Raaz E Mohabbat By Mehak NovelR50512

Raaz E Mohabbat By Mehak NovelR50512 Raaz E Mohabbat (Episode - 32) 2nd Last Episode

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raaz E Mohabbat (Episode - 32) 2nd Last Episode

Raaz E Mohabbat By Mehak

بچاؤ مجھے بچالو پلیز

تم کہاں ہو آجاؤ پلیز

دیکہو یہ تمہاری فیری کو مار دیگا پلیز آجاؤ

اسے صرف یہ آواز سنائی دے رہی تہی

کہاں ہو تم فیری میری جان کہاں ہو تم ….. وہ دیوانہ وار گھرے جنگل میں بھاگ رہا رات کا اندھیرا چھایا ہوا تھا اس کے پاؤں کانٹے لگنے کے وجہ سے خون سے سرخ ہوئے پڑے تھے اس کی بازو پے گولی لگی ہہوئی تھی جس کی وجہ سے اس سفید شرٹ ساری خون سے رنگ گئی تھی اس کے سر پر بھی چوٹ لگی تھی خون بہ رہا تھا کوئی عام انسان ہوتا اس کی جگہ تو کب کا مر چکا ہوتا پر اسے کہاں فکر تھی اسے تو بس اپنی فیری کی فکر تھی اسے اسے بچانا تھا اس تک پہنچنا تھا اگر اسے کچھ ہو گیا تو یہ سوچ آتے ہی اس کی روح تک کانپ گئی

نہیں نہیں اسے کچھ نہیں ھوگا میں اسے کچھ نہیں ہونے دونگا میں آرہا ہوں میری فیری تمھیں کچھ نہیں ہونے دونگا تم گھبراؤ مت میری جان

وہ دوڑ رہا تھا جب اس کا پاؤں کسی چیز سے ٹکرایا ایسا لگا جیسے کسی کا جسم ہو

اینجل……

تبھی اسے لگا جیسے فیری نے اسے پکارا ہو وہ جلدی سے نیچے بیٹھا فور اس وجود کو اپنے غود میں لٹایا فیری اسے چاند کی روشنی میں اس کا دھندلا سا عکس نظر آیا اس کا چہرا پورا خون سے رنگا ہوا تھا کہ پہچاننا بھی مشکل ہو رہا تھا

اینجل آۓ لو یو سو مچ میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں فیری نے اپنا روئی جیسا نرم ہاتھ جس پہ اس وقت زخم ہی زخم خون ہی خون تھا اینجل کے مضبوط ہاتھوں میں ڈالتے ہوۓ کہا اور اسی وقت اس کی آنکہیں بند ہوگئی

فیری آئے لو یو ٹو میری جان اس نے اس کے ہاتھ کو چومتے ہوئے کہا فیری فیری اٹھو فیری فیری تم مجھے یو اکیلا چھوڑ کے نہیں جا سکتی اٹھو فیری وہ دیوانوں کی طرح اس کے جسم کو جھنجھوڑ رہا تھا اٹھو فیری اس

فیرییییییی……….اٹھو فیری دیکھو تمہارا ایںجل تمہارا انتظار کر رہا ہے فیری اٹگو تم اپنے اینجل کو ایسے چھوڑ کے نہیں جا سکتی فیری پلیز اٹھ جائو میری جان میری فیری ۔۔۔۔۔۔۔اینجل اسے باہوں میں اٹھا کے گاڑی تک لایا اور اسے پچھلی سیٹ پے لٹا کے خود ڈرائیونگ کرنے لگا ۔۔۔۔۔۔میری جان تم فکر مت کرو تمہیں کچھ نہیں ہوگا میں ہوں نا تمہیں کچھ نہیں ہونے دونگا میری جان ۔۔۔۔۔۔اس نےمرر میں فیری کو دیکھ کے کہا اور عمر کو کال کی ۔۔۔۔۔۔۔ہیلو عمر جلدی سے ہوسپٹل پہنچو۔۔۔۔۔۔۔

پر کیوں بھائی ہوسپٹل کیوں۔۔۔۔۔۔۔

فیری کی کنڈیشن بہت خراب ہے تم جلدی سے ہاسپٹل پہنچو ۔۔۔۔۔۔۔

واٹ بھائی اوکے میں ابھی آتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔عمر نے ڈیارل کو کہہ کے گاڑی کا رخ ہاسپٹل کی طرف موڑا ۔۔۔۔۔۔۔

کہاں جارہے ہیں ہم اور تم اتنی ٹینشن میں کیوں ہو۔۔۔۔۔۔۔زویا جو مزے سے آئسکریم کھا رہی تھی اس کے اس طرح سے تیز گاڑی چلانے پے اس سے پوچھا

ہاسپٹل۔۔۔۔۔۔۔عمر نے یک لفظی جواب دیا

پر کیوں۔۔۔۔۔۔۔اور کس کا فون تھا ۔۔۔۔۔۔

دعا ٹھیک نہیں ہے ڈیارل کا فون تھا۔۔۔۔۔۔۔عمر نے اسے سچ بتایا ویسے بھی وہ آج ان سب کو سچ بتانے کا اردہ رکھتا تھا

واٹ پر ڈیارل نےتمہیں کیوں فون کیا اور آپی کو کیا ہوا ہے۔۔۔۔ڈیارل تمہارا کیا لگتاہے کہیں تم اس کیلیے کام تو نہیں کرتے ہو۔۔۔۔۔۔زویا نے ایک ہی سانس میں سارے سوال ہوچھ ڈالے

بہائی ہے میرا۔۔۔۔۔۔۔

واٹ تم اتنے دن ہمیں دوکھا دے رہے تھے ہائو ڈیئر یو ٹو ڈو دس۔۔۔۔۔۔۔۔

دیکھو زویا تمہیں جو بھی سوال پوچھنے ہے ہاسپٹل چل کے پوچھ لینا ابھی چپ رہو پلیز۔۔۔۔۔۔۔اس کے کہنے پے زویا ماحول کی سنجیدگی سمجھتے چپ ہوگئی عمر پندرہ منٹ میں ہوسپٹل پہنچ گیا تھا وہ جب آئے تو ڈیارل یہاں سے وہاں بیچینے سے ٹہل رہا تھا اپنی بہں کو یوں خون میں کت پت اسٹیچر پر لیٹے دیکھ زویا کے تو اوسان ہی خطا ہوگئے تھے

ڈیارل کیسے ہی فیری۔۔۔۔۔۔عمر دوڑتا ہوا اس کے پاس گیا۔۔۔۔۔عمر نے اسے کہا جس پر اس نے کوئی جواب نا دیا عمر نے پہلے اسد اور پھر عثمان کو کال کی اور دونوں کو آنے کا کہا۔۔۔۔۔۔۔۔اور کچھ دیر بعد وہ دونوں ہاسپٹل میں موجود تھے

وہ یہاں سے وہاں بیچینے سے ٹہل رہا تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اپنی فیری کو کہیں سے بھی لے آئے اندر وہ موت سے لڑ رہی تھی اور وہ کچھ نہیں کر پارہا تھا آج پہلی بار وہ خود کو کمزور محسوس کر رہا تھا اس کے ہاتھوں میں کچھ نہیں تھا وہ بے بس تھا آج

ڈاکٹر ۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر میری فیری کیسی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ٹھیک تو ہے نا۔۔۔۔۔۔آئی سے یو سے نکلتے ڈاکٹر سے اس نے جلدی سے کہا

دیکھیں انہیں بہت چوٹیں آئی ہیں ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے ان کے بچنے کے چانسز بہت کم ہیں بس دعا کریں۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر اپنی بات کہہ کے چلا گیا تھا نہیں اس کی فیری اس سے دور نیں جا سکتی تھی

یے سب آپ کی وجہہ سے ہوا ہے میری آپی کی ہے حالت آپ کی وجہہ سے ہے آج وہ آپ کی وجہہ سے موت کے قریب ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زویا کے الفاظ اس کے دل کو چیر رہے تھے اس کی فیری کی یے حالت اس کی وجہہ تھے اس کی فیری اس وقت اس کی وجہہ سے موت کے قرہب تھی وہ کیا کرتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں دعا آج اسے دعا کی ضرورت تھی اپنی دعا کو بچانے کیلئیے کہیں اس کی سچی محبت سے فیری کی وہ دعا جیت نا جائے جو اس نے اس سے دور کرنے کیلئیے مانگی تھی اس لئیے آج وہ اپنی فیری کو خدا سے مانگے گا اور اسے دینا ہی ہوگا وہ اس سے بھی زیادہ سچے جذبے سے مانگے گا ہاں آج اسے ضرورت تھی خدا کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ وہاں سے نکل کے پریئر روم کی طرف آیا اسے نماز پڑھنا تو نا آتی تھی پر اس نے وضو کر کے جائے نماز بٹھا کے اس پے بیٹھ گیا اس نے پہلے سجدہ ادا کیا پھر سجدے میں ہی فیری کیلئیے دعا مانگنے لگا دعا مانگتے وقت اس کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے وہ فیری کو بچانے کیلئیے تھے یا ندامتاور شرمندگی کی ہم انسان بھی نا کتنے مطلب پرست ہوتے ہیں بس اتنے مطلب کیلئیے ہی خدا کو یاد کرتے ہیں ڈیارل جو ان پندرہ سالوں میں مسجد نا گیا تھا خدا کے سامنے نا جھکا تھا آج جھکتی ہی اس کی آنکھوں سے شرمندگی کے آنسو بہنے لگے اس نے اپنی فیری کیلئیے سچے دل سے دعا کی تھی اور سچے دل سے مانگیں دعائیں کبھی رد نہیں ہوتی ہیں ۔۔۔کچھ ہی دیر بعد عمر نے آکے اسے بتایا کی فیری ٹھیک ہے اب اور اس کی بات سن کے ڈیارل نے سجدہ شکر ادا کیا تھا اور اٹھ کے آئوٹر گیٹ کی طرف گیا۔۔۔۔۔

کہاں جارہے ہو۔۔۔۔عمر نے اسے بولا۔۔۔۔۔۔فیری سے نہیں ملنا کیا۔۔۔۔

جس کی وجہہ سے یے سب ہوا ہے اس کا چیپٹر کلوز کرنے جارہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ڈیارل اسےکہہ کے رکا نہیں اورچلاگیا

______________________________

کہاں ہو تم کنگ دیکھنا چاہتے تھے نا تم مجھے لو آگیا ہوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ڈیارل اس کے پیئرلس میں انٹر ہوکے چیخا تھا

آجائو ڈیارل مجھے یقین تھا تم ضرور آئوگے ۔۔۔۔دفنا آئے تم اپنی فیری کو۔۔۔۔۔۔۔اس کی آواز سن کے کنگ اپنے روم سے بایر آیا تھا

خبردار جو تم نے میری فیری کا نام بھی لیا تو تم نے میری فیری کو ںقصان پہنچا کے خود اپنی موت کو بلاوا دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔

میں نہیں تم اپنی موت کے قریب ہو عبداللہ شاہ۔۔۔۔۔۔۔کنگ نے اپنی بات مکمل کی کے اس کے سر پر کسی نے شدت سے ڈنڈا مارا تھا اور وہ بیہوش ہوگیا تھا

_________________________________

اس کے بعد کنگ کی جب آنکھ کھلی تو وہ ایک اندھیری کوٹھی میں بند تھا چیئر سے بندھا ہوا تھا اور سامنے ہی ڈیارل کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔۔

ڈیارل تم مجھے یہاں تو لے آئو پر کبھی مار نہیں سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تو میں نےکب کہا میں مارونگا تمہیں۔۔۔۔۔۔۔

کیا مطلب۔۔۔۔۔

مطلب تمہیں ابھی سمجھ آجائیگا۔۔۔۔۔۔ معصومہ۔۔۔۔ اس سے متوجہ ہونے کے بعد ڈیارل نے معصومہ کو بلایا۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔یے مجھے ماریگی ایک چیونٹی تک۔۔۔۔۔۔۔۔کنگ کی بات مکمل ہونے سے پہلے معصومہ نے اس کی ٹانگ پے گولی چلائی تھی اور کنگ درد سے کراہ اٹھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسے ہی تم نے میری آںٹی کے جسم کو گولیوں سے چھلنی کیا تھا نا اب کی بار معصومہ نے گولی اس کے پیٹ پے ماری تھی جہاں سے خون نکلنا شروع ہوگیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم نے میرے انکل کی چبھی جان لی تھی نا۔۔۔۔۔۔معصومہ نے اس کی دوسری ٹانگ پے بھی گولی چلائی۔۔۔۔۔۔اور یے مجھے ایک سال ٹورچر کرنے کیلئیے ۔۔۔معصومہ نے اس کے سینے کے قریب گولی چلائی ۔۔۔۔۔۔۔۔اور آج تم نے میری بھائی کی خوشیاں ایک بار پھر چھیننے چاہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔معصومہ نے اس کی کان پٹی پے گولی چلائی اور پھر لگاتار اس کے جسم کے ہر عضو پر چلائی

رلیکس پرنسس مر چکا ہے وہ۔۔۔۔۔۔ڈیارل نے اسے گلے سے لگایااور وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *