Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raaz E Mohabbat (Episode - 20)

Raaz E Mohabbat By Mehak

بھائی آپ کہاں جارہے ہیں۔۔۔۔۔زویا عثمان کے کمرے میں اسے کھانے کیلئیے بلانے آئی تھی پر اسے پیکنگ کرتے دیکھ اس نے اس سے پوچھا

میں اٹلی جارہا ہوں۔۔۔۔۔۔

پر کیوں بھائی۔۔۔۔۔۔

کیوںکی دعا وہاں پے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا سچ میں بھائی۔۔۔۔۔۔

ہاں گڑیا اور میں آج ہی نکل رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔

بھائی میں بھی ساتھ چلونگی۔۔۔۔۔۔۔۔زویا نے ضد کی

نہیں گڑیا آپ نہیں آسکتی آپ گھر رہیں ماما بابا کے ساتھ وہاں پے خطرہ بھی ہو سکتا ہے میں بھی ساد(سیکریٹ ایجنٹ)کے ساتھ جارہا ہوں میں نہیں چاہتا وہاں کوئی بھی گڑبڑ ہو گڑیا آپ گھر پر رہیں۔۔۔۔عثمان نے اسے پیار سے سمجھایا

نہیں بھائی بلکل نہیں میں نے کہا نامیں چلونگی تو چلوںگی بس بات ختم ۔۔۔۔۔۔۔۔زویا نے کسی ضدی بچے کی طرح ضد کی

گڑیا آپ وہاں جاکر کیا کرینگی۔۔۔۔۔

آپی کو ڈھونڈنے میں مدد۔۔۔۔۔

گڑیا میری جان ایک بہن پہلے ہی میرے پاس نہیں ہے میں دوسری کو نہیں کھونا چاہتا آپ سمجھ رہی ہیں نا

نہیں بھائی میں کچھ نہیں سمجھ مجھے چلنا ہے تو چلنا ہے بس بات ختم۔۔۔۔۔۔

گڑیا پلیز بھائی کو کیوں تنگ کر رہی ہیں۔۔۔۔۔

بھائی پلیز۔۔۔۔۔زویا کی آنکھوں میں نمی آگئی تی جنہیں دیکھ کے عثمان تڑپ اٹھا تھا وہ اپنی بہنوں پے جان دیتا تھا ان کو رلانا کبھی نہیںں

اوکے اٹھو چلو۔۔۔۔۔۔۔آخرکار عثمان نے اس کے سامنے گھٹنے ٹیکے

اوکے ٹھینکس بھائی۔۔۔۔۔

جائو جلدی سے سامان پیک کرو دس بجے کی فلائیٹ ہے ہماری۔۔۔۔۔اس کے جاتے ہی عثمان نے عمر کو اپنے کمرے میں آنے کا کہا

عمر پیکنگ کرلو ہمیں اٹلی جانا ہے۔۔

پر کیوں۔۔۔۔

دعا وہاں ہے پہلے تو میں اکیلے ساد کے ساتھ جا رہا تھا پر زویا نے ضد کی اس کی سیفٹی کیلئیے تمہارا ہونا ضروری ہے اس لئیے۔۔۔۔۔۔

آپ کو کس نے بتایا کی دعا میم وہاں ہے۔۔۔۔۔

دانیال اٹلی گیا ہوا تھا کسی ورک سے کل اس نے دعا کو ہوٹل میں دیکھا کسی کے ساتھ اب میں ایک پل بھی ضایع نہیں کر سکتا میری بہن مجھے میرے پاس چاہیے بہت جلد بس تم پیکنگ کرو۔۔۔۔۔

اوہ اوکے سر میں پیکنگ کرتا ہوں۔۔۔عمر اسے کہہ کے اپنے روم میں آگیا تھا اور اس نے ڈیارل کے نمبر پر کال ملائی اس نے تین بار کال کی پر وہ کال اٹھا ہی نہیں رہا تھا۔۔۔۔۔آخرکار چوتھی کال پے اس نے۔کال پک ہی کرلی تھی

کیا ہوگیا ہے اتنی کالس کیوں جب نہیں اٹھا رہا ہوں تو مطلب بزی ہوں نا کیا یار سکون سے قتل بھی نہیں کرنے دیتے۔۔۔۔۔۔ڈیارل نے اپنے چاکو کو دیکھا جس سے خون بہہ رہا تھا اور سامنے بہت بے دردی سے کسی کی لاش پڑی تھی جس کا ہر ایک عضوہ الگ الگ پڑا تھا

