Raaz E Mohabbat By Mehak NovelR50512 Raaz E Mohabbat (Episode - 15)
No Download Link
Rate this Novel
Raaz E Mohabbat (Episode - 15)
Raaz E Mohabbat By Mehak
ڈیارل اس کو ڈریس دے کے خود نیچے کچن میں آگیا تھا تاکی اپنی فیری کیلئیے ناشتا بنا سکے
کیا بناؤں….مجھے تو اس کی پسند نا پسند بھی معلوم نہیں خیر اس نے اپنی پسندیدہ اٹیلین ڈش spaghetti alla carbonara بنائی
گڈ مارننگ ڈیارل……اسد نے جوگنگ سے آکے گڈمارننگ کہا پر جواب میں ڈیارل نے اسےزبردست گھوری سے نوازا وہ سمجھ ن پایا کی یے گھوری کیوں اس نے تو سمپلی اسے گڈ مارننگ ہی کہا ہے
ابھی کہہ دیا دوبارہ مجھے ڈیارل نا کہنا میں ڈیارل صرف اپنے کام کے وقت ہوں ابھی میں صرف اینجل ہوں اپنی فیری کا اینجل میں نہیں چاھتا کی فیری ڈیارل کے بارے میں کچھ بھی جانے اس کے لئیے میں اینجل ہوں اس کی دنیا میں ایک عام آدمی ہوں کرائم کی دنیا سے بے خبر ڈیارل تو کرائم کی دنیا میں انکی موت ہوں جو کرائم کرتے ہیں ڈیارل کا مطلب موت کو پکارنا اور یے کسی کو مارنا یے سب کام صرف ڈیارل کرتا ہے اینجل نہیں اینجل اپنی فیرے سے محبت کرنا جانتا ہے بس اور میں میری فیری کیلئیے اینجل ہی رہنا چاہتا ہوں اس سے صرف محبت کرنا چاہتا ہوں اسے کوئی تکلیف نہیں دینا چاہتا ڈیارل نہیں اوکے آئیندہ احطیاط کرنا
پر اینجل تکلیف تو تم اسے دے چکے ہو یوں اس سے شادی کر کے
وہ میری مجبوری تھی وہ صرف اور صرف میری فیری ہے میں اسے کسی اور کا نہیں ہونے دے سکتا پھر چاہے مجھے کچھ بھی کرنا پڑے she is only mine not an others ایک فیری ایک اینجل کے ساتھ ہی اچھی لگتی ہے دانیال جیسے ڈیول کے ساتھ نہیں خیر تم بھی ہمارے ساتھ چل رہے ہو صرف عمر یہاں رہے گا ہمیں اپڈیٹ کرنے کیلئیے اس لئیے تم بھی اپنی پیکنگ کرلو اور میرا بھی ناشتہ ریڈی ہوگیا ہے نو بج رہے ہیں بارہ بجے کی ہماری فلائٹ ہے اوکے ڈیارل او سوری اینجل اپنی بات مکمل کر کے اوپر روم میں جا چکا تھا اور اسد اسے دیکھ کے سوچنے لگا کی کیا ڈیارل بھی کسے کیلئیے ایسے جذبے رکھ سکتا تھا اس نے کہاں سوچا تھا خیر وہ اپنی سوچوں کو جھٹک کے فریش ہونے چلا گیا
وہ جب روم میں داخل ہوا تو دعا سامنے بیڈ پے بیٹھی ہوئی تھی ریڈ کلر کے فیراک میں کالے گیلے بال اس کے چہرے کو چھوتی کچھ آوارہ گیلی لٹیں اس کی براؤن آنکھیں سرخ تھی شاید رونےکی وجہہ سے وہ ایسی اینجل کے دل پے تیر چلا رہی تھی
کیا سوچ رہی ہو میری جان وہ ناشتہ ٹیبل پے رکھ کے اس کے پاس بیٹھ گیا تھا
کچھ نہیں دعا اس سے تھوڑا دور ہٹی
تم ابھی تک ریڈی نہیں ہوئی بال بھی گیلے ہیں سردی لگ جاتی تو اس نے ہیئر ڈرایر اٹھایا اور قریب آکے اس کے بالوں کو سکھانے لگا
نہیں میں کرلونگی دو مجھے دعا اس نے اس سے فاصلہ قائم کیا
اگر کرنا ہوتا تو اب تک کر چکی ہوتی فیری بٹ نہیں کیا مطلب تم چاہتی تھی میں کروں تو اب کرنے دو ویسے بھی ٹائم کم ہے بارہ بجے نکلنا ہے ہمیں۔۔۔۔۔ اینجل نے فیری کا قائم کیا ہوا فاصلہ مٹایا
مجھے کہیں نہیں جانا پلیز …..اس نے بھیکی آواز میں کہا
آئی ایم سوری فیری بٹ اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتا پہلے بھی بتا چکا ہوں کی تم صرف میری ہو اور میں تمہیں دور نہیں جانے دے سکتتا جہاں میں جاؤنگا وہاں تم بھی میری جان اور اب خود کو بھی تیار کرلو میرے ساتھ رہنے کیلئیے ۔۔۔۔۔۔۔اس کے بال ڈرائے کرنے بعد وہ اٹھا اور دراز سے ایک نیکلیس نکال کے اس کے گلے میں پہنایا یے فیری نے جب اس دیکھا ےو یے وہیں AD والا نیکلیس تھا جو پہلے بھی کسی نے پہنایا تھا جس سے اسے لگا تھا کی A سے عبداللہ ہے پر یہاں A سے اینجل تھا یے لاکیٹ اس نے اپنی شادی والے دن اتار دیا تھا
تم نے یے لاکیٹ کیوں اتارہ میں نے منع کیا تھا نا خیر پہلی غلطی تھی اس لئیے معاف کیا اب مت اتارنا کبھی بھی میری جان اسے اینجل نے اس کے سر پر بوسہ دیا اور کھانا لے کےاس کے قریب رکھا دعا ابھی کھانے کو دیکھ رہی تھی کی یے کیا ہے اسے تو کچھ جھ نہیں آرہا تھا ایسی ڈش اس نے پہلی بار دیکھی تھی کی اینجل نے چمچ اس کے موں کے سامنے کیا
موں کھولو۔۔۔۔۔
میں نے نہیں کھانا پتا نہیں کیا ہے یے دعا نے موں بنایا
دیکھو فیری میری جان مجھے نہیں پتا کی تمہاری پسند کا کھانا کونسا ہے اس لئیے میں نے میرا پسندیدہ کھانا بنا لیا آج کھا لو اگین تمہاری پسند کا کھائیں گے آئے سوئیر پلیز ابھی کھالو یے میری جان ۔۔۔۔۔۔۔دعا نے کھا کے دیکھا تو ٹیسٹ اچھا تھا اس کا جو بھی تھا اسے نام تو پتا نہیں تھا
یے ہے کیا ۔۔۔۔۔دعا نے ڈش کی طرف اشارہ کیا
یے روم سٹی کا سب سے فیمس فوڈ ہے spaghetti alla carbonara
فیری کو خود ناشتہ کروانے کے بعد وہ اٹھا اور باہر چلا گیا برتن لے کے پیچھے دعا اکیلے رہ گئی تھی اسے گئے ہوئے ایک گھنٹا ہوگیا تھا اور وہ ابھی تک نہیں آیا تھا
چلو فیری ہمیں نکلنا ہے اینجل نے روم میں انٹر ہوتے ہی اسے باہر آنے کاکہا کی خود واپسی کیلئے مڑ گیا
پلیز مجھے کہین نہیں جانا
فیری مجھے مجبور مت کرو نیچے میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں پانچ منٹ میں آجاؤ ورنہ میں اٹھا کے لے جاؤنگا۔۔۔یے کہہ کے وہ رکا نہیں اور چلا گیا وہ بھی اس کے پیچھے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی باھر آگئی اس نے اس کیلئے فرنٹ ڈور کھولا اور وہ بیٹھ گئی اس کے پیچھے بھی کوئی بیٹھا تھا اسے تو لگا صرف وہ دونوں ہی ہے
ہائے بھابھی میں آپ کا چھوٹا سا ننہہ سا پیارا سا معصوم سا دیور ہوں
ہائے۔۔۔۔دعا کو بھی وہ اچھا لگا تھا کیوںکی وہ اس کھڑوس کی طرح تو نہیں تھا اور آگے کا ایئرپورٹ تک کا سفر اسد اور دعا کی باتوں میں گذرا پر فلائٹ میں اسد کی سیٹ اس سے کافی دور تھی اس لئیے وہ بور ہورہی تھی اس کھڑوس سے تو اسے کچھ بات کرنے میں بھی ڈر لگتا تھا
تمہاری کتنی جی ایف ہین۔۔۔پر کیا کرتی ہماری معصوم دعا چپ کہاں رہ سکتی تھی
ڈیارل جو اس کے چہرے کو بڑے غور سے دیکھ رہا تھا اس کے سوال پے چوںک گیا
میری جی ایف
ہاں آپ کی اب پیارے ہینڈسم ہے ڈیشنگ ہے کوئی تو جی ایف ہوگی نا آپ کی
نہیں میری کوئی جی ایف نہیں میری بس ایک پیاری سی وائف ہے جسے میں بہت زیادہ پیار کرتا ہوں جس کیلئے میں کچھ بھی کرسکتا ہوں سوائے اسے چھوڑنے کے جو کی بھت کیوٹ ہے اور معصوم بھی اور جب میری باتوں پے بلش کرتی ہے نا تو اور کیوٹ لگتی ہے اینجل نے اس کو بلش کرتے دیکھا تو کہا کتنی پاگل تھی وہ بس اتنے سے اظہار پر بلش کر رہی تھی ابھی تو اسے اس کے جنونیت کے سمندر کو پار کرنا تھا
آپ کیا کرتے ہیں ۔۔۔۔۔تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد دعا کی طرف سے ایک اور سوال آیا
میری فارمیسی کی کمپنی ہے اور خود بھی سرجن ہوں
اوہ اچھا آپ کے گھر میں کون کون ہے
میں اور میرے دو بھائی اور اب ایک پیاری سی وائف
ماما بابا۔۔۔۔دعا نے اپنی چھوٹی ڈارک براؤن آنکھوں سے اس کو دیکھا
نہیں ہے ۔۔۔۔اینجل بھی اب پوری طرح سے اس کی طرف متوجہ ہوگیا تھا
اچھا دوسرا بھائی کہاں ہے ۔۔۔۔۔دعا اسے مما بابا کی یاد دلا کے اداس نہیں کرناچاہتی تھی اس لئیے سوال چینج کیا
پاکستان میں۔۔۔۔۔۔ڈیارل اس کے چہرے کے بدلتے زاویے دیکھ رہا تھا
تو مجھ سے ملایا کیوں نہیں
تم اس سے مل چکی ہو
اچھا کب
عمر تمہارا باڈی گارڈ۔۔۔۔ڈیارل نے نارمل انداز میں کہا پر دعا کا رےایکشن نارمل نا تھا وہ پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی
وہ تمہارا بھائی ہے
جی ہاں
چیٹر کہیں کا ہمارے گھر گارڈ کی طرح رہ رہا تھا لائیر۔۔۔۔۔۔دعا نے غصے سے چہرا موڑ لیا وہ ایسے پپھلی پھلی گالوں اور موں پھولائے اتنی کیوٹ لگ رہی تھی کی بے ساختہ اینجل نے اس جی گال پے ہونٹ رکھ کے محبت کی محر ثبت کردی اس کی اس حرکت پے دعا نے حیرانے سے کںدھے اچکائے
کیا تھا یے
کیا کیا تھا ڈیارل نے کندھے اچکائے جیسے کچھ جانتا ہی نا ہو
کہہ تو ایسے رہے ہو جیسے تمہیں کچھ پتا ہی نا ہو
واقعی مجھے کچھ نہیں پتا بتائو مجھے
وہ تم نے
ہاں میں نے کیا ڈیارل نے بلش کرتی دعا کودلچسپی سے دیکھا
کچھ نہیں بدتمیز
ہاہاہاہاہاہا بلشنگ فیری
باقی کا سفر بھی ایسے ہی گذرا اٹلی پہنچ کے جب وہ ایئر پورٹ سے باہر نکلے تو ایک بلیک کار ان کے سامنے آکے رکی وہ تینوں اس کار میں بیٹھے دعا کار ونڈو سے باھر کے نظارے کو دیکھ رہی تھی بڑی بڑی بلڈنگس صاف شفاف روڈس جس کے دونوں سائڈ پر ٹریس کگے تھے بہت ہی پیارا شہر تھا تقریبن ایک گھنٹے کے سفر کے بعد ان کی کار ایک وائٹ پیئرلس کے سامنے روکی وہ بہت پیارا تھا
آئو فیری ۔۔۔۔۔۔۔ڈیارل نے اس کے سائیڈ کا ڈور اوپن کیا اور اپنا ہاتھ آگے بڑھایا
دعا نے اسے تھاما اور باہر آگئی گھر میں داخل ہونے کے بعد دعا کو اندازہ ہوا کی وہ جتناباہر سے پیارہ لگتا ہے اس سے کئی گنا زیادہ پیارہ ہے
یے پئیرلس تمہارا ہے
نہیں۔۔۔۔اس کے کہنے پے دعا نے نا سمجھی سے اسے دیکھا اگر اس کا نہیں ہے تو وہ اسے یہاں کیوں لایا تھا
یے تمہارا ہے مائےفیری
چلو آئو روم میں چل کے ریسٹ کرلو تھک گئی ہوگی تم اتنا سفر کیا ہے اینجل نے اس کا ہاتھ تھاما اور اسے ایک روم کی طرف لے آیا فیری یہاں میرے پاس تمہارے لئیے کوئی سوٹ نہیں ہے ہم صبح ہی شاپنگ پے چلیں گے بٹ پلیز ابھی تمہیں تھوڑا کومپرومائز کر کے میری ڈریس پہن لو
واٹٹ نہیں بلکل نہیں اس کی بات پے دعا نے اسے گھورا
پلیز فیری میری جان ابھی کیلئیے پلیز
اوکے اس نے کبرڈ سے اس کا ایک ڈریس نکالا اور فریش ہونے چلی گئ
فیری تم ٹھیک تو ہو نا وہ ڈنر لے کے روم میں آیا تھا پر ابھی تک فیری واشروم سے نہیں آئی تھی اس لئے اس نے ڈور ناک کرکے کہا
ہاں میں ٹھیک ہوں
تو ابھی تک فریش ہورہی ہو
ننن نہیں
تو پھر
وہ مجھے شرم آرہی ہے میں ایسے کیسے باہر آجاؤں اس کے جواب پے ڈیارل کا دل کیا کی وہ کھل کے قہقہ لگائے
اڑے آجاوباہر شوہر ہوں تمہارا کوئی غیر نہیں جلدی آؤ ورنا میں نے آجانا ہے
نہیں نہیں میں آتی ہوں
اوکے ۔۔۔۔۔وہ کہہ کے آکے صوفے پے بیٹھا اور موبائل یوز کرنے لگا پر اس کے موبائل پے چلتی انگلیان اس وقت رکی جب سامنے دعا اس کی بلیک کلر کی شرٹاور بلیک جینس میں جو کی اس سے کافی لوز تھی بلش کرتی بہت کیوٹ لگ رہی تھی
ہائے کیا آج مجھے مارنے کے ارادے ہیں میرے یار اگر ایسے ہی شرماتی رہی نا تو پھر میں کنٹرول نہیں کر پائونگا میری جان یے کہتے ہی ڈیارل نے اس کی سانسوں کو اپنی سانسوں میں قید کرلیا اور اس کے لمس میں اتنی جنونیت تھی کی دعا کو اپنی سانسیں رکتی ہوئی محسوس ہوئی اس نے اپنے نازک ہاتھوں سے اس کے سینے پے رکھ کے اسے دور کرنا چاہا پر وہ انسان تھا یا پتھر ٹس سے مس نا ہوا جب اسے محسوس ہوا کی دعا اب اور برداشت نہیں کر سکتی تو اس نے اس کی سانسوں کو آزاد کیا اور دعا بڑی بڑی سانسیں لے رہی تھی اس کا چہرا سرخ پڑ چکا تھا وہ شرم سے نظریں تک اوپر نہیں کر پا رہی تھی پلیز فیری اب اور نا شرماؤ میری جان ورنا آگے کی ذمیدار تم ہوگی
یے لو پزا کھا لو یے تو کھاتی ہی ہوگی تم مجھے اس وقت کوئی پاکستانی ڈش نہیں ملی سوپزا آرڈر کرلیا وہ اسے کہہ کے فریش ہونے چلاگیا اور وہ سوچتی رہ گئی کی آخر یے ہے کیا کبھی کچھ کبھی کچھ وہ کبھی اسے سمجھ نہیں سکتی تھی
