Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raaz E Mohabbat (Episode - 21)

Raaz E Mohabbat By Mehak

انہیں اٹلی آئے ہوئے پورا ایک ہفتہ گزر چکا تھا پر ابھی تک انہیں دعا کی کوئی خبر نہیں ملی تھی ڈھونڈ کے تھک گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دانیال کو نا دعا کا پتا چل رہا تھا اور نا ڈیارل کا آج بھی وہ ایک ہوٹل آیا ہوا تھا اٹلی کے کچھ جانے مانے ڈونس سے ملنے شاید ان کے پاس ڈیارل کی کوئی خبر ہو ۔۔۔۔۔۔۔اسے انتظار کرتے کرتے ایک گھںٹا گزر گیا تھا پر اب تک اس روئے نام ڈون کی کوئی خبر نا تھی اب تو وہ انتظار کر کر کے تھک چکا تھا

اوہ خدا کیا مصیبت ہے۔۔۔۔۔۔۔اس کا دل چاہ رہا تھا کی وہ یہاں سے چلا جائے پر کیا کرتا اسے اپنی جان بہت پیاری تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہیئی آر یو دانیال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے سامنے کچھ لوگ کھڑے تھے

یس اینڈ یو آر رائے۔۔۔۔۔۔۔۔دانیال نے اس سے پوچھا اور وہ ہاں کر کے بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔

بولو کیا مسئلہ ہے تمہارا کیوں بلایا مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے ڈیارل چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔دانیال نے ٹیبل پے اپنی دونوں کونیاں رکھ کے جھکا تھا

ہاہاہاہا واٹ آ جوک۔۔۔۔۔۔

یے جوک نہیں ہے آئے وانٹ ڈیارل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بدلے میں مجھےکیا ملے گا۔۔۔۔۔۔۔۔رائے نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کے کہا

جو تم کہو گے تمہیں وہ ملے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹھیک ہے میں تمہیں ڈیارل تو نہیں دے سکتا پر اس کے کلب کا اڈریس بتا سکتا ہوں شاید تم وہاں سے کچھ جان جائو اس شخص نے اسے اڈریس بتایا اور پھر کچھ دیر باتوں کے بعد وہ وہاں سے چلا گیا اور دانیال بھی اس کے پیچھے وہاں سے نکل گیا اب اس کا ارادہ اس کلب جانے کا تھا جہاں سے اسے ڈیارل کےبارے میں کچھ پتا لگ سکتا تھا

______________________________________

وہ سب صبح سے ڈھونڈنے گئے ہوئے تھی اکیلی وہیں وہاں بیٹھی تھی ابھی بھی وہ روم میں یہاں سے وہاں ٹہل رہی تھی کی روم کا دروازہ اوپن ہوا اور ساد اندر آیا

اوہو شکر ہے کوئی تو آیا۔۔۔۔۔۔۔زویا نے اسے دیکھ کے کہا

تو کیا آپ ہمیں یاد کر رہی تھی۔۔۔۔۔ساد کے چہرے پے مسکان آئی تھی اسے دیکھ کے

نہیں نہیں تو میں کہوں کرونگی آپ کو یاد میں بلکل نہیں کر رہی تھی بس میں تو اکیلے رہ رہ کے بور ہوگئی تھی ۔۔۔۔۔۔زویا نے جلدی جلدی سے اپنی بات کہی

اوہ اچھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ہم نے تو کہا تھا آپ کی کوئی ضرورت نہیں یہاں ۔۔۔۔۔۔

اوہو کیوں نہیں بلکل ہے آپ لوگ مجھے لے کے جائیں تو آپی یوں فٹ سے مل جائیگی۔۔۔۔۔

اوہ اچھا۔۔۔۔۔

ہاں پر آپ لوگ تو مجھے بند کر کے چلے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔زویا نے موں بنایا

ہاہاہاہاہا صحیح ہے نا آپ بند ہی ٹھیک ہیں۔۔۔۔۔

نہیں مجھے لے چلیں مجھے بھی ڈھونڈنا ہے۔۔۔۔۔۔زویا نے اس سے ضد کی ۔۔۔۔۔۔میں اکیلے رہ رہ کے تھک گئی ہوں

ابھی نائٹ ہے کہاں جانا ہے۔۔۔۔۔۔۔

پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔زویا نے معصوم سی شکل بنائی

اوکے آجائیں ۔۔۔۔۔۔اس کے کہنے کی دیر تھی کی زویا اٹھ کھڑی ہوئی اس کی جلدی دیکھ کے وہ مسکرایا اور باہر نکل کے فلیٹ کے ڈور کو لاک لگایا اور چابی مینیجر کو دے کے خود نکل گئے۔۔۔

________________________________________

فیری صبح سے گھر پے اکیلی تھی وہ دونوں صبح کے گئے ہوئے تھے پر ابھی تک نہیں آئے تھے اور اس کے گھر میں تو کوئ۔ملازم ھبھی نا تھی اور اسے تو کھانا بھی بنانا نہیں آتا تھا وہ صبح سے ناشتے کے بعد بھی اس نے کچھ نہیں کھایا تھا اسے بہت بھوک لگی تھی اسے رہ رہ کے اینجل پے غصہ آرہا تھا اسے ایسے اکیلے چھوڑ کے کیسے جا سکتا تھا اس نے سوچ لیا تھا ی آج وہ آئے گا بھی تو بھی وہ اس سے بات نہیں کرےگی ابھی بھی وہ اس کمرے جے قریب سے گذر رہی تھی کی اسے صبح والی اسد کی باتیں یاد آئی اس نے سوچا کی وہ کمرے میں جا کے چیک کرلیتے ہے اس سے پہلےکی وہ اس روم کے قریب جاتی اسے نیچے سے اینجل کی آواز آئی

فیری۔۔۔۔۔۔۔

فیری۔۔۔۔۔۔

میری جان کہاں ہو۔۔۔۔۔۔اس کی تیسری پکار پے اسے فیری سیڑھیوں پے نظر آئی اور اس نے ایک نظر پیار سے اسے دیکھا اور فیری کو پاس آنے کا کہا جس پے وہ موں پھیر گئے

اڑے کیا ہوا میری جان کو ایسے کیوں بیٹھے ہے ۔۔۔۔۔۔وہ اس کے قریب آیا پر اسے فیری کی طرف سے کوئی جواب نا ملا

میری جان ناراض ہے اپنے اہنجل سے۔۔۔۔۔۔۔۔ڈیارل نے اسے پیچھے سے ہگ کیا

چھوڑیں مجھے مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی۔۔۔۔۔۔۔فیری اس سے دور ہونے کیلئیے اپنے گرد بندھے اس کے ہاتھوں کو ہٹانے لگی۔۔۔۔۔۔۔

اڑی ایسے کیا گستاخی ہوگئی غلام سے جو میری جان ناراض ہے مجھ سے۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے اس کا رخ اپنی طرف کر کے اس کے گرد اپنی گرفت اور سخت کرلی

آپ کو کوئی فکر ہی نہیں ہے میری صبح سے بور ہوتی رہتی ہوں اکیلی رہ رہ کے اور آپ کو پتا ہے میں نے کچھ کھایا بھی نہیں بہت بھوک لگی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔دعا معصومیت سے کہتے اسے بہت پیاری لگی اس نے بے ساختہ اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کی قید میں لے لیا اور کچھ وقت بعد اسے آزاد کر کے اس کے چہرے پے اس کی محبت کے بکھرے رنگ دیکھنے لگا

مائے بلشنگ فیری کیا اب بھی ناراض ہو مجھ سے۔۔۔۔۔۔۔۔ڈیارل نے اسے گھری نظروں سے دیکھا

ننننن نہہں۔۔۔۔۔دعا نے دل میں توبہ کی اب جو وہ اس سے ناراض ہوئی تو

ہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔۔۔۔میری جان آپ نے کھانا کیوں نہیں کھایا

کیوںکی مجھے بنانے نہیں آتا۔۔۔۔۔۔۔دعا نے شرمندگی سے آنکھیں جھکا لیں

اوہ کوئی نہیں میں سکھا دونگا ابھی چلو آپ کی بوریت بھی دور کرتے ہیں آپ کو ہمارا شہر گھما کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نہیں مجھے نہیں چلنا۔۔۔۔۔۔دعا نے نخرے دکھائے

ٹھیک ہے نا چلیں۔۔۔۔۔۔۔۔ڈیارل نے اپنی بات کہہ کے اسے اپنی باہوں میں اٹھا لیا تھا

نیچیں اتاریں مجھے اینجل میں گر جائونگی۔۔۔۔۔۔۔دعاچیخی تھی

ہاہاہاہاہا میری جان آپ کو گرانے کیلئے تو نہیں تھاما نا بھروسہ رکھو مجھ پ مے کبھی گرنے نہیں دونگا آپ کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی بات پے دعا نے اس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں سے سچائی جھلک رہی تھی ایک یقین تھا اس کی آنکھوں میں

کس سحر میں ڈوبی ہو۔۔۔۔۔۔ڈیارل نے اسے جیپ میں بٹھایا اور اس کے آگے چٹکی بجائی وہ جو اس کی باتوںمیں کھوئی ہوئی تھی

کہیں نہیں۔۔۔۔۔۔۔

تھوڑی دیر کی ڈرائیونگ کے بعد اس نے ایک ہوٹل میں ڈنر کروایا پھر وہ اسے ایک پیارے سے پارک لے آیا تھا یہاں آس پاس بہت سارے لوگ تھے۔۔۔۔۔وائو بہت پیاری جگہہ ہے یے۔۔۔۔دعا نے خوش ہوتے ہوئی کہا وہاں کی ٹھنڈی تازی ہوا اسےسکون دے رہی تھی

ہاں بہت سکوندہ جگہہ ہے یہاں ہم بچپن میں آیا کرتے تھے اور گہنٹوں یہاں رہتے تھے ایک ساتھ اسد عمر اور معصو۔۔۔۔۔۔ڈیارل اپنی بات بیچ میں چھوڑ دی جب اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا

کون معصومہ۔۔۔۔۔۔۔۔دعا نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا

کون معصومہ میں نے تو معصومہ نہیں کہا فیری میں تو کہہ رہا تھا کی عمر بہت معصوم تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈیارل نے جلدی سے بات بدلی

اچھا جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔فیری کو کچھ عجیب لگا تھا پر اسے یوں پوچھنا ضحیح نہیں لگا

کتنا پیارا پارک ہے نا یے میں تو جب سے آئے تھے بند ہوکے رہ گئے تھی آج خود کو آزاد فیل کر رہی ہوں۔۔۔۔۔۔زویا نے ساد سے کہا جو اسے ہی بغور دیکھ رہا تھا

ہمم بہت پیارا ہے۔۔۔۔۔۔۔

ویسے آپ پہلے بھی یہاں آچکے ہیں کیا۔۔۔۔۔۔زویا نے ساد سے پوچھا۔۔۔۔۔۔۔

ہاں ڈیارل کیس کے سلسلے میں کافی بار۔۔۔۔۔۔ساد نے بیزاریت سے جواب دیا

اچھا یے ڈیارل کون ہے۔۔۔۔۔۔زویا نے اس کو بغور دیکھا جس کے چہرے پے ڈیارل کے نام سے ہی بیزاریت ظاہر تھی

ڈون ہے لوگوں کو مارتا ہے ان کی جان لیتا ہے درندہ ہے درندہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

واٹ۔۔۔۔۔۔۔۔اچھا مجھے پیاس لگی ہے پانی ملے گا کیا۔۔۔۔۔۔زویا نے اسے معصومیت سے دیکھا اور اس کی اس طح سے دیکھنے پے وہ مسکرایا تھا

ہاں ضرور ابھی لاتا ہوں تم یہیں رہنا کہیں جانا مت۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اسے کہہ کے چلا گیا پانی لانے

اتنی پیاری جگہ ہے سیلفی تو بنتی ہے ۔۔۔زویا نے تین چار سیلفیز لی۔۔۔۔۔۔۔چلا اب دیکھتے ہیں سیلفیز کیسی آئی ہیں زویا نے گیلری اوپن کی اور پک لگائی پر اس پک کو دیکھتے اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا اس پک میں دعا زویا کے پیچھے کھڑی تھی کسی کے ساتھ اس نے پہلے پک کو دیکھا پھر اس نے جلدی سے پیچھے چہرا موڑا پر اس کے پیچھے کوئی نا تھا ابھی بھی وہ شوک میں تھی کی اسے ساد نے آواز دی

لو پانی پیو زویا۔۔۔۔۔۔۔۔زویا نےاس کی آواز پے اس کی طرف دیکھا اس کی آنکھوں میں نمی دیکھ کے وہ ٹھٹھکا

کیا ہوا زویا آپ کیوں رورہی ہو ڈول۔۔۔۔۔۔۔اس کے کہنے پے زویا نے اسے دیکھا

آپی ابھی یہاں تھی۔۔۔۔۔

واٹ تو تم نے اسے روکا کیوں نہیں کہاں چلی گئی وہ۔۔۔۔ساد نے ادھر ادھر دیکھا

میں سیلفی لے رہی تھی تو جب سیلفی لگا کے دیکھی اس میں آپی میریے پیچھے ہی کھڑی تھی کسی کے ساتھ ۔۔۔۔۔

مجھے دکھائو وہ پک۔۔۔۔۔۔اس کے کہتے ہی زویا نے اسے وہ پک دکھائی

آر یو شیور یہیں لڑکا تھا دعا کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ساد نے اسے دیکھا اس کی آنکھوں میں حیرانگی واضع تھی

ہاں تمہارے سامنے ہی تو تصویر ہے۔۔۔۔۔۔۔حد ہے پھر بھی پوچھ رہے ہو

زویا جانتی ہو یے جو تمہاری آپی کے ساتھ ہے وہ کون ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے زویا کو حیرت سے دیکھا جس پے زویا نے سوالیہ نظروں سے دیکھا جیسے پوچھ رہی ہو کون ہے یے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہی از ڈیارل درندہ ہے یے درندہ دعا بلکل بھی سیف نہیں ہے ہمیں اسے جتنا جلدی ہو ڈھونڈنا پڑے گا

آپی آپی۔۔۔۔۔۔۔۔زویا کے تو جیسے اس نے کانوں میں سیساانڈیلا ہو اس کا دماغ سن ہو چکا تھا

زویا

زویا۔۔۔۔۔۔اس نے زویا کو کندھے سے ہلایا تھا جس سے وہ اپنے صدمے سے باہر آئی تھی۔۔۔۔۔۔چلو ہمیں ڈھونڈنا ہے دعا کو ابھی پارک سے باہر نہیں گئی ہوگی چلو۔۔۔۔۔۔۔

____________________________________

وہ ابھی تھکا ہارا آیا تھا کی اسے مینیجر نے بتایا کی زویا ساد کے ساتھ باہر گئی ہوئی ہے یے بات سن کےہی اس کے ماتھے پے بل آگئے تھے اسے زویا پے بہت غصہ آیا تھا

بتا کے گئے ہی کی کہاں جارہے ہیں اور کب تک آئیں گے۔۔۔۔۔۔۔عمر نے مینیجر سے پوچھا

نہیں سر ۔۔۔۔۔۔

اوکے۔۔۔۔۔وہ اوکے کہہ کے باہر آگیا اور زویا کو کالس کی وہ کال بھی پک نہیں کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔حد ہے ایسے کیسے کسی کے ساتھ جا سکتی اور میری کال بھی پک نہیں کر رہی میری اب آنے دو دیکھتا ہوں عمر اپنا موبائل وہیں پھینک کے روم میں چلا گیا فریش ہونے پہلے ہی وہ بہت پریشان تھا اور اوپر سے زویا کا سن کے اس کے دماغ کی نسیں پھٹنے پے آئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

_____________________________________

پورا پارک چیک کرنے کے بعد بھی انہیں دعاکا کچھ پتا نہیں چلا تھا زویا کے آنکھوں سے آنسو بہنا نہیں رک رہے تھے یے سوچ سوچ کے کی اس کی وہ معصوم سی بہن اس درندے کے پاس ہے

زویا پیز چپ ہوجائو ۔۔۔ہمیں پتا لگ گیا ہے نا کی وہ کس کے پاس ہے تو جلدی ہے بھی ہم اسے ہمارے پاس لے آئینگے۔۔۔۔۔تم فکر مت کرو پلیز رونا بند کروچلو گھر چلنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔اس کے کہنے کے ساتھ زویا اس کے ساتھ چلنے لگی پر اس کے دماغ میں ابھی بھی وہیں سب سوال تھے اس نے موبائل چیک کیا اس پے عمر کی سات کالس لگی ہوئی تھی اس نے کال بیک کی پر اٹینڈ نہیں کی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *