Raaz E Mohabbat By Mehak NovelR50512 Raaz E Mohabbat (Episode - 16)
No Download Link
Rate this Novel
Raaz E Mohabbat (Episode - 16)
Raaz E Mohabbat By Mehak
ڈنر کرنے کے بعد وہ بیڈ پے لیٹ گئی وہ ابھی پورے طرح سے کمرے کا جائزہ لے رہی تھی اپنی آنکھوں سے کی واشروم کا دروازہ کھلا بے ساختہ دعا کی نظر اس طرف بھڑی سامنے وہ بلیک ٹراؤزر میں شرٹلیس کھڑا تھا دعا نے جلدی سے اپنی آنکھوں پے ہاتھ رکھا اس کی اس حرکت پے ڈیارل کے چہرے پے مسکان آئی وہ اس پے ایک نظر ڈال کےڈریسنگ مرر کے سامنے آیا اور بال ڈرائی کرنے لگا دعا نے آنکھوں سے تھوڑا سا ہاتھ ہٹا کے دیکھا وہ ابھی بھی شرٹلیس تھا اس نے پھر اپنی آنکھوں پے ہاتھ رکھ لیا
کیا ہوا فیری آنکھوں پے ہاتھ کیوں رکھے ہوئے ہیں ۔۔۔۔ڈیارل اس کے قریب بیٹھا
وہ وہ آپ
ہاں میں میں کیا
وہ آپ شرٹ پہنے نا ایسے کیسے دیکھ لوں پکیز پہنے
فیری مجھے تو نائٹ کو ایسے ہی سونے کی عادت ہے میری جان اس لئیے تم بھی مجھے ایسے دیکھنے کی عادت ڈال لو مائے لو
نہیں نہیں پلیز اینجل میں نہیں دیکھ سکتی ایسے
کیا کہا ابھی تم نے مجھے پھر سے کہو
میں آپ کو ایسے نہیں دیکھ سکتی
نہیں نہیں یے نہیں میرا نام کیا پکارا تم نے ذرا پھر سے پکارو
اینجل۔۔۔
فیری تم نہیں جانتی کتنے سالوں سے میں یے سننے کیلئیے ترس رہا تھا اور آج تمنے میری خواہش پوری کردی مائی اس نے فیری کو کھینچ کے اپنے اوپر گرالیا
فیری یو آر مائے لائف یو آر مائے ساؤل آئم نتھنگ وتھ آؤٹ یو بیبی پلیز مجھے کبھی چھوڑ کے نا جانا ۔۔۔۔۔۔۔وہ جیسے جیسے کہتا جارہا تھا دعا اس کے لفظوں کے سحر میں جکڑتی جارہی تھی اس کے لفظوں میں سچائی تھی خلوص تھا جنونیت تھی اس سے پہلے کی دعا کچھ کہتی اس نے دعا کے ہونٹوں پے اپنے ہونٹ رکھ کے تھوڑی دیر بعد انہیں آزاد کردیا اور دعا ہمیشہ کی طرح اب اپنی پلکیں بھی اوپر نا کر پا رہی تھی
مائے بلشنگ فیری اب سوجائو کافی نائٹ ہوگئی ہے اس نے دعا کا سر اپنے سینے پے رکھا اس کی گرفت اتنی مضبوط تھی کی دعا مزاحمت بھی نا کر پائی
_________________________
پلیز یار زویا پلیز کچھ کھالو پلیز دو دن سے مسلسل روئے جارہی ہو تم پلیز کچھ تو کھا لو پلیز یار پلیز زویا۔۔۔۔۔۔عمر نے بے بسے سے کہا
نہیں مجھے کچھ نہیں کھانا پتانہیں آپی کہاں ہیں کیسی ہیں انہوں نے کچھ کھایا بھی ہوگا یا نہیں پتا نہیں کیسی ہونگی وہ
زویا ہم میم کو ڈھونڈ تو رہے ہیں یار مل جائیگی وہ تم کھانا کھائو پہلے پلیز کچھ تو کھالو یار زیادہ نا سہی تھوڑا سا ہیپر کھا تو لو
