Raaz E Mohabbat By Mehak NovelR50512 Raaz E Mohabbat (Episode - 18)
No Download Link
Rate this Novel
Raaz E Mohabbat (Episode - 18)
Raaz E Mohabbat By Mehak
دھوپ کی سنہری کرنیں اس کے چہرے کو چھو کر اسے نیند سے جگانے کی کوشش کر رہی تھی اس نے اپنی موندی موندی آنکھیں کھولیں پورے کمرے میں نظریں پھیلائی پر کہیں بھی ڈیارل نا تھا اسے لگا شاید نیچے ناشتا بنا رہا ہوگا اس لئیے اٹھی اور فریش ہونے چلی گئی وہ نہا کے آئی تو ڈیارل ابھی بھی روم میں نہیں تھا وہ نیچے آئی پرنیچے بھی کہیں ڈیارل نا تھا اور نا ہی کوئی اور تھا گھر پے اس نے پہلے پورے گھر کا جائزا لیا بہت بڑا اور پیارا گھر تھا گھومتے گھومتے وہ ایک روم کے قریب پہنچی جس میں سے ہلکی ہلکی سسکیوں کی آوازیں آرہی تھی دعا نے وہ دروازہ کھولنا چاہا پر وہ لوک تھا
ہیلو اندر کوئی ہے کیا۔۔۔۔۔۔۔دعا نے دروازہ بجا کے پوچھا۔۔۔۔۔۔۔پر اندر سے کوئی جواب نا ملا ہاں اب سسکیوں کی آواز بھی بند ہو چکی تھی دعا اسے اپنا وحم سمجھ کے آگے بڑی ہی تھی کی اندر سے کوئی چیز ٹوٹنے کی آواز آئی
کوئی ہے کیا اندر۔۔۔۔۔۔
ہیلو ۔۔۔۔۔
کوئی ہے کیا ۔۔۔۔۔۔
دعا نے اپنے ماتھے کی پن سے وہ دروازہ کھولنا چاہا پر نہیں کھلا پھر کافی دیر وہ وہیں کھڑی رہی پر اندر سے کوئی ہلچل نا ہوئی تو وہ آگے بڑھ گئی
آج گھر پےکوئی نہیں ہے اچھا چانس ہے بابا کو کال کر کے بتاتی تاکہ وہ مجھے یہاں سے لے جائیں ۔۔۔۔۔۔۔اس نے ادھر ادھر موبائل ڈھونڈنا چاہا پر کہیں بھی موبائل فون نہیں تھا
افففف کیا بندہ ہے موبائل بھی یوز نہیں کرتا کیا۔۔۔۔۔دعا دروازے کی طرف آئی پر دروازہ بھی لوک تھا
اف اب کیا کروں دروازہ بھی بند ہے موبائل بھی نہیں ہے کیسے بتائوں بابا کو کی میں کہاں ہوں۔۔۔۔۔
_______________________________________
دانیال نے اٹلی پہنچتے ہی سب سے پہلے اپنے آدمیوں کو ڈیارل کو ڈھونڈنے کیلئیے لگا دیا تھا پر کہیں سے بھی ڈیارل کا پتا نہیں چل رہا تھا کیوںکی آج تک اسے کسی نے نہیں دیکھا تھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کی کیا کرے ابھی اسے دعا کو بھی ڈھونڈنا تھا اور ڈیارل نا ملا تو کنگ اسے جان سے مار دے گا وہ بھی اس کی سوچ سے بھی زیادہ خطرناک موت وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھا کی اس کی گاڑی کو اچانک بریک لگی اس نے پھر سے اسٹارٹ کیا پر گاڑی اسٹارٹ نا ہوئی
افففف اسی وقت اس کو بھی خراب ہونا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے گاڑی جو زور سے کک ماری اور آگے نکل گیا کسے سے لفٹ لینے کیلئیے وہ ابھی ادھر ادھر گھوم رہا تھا ڈیارل کی سوچوں میں گم کسی سے ٹرکرایا اور اس کے ہاتھوں میں موجودگن نیچے گرگئی اس نے پہلے گن اور پھر سامنے کھڑے کالی گھری آنکھوں والے مرد کو دیکھا جو شکل سے اسے پاکستانی ہی لگا تھا
سوری۔۔۔۔۔۔ڈیارل نے اسے سوری کہہ کے اس کی گن اس کے ہاتھوں میں دی۔۔۔۔۔۔کیا آپ کو کسی مدد کی ضرورت ہے ڈیارل نے اس سے پوچھا
ہاں مجھے لفٹ چاہیے۔۔۔۔
اچھا چلیں میں چھوڑ دیتا ہوں آپ کو۔۔۔۔۔ڈیارل اسے کہہ کے گاڑی کی طرف بڑھ گیا اس کے پیچھے دانیال بھی آیا اور گاڑی میں بیٹھ گیا
آپ پاکستانی ہیں۔۔۔۔۔دانیال نے ڈیارل سے پوچھا
جی ہاں۔۔۔۔۔یہاں ہی رہتا ہوں میں ۔۔۔۔اور آپ
جی میں بھی پاکستانی ہوں یہاں کسی کو ڈھونڈنے آیا تھا بس بہت جلد ڈھونڈ لونگا۔۔۔۔ویسے آپ کا نام کیا ہے
اینجل۔۔۔۔۔۔۔اینڈ یوؤر
دانیال۔۔۔۔نائس نیم اینڈ آج آپ نے اینجل کی طرح ہی میری مدد کی ۔۔۔۔۔۔
ہممم۔۔۔۔۔۔
ویسے آپ یہیں رہتے ہیں تو کیا کسی ڈیارل کو جانتے ہیں آپ کبھی دیکھا ہے اسے۔۔۔۔۔۔۔۔دانیال نے سوال کیا
سنا تو بہت ہے ہی از ڈیارل فار دا بیڈ پیپلس بٹ کبھی دیکھا نہیں ہے میں نے کیوں آپ کیوں پوچھ رہے ہیں
بس ایسے ہی۔۔۔۔۔۔۔دانیال اس سوال پے گھبرا گیا
یے لیں آپ کا ایڈریس آگیا۔۔۔۔۔ڈیارل نے ایک ہوٹل کے سامنے گاڑی روکی
اوی ٹھینکس۔۔۔۔۔دانیال اسے ٹھینکس کہہ کے کار سے نکل گیا
بہت کچے کھلاڑی ہو دانیال شاہ جسے ڈھونڈنا چاہ رہے ہو اسی کے ساتھ رہ کے اسے سے پوچھ رہے ہو۔۔۔۔۔۔ڈیارل نے اس کی پشت کو دیکھ کے کہا اور پھر گاڑی اسٹارٹ کی گھر کی طرف چل دیا وہ جانتا تھا اس کی فیری گھر پے اکیلی بور ہورہی ہوگی صبح صبح وہ کسی ضروری کام سے نکل آیا تھا اور اب شام ہوگئی تھی
_____________________________________
وہ صبح سے اب تک ٹی وی دیکھ دیکھ کے بور ہوگئی تھی گھر کے بھی بہت چکر لگا لئیے تھے اب تو ہر چءز یاد ہوگئی تھی پر وہ دوبارہ اس کمرے کی طرف نہیں گئی تھی وہ ہمیشہ کی ڈرپوک لڑکی اکیلی سسکیوں کی آواز پھر خاموشی پر اس نے سوچ لیا تھا کی وہ اینجل سے ضرور پوچھے گی اسے بہت بوکھ بھی لگ رہی تھی اس نے صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا وہ ابھی بھی ٹی وی دیکھ رہی تھی جب پیچھے سے اس کے آنکھوں پے کسی نے ہاتھ رکھے
فیری لو یو بیبی۔۔۔۔۔۔ایننجل نے اس کے کان میں سرگوشی کی اور اس کے سامنے بیٹھ گیا
یو آر آ لائیر یو ڈونٹ لو می اف یو لو می یو کانٹ لیو می الون۔۔۔۔۔۔۔۔۔فیری نے روٹھے روٹھے انداز میں کہا
اڑی میری جان کام سے گیا تھا بس ۔۔۔۔۔ڈیارل اس کے اور قریب ہوا اور اس کے بالوں میں موں چھپا کے اس کی خوشبو اپنے اندر اتارنے لگا
دور ہٹیں مجھ سے مجھے أپ سے کوئی بات نہیں کرنی ہے۔۔۔۔۔دعا اس سے دور ہٹی پر ڈیارل نے اسے کھینچ کے اپنے اور کریب کر لیا
الے میری فیری مجھ سے ناراض ہے۔۔۔۔۔۔ڈیارل نے اس کے ہاتھ اس کی کمر کے پیچھے لے گیا اور ان پر گرفت سخت کر کے دعا کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کی قید میں لے لیا اور اپنی پیاس بجھانے لگا اس کے لمس میں اتنی شدت تھی کی دعا کو لگا کی اس کی سانسیں رک جائیگی پر کیا کرتی اس کے ہاتھ بھی اس کی قید میں تھے کچھ پل بعد ڈیارل نے دعا کے ہونٹوں کو آزادی دی اور دعا لمبے لمبے سانس لینے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا اب بھی ناراض ہو مجھ سے اگر ہاں تو میں ایک بار اور منا سکتا ہوں
نہیں نہیں۔۔۔۔۔۔۔
مائے بلشنگ فیری۔۔اچھا بتائو کھانا کھایا تم نے یا نہیں
نہیں۔۔۔۔۔
کیوں۔۔۔۔۔
مجھے بنانا نہیں أتا اور گھر پے کوئی اور نہیں تھا مجھے بہت بوکھ لگی ہے۔۔۔۔۔۔۔دعا نے معصومیت سے کہا
اوہ مءری فیری کو بوکھ لگی ہے اوکے چلو باھر کھا کے أتے ہیں کیوںکی بنانے میں وقت لگے گا میں گاڑی میںویٹ کر رہا ہوں تم ریڈی ہو کے آجائو
پر آپ ابھی آئے ہیں فریش تو ہوجائیں
مائے فیری تمہارے ساتھ وقت گذار کے میں ویسے بھی فریش ہوجائونگا جائو ریڈی ہقجائو میں ویٹ کر رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔وہ اسے کہہ کے اٹھا اور باھر چلا گیا
