Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raaz E Mohabbat (Episode - 7)

Raaz E Mohabbat By Mehak

اچھا رانیہ ڈیڈ کی کال آرہی ہے میں چلتا ہوں ہم بعد میں بات کرتے ہیں…۔ کال کٹ کرنے کےبعد اس نے رانیہ سے کہا اور اس کا جواب سنے بغیر ہی وہاں سے چلا گیا

وہ جلدی سے اپنی کار کی طرف آیا اور بھت تیز رفتار سے ڈرائیونگ کر رہا تھا کیوںکہ یہ بھت بڑا چانس ہے اس کے پاس ڈیارل تک پہنچنے کا اور وہ اسے مس نہیں کرنا چاھتا تھا اسے جلد سے جلد اپنی پرانی فیکٹری پہنچنا تھا جہاں احمد نے ڈیارل کے آدمی کو پکڑ کر رکھا ہوا تھا وہ جلد از جلد وہاں پہنچنا چاھتا تھا

__________________________

اے سیدھی طرح سے بتا دے کون ہے ڈیارل……. احمد نے اس چیئر سے بندھے آدمی کے بالوں کو مضبوطی سے کھینچتے ہوۓ کہا

ہاہاہاہاہا تمہیں کیا لگتا ہے بس اتنی سے تکلیف سے میں سب بتا دونگا اڑے تم لوگ میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کردو یا چاہے ہزار اذیتیں دے دو جتنی تکلیفیںں دینے ہے دے دو پر یہ عمر کچھ نہیں بولے گا یہ غداری ہم جیسوں میں نہیں تم جیسے کائروں میں ہوتی ہے

بس اب ایک لفظ نہیں ورنہ تمہاری زبان یہیں کاٹ کے چیل کووں کو کھلا دونگا……. احمد نے اس کی بکواس سنتے غصے سے کہا

ہاہاہاہاہا کاٹ دو روکہ کس نے ہے

اگر باس نے منع نہ کیا ہوتا تو اب تک تو زندہ نہ ہوتا

فلوقت تم میری نہیں اپنی جان کی فکر کرو

یوووووووو……..اس سے پہلی کی احمد کی بات مکمل ہوتی پیچھے سے کسی نے خنجر اس کے پیٹ کے آرپار کر دیا

احمد نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک شخص جس نے چہرے پے نقاب کیا ہوا تھا اس کی کالی گھری آنکھیں اسے غصے سے دیکھ رہی تھی

ہاہاہاہاہا دیکھ لیا نا میں کہہ رہا تھا نا کی میری نہیں اپنی جان کی فکر کرو تم دیکھا اب لے رہے ہو آخری سانسیں……… عمر نے احمد کی طرف دیکھ کے طنز کیا پوچھ رہے تھے نا کہ کون ہے ڈیارل تو سنو یہیں ہے ڈیارل

تمہیں زندھ صرف اس لئے چھوڑا ہے تا کہ اس دانیال شاہ کو بتا سکو کہ ڈیارل کون ہے

اور ہاں کہہ دینا مسٹر دانیال شاھ سے کہ کھیل شروع اس نے کیا ہے پر ختم میں یعنی ڈیارل شاھ کریگا چلو عمر …….یہ کہتے ہی وہ جس رفتار سے آیا تھا اسی رفتار سے چلا گیا اور پیچھے احمد اس کہ پشت کو دیکھتا رہ گیا

__________________________

وہ ہاسپیٹل میں ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہا تھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یونی سے فیکٹری تک کا سفر اس نے صرف 15 منٹ میں طئے کیا تھا اور 15 منٹ میں کیا ہوگیا جب وہ فیکٹری پہنچا تو اس کے فیکٹری کے گارڈس کا سر اس کہ جسم سے الگ پڑا تھا یہ دیکھتے ہی اسے کسی گڑبڑ کا احساس ہوا وہ فوران سے بھی پہلے اندر کی طرف بھاگا جب اندر آیا تو اس کہ سب آدمی اس قدر بری حالت میں مرا ہوا تھا کہ اگر کوئی عام آدمی دیکھتا تو ضرور بیھوش ہوجاتا

وہ جلدے سے احمد کی طرف بھاگا اس کی سانسیں چل رہی تھی وہ اسے ہاسپیٹل لے کہ آگیا اب پریشانی سے ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہا تھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس کہ بیس آدمیوں کو کوئی پندرہ منٹ میں کیسے مار سکتا تھا کیوںکہ پندرہ منٹ پہلے تو اسے کال۔کی تھی احمد نے تب سب ٹھیک تھا وہ انہیں سوچوں میں گم تھا کہ icu سے ڈاکٹر باھر آیا

ناؤ پیشنٹ از فائن مسٹر دانیال شاہ تھوڑی دیر میں انہیں ھوش بہی آجائیگا

ہمم اوکے ٹھینکس ڈاکٹر

دانیال کا فون رنگ ہوا unknown نمبر دیکھ کہ دانیال نے کال کٹ کردی پھر دوسری بار کال آئی اسی نمبر سے تو دانیال نے کال اٹینڈ کرلی

ہیلو مسٹر دانیال شاہ ہوش آگیا تمہارے اس کتے کو اسے وارن بہی کیا تھا کہ دور رہے پر نہیں مانا خیر اب تم بھی تیار رہو کھیل شروع تم نے کیا ہے ختم میں کرونگا

کون ہو تم اگلی طرف کسی انجان کی آواز اور ایسی باتیں سن کے دانیال کا غصہ ساتویں آسمان کو چھو رہا تھا

تمہارے موت ہوں مسٹر دانیال شاہ ہاہاہاہاہا یہ کھتے ہی ڈیارل نے کال کٹ کردی

ہیلو ہیلو…… شٹ دانیال نے موبائل کو ذور سے زمین پے مارا

_____________________________

یہ لو ساری ڈیٹییلس تمہاری فیری کہ بارے میں جب سے پیدا ہوئی تب سے لیکر اب تک کہ ہر لمحے کی ڈیٹییل ہے ڈیارل اپنی کرسی سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے بیٹھا تھا جب عمر کی آواز پہ اس نے آنکھیں کھولی عمر وہ فائل ٹیںل پہ رکھ کے سامنے اسد کے ساتھ بیٹھ گیا

دعا…. ڈیارل نے فائل اٹھا کے اپنی فیری کا رئیل نام پڑھا اس کا نام لیتے اس کے لبوں پہ بھت پیاری مسکان آئی تھی

واؤ اسد مجھے آج پتا لگا ہمارا ڈیارل مسکراتا بھی ہے عمر نے ان 25 سالوں میں پھلی بار اپنے بہائی کو مسکراتے دیکھا تھا اس لئے کہا اسد اسے چپ کرنے کا اشارا کر رہا تھا کیوںکہ وہ ڈیارل کہ ری ایکشن سے اچھی طرح واقف تھا پر وہ بھی عمر تھا چپ رہنا تو اس نے سیکھا ہی نہیں تھا

چلو اٹھو……. ڈیارل نے چیئر سے اٹھتے ہوئے کہا

کہاں دونو نے یک زباں کہا کیوںکہ اس کو اگر کہیں جانا ہہ تو صرف کسی کو مارنے اور وقت ان کا کوئی موڈ نہیں تھا کسی کو مارنے کا

تمھارے بھابھی کہ بھائی کی شادی ہے آخر ہمیں جانا تو چاہئے نا

او مائی گاڈ اسد کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہا نا اگر حقیقت ہے تو میں صدمے سے مر نا جاؤں

بس کرو آنا ہے تو آؤ ورنہ میں جارہا ہوں یہ کھتے ہہ ڈیارل روم سے باھر نکل گیا

اوئے ہیرو روک خود تو ہیرو ہو ہمیں تو تیار ہونے دو اوئے …. عمر نے روم سے نکلتے ہوئے کہا

____________________________

آپی جلدی کریں یار مجھے لگتا ہے باھر فنکشن اسٹارٹ ہو جائیگا پر آپ کا میک اپ نہیں ہوگا ختم پلیز جلدی کریں

اچھا بس 2 منٹ بس لاسٹ ٹچ ہے

اچھا بتاؤ کیسی لگ رہی ہوں دعا نے پنک کلر کا لہنگا پہنا ہوا تھا کھلے بال چھوٹی ڈارک براؤن آئیز کے اوپر نفاست سے کیا ہوا میک اپ اس کے ہونٹوں پے پنک کلر کی لپ اسٹک لگی ہوئی تھی وہ بھت زیادا پیاری لگ رہی تھی

بس ٹھیک لگ رہی ہیں اب چلیں مجھے فنکشن مس نہیں کرنا زویا اس کا ہاتھ پکڑ کے باھر لے آئی تھی

پچھلے آدھے گھنٹے سے دعا کو کسی کی نظروں کی تپش خود پے محسوس ہو رہی تھی پر جب وہ آس پاس دیکھتے تو کوئی نہ تھا تبھی اس کے موبائل پے کسے unknown نمبر سے میسج موصول ہوا اس نے میسیج اوپن کیا تو لکھا ہوا تھا بھت پیاری لگ رہی ہو فیری اور ساتھ دو ہرٹس تھی فیری لفظ پڑھتے ہی پہلے تو دعا کا جسم لٹھے کی مانند سفید ہو گیا پھر کل رات میں ہوئ اس کی جسارت کو یاد کرتے ہی اوہ بلش کرنے لگی اس کی دھڑکنیں تیز ہو گئی تھی ابھی وہ اپنی کیفیت سے نکل بھی نہ پائی تھی کی اس نے اسے اپنی طرف کہینچتے ہوۓ اس کے ہونٹوں کو اپنی محبت کا نشانہ بنایا

دعا اس کی اس اچانک حرکت پہ گھبرا گئ اس کی تو جان پہ بن آئی تھی کہ آخر کون ہے یہ شخص اور کیا چاھتا ہے اس سے

اس سے پہلے کی وہ کچھ کہتی اس نے اس کے کندھے پے لٹکتا دوپٹا اٹھایا دعا کے تو جسم سے سمجھو کسی نے جان نکال لی ہو اسے سمجھ نہیں آیا کہ اب وہ کیا کرے گا

اس نے اس کا دوپٹہ اس کے کندھے سے اٹھا کہ اس کے سرپہ سجایا اور اس کے چہرے کو چھوتی کچھ آواراں لٹوں کو اپنے ہاتھوں ڈے اس کے کانوں کے پیچھے کیا اس کا لمس محسوس کرتے دعا کے جسم میں ایک کرنٹ سا دوڑا

اپنا خیال رکھا کرو تم صرف میری ہو تمہارے اوپر کسی کی نظر تک برداشت نہیں کر سکتا میں اور بھت پیاری لگ رہی ہو پرمیں نہیں چاھتا کی تمہارا یہ سینگار میرے الاوہ کوئی دیکھے اس لئے بھتر ہے کہ تم جاؤ یہ سب دھو لو ڈیارل نے اس کے ہونٹوں سے پنک کلر کی لپ اسٹک ٹشو سے صاف کرتے ہو ئے کہا

اوکے میں جاتا ہوں پر 5 منٹ تک یہ میک اپ صاف کرلینا ورنہ میں اپنی طریقی سے صاف کرونگا جو کہ تمہیں بلکل پسند نہیں آۓ گا یہ کہتے ہی وہ یہاں سے چلا گیا اور دعا جلدی سے واشروم کی طرف بھاگی تاکہ اپنا میک اپ صاف کر سکے

_________________________

اندھے ہو کیا دیکھ کے نہیں چل سکتے سارے پھول گرا دیے………. زویا پھولوں کا تھال پکڑے باھر اسٹیج کی طرف جا رہی تھی جب کسی سے ٹکرائی اور سارے پھول گر گئے

ہاں اندھا ہوں نہیں دیکھ سکتا میں تم تو دیکھ کے چل سکتی ہو نا تو تم دیکھ لیتی …….. عمر نے بھی اچھا خاصا جواب دیا

اس کے جواب پے نیچے سے پھول چنتی زویا نے سر اوپر کیا اور اسے گھور کہ دیکھا جو اپنے چہرے پہ دل جلانے والی مسکان سجا کے اسے دیکھ رہا تھا

ہائے اتنا گھور کے نا دیکھو ظالم پیار ہوجائیگا…….عمر نے تھوڑا جھک کے فل فلمی اسٹائل میں کہا

ہوںں پیار اور وہ بہی تم جیسے ایڈیٹ سے دنیا کے آخری لڑکے ہوئے تو بھی نا کروں … زویا بھی کہاں چپ رہنے والی تھی

ہائے اگر دنیا کا آخری لڑکا ہوتا تو تم سے ہی پیار کرتا میں ہزاروں پیاری لڑکیاں لائن میں ہوتی ہائے ……. عمر نے بھی ڈھٹائی دکھائی

ہووں ہزاروں لڑکیاں شکل دیکھے ہے اپنی تم نے ……. زویا بھی اب کمر پے بازو رکھ کے فل لڑاکا اسٹائل میں کھڑی اسے گھور رہی تھی

ہاں شکل دیکھی ہے تبھی تو تمہیں پٹا رہا ہوں ورنہ حور پری نہ ڈھونڈتا …….. عمر نے زویا کو بھت غور سے دیکھتے ہوئی کہا

زویا یار تم ابھی تک یہاں کیا کر رہی ہو چلو باہر رنگ سیریمنی شروع ہونے والی ہے جلدی کرو اس سے پہلے کی زویا کوئی جواب دیتی دعا اسے لینے آگئی

ہمم چلو آپی

ہمم ٹھرکی…….. عمر کے کانوں میں ہلکی سی سرگوشی سنائی دی جس سے اسکے چہرے پہ ہلکی سی مسکان آئی ٹھرکی کی جان عمر نے اپنے دل پے ہاتھ رکھتے ہوئے کہا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *