Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raaz E Mohabbat (Episode - 13)

Raaz E Mohabbat By Mehak

آنکھوں سے چھو لوں….

کی باہیں ترستی ہیں🙈🙈

دل ❤️نے پکارا ہے ہاں

اب تو چلے آؤ😘😘

اب تو چلے آؤ❤️

زویا جب دعا کے روم سے باھر حال کی طرف جا رہی تھی کی عمر نے اس کا راستہ روک لیا اورگنگنانے لگا

یہ جو تم آنکھوں سے چھونے لگے ہو نا انکو میں نکال نہ دوں مینڈک جیسی آنکھیں ہیں تمہاری اور یہ جو باھیں ترستی ہیں نا انکو توڑ کے رستے پے بھیک منگانے کے قابل چھوڑونگی رستہ چھوڑو میرا

ہاۓ میری جان تمہارا شوہر بھیک مانگے گا تو تمہیں کیسا لگے گا تمہاری فرینڈس کیا کہینگی کی زویا تمہارا شوہر بھیک مانگتا ہے..

ہوںںںں بڑا آیا میرا شوہر شکل دیکھی ہے اپنی لائق ہو میرے تم میرے لئیے تو وائٹ ہورس پے کوئی شہزادہ …….زویا کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی عمر نے اسے کہینچ کے دیوار کے ساتھ لگایا اس کی بازوؤں پر اس کی گرفت اتنی سخت تھی کی زویا کی آنکھوں سے آنسو نکلے خبردار جو میرے علاوہ کسی کا سوچا بھی تو جان لے لونگا میں اس شخص کی جس کے بارے میں تم نے سوچا اس لئیے بھتر ہے کی صرف میرے بارے میں ہی سوچو عمر اپنی بات مکمل کر کے اسے آزاد کر کے اس پے ایک پیار بھری نظر ڈالی بہت پیاری لگ رہی ہو اور وہ چلا گیا پیچھے زویا کو شوکڈ چھوڑ کے اس کا اتنا جنونی روپ اس نے پہلی بار دیکھا تھا وہ تو ہمیشہ مزاک مستی کرتا رہتا تھا یہ کونسا روپ تھا اس کا اس کے اس طرح قریب آنے سے زویا کی دھڑکنیں تیز ہوئی تھی جو کی ابھی تک سنبھلنے کا نام نہیں لے رہی تھی

یہ کیا تھا کہیں پاگل واگل تو نہیں ہو گیا ہے نا یے ٹھرکی اور یہ مجھے کیا ہوگیا ہے یے میری ہرٹ بیٹ کیوں اتنی فاسٹ ہورہی ہے

________________________________________

کانگریٹس دانیال فائنلی تمہیں بھی کوئی پسند آگئی…….دانیال کے فرینڈ آہل نے کہا جو کے آج ہی امیریکا سے صرف اس کی میرج کیلئیے آیا تھا وہ دانیال اور رانیہ بچپن سے فرینڈس رہے تھے

ہمم ٹھینکس

ویسے بھابھی دکھنے میں کیسی ہیے مجھے پورا یقین ہے کی بیوٹیفل تو ہوگی ہی کیوںکہ دانیال شاہ کی جا پسند ہے۔

بھت کیوٹ ہے یار ایک دم انوسیٹ سی میں اس کی جتنی تعریف کروں کم ہیں یار دانیال کی آنکھوں کی سامنے دعا کا وہ مععصوم سا عکس لہرایا

ریئلی انوسنٹ آر یو اوکے مسٹر دانیال یو نو اباؤٹ یوؤر ورک تو بھی تم نے ایسے لڑکی چوز کی پاگل ہو اگر کبھی اسے سچ پتا لگ گیا تو

میں اسے کچھ پتا نہیں لگنے دونگا اگر پتا لگ گیا تو وہ دن اس کا آخری دن ہوگا کیوںکہ میرے لئیے میرے کام سے امپورٹنٹ کچھ نہیں

ویرے گڈ تمہارے آنکھوں میں اس کیلیئے جنون دیکھ کے فرسٹلی تو مجھے ایسا لگا کی تم چینج نا ہو جاؤ ایک گرل کیلئیے یو نو اگر ہم میں سے کوئی بھی پکڑا گیا تو کنگ سب کی جان لے لے گا ہم سب کا لنک کنگ سے ہے سو دانیال بی کئیرفل

افف آہل اینڈ دانی آج کے دن میں کیسی باتیں لے کے بیٹھ گئیے ہو تم لوگ کم اون انجوائے یار شادی ہے

ہمم رائٹ

انکل یار بھابھی کہاں ہیں اب اسے بھی بلائیں نا…..رانیہ نے مسٹر عمیر سے کہا

او ہو لگتا ہے ہمارے جیجا جی کچھ زیادہ ہی بے تاب ہو رہے ہیں آپی کو دیکھنے کیلئے….زویا نے دانیال کو چھیڑا

اف کورس یار میری فیوچر وائف ہے میں تو بھی بھت بے تاب ہوں اب دکھا بھی دو مجھے

نہیں ایسے تونہیں نا پہلے نیک دیں ….زویا نے اپنی ہتھیلی آگے کی

اڑے ایسے کیسے نیک ہم نے بلکل بھی نہیں دینا نیک اب کی بار آہل نے کہا

تو ٹھیک ہے آپی بھی نہیں ملے گی

اڑے یار چھوڑو کن چکروں میں لگ گئے ہو تم لوگ یے لو سالی صاحبہ میرا چیک بوک جتںنے پیسے چاہیے لے لینا بس دعا کو لے آئیں….دانیال نے اپنا چیک بوک زویا کی ہتھیلی پے رکھا

اوہو کتنے اوتاولے ہورہے ہیں آپ اچھا ابھی لے کے آئی میں آپی کو

______________________________________

آپی آجائیں آپ کے ہزبینڈ بیچین ہوئے…….زویا نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا پر اس کے الفاظ وہیں رک گئے جب کمرے میں اس نے دعا کو نا پایا

آپی آپی کہاں ہیں آپ

اچھا واشروم میں ہیں جلدی کریں آپ کے ہزبینڈ سے ویٹ نہیں ہورہا

آپی ٹھیک تو ہیں نا آپ

آپی ھب پانچ منٹ ویٹ کرنے کے بعد بھی واشروم سے کوئیآواز ہلچل نا آئی پھر زویا کو ٹینشن ہونے لگی

آپی میں اندر آرہی ہوں

آپی

آپی

آپی

زویا نے پورے واشروم اور روم کو چیک کیا پر کہیں بھی اسے دعا نا ملی اور وہ جلدی سے باہر آئی اپنی مما کے پاس

مما

مما

کیا ہوا زویا دعا کہاں ہے

مما ایک منٹ میرے ساتھ آئیں اتنے لوگوں کے سامنے تو زویا بتا نہیں سکتی تھی اس لئیے مسسز عمیر کو سائیڈ پے لے آئی

مما آپی روم میں نہیں ہے

کیا کہہ رہی ہو روم میں ہی ہوگی صحیح سے دیکھو زویا

امی قسم سے میں نے پورا کمرا دیکھا واشروم بھی پر مما دعا آپی روم میں نہیں ہے

دعا میرا بچا کہاں ہو تم مسسز عمیر روم میں آئی اور دعا کو پکارنے لگی پر انہیں دعا کہیں بھی نا ملے تو انہوں نے عثمان اور مسٹر عمیر کو کال ملائی اور انہیں روم میں آنے کا کہا

کیا ہوا امی آپ اتنی پریشان کیوں ہیں

ہاں خدیجہ کیا ہوا باھر اتنے مہمان ہیں اور آپ نے ایسے اندر بلا لیا لوگ کیا سوچ رہے ہونگے

دعا نہیں ہے یہاں عمیر….مسسز عمیر نے روتے ہوئے کہا

کیا کہہ رہی ہیں آپ کہاں جا سکتی ہی دعا یہیں کہیں ہوگی دیکھیں آپ

نہیں ہے عمیر میں نے پورا گھر دیکھ لیا کہیں نہیں ہے پتا نہیں کہاں گئی میری بچی پہلے بھی حملہ ہوا تھا اس پے عمیر باھر مھمانوں کو کیا جواب دینگے

آپ پریشان نا ہوں میں کچھ کرتا ہوں چلو عثمان

_______________________________________

اس کی آنکھوں کے سامنے دھندھلاہٹ نظر آرہی تھی دھیرے دھیرے اس نے آنکھیں کھولیں اس کی نظر سیدھا چھت پے گئی وہ جلدی سے اٹھ بیٹھی وہ ایک وائٹ کلر کے بیڈ پے تھی اس نے اپنے آس پاس دیکھا یے اس کا روم تو نا تھا وہ کہاں تھی اسنے جب اپنے دماغ پے زور دیا تو اسے ای ٹو زیڈ سب یاد آیا کی کیسے وہ نقاب پوش اس کے قریب آیا تھا اور اسے انجیکشن لگایا اس کے بعد وہ یہاں ابھی اٹھی تھی

میم آپ اٹھ گئی …….اسے اپنے قریب کسی لڑکی کی آواز سنائی دی اس نے اس کی طرف دیکھا تو 35 سالوں کی کوئی عورت اس کے پاس کھڑی تھی

میم آپ کو کچھ چاہیے…..

ہاں تم مجھے بتاؤ میں کہاں ہوں کیسے آئی…دعا اپنا برائیڈل لہنگا سنبھالتے بیڈ سے نیچے اتری اور اس کے سامنے آکے رکی

سوری میم میں نہیں بتا سکتی آپ کو سر نے منع کیا ہے

کون ہے تمہارا سر اور ہمت کیسے ہوئے اس کی مجھے اٹھانے کی کہاں ہے وہ ……دعا چیخی تھی اور اس کے ساتھ ڈور اوپن ہوا تھا اور بلیک سوٹ پہنا ہوا تھا اسے پہچاننا دعا کیلئیے مشکل نا تھا

تم جاؤ اس نے ملازمکو جانے کا اشارا کیا اور دعا کے کریب آیا اسے کندھوں سے پکڑ کے بٹھایا

رلیکس فیری زیادہ غصہ کرنے سے تمہاری طبیعت بھی خراب ہو سکتی ہے مائے لو اس نے دعا کیلئیے پانی نکالا اور اس کے آگے کیا

تم کون ہو اورتمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے کڈنیپ کرنے کی ہاؤ ڈئیر یو دعا نے اس کے ہاتھ کو دھکا دیا تھا جس وجہہ سے گلاس دور جاکے گرا تھا اور بھت ٹکڑوں میں ٹوٹ چکا تھا

ڈیارل نے لمبا سانس لیا خود کو کمپوز کیا وہ دعا کے قریب ہوا دعا کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کی پیالی بنائی اس میں پکڑا اور محبت سے اس کی پیشانی پے بوسہ دیا رلیکس فیری میری جان صبر کرو سب بتا دونگا اس وقت تم غصے میں ہو

نہیں کرنا مجھے صبر اور ہوتے کون ہو تم مجھے چھونے والے دعا اس سے دور ہٹی تھی اور پیچھی کی طرف قدم بڑھائے اور ایک کانچ کا ٹکڑا اس کے پاؤں میں لگا اور اس وجہہ سے سے دعا کی دبی دبی سسکی نکلی ڈیارل نے اس کی سسکی پے مڑ کے دیکھا تو اس کے سفید پاؤں سے خون نکل رہا تھا غصے سے ڈیارل کے ماتھے بل آئے

پاگل ہو تم جب کہہ رہا ہقں سب بتا دوںگا تو کیوں نہیں سمجھ رہی تم ڈیارل دعا پے چیخا تھا اس کے چیخنے کی وجہہ سے دعا ڈر سے کانپ گئی تھی ڈیارل کو ھب اپنی سختی کا احساس ہوا تو اس نے لمبا سانس کھینچ کے خود کوکمپوز کیا اور دعا کے اٹھا کے بیڈ پے بٹھایا اس کا پاؤں اوپر کیا اس سے آرام سے کانچ کا ٹکڑا نکالا اور بینڈج کی اس کے ڈانٹنے سے دعا ڈر گئی تھی اس لئیے اس نے بھی کچھ نہیں کہا یہ بات ڈیارل نے نوٹ کی تھی وہ اپنی فیری کو ڈرانا نہیں چاہتا تھا پر وہ کیا کرتا اسے کہاں برداشت تھا کی اس کی فیری کو کوئی کھروج بھی آۓ

تیار ہوجاؤ آدھی گھنٹے میں ہمارا نکاح ہے وہ الفاظ تھے یا بم جو سامنے والے نے کہے تھے

ایک نکاح سے تو وہ بچ گئی تھی اب دوسری مشکل یے کیا تھا اس کی زندگی میں وہ ایک انجان سے تو ںکاح نہیں کر سکتی تھی اسے کچھ بھی کر کے یہاں سے نکلنا ہوگا

ڈیارل نے جب اسے سوچوں میں گم دیکھا تو باہر چلا آیا بیوقوف اس سے بھاگنے کا سوچ رہی تھی جو وہ ہونے نہیں دے سکتا تھا اسد مولوی کو بلاؤ

اتنی جلدی کیوں بھائی پلیز پھلے اسے کچھ سمجھنے کا موقعہ دو

اسد میں نے جتنا کہا اتنا کرو نو مور ایکسکیوزز

________________________________

اس کے جاتے ہی اس نے پورے کمرے کا جائزہ لیا تھا پر کہیں سے بھی باہر جانے کا راستہ نا تھا ابھی بھی وہڈھونڈ رہی تھی کی مولوی اور تین گواہوں کے ساتھ وہ نقاب پوش اندر داخل ہوا اور اس نے اس کے سامنے نکاح کے پیپرس رکھے

میں نہیں کرونگی سائن اس نے پیپرس کو دور پھینکا اورر اسی وقت اسد نے اس کے ماتھے پے گن رکھی تھی

مارلو چاہے مجھے پر میں نہیں کرونگی یے نکاح

اوکے فیری جیسے تمہاری وش ڈیارلنے فون اٹھایا اور کال ملائی

ہیلو عمران مار دو مسٹر عمیر کو

نہیں نہیں پلیز میرے بابا کو کچھ مت کرو میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں دعانے اس کے آگے ہاتھ جوڑے

نو میری جان اگر تم نکاح نہیں کرنا چاہتی تو میں کچھ نہیں کر سکتا مسٹر عمیر کو مرنا ہی ہوگا

نہیں نہیں میں کرونگی نکاح پلیز میرے بابا کو کچھ نا کریں…..دعا نے سسکیوں میں اپنی بات مکمل کی

ہمم گڈ گرل مولوی صاحب نکاح شروع کرئیے

دعا عمیر کیا آپ کو عبداللہ عثمان شاھ کے ساتھ نکاح قبول ہے

قبول ہے…….

دعا عمیر کیا آپ کو عبداللہ عثمان شاھ کے ساتھ نکاح قبول ہے

قبول ہے…..

دعا عمیر کیا آپ کو عبداللہ عثمان شاھ کے ساتھ نکاح قبول ہے

قبول ہے…….دعا کا دل چاہا وہ یہیں دفن ہوجائے اس کی سانسیں رک جائے یا یے ظالم شخص اسے مار دے دعا نے کانپتے ہاتھوں سے نکاح کے پیپرس پر سائن کیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *