Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raaz E Mohabbat (Episode - 3)

Raaz E Mohabbat By Mehak

سنیں…….دعا نے دانیال کو پکارا جس کی پیٹھ اس کی طرف تھی

سنیں اس کا کوئی رسپونس نا ملنے پر اس نے پھر اسے پکارا

پر اس بار بھی اس نے مڑ کر دیکھا بھی نہیں اب دعا کو بہی غصہ آرہا تھا کوئی اسے اغنور کر رہا تھا وہ کیسے برداشت کرتی اس کا دل چاہ رہا تھا کے ابہی وہ پھول اس کے موں پے مارے جو اسے اگنور کر رہا تھا پر کیا کرتی اس سینئیر کی دھمکی بار بار کانوں میں غونج رہی تھی خیر آخر اس نے ہمت کر کے اس کے کندہے کو تھپتھپایا سنیں مسٹر میں آپ سے بول رہی ہوں دعا نے غصے میں اپنی چھوٹی ڈارک براؤن آنکھوں کو اور چھوٹا کر کے دیکھا

ھمممم اس نے مڑ کر دیکھا کوئی لڑکی جس نے لائٹ بلو کلر جا گاؤن پہنا ہوا تھا اوپر آسمانی کلر کے دوپٹے سے حجاب اور نقاب کیا ہوا تھا جس سے اس کی ڈارک براؤن آنکھیں نظر آرہی تھی جو اسے غصے سے دیکھ رہی تھی

وہ وہ وہ…. اس کے اس طرح سے دیکھنے پر دعا ہڑبڑا گئی

وہ وہ کیا لگا رکھا جب کچھ بولنا نہیں ہوتا تو کیوں کسی کو تنگ کرتے ہو ایڈیٹ اس نے چلا کے غصے میں کہا کی آس پاس والے سب ان کی طرف دیکھنے لگے اور وہ رکا نہیں وہاں سے چلا گیا

سب کے سامنے اتنی بے عتی پر دعا کا دل چاھا وہ چیخ چیخ کے روۓ آج تک کبھی کسی نے اس سے اونچی آواز میں بات تک نہ کی تھے اور وہ اسے اتنے لوگوں کے سامنے بےعزت کر کہ چلا گیا اس نے خاموشی سے اپنی آنکھوں سے آنسوں صاف کئیے اور اپنے ڈپارٹمنٹ کی طرف چلی گئی

دیکھا سعید کتنی بے عزتی کرتی کردی اس دانیال شاہ نے اس معصوم سی لڑکی کی ساری ہماری غلطی ہے یار ایاز نے اسے جھڑکا کیوںکہ اسے وہ معصوم سے لڑکی بھت پیاری لگی ایکدم اس کی معصوم بہن جیسے جس کا پچھلے سال کسے درندے نے قتل کر دیا تھا وہ بھی بلکل اس جیسی معصوم پری تھی پیاری سی

ہاں یار ہمیں اسے سوری کرنا چاہئے سعید نا اس کا پھینکا ہوا پھول اٹھایا جو شاید ڈر سے ہی اس کے ہاتھوں سے چھوٹ کے زمین پر گر گیا تھا

ایاز کیا ہوا جس سوچ میں گم ہوگۓ ہو

کچھ نھیں یار چلو کلاس کا ٹائم ہو رہا ہے اس نے اپنی آنکھوں سے نمی صاف کی جو کی اس کی بہن کو یاد کرنے سے بھیگ گئی تھی

ہاں چلو

___________________

کہاں ہوں میں اور کون ہو تم اور مجھ سے کیا کام ہے تمہیں جب اسے ہوش آیا تو خود کو الٹا بندھا پایا اس نے اپنے آس پاس دیکھا تو ایک خنڈر نما جگھ میں خود کو قید پایا اور سامنے ایک شخص سیاہ لباس میں سگریٹ پی رہا تھا

میں کون ہوں اس سے تمہارا کوئی مطلب نہیں بس تم مجھے ڈیارل کے بارے میں بتا دو کہ کون ہے اور کیوں ہمارے دھندے کو تباہ کرنے میں لگا ہے پچھلے اک سال سے میرے سارے بندے مر رہے ہیں ہر کام میں رکاوٹ ڈال دیتا ہے وہ اور آج تک کسی نے اسے دیکھا تک نہیں آخر کون ہے وہ اور کیوں کر رہا ہے یہ سب اس شخص نے غصہ سے کہا

وہ ایک اینجل ہے جو تم جیسے ڈیولس کو ختم کرنے کیلئے آیا ہی اور رہی بات اسے دیکھنے کی تو آج تک تو میں نے بھی اسے نہیں دیکھا اگر دیکھا ہوتا تو بھی نہ بتاتا میں ڈیارل کیلئے مر تو سکتا ہوں پر غداری نھیں کر سکتا اور تیار رہو تم تمہاری موت تمہارے قریب ہے ڈیارل پاکستان آرہا ہے ہاہاہاہاہاہاہاہا

اے اے اے اٹھو کیا ہوگیا بتاو مجھے کون ہے ڈیارل وہ اس مردہ وجود کو اٹھانے کی کوشش کر رہاتھا

شٹ اس نے دیوار پے زور سے پنچ مارا اتنے دن بعد ایک سوراخ ملا اور اس نے بھی اپنی سانسیں روک لیسنیں…….دعا نے دانیال کو پکارا جس کی پیٹھ اس کی طرف تھی

سنیں اس کا کوئی رسپونس نا ملنے پر اس نے پھر اسے پکارا

پر اس بار بھی اس نے مڑ کر دیکھا بھی نہیں اب دعا کو بہی غصہ آرہا تھا کوئی اسے اغنور کر رہا تھا وہ کیسے برداشت کرتی اس کا دل چاہ رہا تھا کے ابہی وہ پھول اس کے موں پے مارے جو اسے اگنور کر رہا تھا پر کیا کرتی اس سینئیر کی دھمکی بار بار کانوں میں غونج رہی تھی خیر آخر اس نے ہمت کر کے اس کے کندہے کو تھپتھپایا سنیں مسٹر میں آپ سے بول رہی ہوں دعا نے غصے میں اپنی چھوٹی ڈارک براؤن آنکھوں کو اور چھوٹا کر کے دیکھا

ھمممم اس نے مڑ کر دیکھا کوئی لڑکی جس نے لائٹ بلو کلر جا گاؤن پہنا ہوا تھا اوپر آسمانی کلر کے دوپٹے سے حجاب اور نقاب کیا ہوا تھا جس سے اس کی ڈارک براؤن آنکھیں نظر آرہی تھی جو اسے غصے سے دیکھ رہی تھی

وہ وہ وہ…. اس کے اس طرح سے دیکھنے پر دعا ہڑبڑا گئی

وہ وہ کیا لگا رکھا جب کچھ بولنا نہیں ہوتا تو کیوں کسی کو تنگ کرتے ہو ایڈیٹ اس نے چلا کے غصے میں کہا کی آس پاس والے سب ان کی طرف دیکھنے لگے اور وہ رکا نہیں وہاں سے چلا گیا

سب کے سامنے اتنی بے عتی پر دعا کا دل چاھا وہ چیخ چیخ کے روۓ آج تک کبھی کسی نے اس سے اونچی آواز میں بات تک نہ کی تھے اور وہ اسے اتنے لوگوں کے سامنے بےعزت کر کہ چلا گیا اس نے خاموشی سے اپنی آنکھوں سے آنسوں صاف کئیے اور اپنے ڈپارٹمنٹ کی طرف چلی گئی

دیکھا سعید کتنی بے عزتی کرتی کردی اس دانیال شاہ نے اس معصوم سی لڑکی کی ساری ہماری غلطی ہے یار ایاز نے اسے جھڑکا کیوںکہ اسے وہ معصوم سے لڑکی بھت پیاری لگی ایکدم اس کی معصوم بہن جیسے جس کا پچھلے سال کسے درندے نے قتل کر دیا تھا وہ بھی بلکل اس جیسی معصوم پری تھی پیاری سی

ہاں یار ہمیں اسے سوری کرنا چاہئے سعید نا اس کا پھینکا ہوا پھول اٹھایا جو شاید ڈر سے ہی اس کے ہاتھوں سے چھوٹ کے زمین پر گر گیا تھا

ایاز کیا ہوا جس سوچ میں گم ہوگۓ ہو

کچھ نھیں یار چلو کلاس کا ٹائم ہو رہا ہے اس نے اپنی آنکھوں سے نمی صاف کی جو کی اس کی بہن کو یاد کرنے سے بھیگ گئی تھی

ہاں چلو

___________________

کہاں ہوں میں اور کون ہو تم اور مجھ سے کیا کام ہے تمہیں جب اسے ہوش آیا تو خود کو الٹا بندھا پایا اس نے اپنے آس پاس دیکھا تو ایک خنڈر نما جگھ میں خود کو قید پایا اور سامنے ایک شخص سیاہ لباس میں سگریٹ پی رہا تھا

میں کون ہوں اس سے تمہارا کوئی مطلب نہیں بس تم مجھے ڈیارل کے بارے میں بتا دو کہ کون ہے اور کیوں ہمارے دھندے کو تباہ کرنے میں لگا ہے پچھلے اک سال سے میرے سارے بندے مر رہے ہیں ہر کام میں رکاوٹ ڈال دیتا ہے وہ اور آج تک کسی نے اسے دیکھا تک نہیں آخر کون ہے وہ اور کیوں کر رہا ہے یہ سب اس شخص نے غصہ سے کہا

وہ ایک اینجل ہے جو تم جیسے ڈیولس کو ختم کرنے کیلئے آیا ہی اور رہی بات اسے دیکھنے کی تو آج تک تو میں نے بھی اسے نہیں دیکھا اگر دیکھا ہوتا تو بھی نہ بتاتا میں ڈیارل کیلئے مر تو سکتا ہوں پر غداری نھیں کر سکتا اور تیار رہو تم تمہاری موت تمہارے قریب ہے ڈیارل پاکستان آرہا ہے ہاہاہاہاہاہاہاہا

اے اے اے اٹھو کیا ہوگیا بتاو مجھے کون ہے ڈیارل وہ اس مردہ وجود کو اٹھانے کی کوشش کر رہاتھا

شٹ اس نے دیوار پے زور سے پنچ مارا اتنے دن بعد ایک سوراخ ملا اور اس نے بھی اپنی سانسیں روک لی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *