Raaz E Mohabbat By Mehak NovelR50512 Raaz E Mohabbat (Episode - 19)
No Download Link
Rate this Novel
Raaz E Mohabbat (Episode - 19)
Raaz E Mohabbat By Mehak
عثمان نے فلیٹ کا ڈور کھولا تو زویا دوڑتی ہوئی آکے اس کے سینے سے لگی تھی
کیا ہوا پرنسس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں رو رہی ہو۔۔۔۔اس کو سسکیاں لیتے دیکھ عثمان نے پوچھا
کچھ نہیں بھائی مجھے ڈر لگ رہا تھا صبح سے اکیلی بیٹھی تھی بھائی پتا نہیں کہاں گیا ہے عمر اور آپ لوگ بھی صبح ہی چلے گئے تھے
کیا مطلب عمر بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔کہاں گیا ہے وہ۔۔۔۔۔
پتا نہیں بھائی مجھے نہیں پتا مجھے بس اس کا مسج ملا تھا کی ضروری کام ہے مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسے تو اس کو نہیں کرنا چاہیے کتنا لاپرواہ ہے وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس بار ساد نے کہا تھا
نہیں وہ لاپرواہ نہیں ہےاسے ضرورکوئی کام آگیا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی بات پے اندر داخل ہوتے عمر کے چہرے پے مسکان آئی تھی
کہاں گئے تھے تم عمر۔۔۔۔۔۔
سر وہ کچھ ضروری کام آگیا تھا دعا میم کے سلسلے میں۔۔۔۔
کیا آپی کا کچھ پتا چلا۔۔۔۔۔
ہاں وہ کنگ کے پاس ہے۔۔۔۔۔۔۔اس کی بات پے عثمان اور زویا تو خامقش تھے پر ساد اچھل پڑا تھا
واٹ کیا کہہ رہے ہو اندازہ بھی ہے تمہیں وہ کنگ کے پاس ہے۔۔۔۔۔۔
یس سر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہوگیا ساد ۔۔۔۔۔۔۔۔
او تیری عثمان تم بس یے سمجھ لو کی ہمیں دعا کو اب بہت جلد ڈھونڈنا ہوگا ایک پل کی دیر کیے بغیر۔۔۔۔۔۔
پر تم بتائوگے کی کیوں۔ اور کوں ہے کنگ جس کا نام سن کے تم یوں اچھل پڑے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنگ مافیہ کا کنگ ہے وہ ہر برے کام میں ٹوپ پر ہے اب تو دعا کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے جتنا جلدی ہو اس ڈھونڈنا ہوگا
تم ہوش میں ہو تم کیا کہہ رہے ہو پتا ہے تمہیں۔۔۔۔۔۔
دیکھو عثمان چود کو سنبھالو سب ٹھیک ہوگا ڈونٹ وری نیں میری اور فورس سے بھی بات کرتا ہوں اور یہاں کیپولی کی بھی ہیلپ لیتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔پر اس سے پہلے عمر تم یے بتائو کی تمہیں یے کیسے پتا لگا
میں یہیں کا رہنے والا ہوں اور میں پولیس کی ہیلپ سے یے پتا کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔عمر کو یے بات اسی وقت سمجھ آگئی تھی جب وپ غائب ہوئی تھی اور وہیں مال میں اس نے کنگ کے آدمیوں کو دیکھا تھا وہ یےبات ڈیارل کو بھی بتانا چاہتا تھا کی اسے یہیں لگتا ہے کی دعا کنگ کے پاس ہےپر معصومہ اس کے پاس تھی اس لئیے نا بتا پایا
_______________________________________
آج فیری کو غائب ہوئے پورے دو دن ہوگئے تھے اور ڈیارل اب تک اسے بنا رکے ڈھونڈ رہا تھا اس کے تو جسم سے جان نکلنے کے تھی اس کی فیری اس کے پاس نہیں تھی ان دو دن میں وہ اس پورے ملک کے بیس شہروں میں پتا کروا چکا تھا پر اسے کچھ پتا نہیں چلا آج دو دن بعد وہ گھر آیا تھا اسکی حالت ایسی تھی جیسے صدیوں سے تھکا ہوا ہو اس کی آنکھیں لال تھی
بھائی کہیں ملی فیری یا نہیں۔۔۔۔۔۔۔معصومہ نے اس کے آتے ہی اس سے پوچھا اور اسےپانی دیا ڈءیارل نے ایک سانس میں سارا پانی ختم کردیا تھا
نہیں کہیں سے بھی پتا نہیں چلا فیری کا مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھائی آپ رکیں میں کچھ لاتی ہوں آپ کے کھانے کیلئیے ۔۔۔۔۔۔۔
نہیں مجھے کچھ نہیں کھانا
بھائی اگر اآپ کھانا نہیں کھائینگے یار تو اسے ڈھونڈینگے کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔اس سے پہلے کی ڈیارل کوئی جواب دیتا اس کا موبائل رنگ ہوا اس کے موبائل پے پرائوٹ نمبر سے کال آتا دیکھ اس نے کال اٹینڈ کی پر اس آواز کو سن کر ڈیارل کے آنکھوں میں خون اتر آیا وہ تو بھیڑ میں بھی اس آواز کو پہچان سکتا تھا
کیسے ہو ڈیارل یقین سے ٹھیک تو نہیں ہوگے تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی مجھے کال کرنے کی کنگ۔۔۔۔۔۔۔۔
آہستے بولو ڈیارل اس وقت تمہاری جان میرے قبضے میں ہے اسے چھیننے کیلئیے بس ایک گولی کی ضرورت ہے بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری فیری تمہارے پاس ہے اگر اسے کچھ بھی ہوا تو میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑونگا ۔۔۔۔۔۔۔۔
یقین مانو ڈیارل تمہیں ایسے تڑپتا ہوا دیکھ کے مجھے بہت زیادہ سکون مل رہا ہے تم نے مجھ سے معصومہ کو دور رکھا ہے نا اب تڑپو تم بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یاد رکھنا کنگ اگر میری فیری کو کچھ بھی ہوا تو تمہں زندہ نہیں چھوڑونگا میں ۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی بات سنے بغیر ہی کنگ نے کال کٹ کردی تھی اور کنگ کا نام سن کے معصومہ کےہاتھ پیر پھولنے لگے تھےاس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوئے۔۔۔
معصومہ معصومہ رلیکس ڈول۔۔۔۔۔۔۔ڈیارل اس کے پاس آیا تھا اور اسے صوفے پے بٹھا کے پانی دیا
بھائی فیری کنگ کے پاس ہے کیا۔۔۔۔۔۔معصومہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کے ڈیارل سے سوال کیا جس پے وہ آنکھیں پھیر گیا جانتا تھا اسے بتایا تو اس کی کیا حالت ہوگی
بھائی میری آنکھوں میں دیکھ کے جواب دیں مجھے۔۔۔۔۔۔
نہیں معصومہ ایسا کچھ نہیں ہے آپ پریشان نا ہو میں فیری کو بہت جلد ڈھونڈ لونگا
بھائی آپ کو میری قسم سچ سچ بتائیں فیری کنگ کے پاس ہے نا۔۔۔۔۔۔۔معصومہ نے اس کا ہاتھ اپنے سر پر رکھا
ہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے جواب سن کے معصومہ کو خود کی سانسیں رکتی محسوس ہوئی تو مطلب اب اس کی وجہہ سے ایک اور شخص مشکل میں تھا
معصومہ رلیکس فیری کو کچھ نہیں ہوگا
کیسےنہیں ہوگا بھائی صحیح کہتا تھا اسد میں ہی سب کی زمیدار ہوں ہر کوئی میری وجہہ سے مر جاتا ہے میری وجہ سے انکل آنٹی کی ڈیتھ ہوئی ہم نے ہمارے سارے رشتے کھوئے بھائی صرف میری وجہہ سے اور آپ کہہ رہے ہیں کے کچھ نہیں ہوگا بھائی اب میں نہیں چاہتی کی آپ کی لائف بھی میری وجہ سے خراب ہو اس لئے آپ مجھے چھوڑ آئیں اسں۔۔۔۔۔۔۔۔۔معصومہ کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی ڈیارل کا ہاتھ اس کی گال پے نشان چھوڑ چکا تھا اور معصومہ ںے حیرت اور صدمے سے اپنے بھائی کو دیکھا
چپ ایک دم چپ معصومہ اب ایک لفظ نہیں کیا بکواس کر رہی ہو اندازہ بھی ہے تمہیں پاگل تو نہیں ہوگئی ہو نا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمہیں اپنے بھائی پے یقین ہے نا۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے پوچھنے پے معصومہ نے ہاں میں گردن ہلائی
تو بس میری جان بہت جلد فیری کو لے آئونگا۔۔۔۔۔۔وہ اپنی بات کہتا باہر نکل گیا
_____________________________________
وہ ایک اندھیرے کمرے میں بند تھی اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھی رو رو کے اس کی براؤن آنکھیں لال ہو چکی تھی اس پورے کمرے میں صرف اس کی سسکیاں گونج رہی تھی
کہاں ہو اینجل پلیز مجھے بچالو مجھے لے جاؤ یہاں سے اینجل پلیز…..اس نے سسکیوں میں اپنی بات مکمل کی
اور اس کمرے میں دروازا کھلنے سے تھوڑی سے روشنی آئی تھی اس نے اپنے آنکھوں کے آگے ہاتھ کرلیے کیوںکہ اتنے دیر اندھیرے میں رہنے کے بعد وہ روشنی اس کی آنکھوں میں چھب رہی تھی اس روشنی کے ساتھ کسے کے قدموں کی چاپ بھی سنائی دے رہی تھی جو اس کی طرف بڑھ رہے تھے اور وہ خوف سے خود میں سمٹ رہی تھی
یہاں کوئی اینجل تو نہیں آئے گا یہاں صرف ڈیول ہی ڈیول ہیں کوئی اینجل نہیں ہاں ایک فیری ضرور ہے جسے یہاں پے صرف اذیت دینے کےلئیے رکھا گیا ہے……..وہ جو اندر آیا تھا اس نے اس کے قریب بیٹھتے ہوئے کہا
نہیں پلیز چھوڑ دو مجھے میں نہیں جانتی آپ لوگوں کو میں نے کچھ نہیں کیا پلیز چھوڑ دو مجھے……دعا نے اس شخص سے دور جاتے ہوئے کہا
بہت انوسینٹ ہو تم اور جانتی ہو انوسینٹ لوگوں کو تکلیف دینے میں الگ ہی سکون ملتا ہے مجھے خیر اٹھو جلدی کرو مجھے کہیں لے کے جانا ہے تمہیں……
نہیں پلیز نہیں مجھے کہیں نہیں جانا پلیز…..دعا نے اپنی سسکیوں کے بیچ اپنی بات مکمل کی……
پلیز مجھے چھوڑ دو…..وہ شخص اسے بازو سے پکڑ کر گھسیٹتا ہوا ایک اور اندھیرے کمرے میں لے آیا جہاں سامنے ہی چیئر پے ایک معصوم سا 10 سالہ بچہ بندھا ہوا تھا اس کی حالت نیم بیھوش تھی
یہ گن پکڑو……اس شخص نے دعا کے ہاتھوں میں گن پکڑائی اور اپنے ہاتھ اس کے ہاتھوں پر رکھ دیے اور گن کا نشانہ اس چھوٹے بچے کی طرف کیا اور دعا پھٹی آنکھوں سے کبھی اپنے ہاتھوں میں پکڑی گن کی طرف دیکھ رہی تھی تو کبھی اس بچے کی طرف
نہیں پلیز مجھے مت مارو پلیز نہیں….اس بچے نے روتے ہوئے کہا
اس سے پہلے کی دعا کچھ سمجھتی اس شخص نے دعا کی انگلی کو پریس کر کے ٹرگر دبا دیا اور گولی اس بچے کے سینے کے آرپار ہوگئی…….
اوہ فیری تم نے کسی بے گناھ کی جان لے لے مار دیا تم نے اسے فیری مار دیا……. اس شخص نے دعا کو کہا
دعا جو ابہی تک صدمے کی حالت میں تھی اس کی آواز پے اس بچے کی طرف دوڑی
اٹھو اٹھو اے بچے اٹھو……دعا نے اس بچے کے گال سہلائے
ہاہاہاہاہا نہیں اٹھے گا وہ مر چکا مار دیا ہے تم نے اسے اس شخص نے چیئر پے بیٹھتے ہوئے کہا
نہیں نہیں مارا میں نے میں نے کسی کو نہیں مارا دیکھنا ابھی اٹھ جائیگا اٹھو اٹھو پلیز اٹھو بچے
فیری مار دیا ہے تم نے اسے قاتل ہو تم فیری قاتل ہو تم
نہیں نہیں میں نے نہیں مارا
