Raaz E Mohabbat By Mehak NovelR50512 Raaz E Mohabbat (Episode - 8)
No Download Link
Rate this Novel
Raaz E Mohabbat (Episode - 8)
Raaz E Mohabbat By Mehak
رات کے دو بج رہے تھے کروٹیں بدل بدل کے وہ تھک گئی تھی پر نیند تو جیسے اس سے روٹھ گئی تھی رہ رہ کے اسے بار بار اس نقاب پوش کا خیال آرہا تھا نا جانے کون تھا وہ اور کیوں اسے تنگ کر رہا تھا اور جب بھی وہ قریب آتا دعا کی سانسیں بھی تیز ہو جاتی وہ کچھ بھی نہ کہہ پاتی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کی ایسا کیوں ہو رہا ہے اگر کوئی ایسے حرکتیں کرے تو وہ اس کا موں توڑ کے رکھ دیتی پر اس کے سامنے تو اس کا موں ہی نہیں کھلتا تھا اس کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوجاتی تھی اس کی قربت میں وہ نہ کچھ کہہ پاتی تھی نہ نظریں اوپر کر پاتی تھی دعا نے تو ابھی تک اسے صحیح طریقے سے نظر اٹھا کے دیکھا تک نہ تھا
کون ہےدعا وہ تجھے پتا لگانا چاھیے آخر کیوں تم پے ایسے حق جتاتا ہے…. دعا نے خودکلامی کی
پر تونے تو اسے ڈھنگ سے دیکھا تک نہیں ہے ہاں اس کی کالی کالی بڑی آنکھیں ہیں لائٹ براؤن ہئیرس ہیں چوڑا سینا لمبا قد ہے تو بلکل شھزادوں جیسا پر میرا کیا ہوگا اپنے گھر شھزادہ اس بار آئیگا تو کہہ دونگی کہ وہ ہوتا کون ہے مجھ پے حق جتانے والا پر وہ دیکھتا ایسے ہے کہ میں کچھ کہہ ہی نہیں پاتی نہیں نہیں بلکل نہیں ایسے کام نہیں چلے گا کہنا تو تجھے پڑیگا ہی نا…… دعا اپنے ناخن اپنے موں سے کترتے خود سے باتیں کر رہی تھی
آپی یہ تو مجھے پتا تھا کہ آپ کو رات کو چیخنے کے دورے پڑتے ہیں پر آج یہ بھی پتا لگ گیا کہ آپ کو اپنےموں بات کرنے کہ بھی دوڑے پڑتے ہیں صبح بابا سے کہوںگی آپ کو سائیکاٹرسٹ کے پاس لے جائے…….زویا کی اس کی باتوں کی وجہہ سے آنکھ کھل گئی تھی اپنی آنکھیں مسلتے اسنے دعا سے کہا
مجھ سے زیادہ تجھے ضرورت ہے زویا محترمہ
اوہ اچھا آپی مجھے تو پتا ہے میں پاگل ہوں پر مہربانی کرکے مجھے ابھی سونے دیں مجھے بھت زیادہ نیند آرہی ہے اور صبح مہندی کافنکشن ہے جو کہ میں بلکل خراب نہیں کرنا چاہتی سو پلیز میری پیاری سی آپی جان آپ سو جائیں اور مجھے بھی سونے دیں زویا نے اپنے اوپر۔کمفرٹر لیتے ہوئے کہا
ہمم اوکے دعا بھی لیٹ گئی اور لائیٹ اوف کردی
__________________________
تم مجھے بتاؤ کہاں ہے میری فیری بتاؤ مجھے…… وہ پاگلوں کی طرح سامنے چیئر سے بندھے آدمی پر چیخ رہا تھا
مجھے نہیں پتا ڈیارل کی وہ کہاں ہے
ہممم تمہیں نہیں پتا نا اس نے یہ کھتے ہے چاکو اس نے اس کے ہاتھوں کے آرپار کیا اس کی درد ناک چیخ فضا میں گونجی
عمران آخری بار پوچھ رہا ہوں مجھے بتا دو میری فیری کہاں ہے ورنہ تمہارا وہ حال کرونگا کی موت کو بھی ترسوگے تم
ڈیارل مجھے سچ میں نہیں پتا مجھے بس اتنا کہا گیا تھا کی میں اس شاپنگ مال میں یہ افوا پھیلاؤں کی وہاں بم ہے تاکہ لوگوں کا دھیان بھٹک سکے اور وہ لوگ فیری کو اٹھا سکے مجھے اور کچھ نہیں پتا ڈیارل
ٹھیک ہے عمر وہ گرم آئل لے آؤ اور ہلکا ہلکا کر کے اس کے جسم پے گراؤ اور جتنی اذیتیں دے سکتے ہو دو اسے پر یاد رکھنا یہ مرنہ نہیں چاہیے وہ ایک دم کسی حیوان کی طرح بات کر رہا تھا اس سے پہلے کی عمر وہ گرم آئل اس پر گراتا ڈیارل کا موبائل رنگ ہوا
ایک منٹ عمر
اس نے کال اٹینڈ کی
کیا حال ہے ڈیارل مجھے یقین ہے تمہارا حال کچھ اچھا نہیں ہوگا اپنی فیری کے بنا
اوۓ گالی پیٹھ پیچھے کیا وار کرتے ہو ایک دفعہ میرے سامنے تو آؤ پھر دیکھتا ہوں تمہیں
ہاہاہاہاہا قسم سے تمہاری یہ تڑپتے ہوئی آواز سن کے مجھے بھت سکون مل رہا ہے اور ہاں اگر اپنی فیری سے ملنا چاھتے ہو تو شھر کے باھر والے جنگل میں آجاؤ
ہیلو ہیلو فون کٹ ہوچکا تھا میں جاتا ہوں تم دونو یہاں رہو
نہیں میں بھی ساتھ چلتا ہوں ڈیارل بھائی اسد نے کھا
نہیں اسد میں نے کہا نا یہیں رہو تم دونو یہ کھتے وہ باھر کی طرف بھاگا
بچاؤ مجھے بچالو پلیز
تم کہاں ہو آجاؤ پلیز
دیکہو یہ تمہاری فیری کو مار دیگا پلیز آجاؤ
اسے صرف یہ آواز سنائی دے رہی تہی
کہاں ہو تم فیری میری جان کہاں ہو تم ….. وہ دیوانہ وار گھرے جنگل میں بھاگ رہا رات کا اندھیرا چھایا ہوا تھا اس کے پاؤں کانٹے لگنے کے وجہ سے خون سے سرخ ہوئے پڑے تھے اس کی بازو پے گولی لگی ہہوئی تھی جس کی وجہ سے اس سفید شرٹ ساری خون سے رنگ گئی تھی اس کے سر پر بھی چوٹ لگی تھی خون بہ رہا تھا کوئی عام انسان ہوتا اس کی جگہ تو کب کا مر چکا ہوتا پر اسے کہاں فکر تھی اسے تو بس اپنی فیری کی فکر تھی اسے اسے بچانا تھا اس تک پہنچنا تھا اگر اسے کچھ ہو گیا تو یہ سوچ آتے ہی اس کی روح تک کانپ گئی
نہیں نہیں اسے کچھ نہیں ھوگا میں اسے کچھ نہیں ہونے دونگا میں آرہا ہوں میری فیری تمھیں کچھ نہیں ہونے دونگا تم گھبراؤ مت میری جان
وہ دوڑ رہا تھا جب اس کا پاؤں کسی چیز سے ٹکرایا ایسا لگا جیسے کسی کا جسم ہو
اینجل……
تبھی اسے لگا جیسے فیری نے اسے پکارا ہو وہ جلدی سے نیچے بیٹھا فور اس وجود کو اپنے غود میں لٹایا فیری اسے چاند کی روشنی میں اس کا دھندلا سا عکس نظر آیا اس کا چہرا پورا خون سے رنگا ہوا تھا کہ پہچاننا بھی مشکل ہو رہا تھا
اینجل آۓ لو یو سو مچ میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں فیری نے اپنا روئی جیسا نرم ہاتھ جس پہ اس وقت زخم ہی زخم خون ہی خون تھا اینجل کے مضبوط ہاتھوں میں ڈالتے ہوۓ کہا اور اسی وقت اس کی آنکہیں بند ہوگئی
فیری آئے لو یو ٹو میری جان اس نے اس کے ہاتھ کو چومتے ہوئے کہا فیری فیری اٹھو فیری فیری تم مجھے یو اکیلا چھوڑ کے نہیں جا سکتی اٹھو فیری وہ دیوانوں کی طرح اس کے جسم کو جھنجھوڑ رہا تھا اٹھو فیری اس
فیرییییییی………. وہ چیخ کہ اپنی نیند سے بیدار ہوا تھا کچھ پل بعد جب اسے احساس ہوا کہ وہ سب خواب تھا اس نے لمبا سانس لیا اور پانی پیا اسے ابہی تو اپنی فیری ملی تھی اور ابھی سے اس سے دور جانے کے خواب اس کی تو جان پے بن آئی تھی اسے کمرے میں گھٹن ہورہی تھی اس لیے باھر گارڈن میں آگیا کھلی سانس لینے کیلئے باھر سورج کی پہلی ہلکی ہلکی کرنی زمین پر پڑ رہی تھی اور اندھیرے کو ختم کرنے کیلئے اور ایسے ہی فیری تھی اس کے اندھیری سے بھری زندگی میں ایک روشنی کی کرن نظر آئی تھی اور شاید کوئی تھا جو اس سے اسے چھیننا چاھتا تھا اس کی زندگی میں پھر اندھیرا لانا چاھتا تھا
بھائی آپ یہاں کیا کر رہے ہیں…….عمر جو باھر مارننگ واک کیلئے نکلا تھا گارڈن میں ڈیارل کو اتنی صبح صبح یہاں بیٹھے دیکھ کے اس کے پاس آیا اور اس کے ساتھ بیٹھ گیا
کچھ نہیں بس ایسے ہی آنکھ کھل گئی تھی روم میں گھٹن ہو رہی تھی تو باھر آگیا
اوہ مجھے لگا کہ شاید پھر کسی کو اتنی صبح صبح مارنے جا رہے ہیں……عمر نے اپنے شہد رنگ بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا
عمر میرا کوئی موڈ نہیں صبح صبح تمہاری دھلائی کرنے کا
اوکے اوکے بھائی
سنو آج کے بعد تم فیری پہ نظر رکھوگے چوبیس گھنٹے اور یہ تم کیسے کروگے تم بھتر جانتے ہو ڈیارل یہ کہتے ہوئے وہاں سے اٹھ گیا
ہمم اب چوبیس گھنٹے بھابھی پے نظر رکھنے پڑے گی تیار ہو جاؤ مسٹر عمر بھابھی کے جاسوس بننے کیلئے اور ہاں ٹھرکی کی جان تم بھی تیار ہو جاؤ اب یہ ٹھرکی کو چوبیس گھنٹے برداشت کرنا ہوگا چل بیٹا عمر اٹھ جا ورنہ بھائی تیری بوٹی بوٹی الگ کر کہ چیل کووں کو کھلا دینگے
____________________________
سنو دعا زویا ……. عثمان نے انہیں بلایا جو کہ مہندی کیلئے تیار ہو رہی تھی
جی بھائی بولیں….. دعا نے چوڑیاں پہنتے ہوئے کہا
ان سے ملو یہ ہے مسٹر عمر اور آج سے یہ تمہارے بوڈی گارڈ ہیں
پر بھائی کیوں ہمیں کسی بوڈی گارڈ کی کیا ضرورت کونسا فلموں کی طرح کوئی ڈون ہم پے عاشق ہو گیا ہے جو ہمیں اس سے بچانے کیلئے آپ نے کوئی باڈی گارڈ ہائیر کر دیا اور ویسے بھی یہ بندر کیا ہماری حفاظت کرے گا اس کے حالت دیکھے ہی کتنا موٹا ہے ہمارا کیا دھیان رکھے گا آپ لے جائیے اسے ہمیں نہیں ضرورت کسی بھی باڈی گارڈ کی……..زویا نے ناک چڑھا کے کہا کیوںکہ وہ اس ٹھرکی پہ تو بلکل یقین نہہں کر سکتی تھی
زویا میں نے جتنا کہا بس اتنا ہی کرو اوکے اور عمر آج سے تم انکے ساتھ رہوگے یہ کہیں بھی جائیں سمجھ گئے نا
اوکے سر ….. عمر نے زویا کی طرف ایک سمائل پاس کرتے ہوئے کہا
زویا کو تو گویا آگ لگ گئی تھی خبردار جو میرے پیچھے آئے تم کہیں بھی سمجھے عثمان کے جاتے ہی زویا نے اپنی انگلی اس کی طرف کر کہ اسے وارن کرتے ہوئے غصے سے کہا
سوری زویا جی پر یہ تو میری ڈیوٹی ہے اس میں میں آپ کی بات بلکل نہیں مان سکتا عمر نےزویا کی اس وارن کرتی انگلی کو تھام کر اس کو آنکھ مارتے کہا
کیا کرتی ہو زویا کہیں بھی کسے سے بھی لڑنے شروع ہو جاتی ہو سوری اس کی طرف سے.. اس سے پہلے زویا کچھ کہتی دعا نے بیچ میں ٹوک دیا
نو سوری ویسے بھی عمر شاہ پاگلوں کی باتوں کا برا نہیں مانتا
ہمم بڑا آیا ناک پے دم نا کیا تو میرا نام بھی زویا نہیں دو دن میں بھاگا نہیں تو کھنا زویا نےدل میں خود سے کہا
چلیں آپی مجھے بھے شوق نہیں بندروں سے بات کرنے کا وہ دعا کا ہاتھ پکڑ کے باھر لے گئے
اڑے روکو ہمیں بھی لے جاؤ کیوں غریب کے پیٹ پے لات مار رہی ہو مس باندری…….. عمر نے بھی پیچھے سے ہانک لگائی اور ان کے پیچھے چل دیا
_________________________
ہاۓ دعا ….اپنے پیچھے کوئی جانی پھچانی آواز سن کے دعا مڑی تو دیکھا اس کے پیچھے دانیال اسے ہی دیکھ رہا تھا
آپ یہاں کیسے…..دعا نے اسے دیکھے حیرانگی سے کہا
افف یار اب اتنے بڑے بزنس مین کی شادی ہے تو بزنس مین نہیں توکیا سبزی والے آئینگے
اوہ اچھا
جی ہاں اور بتائیں کیسے ہیں آپ دانیال نے اسے محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا اس نے آج تک ہزار لڑکیاں دیکھی تھی پر دعا میں کچھ ایسا تھا جو اسے اپنی طرف اٹریکٹ کرتا تھا اور وہ اسے اپنی زندگی میں لانا چاہتا تھا
میں جیسی بھی ہوں آپ سے مطلب دعا نے غصے سے کہا اور چلی گئی
چلیں کچھ تو کرنا ہوگا اب تمہارا مس دعا………
_________________________
عمر بھائی پوچھ رہی ہیں جو کام انھوں نے دیا وہ کیا یا نہیں……..عمر دعا اور زویا کے ساتھ تھا جب اس کے موبائل پے اسد کی کال آئی وہ ان سے ایکسکیوز کر کہ سائیڈ پے آگیا اور اس کے کچھ کہنے سے پہلے ہی اسد نے سوال کر دیا
ہاں بھائی کو کہو آخر کام انہوں نے عمر شاہ کو دیا تھا کیسے نہ ہوتا عمر نے فخریہ کالر جھاڑا
جی بھائی اس نے کرلیا ہے
ہمم اوکے
اوئے تونے کیا کیسے….. ڈیارل کے جاتے ہی اسد نے عمر سے پوچھا
اوئے تجھے پتا تو ہے یے امیر لوگ کتنے ڈرپوک ہوتے ہیں بس تھوڑا سا ڈرایا اور انھوں نے بوڈی گارڈ رکھ لیے
اوکے بعد میں بات کرتے ہیں
یہ دانیال شاہ یہاں بھابھی کے ساتھ عمر جب کال کٹ کر کہ مڑا تو دانیال کو دعا کے ساتھ کھڑا پایا
کیا ہوا میم وہ تنگ کر رہا تھا کیا……. عمر نے دعا سے پوچھا
کچھ نہیں بس یونی میں ساتھ پڑھتا ہے تو پوچھ رہا تھا کہ یونی کیوں نہیں آرہی دعا نے بھانا بنایا
اچھا میم اوکے(ویسے یہ باندری کہاں گئی) دوسری بات اس نے دل میں کہی
آپی چلیں مہندی لگوالیں کیا یہاں کھڑی ہوئی ہیں زویا نے دعا کو کھینچتے ہوئے کہا
ان دونوں نے مہندی لگوائی
میم مہندی میں کیا نام لکھنا ہے مہندی والی نے زویا سے پوچھا جو کہ پچھلے آدھے گھنٹے سے مہندی لگانے کیلئے فری بیٹھ بیٹھ کے بور ہونے کی وجہہ سے اب اپنے کانوں میں ہینڈ فری لگا کے سونگ سننے میں مصروف تھی
میم…. کوئی جواب نہ ملنے پر مہندی والی نے پھر سے بلایا
ٹھرکی کی جان….. پاس کھڑے عمر نے کہا
اس کے اس طرح سے کہنے پر مہندی والی نے سوالیہ نظروں سے عمر کو دیکھا گویا پوچھ رہی ہو آپ کون ہیں اور یہ کیسا نام ہے
اڑے ایسے کیوں دیکھ رہی ہیں یہ بیوی ہیں میری اور انہیں اسی نام سے بلاتا ہوں میں آپ لکہیں
اوکے سر
___________________________
ہاتھ دھوتے زویا کے ہاتھ رکے اپنے ہاتھ پے لکھا نام دیکھ کے
ٹھرکی کی جان….. یہ کیا ہے اور اس مہندی والی کی ہمت کیسے ہوئی یہ لکھنے کی یا اللہ کسی نے دیکھ کیا تو کیا کہوںگی میں افف یہ کیا کر دیا اس نے
زویا واشروم میں اپنے کس بواۓ فرینڈ سے بات کر رہی ہو کیا باہر آکے کر لو واقعی میں بلکل بھی ٹی وی سیریلس والوں جیسی آپی نہیں ہوں کچھ نہیں کہونگی بلکہ تمہاری شادی بھی کروا دونگی…… دعا نے جب اس کی ہلکی ہلکی واشروم سے آتی آواز سنی تو کہا
آپی کیا آپ بھی کہیں بھی شروع ہو جاتی ہیں
ہاۓ کیا ہوا میلا بیبی کیوں غصے میں ہے دعا نے اس کے گال کہینچتے ہو کہا
آپی پلیز
اچھا اچھا اوکے لاؤ مہندی دکھاؤ کیسا کلر آیا ہے دیکھوں تو میری چڑیل کا ہزبنڈ کیسا ہوگا
نہیں نہیں نہیں رہنے دے آپ نظر لگا دینگی مجھے پیاس لگی ہے میں پانی پی کے آتی ہوں یہ کھتے ہے وہ روم سے باہر نکل گئی
لو جی اسے کیا ہوا خیر چلو چینج کر لیتے ہیں یہ کہتے ہی دعا کبٹ میں سے کپڑے نکالنے لگی
_____________________________
کہاں جارہی ہو ٹھرکی کی جان دعا جب پانی پینے کیلئیے کچن کی طرف جا رہی تھی اسے اپنے پیچھے عمر کی آواز سن کے اسے غصہ آیا ایک تو پہلے ہی موڈ خراب تھا اور وہ اس کے موں نہیں لگنا چاھتی تھی
ایک منٹ ایک منٹ کیا کہا تم نے دعا نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
ٹھرکی کی جان…….عمر نے اسے آنکھ مارتے ہوئے کہا
اوہ تو تم نے یہ نام لکھوایا ہے تمہاری ہمت کیسے ہوئے یہ نام لکھوانے کی…….زویا کا غصہ ساتویں آسمان کو چھو رہا تھا
اب دیکھو نا مہندی پے ہزبینڈ کا نام لکھواتے ہیں تو اب تمہارا ہزبینڈ تو میں ہوں نا تو میں نے لکھو لیا
تمہارے ہمت کیسے ہوئی یہ لکھوانے کی
بیبی نام ہی تو لکھوانا تھا کیسی ہمت اس میں
میرا دل کر رہا ہے تمہاری جان لے لوں زویا نے غصے سے کہا
ہائےےےےے محبوب کے ہاتھوں موت ملے اس سے زیادہ اچھی کیا بات ہے ہائےےےےے ابھی مار دو میری جان
اففففف ٹھرکی کہیں کا ….. یہ کہتے ہی وہ اپنے روم کی طرف چلی گئی
ہائےےےےےے ٹھرکی کی جان