نہیں میںنے نہیں کھانا۔۔۔زویا نے کسی ضدی بچے کی طرح کہا
زویا آخری بار پیار سے کہہ رہا ہوں کھاتی ہو یا نہیں
نہیں نہیں کھائونگی بتاہئو کیو کرلوگے
اوکے زویا ۔۔۔۔۔۔عمر نے گناٹھا کے زویا کی کنپٹی پررکھی
کھاتی ہو یا شوٹ کروں
بچی سمجھا ہے مجھے جو اس ننکلی بچوں کی گن سے ڈرجائونگی میں
اوہ تو تمہی لگتا ہے یے نکلی ہے عمر نے گناس کی کنپٹی سے ہٹا کے گلاس وال کی طرف کی اور گن سے اس پےنشانہ باندھا زویا جو بڑی دلچسپی سے سب دیکھ رہی تھی ٹھاہ کی آواز پے اندر تک کانپ گئی
اب بھی بولوگی کے یے نکلی ہے۔۔عمر نے گن پھر اس کی طرف کی
نہیں نہیں یے تو اصلی ہے
تو کھائو ورنا ابھی شوٹ کردونگا
عمر تم مجھے شوٹ کروگے
ہاں تمہیں ہی کرونگا اگر تم خود کو ایسے تکلیف دے رہی ہو اس سے بہتر ہے ایک بارکی تکلیف سے مر جائو اورسچ میں مجھےبلکل افسوس نہیں ہوگا تمہیں شوٹ کرنے کا میری جان
زویا اس کی بات سن کے خھوٹے چھوٹے نوالے کھانے لگی
کھا لیا ورنا مر جاتی باندری ۔۔۔۔۔۔عمر اسے کھانا کھلا کے باھر چلا گیا
ٹھرکی باندر کھڑوس اور اب تو ڈون بھی ہے ہوںںں زویا اسے سنا کے لیٹ گئی کیوںکی اس کے بہت زیادہ سر درد ہورہی تھی
________________________________________
ہاں صغیر بتائو کوئی خبر ملی ڈیارل کی
جی جی سر اب تک مجھے یے تو پتا لگ گیا ہے کی ڈیارل اس وقت پاکستان میں نہیں ہے پر سر وہ جہاں بھی ہے میں جلد ہی پتا کروالونگا آپ فکر نا کریں سر
ہمم اوکے تم جائو ۔۔۔۔دانیال اپنی چیئر سےٹیک لگا کے آنکھیں موند گیا
کہاں ہو تم دعا کہاں ہو میری جان تم جہاں بھی ہو تمہیں دھونڈ لونگا بہت جلد کیوںکی تم صرف میری ہو صرف دانیال شاہ کی تمہیں میری ہقنا ہوگا اور اگرتم خود مجھ سے دو بھاگی ہو تو تمہیں ڈھونڈ کے تمہارا وہ حال کرونگا کی اپنی موت کو بھی ترسوگی تم۔۔۔۔۔دانیال ابھی بھی اپنی سوچوں میں تھا کی اس کا موبائل رنگ ہوا موبائل اسکرین پے کنگ کا نام چمک رہا تھا کنگ نام دیکھ کے دانیال کے پیشانے پے پسینا نمودار ہوا اسنے تیز دھڑکتے دل اور کانپتے ہاتھوں سے کال اٹینڈ کی
جی جی کنگ
کنگ آپ فکر نا کریں میں ڈھونڈ لونگا بہت جلد ڈیارل کو اس وقت وہ پاکستان میں نہیں ہے پر جہاں بھی ہےمیں وہ بھی جلد ہی پتا کرلونگا آپ فکر نا کریں کنگ لاسٹ موقعہ دے دیں کنگ بس لاسٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگلی طرف سے کچھ کہا گیا تھا جس پر دانیال نے جلدی سے اپنی صفائی دی اور کال منقطع ہوگئی دانیال نے اپنی رکی سانسیں بحال کی اور باہر نکل گیا اسے جلدازجلد ڈیارل کا پتا لگوانا تھا ورنہ کب اس کی موت ہوجائے وہ نہیں جانتا تھا
________________________________________
اس کی آنکھ کھلی تو وہ اس کے سینے پے سر رکھ کےسوئی ہوئی تھی اس نے اپنا چہرا اوپر کر کے اس بے رحم شخص کو دیکھا جس نے اس سے اس کا سارا جہاں سے الگ کردیا تھا وہ پیارا تھا ایکدم شہزادوں جیسا دعا اسے دیکھ کے مسکرائی پر اس کی مسکراہٹ ایک پل میں غائب ہوئی جب اسے یاد آیا کی یہیں وہ شخص ہے جس کی وجہہ سے آج وہ اپنی فیملی سے الگ ہے نا جانے وہ سب کیسے ہقنگے کس حال میں ہونگے اس کے بابا کو اس دن لوگوں نے کیا کچھ نہیں کہا ہوگا یے سب یاد آتے ہی اس نے موں پھیر لیا اور اس کی گرفت سے آزاد ہونا چاہا پر اس کی گرفت اتنی سخت تھی کی وہ کچھ نا کرپائی مجبورن اس نے اسے پکارا
اینجل
جی اینجل کی جان
چھوڑیں مجھے
اگر نا چھوڑوں تو
پلیز نا مجھےنماز پڑھنی ہے
اوکے جان۔۔۔۔۔۔اس نے اس کی کمر کے گرد بندھے ہاتھ ہٹائے اور دعا جلدی سے اس کی گرفت سے نکلی اور وضو کرنے چلی گئی
وضو کر کےآئی تو ادھر ادھر جائے نماز کیلئیے دیکھا پر اسے کہیں نظر نا آیا
جائے نماز کہاں ہے۔۔۔۔۔۔دعا نے ادھر ادھر نظریں دوڑاتے ہوئے پوچھا
نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔اس نے ایک لفظی جواب دیا
کیا مطلب نہیں ہے۔۔۔۔اسے حیرت ہوئی
یار نہیں ہے تو نہیں ہے اینجل نے اس کی طرف دیکھے بغیر جواب دیاا شاید شرمندگی سے
کیا تم نماز نہیں پڑھتے ہو
نہیں
کبھی بھی نہیں پڑھی
نہیں کبھی بھی نہیں
تم مسلمان ہو دعا نے حیرت سے پوچھا
جی الحمداللہ
تو نماز کوں نہیں پڑھتے
کیوںکی آج تک کبھی ضرورت نہیں پڑی
کیا مطلب ضرورت پےنماز پڑھی جاتی ہے کیا
ہاں اب دیکھو تم لوگوں کو جب کوئی دعا مانگنی ہوتی ہے یاثواب کی ضرورت ہوتی ہے تبھی نماز پڑھتے کبھی بغیرمطلب نماز پڑھی ہے کیا کبھی صرف اللہ کو خوش کرنے کیلئیے نمااز پڑھی ہے بغیر کسی مطلب کے
نہیں ایسا نہیں ہے اینجل بٹ تمہاری مرضی ان شاء اللہ کبھی تم بھی پڑھوگے یے کہہ کے دعا نے اپنی نماز شروع کی نماز پڑھنے کے بعد اس نے دس منٹ دعا مانگی ڈیارل جو اسے غورسے دیکھ رہا تھا
کیا مانگا اتنی دہر دعا میں
تم سے جدائی۔۔۔۔۔
ہاہاہاہاہاہا یے ممکن نہیں میری کیوٹ فیری تمہیں مجھ سے کوئی جدانہیں کر سکتا
سچے دل سے مانگی دعائیں کبھی رد نہیں ہوتی دیکھ کینا ایک دن تم سے دور ہوجائونگی
تمہاری دعا سے زیادہ سچی میری محبت ہے میری جان تم کہیں بھی جائو یے تمہیں دنیاکے کسی بھی کونے سے واپس لے آئے گی
۔۔۔۔۔۔یے کہہ کے وہ اٹھ گیا اور چلا گیا
اور پیچھے دعا سوچتی رہ گئی کیا تھا یے شخص اسے ہر بار لاجواب کردیتا تھا
