Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Professor Shah (Last Episode )

Professor Shah by Zanoor Writes

“اٹھو آنکھیں کھولو۔۔”

اپنے سوجے یوئے منہ ہر کسی کی سخت گرفت سے بریرہ نے مندی مندی آنکھیں کھولی تھیں۔بھوک پیاس سے نڈھال وہ شدید تکلیف میں تھی۔

“آنکھیں کھولو بھگوڑی۔۔”

مسز شہروز نے بریرہ کے چہرے پر ٹھنڈا پانی گرایا تھا جس سے وہ سن ہوگئی تھی۔دماغ جامد سا ہوگیا تھا۔

“چٹاخ۔۔”

ایک زوردار تھپڑ بریرہ کے چہرے پر مارتے مسز شہروز نے اس کا چہرہ اوپر اٹھایا تھا۔

“ان پیپرز پر سائن کرو۔۔”

مسز شہروز نے کچھ پیپرز اس کے سامنے میز پر رکھے تھے۔وہ بریرہ کے پیرنٹس کی پراپرٹی تھی جو کسی دوسرے علاقے میں تھی اسح بیچ کر مسز شہروز ہیسے لے کر یہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھیں۔ان کے اکاونٹ فریز ہوگئے تھے ورنہ انھیں پیسوں کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

“ان پیپرز پر فورا سائن کرو۔۔”

شہروز صاحب نے اس کے ہاتھ کھولتے پین اس کے ہاتھ میں تھمایا تھا۔مسز شہروز نے اس کے بالوں کو مضبوطی سے تھام کر اس کا چہرہ پیہر پر جھکایا تھا۔

“میں کبھی سائن نہیں کروں گی۔۔”

وہ پیپرز کو مڑوڑ کر پھینکتی چیخی تھی۔جس نے مسٹر اور مسز شہروز دونوں کو غصے دلا دیا تھا۔

“وہ لوگ اندر ہی ہیں۔۔”

ڈینیل نے روحان کو اشارہ کیا تھا۔جبکہ عادل اس کے ساتھ کھڑا تھا۔اس کے کندھے کا زخم ابھی بھی کچا تھا مگر اسے پرواہ نہیں تھی۔

ڈینیل کو رات کو ہی اس جگہ کا پتا چل گیا تھا انھیں یہاں آتے ہوئے ہی کئی گھنٹے لگ گئے تھے۔

“ہم کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں اپنے آدمیوں کو کہوں فورا اندر داخل ہوں۔۔”

عادل نے بےتابی سے کہا تھا۔

“تمھاری جلد بازی سارا معاملہ خراب کردے گی۔۔تم چپ رہو۔۔”

ڈینیل نے اسے خاموش کروا دیا تھا۔

ڈینیل کے اشارے پر سب سے پہلے روحان اندر گیا تھا۔

“گھر خالی ہے وہ لوگ بیسمنٹ میں ہیں۔۔”

روحان سارے گھر پر سرسری نظر ڈالتا بولا تھا۔بلوٹوتھ میں اس کی آواز سنتا عادل سب سے پہلے اندر گیا تھا۔روحان کو پیچھے کرتا وہ خود بےصبری سے بیسمنٹ کی طرف بڑھا تھا۔

جہاں سے آتی بریرہ کی چیخ نے اس کے قدموں کی رفتار بڑھا دی تھی۔عادل کے پیچھے ہی سب بھاگے تھے۔عادل نے گن تھامتے مضبوطی سے نشانہ لیتے مسٹر شہروز پر گولی چلائی تھی جو بریرہ کو ٹھوکریں مار رہے تھے۔گولی سیدھی ان کے سر میں لگی تھی اور وہ موقع پر ہی مرگئے تھے۔

مسز شہروز سب کو دیکھ کر گھبراتے ہوئے بریرہ کو دبوچنے لگے تھے جب ڈینیل نے اس کے بریرہ کی طرف بڑھتے ہاتھ پر گولی چلائی تھی۔

“بریرہ۔۔۔ بریرہ۔۔”

عادل نے زمین پر بیٹھتے بریرہ کا چہرہ تھاما تھا جو اچھا خاصا سوجا ہوا تھا ساتھ ہی کافی زخمی تھا۔

“اس عورت کو آسان موت نہیں ملنی چاہیے۔۔میں اپنی آنکھوں سے اسےمرتے دیکھنا چاہتی ہوں۔۔”

وہ سسکاری بھرتی عادل کی شرٹ کو پکڑتی کانپتی آواز میں بولی تھی۔عادل نے ڈینیل کو اشارہ کیا تھا۔کہ وہ مسز شہروز کو یہاں سے لے جائے۔۔

“تم فکر مت کرو اسے اتنی جلدی موت ملنے والی نہیں ہے۔۔تم پر کیے گئے ہر ظلم کا حساب میں خودلوں گا۔۔”

عادل نے لب بھینچ کر اپنے زخم کو اگنور کرتے اسے باہوں میں بھر لیا تھا۔بریرہ زخموں سےچور عادل کی پناہوں میں آتی ہی بےہوش ہوگئی تھی۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

“کہاں گئی تھی ؟”

افرحہ جو رینٹ پے کرتی کیب سے نکل تھی شاہزیب کو گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا دیکھ کراس کا سانس خشک ہوگیا تھا۔

“و۔۔وہ مجھے ایک ضروری کام تھا۔۔”

وہ نظریں پھیرتی بولی تھی۔

“گاڑی میں بیٹھو۔۔”

اس نےدروازہ کھولتے سرد لہجے میں کہا تھا۔افرحہ خاموشی سے کار میں بیٹھ گئی تھی۔

شاہزیب نے خاموشی سے گاڑی سٹارٹ کردی تھی۔شاہزیب کی خاموشی سے افرحہ کو ڈر لگ رہا تھا۔

“ڈاکٹر نے کیا بتایا آپ کو؟”

افرحہ نے دھیان ہٹانے کے لیے پوچھا تھا۔شاہزیب کی گرفت سٹئرینگ ویل پر سخت ہوئی تھی۔

“کچھ نہیں ہوا ڈاکٹرز کہتے نیچرلی ہرٹ اٹیک ہوا تھا انھیں۔۔”

شاہزیب نے لب بھینچ کر جواب دیا تھا۔افرحہ خاموش ہوگئی تھی۔

“یہ اینولیپ پکڑاو۔۔”

شاہزیب نے سنسان سڑک پر ایک سائیڈپر گاڑی پارک کرتے اسکے ہاتھ میں موجود پیکٹ کی طرف اشارہ کیا تھا۔افرحہ نے پریشانی سے لب کاٹے تھے۔۔

“شاہزیب۔۔”

“افرحہ مجھے اینولیپ دکھاو۔۔”

شاہزیب کے لہجے میں سختی محسوس کرتے اس نے کانپتے ہاتھوں سے اینولیپ شاہزیب کو پکڑایا تھا۔

شاہزیب نے اس اینولیپ کو کھولا تھا جس میں ایک یو ایس بی تھی اور چند تصویریں تھیں وہ تصویریں شاہزیب اور زباریہ کی تھی۔

“کیا سوچ کر تم مجھے بنا بتائے اس شخص کے پاس گئی۔۔”

وہ تصویریں دیکھتا چیخا تھا۔

“مجھ سے برداشت نہیں ہوتا آپ بےقصور ہونے کے باوجود مجرم ٹھہرائے جائیں۔۔آپ ساتھ دیں یا نہ دیں میں اس عورت کو سزا دلا کر رہوں گی۔۔”

افرحہ بھی اونچی آواز میں چیخی تھی۔

“وہ پاگل عورت تمھیں نقصان پہنچا دے گی افرحہ۔۔اس معاملے سے دور رہو۔۔”

شاہزیب افرحہ کا بازو پکڑتا سرد لہجے میں بولا تھا۔

“شاہزیب آپ کو میری قسم۔۔ ہم ابھی اور اسی وقت پولیس اسٹیشن جارہے ہیں۔۔۔اور آپ کیس فائل کریں گے۔۔”

اس نے شاہزیب کی آنکھوں میں دیکھتے اٹل لہجے میں کہا تھا۔اس نے شاہزیب کو بےبس کردیا تھا۔

“ٹھیک ہے میں کیس فائل کروا رہا ہوں۔۔ مگر شرط یہ ہے تم اس معاملے سے دور رہو گی۔۔”

شاہزیب لب بھینچ کر گویا ہوا تھا۔

“اوکے۔۔”

افرحہ کے ہامی بھرتے وہ زباریہ کے خلاف کیس فائل کر چکا تھا۔ساتھ ہی افرحہ کے ساتھ ہونے والی تحقیقات کا بھی بول چکا تھا۔

ایس پی حاتم شاہ کے دوست کا پوتا تھا اس لیے وہ شاہزیب کا کیس خود ہینڈل کر رہا تھا۔

“یہ ثبوت کم ہیں۔۔ہمیں اس کے منہ سے اعتراف چاہیے کہ اس نے یہ سب کیا ہے۔۔”

ایس پی نے شاہزیب سے کہا تھا۔

“یہ ناممکن ہے وہ کبھی اعتراف نہیں کرے گی۔۔”

شاہزیب نے لب بھینچ کر جواب دیا تھا۔

“ناممکن نہیں ہے۔۔بالکل آسان ہے۔۔”

ایس پی کی بات سنتے اس نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا تھا۔

“تمھاری وائف اس میں ہیلپ کرسکتی ہے۔۔تمھارے مطابق یہ ثبوت بھی تمھاری وائف نے حاصل کیے ہیں تو وہ زباریہ کے منہ سےاعتراف بھی نکال سکتی ہے۔۔”

“نو وے۔۔ میں اس پاگل عورت کے پاس اپنی بیوی کو کبھی نہیں بھیجوں گا۔۔”

وہ ہتھے ست اکھڑ گیا۔۔

“کالم ڈاون ہم اس دوران ساری پلاننگ سے اسکے ساتھ ہوں گے۔۔ہمیں اب بس کچھ دن انتظار کرنا ہے کہ کب تک زباریہ تمھاری بیوی سےرابطہ کرتی ہے۔۔”

ایس پی نے اسے ٹھنڈا کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔

“اور تمھیں ایسا کیوں لگ رہا ہے وہ افرحہ سے کنٹیکٹ کرے گی ؟؟”

شاہزیب نے استہزایہ انداز میں پوچھا تھا۔

“اگر اس دوران افرحہ کو خراش بھی آئی تو اس کا بدلہ میں تم سےلوں گا یاد رکھنا۔۔”

شاہزیب بالوں میں ہاتھ پھیرتا سرد لہجے میں بولا تھا۔ایس پی جوابا اس کی پریشانی دیکھ کر مسکرا اٹھا تھا۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

ایس پی کا اندازہ بالکل ٹھیک نکلا تھا ایک ہفتے بعد افرحہ کو زباریہ کی کال آ ہی گئی تھی۔شاہزیب افرحہ کوساری باتبتا چکا تھا جس پر وہ جھٹ سے راضی ہوگئی تھی۔

“مجھے سمجھ نہیں آرہی ایسی کیا ضرورت پڑگئی جو تم میرے شوہر کے آفس پہنچ گئی۔۔”

زباریہ نے سب سے پہلی بات یہ ہی کی تھی۔افرحہ نے فون سپیکر پر ڈالا ہوا تھا اس کے ساتھ بیٹھا شاہزیب خاموشی سے سن رہا تھا۔

“اور مجھے یہ سمجھ نہیں آرہی آپ کو ایسی کیا ضرورت پڑ گئی جو آپ نے مجھے کال کی ہے۔۔”

افرحہ نے بھی اسے اس کی طرح ہی جواب دیا تھا۔جوابا زباریہ اس کی چالاکی پر ہنس پڑی تھی۔

“تم سے ملنا چاہتی ہوں۔۔مجھے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں تم سے۔۔”

زباریہ سرد تاثرات لیے میٹھی آواز میں بولی تھی۔اس کے انداز سے کوئی بھی دھوکا کھا سکتا تھا۔

“کونسی ضروری باتیں ؟”

افرحہ نے لاپرواہی سے پوچھا۔

“یہ تو تم جب مجھ سے ملنے میرے گھر آو گی تب میں بتاوں گی۔۔کل دوپہر دو بجے میں تمھارا انتظار کروں گی۔۔امید ہے تم اکیلی آو گی۔۔”

زباریہ اپنا شاطر دماغ چلاتی بولی تھی اس کے مطابق ساری چال وہ چل رہی تھی۔جبکہ اصل شکاری تو افرحہ تھی۔

“اوکے میں پہنچ جاوں گی۔۔اب کل بات ہوگی شاہزیب آنے والے ہیں میں زرا فریش ہوکر چینج کرلوں۔۔آخر شوہر کو خوش کرنا بیوی کا ہی کام ہے۔۔”

افرحہ تیزی سے بولتی کال کاٹ گئی تھی۔زباریہ نے غصے سے فون پر اپنی گرفت مضبوط کرلی تھی۔

شاہزیب افرحہ کے لیے بےحد پریشان ہوگیا تھا۔لیکن افرحہ کی آخری بات نے اس کا موڈ خوشگوار کردیا تھا۔

“اپنا خیال رکھنا اور اس عورت سے فاصلے پر بیٹھنا اور کام ہوتے ہی نکل آنا۔۔”

شاہزیب نے افرحہ کا چہرہ تھام کر شدت سے اس کے ماتھے کو چوما تھا۔بےچینی اور پریشانی اس کے ہرعمل سے واضح ہو رہی تھی۔ڈر توافرحہ بھی رہی تھی مگر وہ ظاہر نہیں کر رہی تھی۔

پولیس کا سارا بیک اور شاہزیب زباریہ کے گھر سے دو منٹ کے فاصلے پر تھے۔ہولیس نے افرحہ کی شرٹ میں کیمرہ فکس کیا تضا جبکہ مائکرو فون بھی افرحہ کے ٹاپس میں موجود تھا۔

افرحہ پورے ٹائم پر زباریہ کے گھر پہنچ گئی تھی۔ارشد کام ہر تھا اور زباریہ اس ٹائم اکیلی گھر ہوتی تھی تبھی زباریہ نے اسے اس ٹائم بلایا تھا۔

افرحہ کے بیل دینے پر زباریہ نے گیٹ کھولا تھا۔وہ اسے اندر لاتی اوپن کیچن کے قریب سیٹنگ اریا میں بیٹھا چکی تھی۔

“یہاں پہنچنے میں کوئی پریشانی تو نہیں ہوئی۔۔؟”

وہ فریج میں سے جوس نکالتی افرحہ سےپوچھنے لگی جو خاموش تھی۔

“بالکل بھی نہیں۔۔”

افرحہ نے مصنوعی مسکراہٹ سے کہا تھا۔

“ایک بات بتاو۔۔ شاہزیب کی بیوی بن کر کیسا محسوس ہورہا ہے ؟”

افرحہ کو جوس کا گلاس تھماتے زباریہ نے دانت کچکچا کر پوچھا تھا۔

“میں خود کوخوش نصیب محسوس کرتی ہوں۔۔جسے شاہزیب جیسا ہینڈسم ، کئیرینگ اور پوزیسیو شخص ملا ہے۔۔”

افرحہ نے تپا دہنے والی مسکراہٹ سے جواب دیا تھا۔زباریہ کی رگوں میں زہر سا بھر گیا تھا۔

“آپ بتائیں شاہزیب کی زندگی برباد کرکے آپ کو کیسا محسوس ہوا تھا۔؟”

افرحہ کے سوال نے اسے آگ لگا دی تھی۔اوپن کچن کی طرف بڑھتے وہ کھل کر ہنس پڑی تھی۔

افرحہ کو اس وقت وہ پاگل جنونی عورت لگ رہی تھی جو اپنے ہوش و حواس میں نہ تھی۔

زباریہ نے کیچن کی شلف پر پڑی چھری کو پکڑ کر اپنی کمر کے پیچھے چھپا لیا تھا جسے افرحہ بھی دیکھ نہ پائی تھی۔

“آہہ۔۔ مجھے بہت دکھ ہوا تھا میں اسے حاصل نہیں کرپائی۔۔اس لمحے ارشد کو آتے دیکھ کر میرا دل کیا تھا اسے مار مار کر قتل کردوں۔۔ منزل کے اتنے قریب پہنچ کر اسے چھو نہ پانے کی تکلیف اور سرسراہٹ میری رگوں میں ابھی تک محسوس ہورہی ہے۔۔میں شاہزیب کو تب نہ سہی اب حاصل کرکے رہوں گی۔۔”

زباریہ نے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ افرحہ کی جانب بڑھتے کہا تھا۔

اپنی کمر کے پیچھے چھپایا چاقو نکال کر وہ افرحہ کی آنکھوں کے سامنے لہرانے لگ پڑی تھی۔شاہزیب جو پولیس کے ساتھ کیمرے سے زباریہ کو دیکھ رہا تھا اس کی حرکت پر وہ بے قابو ہوا تھا۔

“بھاڑ میں گیا سب کچھ میں اپنی بیوی کے پاس جا رہا ہوں۔۔”

وہ بےقابو ہوا تھا۔ایس پی نے اسے بمشکل روکا تھا۔

“کالم ڈاون شاہزیب ہمیں زباریہ کا اعتراف چاہیے بس دو منٹ انتظار کر لو۔۔”

ایس پی کی بات کو اگنور کرتا وہ گاڑی سے چھلانگ لگاتا گھر کی جانب بھاگا تھا۔

“آپ نے واقعی اس رات شاہزیب کے ساتھ زبردستی کرنے کا سوچا تھا۔۔؟”

افرحہ اس کے ہاتھ میں چاقو دیکھ کرفورا چوکنا ہوتی کھڑی ہوگئی تھی۔

“ہاں میں اسے اس رات اپنا بنانا چاہتی تھی اسے میں نے ڈرگز دیے تھے۔اسے اپنے سامنے بےبس دیکھ کر مجھے خوشی ہوئی تھی۔میں اسے مکمل طور پرحاصل کرلیتی اگر ارشد نہ آجاتا۔۔مگر پھر بھی میں نے سارا ملبہ شاہزیب پر ڈال دیا۔۔مجھے لگا تھا بعد میں میں اسے حاصل کرلوں گی۔۔مگر میرا سارا پلان خراب ہوگیا جب اس کے بڈھے دادا نے اسے باہر بھجوا دیا۔۔”

“اب اتنے سالوں بعد وہ لوٹا ہے تو میں اسے ہر گز کسی کےساتھ شئیر نہیں کروں گی۔۔تمھیں اچھا بھلا فانوس کرا کر مارنے کا پلان بنایا تھا مگر وہ بھی ناکام گیا۔۔لیکن کوئی بات نہیں اب میں تمھیں اپنے ہاتھوں سے ختم کروں گی۔۔شاہزیب صرف میرا تھا اور ہمیشہ میرا ہی رہے گا۔۔”

زباریہ نے بولتےہوئے پھرتی سے آگے بڑھتے افرحہ پر حملہ کرنا چاہا تھا لیکن افرحہ پیچھے ہٹ گئی تھی۔

افرحہ پیچھے ہٹتی ایک دم لڑکھڑا تھی جب اس لمحے کا فائدہ اٹھاتے زباریہ نے اس کے پیٹ میں چاقو پوری قوت سےگھسادیا تھا۔

ایک درد ناک چیخ افرحہ کے حلق سے نکلی تھی۔زباریہ چاقو مارتی پیچھے ہٹ کر ہنسنے لگی تھی۔

“اب صرف شاہزیب میرا ہوکر رہے گا۔۔۔”

وہ ہنستے ہوئے زہنی مریضہ لگ رہی تھی۔افرحہ تکلیف سے زرد پڑتی فرش پر گرتی چلی گئی تھی۔خون تیزی سے بہتا فرش کو رنگنے لگا تھا۔

“افرحہ۔۔۔”

زباریہ جو افرحہ جو فرش پر گرا تکلیف میں دیکھ کر ہنس رہی تھی۔شاہزیب کی اونچی آواز سن کر وہ ایک دم سیدھی ہوئی تھی۔۔

شاہزیب چیختا ہوا اندر آیا تھا جب زمین پر خون میں لپٹی گری ہوئی افرحہ کو دیکھ کر اس کا سانس سوکھ گیا تھا۔دل جیسے رک گیا تھا۔ دماغ سن ہونے لگا تھا۔۔

“افرحہ آنکھیں کھولی رکھو۔۔”

وہ اسے تیزی سے اٹھاتا بولا تھا اسکے ذہن میں بس ایک ہی خیال تھا افرحہ کو تیزی سے ہوسپٹل لے جانے کا اسے افرحہ کے ساتھ اپنی زندگی ریت کی مانند ہاتھوں سے پھسلتی محسوس ہو رہی تھی۔

“نہیں شاہزیب۔۔ مر جانے دو اس کو تم صرف میرے ہو۔۔”

زباریہ نے شاہزیب کو کندھے سے تھامنا چاہا تھا۔شاہزیب نے اپنے کندھے کو جھٹکا دے کر اس کا ہاتھ ہٹایا تھا۔

“میری بیوی کو کچھ بھی ہوا تو تمھیں تڑپا تڑپا کر ماروں گا۔۔”

شاہزیب دھاڑا تھا۔

“اریسٹ ہر۔۔ شاہزیب باہر ایمبولینس کھڑی ہے اسے فورا باہر لے جاو۔۔”

ایس پی نے لیڈی آفسر کو زباریہ کو پکڑنے کا آرڈر دیتے شاہزیب سےکہا تھا۔جو دیوانہ وار اسے باہوں میں لیتا باہر بھاگ گیا تھا۔

“شاہزیب۔۔۔ شاہزیب۔۔ چھوڑو مجھے شاہزیب۔۔”

زباریہ ہزیانی انداز میں چیخ رہی تھی۔پولیس اسے پکڑ کر وہاں سے لے گئی تھی۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

“افرحہ میری جان آنکھیں کھول لو اب۔۔”

شاہزیب کے نرمی سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے کہا تھا۔اس کے سٹیچیز لگے تھے۔وہ دوائیوں کے زہر اثر کافی دیر سے سو رہی تھی۔

شاہزیب اس کی آنکھوں کو دیکھنا چاہتا تھا۔اس کی باتوں کو سننا چاہتا تھا۔اس کی حسین مسکراہٹ کو تکنا چاہتا تھا۔اس نے افرحہ کے پیرنٹس کو اور گھر میں سے کسی کو نہیں بتایا تھا۔

پولیس زباریہ کو گرفتار کرچکی تھی۔اب اس کے خلاف باقائدہ کیس چلنا تھا۔

“شا۔۔شاہزیب۔۔”

افرحہ نے دھیرے سے آنکھیں کھولی تھیں۔شاہزیب اس کی پکار پر فورا اس پر جھکا تھا۔اس کے ہوش آنے کی خوشی میں اس نے اپنا نرم و گرم لمس افرحہ کی پیشانی پر چھوڑا تھا۔

“آ۔۔آپ ٹھیک ہیں ؟”

اس نے شاہزیب کے گال پر ہاتھ رکھتے پوچھا تھا۔اس کی بکھری حالت دیکھ کر وہ پریشان ہوگئی تھی شاہزیب نے اس کا ہاتھ تھامتے اپنے ہونٹوں سے لگایا تھا۔

“میں بالکل ٹھیک ہوں اڈیٹ۔۔”

اس نے افرحہ کے بالوں کو سہلاتے کہا تھا۔

“وہ زباریہ ؟”

اس نے سوالیہ پوچھا تھا۔اپنے پیٹ کے قریب تکلیف محسوس کرکے زباریہ کا پاگل پن یاد آیا تھا۔

“پولیس نے اسے گرفتار کر لیا ہے اسکے خلاف کیس ہوگا۔۔”

شاہزیب نے سنجیدگی سے جواب دیا تھا۔

“شکر اللہ کا “

افرحہ نے نم آنکھوں سے کہا تھا۔

“اب آپ کو کوئی غلط نہیں سمجھے گا۔۔سب کو سچائی ہتا چل جائے گی۔۔”

افرحہ مسکرا کر بولی تھی۔

“اگر تمھیں کچھ ہوجاتا تو میں خود کو کبھی معاف نہ کرپاتا۔۔آئیندہ کے بعد زیادہ ہیرو بننے کی کوشش مت کرنا۔۔ میری جان نکل گئی تھی۔تم سے دوری اب سوہانِ روح ہے افرحہ شاہزیب شاہ۔۔”

اس نے افرحہ کے چہرے پر جھکتے محبت سے اس کی ناک چومی تھی جس پر وہ مسکرا اٹھی تھی۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

“زیادہ پین تو نہیں ہورہی بریرہ۔۔”

عادل نے بریرہ کا ہاتھ تھامتے پوچھا تھا۔دو ہفتے گزر چکے تھے۔اس کا چہرہ بھی اب ٹھیک ہونے لگا تھا۔عادل نے بریرہ کا بےحد خیال رکھا تھا اپنے پیرنٹس کے بارے میں جان کروہ کافی دن روتی رہی تھی۔اس عرصے میں عادل نے اسے سنبھالا تھا۔

وہ لوگ ڈینیل کے وئیر ہاوس جارہے تھے۔جہاں مسز شہروز کو بیسمنٹ میں بند کیا گیا تھا۔ڈینیل نے باذاتِ خود مسز شہروزکی خاصی چمڑی ادھیڑی تھی۔عادل چاہتا تو وہ خود اس عورت کا حشر بگاڑ دیتا مگر وہ عورت پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہتا تھا۔تبھی یہ ذمہ داری اس نے ڈینیل اور روحان کو دےدی تھی۔

مسز شہروز کا چہرہ بالکل بریرہ کی طرح تھپڑوں اور مار سے سوجا ہوا تھا۔جبکہ اس کے ہاتھ پاوں اور منہ سے خون رستا خشک ہوچکا تھا۔

اس کو اس حالت میں دیکھتے بریرہ کے سینے میں ٹھنڈک پڑگئی تھی۔

“اسے ہوش میں لاو۔۔”

عادل نے روحان سے کہا تھا جس نے ٹھنڈا پانی مسز شہروزپر پھینکا تھا۔وہ فورا ہوش میں آگئی تھی۔ان کی آنکھیں بےجان اوروحشت زدہ لگ رہی تھیں۔

بریرہ نے اس کے منہ پر تھوکا تھا۔ آگے بڑھتے ایک کے بعدکئی تھپڑ اس نے مسز شہروز کے مارے تھے مسز شہروز کی چیخیں ہر جگہ گونجنے لگی تھیں۔

“یہ میرے ماں باپ کو قتل کرنے اور مجھ پر ظلم کرنے کی سزا۔۔”

اس نے مزید تھپڑ مارتے مسز شہروز کے بالوں کو زورسے دبوچ کر کھینچا تھا جس سے وہ تکلیف کی شدت سے بلبلا اٹھی تھیں۔

“خون کا بدلہ خون۔۔۔”

بریرہ دھیمی آواز میں بولی تھی۔کانپتے ہاتھوں سے عادل سے گن پکڑتے اس نے مسز شہروز کے سرہر تانی تھی جو اس سے زندگی کی بھیک مانگ رہی تھیں۔

“مجھے معاف کردو بریرہ۔۔”

مسز شہروز کو اگنور کرتے عادل نے بریرہ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ٹریگر دبا دیا تھا۔گولی سیدھا اس کے سر سے نکلتی اسے خاموش کرگئی تھی۔

بریرہ نے نڈھال ہوتے عادل کے سینے میں منہ چھپا لیا تھا۔عادل اس کی کیفیت سمجھتا اسے وہاں سے لے گیا تھا۔

“بریرہ۔۔”

روحان کی آواز نے ان کو روکا تھا۔

“آئی ایم سوری میں تمھاری حفاظت نہیں کرپایا تھا۔۔”

وہ تیزی سے بول گیا تھا۔بریرہ کی حالت کا ذمہ دار خود کو ٹھہراتا وہ کافی پریشان تھے۔

“اٹس اوکے اس میں تمھارا کوئی قصور نہیں ہے۔۔وقت نکال کر آنا کسی دن ہمارے ساتھ ڈنر کرنے”

بریرہ ہلکی مسکان کے ساتھ بولی تھی۔عادل نے اسےفورا کھینچ کر اپنے قریب کیا تھا۔روحان نے اسکی حرکت پر آنکھیں گھمائی تھیں جبکہ بریرہ کے جواب نے اسے پرسکون کردیا تھا۔

“تم روحان سے زیادہ بات مت کیا کرو مجھے پسند نہیں ہے۔۔”

عادل نے گاڑی اپنے گھر میں روکتے کہا تھا۔بریرہ کا رخ اپنی طرف موڑتا وہ اسکا چہرہ نرمی سے تھام گیا تھا۔

“اوہ تم جیلس ہو رہے ہو۔۔”

وہ خوشگوار لہجے میں بولتی ہنس پڑی تھی۔اس کی ہنسی نے عادل کےچہرے پر بھی مسکراہٹ بکھیر دی تھی۔

“ہمم۔۔بہت زیادہ۔۔”

اس نے بولتے ہی بریرہ کو اپنی جانب کھینچتے اسکے ہونٹوں کو اپنی قید میں لے لیا تھا۔بریرہ نے نرمی سے اس کی گردن میں باہیں ڈال لی تھیں۔۔

“آئی لو یو سو مچ۔۔”

وہ جذبات سے بوجھل لہجے میں بولا تھا۔بریرہ جی جان سے مسکرا اٹھی تھی۔جبکہ گالوں پر لالی چھا گئ تھی۔

“آئی لو یو ٹو۔۔مائی لو۔۔۔”

اس نے عادل کے گال کو چومتے اس کے کندھے پر سرشاری سے سررکھ دیا تھا۔چاہے جانے کا احساس اور ایک نئی زندگی کی شروعات نے اسے خوش کردیا تھا۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

شاہزیب کی سچائی کے سارے ثبوت میر شاہ اور فاطمہ بیگم سمیت افرحہ کے پیرنٹس کو بھی پہنچ گئے تھے۔فاطمہ بیگم اپنی بہن کی وجہ سے شدیدہ پشیمان تھی۔میر شاہ بھی شاہزیب کی سچائی جان کر خود سے ہی آنکھیں چراتےپھر رہے تھے۔

افرحہ کے پیرنٹس ساری سچائی جان کر بےحد خوش تھے۔زید تو ویسے ہی اپنے ماں باپ کے کہنے پر افرحہ کو کھونے کے غم میں آسڑلیا شفٹ ہوگیا تھا اس لیے اس کی جانب سے بھی اب کوئی مسئلہ نہیں رہا تھا۔

میر شاہ شرمندہ سے شاہزیب سے بات کرنا چاہتے تھے۔وہ ان کے ساتھ ہی آفس سنبھال رہا تھا آج کل۔۔افرحہ کے ہوسپٹل سے شفٹ ہونے کے بعد وہ اس کی اپنی جان سے بڑھ کر کئیر کررہا تھا۔

زباریہ چند دن ہی جیل میں گزار کر اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی تھی۔اسے شاہزیب کے یوں ریجیکٹ کرنے کا غم اوراپنی ہار اس کے غرور کو توڑ گئی تھی۔وہ پاگل ہوتی بس چیخیں مارتی رہتی تھی۔۔کورٹ کی جانب سے حکم پر اسے مینٹل ہوسپٹل شفٹ کردیا گیا تھا۔

ارشد نے اسے طلاق دے دی تھی جبکہ فاطمہ نے بھی اس سے قطعہ تعلقی کرلی تھی۔اپنی ذہنی مریضہ پاگل بہن کا سوچ کر ہی فاطمہ کو شرمندگی ہوتی تھی۔وہ اسے ایک دن ملنے چلی گئی تھی۔لیکن اس کا پاگل پن دیکھ کر وہ بھاگ آئی تھی وہ بس پاگلوں کی طرح شاہزیب کو ہی پکارتی رہتی تھی۔

شاہزیب سچائی سب کے سامنے لانے کے بعد سکون میں آگیا تھا۔اس کی سلگتی روح پر ٹھنڈی پھوار برس گئی تھی اور یہ سب افرحہ کی وجہ سے ہوا تھا جس کے بعد افرحہ کے لیے اس کی دیوانگی میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔

“شاہزیب مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔”

میر شاہ ناک کرتے شاہزیب کے آفس میں داخل ہوئے تھے۔شاہزیب نے سر ہلاتے اپنے سامنے موجود فائل بند کردی تھی۔

“میں بہت شرمندہ ہوں مجھے تم پر اعتبار کرنا چاہیے تھا۔مجھے معاف کردو شاہزیب۔۔”

وہ بڑی ہمت کرتے بولے تھے۔شاہزیب نے زور سے اپنے لب بھینچ لیے تھے۔

“مجھ سے معافی کی امید نہ رکھیں۔۔آپ کے دیے گئے بےاعتباری کے زخم اب ناسور بن چکے ہیں۔۔میں جھوٹے دلاسے نہیں دوں گا ابھی میں آپ کو معاف نہیں کرسکتا۔۔۔”

شاہزیب نے صاف الفاظ میں جواب دیا تھا ان کی بےاعتباری نے اسے زندہ مار دیا تھا۔

“مجھے یقین ہے تم ایک دن مجھے معاف کردو گے۔۔”

میر شاہ بولے تھے۔

“تب تک اس دن کا انتظار کریں۔۔”

شاہزیب نے جواب دیتے فائل اوپن کرلی تھی۔میر شاہ اداس سے اٹھ نر چلے گئے تھے۔لیکن دل میں ایک رمق سی تھی وہ انھیں معاف کردے گا۔۔بس وقت لگے گا۔۔

فاطمہ بیگم تو شرمندگی سے شاہزیب سے بات بھی نہ کرپاتی تھی۔اور نہ ہی اسے اب کچھ بولتی تھیں۔بلکہ افرحہ سے بھی انھوں نے اپنا رویہ اچھا کر لیا تھا۔اس عرصے میں صرف نورے تھے جسے کوئی فرق نہیں پڑا تھا اور نہ ہی اس نے شاہزیب سے بات کرنے کی کوشش کی تھی۔بہن کے ایسے رویہ سے شاہزیب بھی اداس ہوجاتا تھا۔اگر اس کے لیے ممکن ہوتا تو وہ اپنی بہن کو کبھی نہ اکیلا چھوڑتا مگر وقت کے کھیل نے اسے مجبورکردیا تھا جسے نورے سمجھنے سے قاصر تھی۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

“اوکے سر ٹھیک ہے میں ایک ویک تک یہ سبمٹ کروا دوں گی۔”

افرحہ نے اپنےسر رحمان کی بات سنتے سرہلایا تھا۔شاہزیب اس ک ایڈمیشن کروا چکا تھا اور وہ آج کل پڑھ رہی تھی جبکہ شاہزیب نے سارا بزنس سنبھال لیا تھا۔

“آپ بھی پارکنگ لاٹ کی طرف جارہی ہیں ؟ “

افرحہ سر رحمان کی بات پر سر ہلا گئی تھی وہ نئے سر تھے جنھوں نے کچھ دنوں پہلے ہی جوائن کیا تھا۔

“اگر آپ کوکسی بھی ہیلپ کہ ضرورت ہو تو مجھ سے کنٹکٹ کر لیجیے گا۔۔”

وہ افرحہ کے ساتھ چلتے بولے تھے۔افرحہ دوبارہ سر ہلا گئی تھی۔

“کل ملاقات ہوگی سر مجھے لینے آگئے ہیں۔”

شاہزیب کو دیکھتے ہی وہ دمک اٹھی تھی۔

“اوہ یہ آپ کے بھائی ہیں ؟”

رحمان نے مسکرا کر پوچھا تھا۔

شاہزیب نے مٹھیاں بھینچتے آنکھیں چھوٹی کرکے اسے گھورا تھا جبکہ افرحہ مسکراہٹ دبا گئی تھی۔

“نو سر ہی از مائی ہسبینڈ۔۔”

وہ مسکرا کر بولی تھی۔سر رحمان اسکی بات پر اداس ہوگئے تھے۔

“اوہ سوری مجھے پتا نہیں تھا تم میرڈ ہو۔۔ اب میں چلتا ہوں۔۔”

وہ شاہزیب کی کھا جانے والی نظروں کودیکھتا بھاگنے کو پرتول رہا تھا۔

“شاہزیب۔۔۔ مت گھورو۔۔ جانے دو انھیں۔۔”

وہ مسکرا کر اسے گاڑی کی طرف لے جاتی بولی تھی۔

“یہ آدمی مجھے ٹھیک نہیں لگتا۔۔اس سے دور رہا کرو۔۔”

شاہزیب کی بات پر وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی تھی۔

“اوکے۔۔کالم ڈاون۔۔”

اس نے مسکراتے ہوئے شاہزیب کے بازو پر ہاتھ رکھا تھا۔ شاہزیب نے ادھر ادھر نظر ڈالتے جھک کر تیزی سے افرحہ کے ہونٹوں کو چوم لیا تھا۔

افرحہ ششد سی رہ گئی تھی۔

“شرم کریں شاہزیب پارکنگ لاٹ میں ہیں۔۔آپ گھر چلیں۔۔”

وہ اپنے تپے ہوئے رخساروں پر ہاتھ رکھتی بولی تھی۔شاہزیب نے ہنستے ہوئے اس کے سر پر لب رکھتے گاڑی کا دروازہ کھول دیا تھا۔

افرحہ کے بیٹھتے ہی اس نے ڈرائیوینگ سیٹ سنبھال لی تھی۔افرحہ کا ہاتھ وہ اپنی گرفت میں لے چکا تھا۔افرحہ اسے اپنے سارے دن کی روداد سنانے لگی تھی۔جسے شاہزیب بغور سن رہا تھا۔

بریرہ کی کال آتے دیکھ کر افرحہ نے جھٹ سے کال اٹھائی تھی۔

“برڈی کیسی ہو؟؟ کیا کیا سارا دن ؟؟ مجھے مس کیا ؟؟”

افرحہ نے ویڈیو کال میں اسے دیکھتے ہی پوچھنا شروع کر دیا تھا۔

شاہزیب نے اسے مسکراتے دیکھ اس کے ہاتھ کو چوم لیا تھا۔یہ تو افرحہ کا معمول تھا بریرہ سے باتیں کرنا اوراسے سب کچھ بتانا۔۔وہ کینیڈا میں ہی سیٹل تھی اور عادل کے ساتھ حسین زندگی گزار رہی تھی۔

شاہزیب بھی افرحہ کے ساتھ ایک پرسکون زندگی جی رہا تھا۔اب ان کے لیے ہر نیا دن روشن اور خوشگوار ہوتا تھا۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

“پانچ منٹ ہیں آپ کے پاس شازل خان۔۔یہاں پہنچ جائیں۔۔۔ورنہ انجام کے ذمہدار آپ خود ہوں گے۔۔”

جنونی انداز، بکھرا حلیہ ، سرخ آنکھیں وہ ہوش و حواس میں نہیں لگ رہی تھی۔

“یہ کیا پاگل پن ہے نورے۔۔۔ڈونٹ کال می اگین آئی ایم ورکنگ۔۔”

شازل نے جھنجھلا کر کہا تھا۔

“چار منٹ۔۔”

وہ دھیرے سے سائیڈ ٹیبل کا دراز کھولتی اس میں سے ایک فولڈ کاغذ نکال چکی تھی۔

“میں نہیں آرہا نورے۔۔۔”

اس نے اس بار خاصہ زور دے کر کہا۔۔

“تین منٹ۔۔”

وہ کاغذ کو کھولتی بولی تھی۔نظریں سامنے لگے کلاک پر ہی تھیں۔۔

“سٹاپ اٹ نورے۔۔”

شازل غصے سے بولا تھا۔

“دو منٹ۔۔”

اس نے کاغذ سے بلیڈ نکالتے کہا تھا۔

“میں کال بند کر رہا ہوں میرے پاس تمھاری ان فضول باتوں کے لیے وقت نہیں ہے۔۔”

شازل نے سرد لہجے میں بولتے ہی کال کاٹ دی تھی۔جب ساتھ ہی نورے نے اسے ویڈیو کال کی تھی۔

اپنا غصہ ضبط کرتے اس نے کال پک کی تھی۔۔

“کیا چاہتی ہو نورے تم ؟ ڈیم اٹ ایک کام بھی سکون سے نہیں کرنے دے رہی۔۔”

وہ اکھڑے لہجے میں بولا تھا۔

نورے کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری تھی۔اس نے موبائل کو تکیے کے سہارے رکھ کر ویڈیو کیمرے کا رخ اپنی طرف کر لیا تھا۔

“تیس سیکنڈ ہیں آپ کے پاس۔۔ ورنہ میں خود کو ختم کرلوں گی۔۔”

اس نے بلیڈ اپنی کلائی پر رکھا تھا۔شازل جو اسے کھڑی کھڑی سنانے لگا تھا۔وہ ساکت رہ گیا تھا۔

“تمھاری جان میں خود اپنے ہاتھوں سے لوں گا۔۔خبردار جو تم نے خود کو نقصان پہنچایا نورے۔۔”

وہ اس کے پاگل پن کو دیکھتا تیزی سے اپنی کار کہ طرف بھاگا تھا۔۔

“آپ کچھ نہیں کر پائیں گے۔۔”

اس نے اذیت سے ہنستے بلیڈ کو ہلکے سے اپنے بازو پر رکھا تھا جس سے بازو پر دباو پڑنے سے تیز بلیڈ اس کی جلد کو چیر گیا تھا۔ہلکی خون کی لکیر نکلتی اس کے بازو پر بہہ گئی تھی۔

“نورے آئی سوئیر میں تمھاری جان اپنے ہاتھوں سے نکالوں گا۔۔”

وہ گاڑی فل سپیڈ سے ڈرائیو کرتا دھاڑا تھا۔ غصے سے اس کی رگیں پھول گئی تھیں۔

دل تو کر رہا تھا اس پاگل دیوانی کا گلا خود اپنے ہاتھوں سے دبا دے۔۔اور جتنا وہ غصے میں تھا ناجانے کر بھی ڈالتا۔۔

“آپ کی کھوکھلی دھمکیوں سے مجھے فرق نہیں پڑتا۔۔”

وہ فون میں چیخی تھی۔شازل نے غصے سے مٹھیاں زور سے بھینچ لی تھیں.۔

“آج تمھیں ان سب دھمکیوں کو سچ کرکے دکھاوں گا نورے شازل خان۔۔جسٹ ویٹ اینڈ واچ۔۔”

وہ سرد سپاٹ لہجے میں بولتا نورے کو ڈرا گیا تھا۔نورے کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوتی محسوس ہوئی تھی۔

پروفیسر خان۔۔۔سٹوری آف نورے اینڈ شازل خان۔۔

اس کی پہلی قسط میرے پیج پر کل پوسٹ ہوجائے گی۔اس کے علاوہ یہ کہیں پوسٹ نہیں ہوگا۔اس میں شاہزیب اور افرحہ کی شادی سے بعد کی زندگی یوگی ساتھ ہی عادل اور بریرہ کے کچھ مزے دار سین اور نورے کی جنون اور محبت کی داستان۔۔شازل خان کی دیوانگی اور کچھ نئے کردار۔۔

ختم شد۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *