Raaz E Mohabbat By Mehak NovelR50512 Raaz E Mohabbat (Episode - 4)
No Download Link
Rate this Novel
Raaz E Mohabbat (Episode - 4)
Raaz E Mohabbat By Mehak
کیا ہم یہاں بیٹھ سکتےہیں پرنسس…..دعا کینٹین میں اکیلی بیٹھی ادھر أدھر دیکھ رہی تھی کیوںکہ اس کی ابہی تک کوئی بہی دوست نہیں بنی تھی آواز پر اس نے چوںک کر اس طرف دیکھا کہ وہہیں دو لڑکے جنہوں نے اس کھڑوس کو پھول دینے کیلئے دیا تھا اس کے سامنے کھڑے اس سے بیٹھنے کی اجازت مانگ رہے تھے
جی نہیں آپ یہاں نہیں بیٹھ سکتے دعا نے ناک چڑھا کے غصے سے کہا اس سے اس کی روئی جیسی گالیں غصے سے ریڈ ہو چکی تھی اس کی یہ ادا اس کے سامنے والی ٹیبل پہ بیٹھے دانیال کو بہت پیاری لگی
اڑے لگتا ہے یہ پیاری سی گڑیا ہم سے ناراض ہے لو پرنسس ہم کان پکڑ کہ سوری کہتے ہیں
وئی آر رئیلی سوری ان دونوں نے یک زبان ہوکہ کہا ان دونوں نے کان پکڑے ہوئے تھے
دعا نے ایک نظر دیکھا پھر جلدی سے نظریں پھیر لی جب کہ لبوں پہ پیاری سی مسکان تھی اس وقت وہ بہت پیاری لگ رہی تھی اس کی ڈارک براون آنکھیں جن کے اوپر گھنی آبشار سی پلکیں اس کے چھوٹے گلابی ہونٹ جو کہ شرارت سے مسکرا رہے تھے اس کی پھولی پھولی سفید روئی جیسی گالیں جو کہ اس وقت پھولی پھولی اور گلابی گلابی تھی غصے کی وجہ سے اس کا چھوٹا سا ناک بھی سرخ تھا اوپر سے آسمانی کلر کا حجاب وہ دانیال کو سیدھا اپنے دل میں اترتی محسوس ہوئی
اچھا پرنسس اب بھی نہیں چلو اب اٹھک بیٹھک کرتے ہیں سعید
اڑے نہیں نہیں بیٹھ جائیں دعا نےمسکراتے ہوۓ کہا
سوری وئی آر رئیلی سوری ہم تو صرف شرارت کر رہے تھے ہمیں نہیں پتا تھا وہ اوور ری ایکٹ کر جائے گا پرنسس سوری اس سب گفتگو میں سعید پہلی بار بولا
اٹس اوکے کوئی بات نہیں غلطی آپ کی نہیں اس کھڑوس کی ہے اسی پھول ہی تو دے رہی تھی کونسا زھر دے رہی تھی جو ایسے جھڑک دیا مجھے اتنا پیارا بھی نہیں ہے جتنا ایٹیٹیوڈ ہے اس میں بندر کہیں کا
دانیال کا چوںکہ پورا دھیان دعا کی طرف تھا تو خود کو بندر کہنے پر پہلے تو حیران ہوا پھر اٹھ کے کینٹین سے باھر چلا گیا اور پیچھے مریم اسے بلاتی رہی دانیال دانیال کہاں جا رہے ہو ……
ہاہاہاہاہاہاہاہا او رئیلی تم اسے بندر کہ رہی ہو
ہاں تو اور کیا کہوں ہنننن بڑا آیا
اچھا خیر چھوڑو یہ بتاؤ تمہارا نام کیا ہے پرنسس ایاز نے پوچھا
دعا…..دعا عمیر اور آپ دونوں کا
میرا نام سعید ہے اور اس کا نام ایاز ہم دونوں 4th ییئر کے اسٹوڈںٹ ہے
ویسے کیا ہم فرنڈس بن سکتے ہیں سعید نے اپنا ہاتھ آگے کیا
ہمم اوکے دعا نے کچھ سوچتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام لیا
سو ناؤ ؤئی آر فرینڈس
اوکے کلاس کا ٹائم ہورہا ہے میں چلتی ہوں بعد میں ملینگے
اوکے اللہ حافظ یہ کہتے دعا اپنی بوکس اٹہا کے باہر چلی گئی ااور وہ دونوں بھی اپنی اپنی کلاس کی طرف
____________________
بچاؤ مجھے بچالو پلیز
تم کہاں ہو آجاؤ پلیز
دیکہو یہ تمہاری فیری کو مار دیگا پلیز آجاؤ
اسے صرف یہ آواز سنائی دے رہی تہی
کہاں ہو تم فیری میری جان کہاں ہو تم ….. وہ دیوانہ وار گھرے جنگل میں بھاگ رہا رات کا اندھیرا چھایا ہوا تھا اس کے پاؤں کانٹے لگنے کے وجہ سے خون سے سرخ ہوئے پڑے تھے اس کی بازو پے گولی لگی ہہوئی تھی جس کی وجہ سے اس سفید شرٹ ساری خون سے رنگ گئی تھی اس کے سر پر بھی چوٹ لگی تھی خون بہ رہا تھا کوئی عام انسان ہوتا اس کی جگہ تو کب کا مر چکا ہوتا پر اسے کہاں فکر تھی اسے تو بس اپنی فیری کی فکر تھی اسے اسے بچانا تھا اس تک پہنچنا تھا اگر اسے کچھ ہو گیا تو یہ سوچ آتے ہی اس کی روح تک کانپ گئی
نہیں نہیں اسے کچھ نہیں ھوگا میں اسے کچھ نہیں ہونے دونگا میں آرہا ہوں میری فیری تمھیں کچھ نہیں ہونے دونگا تم گھبراؤ مت میری جان
وہ دوڑ رہا تھا جب اس کا پاؤں کسی چیز سے ٹکرایا ایسا لگا جیسے کسی کا جسم ہو
اینجل……
تبھی اسے لگا جیسے فیری نے اسے پکارا ہو وہ جلدی سے نیچے بیٹھا فور اس وجود کو اپنے غود میں لٹایا فیری اسے چاند کی روشنی میں اس کا دھندلا سا عکس نظر آیا اس کا چہرا پورا خون سے رنگا ہوا تھا کہ پہچاننا بھی مشکل ہو رہا تھا
اینجل آۓ لو یو سو مچ میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں فیری نے اپنا روئی جیسا نرم ہاتھ جس پہ اس وقت زخم ہی زخم خون ہی خون تھا اینجل کے مضبوط ہاتھوں میں ڈالتے ہوۓ کہا اور اسی وقت اس کی آنکہیں بند ہوگئی
فیری آئے لو یو ٹو میری جان اس نے اس کے ہاتھ کو چومتے ہوئے کہا فیری فیری اٹھو فیری فیری تم مجھے یو اکیلا چھوڑ کے نہیں جا سکتی اٹھو فیری وہ دیوانوں کی طرح اس کے جسم کو جھنجھوڑ رہا تھا اٹھو فیری اس
فیرییییییی………. وہ چیخ کہ اپنی نیند سے بیدار ہوا تھا کچھ پل بعد جب اسے احساس ہوا کہ وہ سب خواب تھا تو اس نے شکر ادا کیا کیوںکہ وہ اپنی فیری کو کھونے کی ہنت نھیں رکھتا تھا اس نے وقت دیکھا تو پاںچ بج رہے تھے وہ اٹھا اور فریش ہونے چلا گیا کیوںکہ سات بجے کہ اس کی فلائٹ تھی
____________________
وہ اپنی گاڑی پارک کر کہ اپنے محل نما گھر میں داخل ہوا تھا
دانی بیٹا ڈنر کرو آجاؤ اس کے بابا نے اسے بلایا جو کہ ڈنر سے لطف اندوز ہورہے تھے
نو ڈیڈ مجھے بوکھ نہیں یہ کھتے وہ سیڑھیاں چل کہ اپنے روم میں چلا گیا
میں اسے بندر لگتا ہوں…..اپنے روم میں آکے وہ ڈریسنگ ٹیبل کہ سامنے خود کو ائینے میں دیکھتے ہووۓ کہا
کہاں سے بندر ہوں اتنی پیاری شکل ہے میری
یار کوئی تو کمی ہوگی تبھی اس نے کھا نا …. اس کے اندر سے آواز آئے
او کوئے نہیں میں بندر خود ہوگی وہ بندریا ہزاروں لڑکیاں مرتی ہے دانیال شاھ پے
خیر میں کیوں سوچ رہا ہوں کیا فرق پڑتا ہے جو چاہے کہے پر یار اس نے کہاکیوں کیا کمی ہے مجھ میں
خیر دفع دور میرا کیا …… وہ اپنا موبائل اٹھا کہ پبجی کھیلنے لگا
