Raaz E Mohabbat By Mehak NovelR50512 Raaz E Mohabbat (Episode - 5)
No Download Link
Rate this Novel
Raaz E Mohabbat (Episode - 5)
Raaz E Mohabbat By Mehak
اس کو یونی جوائن کیے ہوئے ایک ہفتہ ہو گیا تھا اب تک دعا کے تین دوست بن چکے تھے سعید اور ایاز جو کہ سینئیر تھے اور ایک سارہ جو کہ سعید کی بہن اور اس کی کلاسمیٹ تھی ویسے تو ڈیلی دعا کو عثمان لینے آجاتا تھا پر آج کسی میٹنگ میں بزی ہونے کی وجہ سے وہ نہ آ پایا اس لیے دعا نے اسے کہا تھا وہ اکیلی آجائیگی اور آج تو اسے لیٹ بھی ہوگئی تھی اس وجہ سے سارہ بھی چلی گئی تھی جو اسے ڈراپ کر دیتی
وہ اکیلی ہی یونیورسٹی سے باہر نکلی اور آگے بڑھ گئی ابھی اس نے مشکل سے دو قدم کا سفر طئیے کیا تھا کہ کوئی بلیک کار اس کے سامنے آرکی اس نے گھبرا کر آنکھیں بند کردی
اندھے ہو کیا نظر نہیں آتا تمہیں کیا ابھی میرا ایکسیڈینٹ ہو جاتا چلانا ولانا کچھ آتا نہیں ہے اور چلے آتے ہیں ہیرو غیری دکھانے پتا نہیں نشا کر کہ چلاتےہو……….
اس کی بات ادھوری رہگئی جب دانیال نے کار کا شیشہ نیچے کیا
ہاں تو مس آپ کچھ کہ رہی تھی دانیال نے اپنے گوگلس اتارتے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
نہیں نہیں نہیں تو میں نے تو کچھ نہیں کھا شاید آپ کو غلط فھمی ہوئی ہے (پہلے کیا دن اچھا تھا جو اب اس بندر کی شکل دکھا دی ہم کھڑوس بندر کہیں کا ) اس نے یہ بات اپنے دل میں کہا
اس کے یوں مکر جانے پر دانیال کے چہرے پر ایک دلکش مسکان آئی
آجاؤ ڈراپ کر دیتا ہوں تمہیں
نہیں میں چلی جاونگی آپ جائیں
میں نے کہا آؤ بیٹھو
آپ جا سکتے ہیں مسٹر دعا یہ کہتے ہی آگے بڑھگئی آخر اس کی ایسی تربیت تو ہرگز نہ تھی کہ کسے انجان کے ساتھ چلی جاتی کیا پتا کہاں لے جاتا اور اگر مجبوری میں کہیں کسے کے ساتھ جانا بھی پڑاتو بھی اس کھڑوس کے ساتھ تو بلکل نہیں نیور وہ اپنی ہی سوچوں میں گم سڑک کنارے چل رہی تھی
جب اچانک کسی نے اسی اپنی طرف کھینچا
اس نےخوف سے آنکھین میچ لی
اندھی ھو کیا دیکھ کے نھیں چل سکتی ابھی اکسیڈینٹ ھو جاتا تمھارا
یہ سب کچھ اتنا جلدی ھوا کے اسے کچھ پتا ہی نا چلا
دعا جو ابھی تک آنکھیں بند کر کے اپنی دھڑکنوں کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی اپنے قریب کسی انجان شخص کی آواز سن کے اس نے جلدی سے اپنے آنکھیں کھولی اس کی ڈارک براؤن آنکھیں ان کالی آنکھوں سے ٹکراعی اس نے اپنے چھرے پر رومال سے نقاب کیا ہوا تھا سر پر کیپ تھی اس کی صرف آنکھیں ہی نظر آرہی تھی پر جب اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھا تو اسے اس کی آنکھوں میں ایک الگ سی خوشی نظر آۓ جیسے کوعی بھت قیمتی چیز مل گعی ھو جس کا نجانے کب سے انتظار ھو
چھوڑو مجھے…..
دعا کو جب احساس ھوا وہ اس کی بانھوں میں ہےتو اس نے اس کو غصے سے دیکھتے ہوۓ کھا
اب تو نہیں چھوڑ سکتے آپ کو اتنا انتظار کروایا ہے اور اب بھی چھوڑنے کا کہ رہی ہو اب نہیں چھوڑ سکتا اس نے اس کی نقاب سے نظر آتی ڈارک براؤن آنکھوں کو دیکھتے ہوۓ کھا
دعا کو اس کی آنکھوں میں اجیب سا جنون نظر آیا جیسے وہ ابھی اسی وقت اسے اپنےاندر چھپا لیگا سب سے دور کر دیگا اسے اس سے خوف محسوس ہونے لگا اس کو لگا اگر ایک منٹ اور وہ اس کے حصار میں رہی تو اس کی دہڑکنیں بند ہو جاعیگی وہ اگلا سانس نھیں لے پاعیگی..
کون ہیں آپ پلیز چھوڑیں مجھے
اس نے کوئی جواب نہ دیا وہ تو بس اس کی آنکہوں میں دیکھ رہا تھا جیسے اپنی پیاس بجھا رہا ہو (اس سے تو اچھا تھا کہ اس بندر کے ساتھ آجاتی یا اللہ پلیز اس بندر کی قید سے آزاد کروا اس نے دل میں دعا مانگی)
اسی وقت ڈیارل کا فون رنگ ہوا اور دعا موقعہ دیکھتے ہی اس کی قید سے آزاد ہوئی
ہم اوکے میں آرہا ہوں اس نے یہ کہ کے فون رکھا تو دیکھا وہ آگے بھاگ رہی تھی
بھاگ لو فیری کہاں تک بھاگوگی مجھ سے دور یہ اینجل تمہیں کہیں سے ڈھونڈ لائے گا
______________________
وہ پچھلے 2 گھنٹوں سے سڑک پے بے مقصد گاڑی دوڑا رہا تھا آخر اس کی شخصیت ایسی تو نہیں تھی کہ کوئی اسے اس طرح نظر انداز کر کہ چلا جائے
ہمم مس دعا عمیر آخر دانیال شاہ کی پسند ہو نخرے کرنا تو بنتے ہیں تمہارے وہ اپنی سوچ میں دعا کہ سراپے کو دیکھ کے مسکرا رہا تھا جب اس کا موبائل رنگ ہوا ااسے غصہ تو بھت آیا کہ کسی نے اس کہ سوچوں میں خلل ڈالا پر اسکرین پر احمد کا نام دیکھ کر اس نے کال اٹینڈ کی کیوںکہ کوئی ضروری کام ہوگا ورنہ وہ ایسے ہی کال نہیں کرتا
ہمممممم مطلب آخر اس بار وہ ہمارے جال میں پہنس گیا ہے تم مجھے اس کہ پل پل کی خبر دیتے رہی پر یاد رکھنا اسے بھنک تک نہ لگے ورنہ تم بھتر جانتے ہو تمھارا کیا حال کرے گا فون کی دوسری طرف سے کچھ کہا گیا تھا دانیال نے مسکرا کر یہ جواب دیا
ہمممم اوکے یہ کہ کے اس نے فون رکھ دیا
تو مسٹر ڈیارل شاھ آخر تم پاکستان آ ہی گۓ بہت پرانے حساب چکتہ کرنے ہے تم سے جسٹ ویٹ ایںڈ واچ یہ بازی اب دانیال شاہ کے نام ہے اس نے مسکرا کر گاڑی اسٹارٹ کی اور کلب کی طرف چل دیا