اففف آپ کو قتل کرنے کی پڑی ہے یہاں سب کو پتا چل گیا ہے کی دعا کہا ہیں۔۔۔۔۔عمر نے ٹینشن میں کہا

ہاں پتا ہے مجھے۔۔۔۔۔۔۔ڈیارل نے سکون سے کہا

کیا تمہیں پتا ہے پھر بھی اتنے سکون سے بیٹھے ہو۔۔۔۔۔۔عمر کو حیرت ہوئی

میں یہیں چاہتا ہوں کی دانیال شاہ خودچل کر اپنی موت کے پاس آئے اور باقی رہی بات میری فیری کو مجھ سے الگ کرنے کی تو وہ تو کوئی بھی نہیں کرسکتا وہ صرف اینجل کی ہی

تو تم اب کیا کرنے والے ہو۔۔۔۔۔عمر نے سوالیہ انداز میں پوچھا

جسٹ ویٹ اینڈ واچ۔۔۔۔۔۔۔۔ڈیارل نے یے کہہ کے اپنی بات مکمل کی

حد ہے بھائی تو کچھ بتاتے بھی نہیں اف بندہ بتا ہی دے تو کیا ہوجائیگا۔۔۔۔۔۔عمر نے موبائل کو گھورا جیسے وہ موبائل ناہو بلکے ڈیارل ہو

_______________________________________

ہائے آئی ایم ساد۔۔۔۔۔۔۔وہ تینوں جب ایئرپورٹ پے پہنچے تو کوئی پہلے سے ہی ان کا ویٹ کر رہا تھااور انہیں دیکھ کے انکی طرف آیا

ہائے آئی ایم عثمان اینڈ شی ازمائے سسٹر زویا اینڈ ہی از عمر

وہ تو ٹھیک ہے پر یہاں ان محترمہ کا کیا کام تھا جو انہیں ساتھ لائے ہیں آپ۔۔۔۔۔۔ساد نے زویا کی طرف اشارہ کر کے کہا

کیا مطلب آپ کا میں بھی اپنی آپی کو ڈھونڈونگی۔۔۔۔۔۔۔۔زویا نے اسے گھورا

آپ انہیں ڈھونڈینگی یا ہمیں بھی ڈسٹرب کرینگی ۔۔۔۔۔۔۔ساد کو وہ چھوٹی سی لڑکی بہت پیاری لگی تھی اور اس سے بے حس کرنے میں اسے مزا آرہا تھا

میں بھی ڈھونڈونگی اور آپ سے تو اچھا ہی کام کرلونگی۔۔۔۔۔۔۔زویا نے موں پھیرا

اوہ اچھا جی ۔۔۔۔۔۔۔ان کو بے حس کرتے دیکھ عمر نے مٹھیاں بھینچی تھی اس نے زویا کو بازو سے پکڑ اپنی سائیڈ کیا

چپ رہو یے ایئر پورٹ ہے گھر نہیں۔۔۔۔۔۔۔عمر نے زویا کو آنکھیں دکھائی اس کی آنکھوں میں صاف وارننگ تھی کی اگر اب چپ نا ہوئی تو جان سے جائوگی اور زویا اسے دیکھ کے بلکل چپ ہوگئی

________________________________________

دعا کی آنکھ کھلی تو ڈیارل وہاں نہیں تھا وہ بستر سے اٹھی اور ادھر ادھر دیکھا پر اسے وہ روم میں کہیں نہیں نظر آیا وہ اٹھی اور روم سے باہر آگئ سیڑھیاں اتر کے وہ نیچے آئی اسے وہ کچن میں کھڑا نظر آیا

اوہ اٹھ گئی میری جان مائے فیری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈیارل اس کی طرف آیا اور کی پیشانی کو بوسہ دیا اور اسے لیے کے چیئر کھینچ کے اس پے بٹھایا۔۔۔۔۔بیٹھو میں ناشتہ لگاتا ہوں میری جان۔۔وہ اسے بٹھا کے کچن کی طرف گیا

ہائے کیسی ہو کیوٹ بھابھی جی۔۔۔۔۔۔اسد نے ڈائننگ ٹیبل پے بیٹھا

بلکل ٹھیک آپ بتائو۔۔۔۔۔۔۔اسد کو دیکھ کے اس کے چہرے پے مسکان آئی اسے دیکھ کےاسے عثمان کی یاد آتی تھی

می بھی ٹھیک۔۔۔۔۔۔اور وہ کھڑوس کیسا ہے۔۔۔۔۔۔اسد نے موں بگاڑ کے کہا

کون کھڑوس۔۔۔۔۔۔دعا نے معصومیت سے پوچھا

اڑے وہیں تمہارا اینجل۔۔۔۔۔

اینجل وہ تو کھڑوس نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔

اووہوووو۔۔۔۔۔۔۔اسد نے کہا جس پے دعا نے بلش کیا

ہائو کیوٹ بہت پیاری لگتی ہو جب یوں بلش کرتی ہو بھابھی جی۔۔۔۔۔۔اسد نے مسکرا کے اس کی تعریف کی

اچھا بھائی ایک بات پوچھوں۔۔۔۔۔۔۔

ہاں پوچھو بھابھی جی۔۔۔۔۔۔

اوپر میرے کمرے سے تین کمرے دور ایک کمرہ ہے اس میں کون ہے۔۔۔۔۔دعا کے سوال پے اسد کے چہرے سے مسکان غائب ہوئی تھی جو کی دعا نے بہت غور سے اس کا چہرہ دیکھا جیسے پڑھنا چاہ رہی ہو

بتائیں بھائی۔۔۔۔۔دعا نے اسے خاموش دیکھا تو پھر پوچھا۔۔۔۔۔

کوئی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔اسد نے بات کو ٹالنا چاہا

اڑے کیسے کوئی نہیں ہے میں نے خود سسکیاں سنی تھی اس روم میں سے۔۔۔۔

تمہارا وحم ہوگا۔۔۔اسد نے اس کے دماغ سے وہ خیال نکالنے چاہے

نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔

اچھا تم۔نے پھر وہ آواز سنی یا نہیں۔۔۔۔۔

نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔

تو بس وحم ہی ہے نا تمہارا بھول جائو ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔اسد چاہتا تھا وہ سب بھول جائے۔۔۔۔۔

ہاں ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔

ہو نہیں سکتا ایسا ہی پے۔۔۔۔اسد نے اسے یقین دلانا چاہا اس سے سے پہلے کی دعا کچھ کہتی ڈیارل ناشتہ لے کے آگیا اس نے دعا کیلئے ناشتہ نکالا ایک پلیٹ میں اور اسےدیا اور اسے دیکھنے لگا

آپ نہیں کھائوگے۔۔۔۔۔۔۔دعا نے ڈیارل کو خود کو دیکھتے پایا تو کہا

نہیں آپ کھا لو میں پھر کھائونگا

اوکے۔۔۔۔۔۔۔دعا نے کھانا کھایا

اب جائو تم فریش ہوجائو فیری ۔۔۔۔۔

اس کے کہنےکی دیر تھی کی فیری اٹھ کے چلی گئی

سنبھال کے رکھو اسے آج فیری پوچھ رہی تھی کی کون ہے اس کمرے میں۔۔۔۔۔۔اسد ںے غصے سے کہا

کیا مطلب۔۔۔۔۔۔

مطب یے کی اس کی سسکیاں سنی تھی فیری نے۔۔۔۔۔۔۔پہلے تو گھر پے صرف ہم ہی تھے اب فیری بھی ہے اسے نکالو یہاں سے

دیکھو اسد تمہارا غصہ کرنا صحیح ہے میں مانتا ہوں پر میں اسے کہیں باہر نیں چھوڑ سکتا کوئ بھہ سیف پلیس نہیں ہے اور میں ایسے نہیں چھوڑ سکتا اسے میں نہیں چاہتا اسے کچھ بھی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈیارل نے نرم لہجے میں سمجھانا چاہا

میری بلا سے تو وہ مر ہی جائی تبھی سب کو سکون ہوگا سب کی زندگی عذاب بنا کے رکھی ہے اس نے میں نہیں چاہتا تمہاری اور فیری کی لائف میں کوئی مسئلہ ہو۔۔۔۔۔۔اسد کی آنکھیں ضبط سےلال ہوئی تھی

میں جانتا ہوں تمہارا غصہ صحیح ہے اسد پر تم اسے بھی سمجھنے کی کوشش کرو ۔۔۔۔۔۔۔ڈیارل نے اسے سمجھانا چاہا

دیکھیں بھائی آپ اسے کہیں اور رکھیں پلیز۔۔۔۔۔۔اسد اپنی بات کہہ کے وہاں سے چلا گیا

کیسے سمجھائوں تمہیں وہ بے قصور ہے کیوں نہیں یقین کرتے تم اس پے۔۔۔۔۔۔۔اسد کے جاتے اس نے اس کی پشت کو دیکھ کے خودکلامی کی اور اوپر اس روم کی طرف چلا گیا کھانا لے کے۔۔۔۔۔۔۔

________________________________________

وہ جب اٹلی پہنچے تو دانیال ان کا پہلے سے ہی انتظار کر رہا تھا وہ انہیں ایک ہوٹل لے آیا جہاں ابھی وہ رہتا تھا اور فریش ہونے کے بعد وہ لوگ ایک ساتھ بیٹھے تھے

دانیال مجھے اس ہوٹل لے چلو جہاں تم نے کل انہیں دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔عثمان نے کہا

تم کچھ ریسٹ کرو پھر چلتے ہیں۔۔۔۔۔۔دانیال نے اسے واپس بٹھایا

نہیں مجھے ریسٹ۔۔۔۔۔۔اس سے پہلے کی عثمان کی بات مکمل ہوتی دانیال کا موبائل بج اٹھا اس نے موبائل اسکرین پر کنگ کا نام دیکھا تو ایک پل لگائے ںغیر ان سے ایکسکیوز کر کے باھر آگیا اور کال اٹینڈ کی

دانیال مجھے ڈیارل کا پتا دو ورنہ تمہاری لاش ملے گی تمہارے باپ کو ۔۔۔۔۔۔۔۔کال اٹھاتے ہی دانیال پے چیخا تھا کنگ

کنگ بس کچھ وقت بس کچھ وقت بہت جلد کنگ آپ کے پاس ہوگا ڈیارل بس کچھ وقت ۔۔۔۔۔۔دانیال کے ماتھے پے پسینہ نمودار ہوا تھا

دانیال مجھے میری معصومہ چاہیے اب اور نہیں صرف دس دن ہیں تمہارے پاس دس دن

۔۔۔کنگ اپنی بات مکمل کر کے کال کاٹ چکا تھا اور دانیال پیچھے پریشان سا اندر آیا

چلو دانیال ہمیں لے چلو اس ہوٹل۔۔۔۔۔۔اس بار کہنے والا ساد تھا

اوکے آئو اور تم یہیں رہو زویا ہم بس کچھ دیر میں آتے ہیں عثمان نے زویا سے کہا اور وہ سب باہر نکل گئے پر جاتے وقت عمر دروازہ لوک کرنا نہیں بھولا تھا کیوںکی وہ اپنی باندری کو جانتا تھا کہیں ایسے ہی باہر نکل کے گم نا ہوجائے ایک جگھ ٹکنے والی تو وہ تھی نہیں

_______________________________

آپ نے انہیں دیکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔عثمان نے مینیجر کو دعا کی پک دکھائی

اس سے پہلے کی مینیجر کوئی جواب دیتا اسے پیچھے سے عمر دکھا جو اسے نا کرنے کا اشارہ کر رہا تھا ڈیارل کے آدمی کو یہاں دیکھ کے اس کی جان پے بن آئی تھی

نہیں میں نے نہیں دیکھا۔۔۔۔۔مینیجر کا گھبرایا گھبرایا روپ ساد نے بہت اچھے طریقے سے نوٹ کیا تھا

کل ہی تو آپ کی ہوٹل میں آئےتھے ڈنر کرنے آپ کیسے نہیں جانتے۔۔۔۔۔۔عثمان اس پے چیخا تھا

میں نہیں جانتا یہاں ہزاروں لوگ آتے ہیں میں سب کوتو یاد نہیں رکھ سکتا نا۔۔۔۔۔۔مینجر نے کھبرا کے کہا

رلیکس عثمان رلیکس ان کی کیا غلطی ہے وہ نہیں جانتے چلو چلتے ہیں۔۔۔۔۔۔ساد اسے زبردستی لے گیا پر اس نے دل میں سوچ لیا تھا کی وہ اس مینیجر پر نظر رکھے گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *