… اس شخص نے آرام سے پاس پڑے صوفے پر بیٹہتے ہوۓ کہا
کون ہو تم ……….
تمہاری موت•••
ڈیارل اس شخص نے ڈرتے ہوۓ اس کا نام لیا یانی جس سے بچنے کیلئے اس نے اپنا نام شہر سب چھوڑ دیا پر اس نے اسے ڈھونڈ لیا
ڈیارل میں سچ کہ رہا ہوں مجھے اس سمگلنگ کے بارے میں کچھ نہیں پتا……
او رئیلی چلو یہ بتا کیسے مرنا پسند کروگے میری تلوار سے تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کروں یا پھر میرے ایول(ڈیارل کا شیر) کے آگے پھینک دوں
ڈیارل میرا اس سب میں کوئی ہاتھ نہیں ہے ہاں مجھے اتنا پتا ہے کہ نیکسٹ گرلس کی سپلاۓ کراچی سے ہونی ہے ڈیارل پلیز مجھے معاف کردو میں یہ…………….
اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی ڈیارل نے اس کے سینے پے گولیاں چلا دی
آسان موت دی تمہیں کیوںکہ تم نے بتا دیا ویری گڈ… وہ طنزیہ مسکراتہ باہر آگیا جہاں اسد اس کا انتظار کر رہا تھا
تیاری کرلو کل ہم نے پاکستان جانا ہے
اوکے ڈیارل
__________________
آپی آپی اٹہیں یونی نہیں جانا کیا آپ نے…. زویا نے اس کے اوپر سے کمفرٹر کہینچتے ہوۓ کہا
گڈ مورننگ…. دعا نے اپنی ڈارک براؤن آنکھوں کو مسلتے ہوۓ کھا
گڈ مورننگ آپی اب جلدی سے فریش ہو کہ نیچے آئیں امی بلا رہی ہیں
رات اس سپنے کی وجہ سے سو نہیں پائی تھی صبح نماز کے باد اس کی آنکھ لگی تھی شاید اس لیے اٹھنے کا دل نہیں کر رہا تھا
وہ اپنی سوچوں کو جھٹک کر اٹھی اس نے الماری سے ریڈ سوٹ نکالا فریش ہو کہ حجاب کر کہ آئی تو ناشتے کی ٹیبل پر سب اس کا انتظار کر رہے تھے
گڈ مورننگ اس نے چیئر پر بیٹھتے ہوۓ کھا
کیا ہوا دعا تمہاری آنکھیں کیوں ریڈ ہیں مسز عمیر نے اس کی ریڈ آنکھیں دیکھی تو پریشانی سے پوچھا
کچھ نہیں مما وہ بس ایسے ہی….. رات سپنے میں کسے کا یوں اپنے سامنے قتل دیکھ کر بھت روئی تھی کیوںکہ وہ تو کسی کا چھوٹا سا کٹ بھی نھیں دیکھ سکتی تھی یہ تو پھر قتل تھا
اچھا مما بابا میں چلتی ہوں اوکے ….. اور سوالوں سے بچنے کیلئے اس نے جلدی سے جانا چاھا
روکو دعا میں چھوڑ دںیتا ہوں تمہیں عثمان نے اٹھتے ہوۓ کھا
اوکے بھائی آپ گاڑی نکالیں میں آتی ہوں نقاب کر کہ
____________________
یا اللہ بس کوئی ریگنگ نا کرے…… یونی پہنچتے ہی اس نے دل سے دعا مانگی
وہ نظریں جھکاۓ چل رہی تھی کہ اچانک کوئی اس سے ٹکرایا
اندھی ہو کیا دیکھ کے نھیں چل سکتی تم ….. سعید نے اس کو غصے دیکھا
سسس وو رر ی ی اس نے نروسنیس میں ٹوٹے پھوٹے الفاظوں میں کھا
اب غلطی کی ہے تو سزا تو ملےگی نا یہ پھول پکڑو اور جا کہ وہ جو بلو شرٹ میں لڑکا نظر آرہا ہے اسے دے آؤ
پر…. دعا نے کچھ کھنا چاہا کہ
جاؤ ورنا میں پرنسپل سے کہونگا تم نے میرے ساتھ بدتمیزے سے بات کی ہے گالیاں دے ہے مجھے اور میں سینئر ہوں سر نےمیری بات پے یقین کرنا ہے کسی نیو کمر کی نہیں
دعا اس کے جھوٹ پے آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی کہ اس نے پھر سے کھا جاتے ہو یا میں جاؤں سر کے پاس
اوکے جاتی ہوں وہ مرے مرے قدم اٹھا کے چلنے لگی
یار سعید یہ کیا کر دیا تو جانتا تو ہے دانیال کو کسی سے بات تک نہیں کرتا کالج کی آدھی سے زیادہ لڑکیاں مرتی ہے اس پر کوئی پرپوز کرے تو اچھا کھاسا سناتا ہے اور تونے اسے بھیج دیا
ششش چپ ایاز اب آگے کا سین دیکھ
سنیں…… دعا نے دانیال کو پکارا
