Professor Shah by Zanoor Writes NovelR50559 Professor Shah (Episode 31)
Rate this Novel
Professor Shah (Episode 31)
Professor Shah by Zanoor Writes
“میری قسم کھائیں آئیندہ کے بعد کبھی بھی شراب کو ہاتھ بھی نہیں لگائیں گے۔۔”
شاہزیب ڈسچارج ہوکر واپس گھر آگیا تھا۔افرحہ اس کا خاص خیال رکھ رہی تھی۔وہ یونی سے بھی کچھ دنوں کا آف لے چکا تھا۔
افرحہ کی توجہ پاکر وہ مسرور ہوگیا تھا۔افرحہ کی بات سنتے اس نے بھنویں اچکا کر اسے دیکھا تھا۔
“اگر میں نے ایسا نہ کیا تو پھر کیا ہوگا؟”
شاہزیب نے اپنے سر کے پیچھے بازو ٹکاتے پوچھا۔
“آپ میرا مرا ہوا منہ دیکھیں گے۔۔”
وہ سنجیدگی سے بولتی شاہزیب کی روح کو زخمی کرگئی تھی۔
شاہزیب کا پارہ ایک دم ہائی ہوا تھا۔جھٹکے سے افرحہ کو اپنی جانب کھینچتا وہ اس کے منہ کو مضبوطی سے جکڑ چکا تھا۔
“دل تو کر رہا ہے تمھاری زبان کاٹ دو۔۔جس سے تم نے یہ بکواس کی ہے۔”
اس کی بات سے افرحہ کی آنکھیں پھیل گئی تھیں۔
“بالکل اسی طرح مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے جب آپ یہ حرام چیزوں کو منہ لگاتے ہیں۔۔”
وہ شاہزیب کی آنکھوں میں دیکھتی نم لہجے میں بولی تھی۔
“میں چاہتی ہوں جب بھی آپ اس حرام چیز کو منہ سے لگانے کا سوچیں تو آپ کے ذہن میں یہ خیال ضرور ہونا چاہیے کہ پھر آپ دوبارہ میرے لمس سے تو کیا میری شکل دیکھنے کے لیے ترس جائیں گے۔”
وہ بےرحم انداز میں دوٹوک بات کر رہی تھی۔شاہزیب کو معاملے کی گہرائی کا اندازہ ہورہا تھا۔
“ٹھیک ہے پھر تم بھی وعدہ کرو دوبارہ مجھے اگنور نہیں کرو گی اور مجھے چھوڑ کر جانے کا تو سوچنا بھی مت۔۔”
افرحہ کے گال کو پیار سے سہلاتے شاہزیب سنجیدگی سے بولا تھا۔
“تھینک یو سو مچ شاہزیب۔۔”
افرحہ اس کے جواب پر شاہزیب کے سینے پر اپنے ہونٹ رکھتی بولی تھی۔شاہزیب اس کے لمس محسوس کرکے مسکرا اٹھا تھا۔
“میں نے ہمارے ہنی مون کے لیے پروگرام بنایا ہے جو کافی عرصے سے پینڈنگ تھا۔تم پیکنگ کرلو ہم کل صبح نکلیں گے۔”
شاہزیب افرحہ کے کان کی لو کو چومتا سرگوشی میں بولا تھا۔افرحہ گھبراہٹ سے سرخ پڑ گئی تھی۔شاہزیب سے خود کو چھڑواتی وہ کمرے سے نکل گئی تھی۔
افرحہ کے جاتے ہی شاہزیب نے عادل کو کال ملائی تھی۔
“اب کیسے ہو شاہزیب؟”
عادل کو اس کے ایکسڈینٹ کا پتا چلا تھا وہ اسی کی آج کل انویسٹیگیشن کر رہا تھا۔
“میں ٹھیک ہوں تم بتاو کچھ پتا چلا ہے؟”
شاہزیب نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے پوچھا۔
“ہاں ایک انٹرسٹنگ خبر ملی ہے۔۔جس کار نے تمھارا ایکسڈینٹ کیا تھا اس کا مسز شہروز سے کنیکشن ملا ہے۔۔”
عادل نے بتایا۔
“ایک تو اس آرٹیفیشل بوڑھیا کو بھی سکون نہیں۔۔تم اپنی بیوی کی سکیورٹ سٹرونگ کرلو اور اس مسز شہروز کا روحان کے ساتھ مل کر سارا کالا چٹھا اکٹھا کرکے رکھنا۔۔میں کچھ دن کے لیے یہاں نہیں ہوں گا تو ٹینشن مت لینا۔”
شاہزیب نے عادل سے کہا تھا۔
“اوکے ٹیک کئیر۔۔”
عادل نے جوابا کہا تھا۔
“ویٹ عادل لاسٹ ٹائم جو ہوٹل میں ہوا میں ایسا نہیں کہنا چاہتا تھا تم میرے اچھے دوست میں ہو جو ہمیشہ میرے ساتھ رہا سو تھینک یو یار۔۔”
شاہزیب نے ہچکچاتے ہوئے کہا تھا۔اس نے محسوس کیا تھا سہ واقعی عادل سے اس دن بہت برا پیش آیا تھا جو کہ بالکل اچھا نہیں تھا۔
“اٹس اوکے میں سمجھ سکتا ہوں انجوائے کرنا میں یہاں سب سنبھال لوں گا۔۔”
عادل نے مسکرا کر جواب دیا تھا۔جس پر شاہزیب نے سکون کا سانس لیا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
“اچھا اتنا تو بتائیں ہم جا کہاں رہے ہیں ؟”
افرحہ نے جھنجھلا کر پوچھا تھا شاہزیب نے اپنی مسکراہٹ دباتے اسے زور سےخود میں بھینچ لیا تھا
” ہم فوگو آئی لینڈ پر جارہے ہیں۔۔”
وہ افرحہ کے گال چومتا بولا تھا۔
“شرم کرلیں ہم باہر ہیں۔۔”
افرحہ نے اسے آنکھیں نکالی تھیں۔
“میں ڈرتا ہوں کسی سے ؟ “
وہ افرحہ کا چہرہ تھامتا جابجا اپنا لمس چھوڑتا بولا تھا افرحہ رینٹڈ کار کے ڈریوار پر بنا نظر ڈالے شاہزیب کے سینے میں منہ چھپا گئی تھی۔
“لگتا ہے تم ڈر گئی ہو؟”
شاہزیب نے مسکراہٹ دباتے کہا تھا افرحہ نے ایک زوردار چٹکی شاہزیب کی ٹانگ پر کاٹی تھی جس پر وہ بلبلا اٹھا تھا۔
“اس کا بدلہ میں تم سے رات کو لوں گا۔۔”
اس کی بات پر افرحہ گھبرا گئی تھی۔جبکہ چہرے پر حیا کی لالی بکھر گئی تھی۔
فوگو جزیرہ پر شاہزیب پہلے ہی اپنا کیبن بک کروا چکا تھا وہ ایک نہایت خوبصورت جزیرہ تھا جس کے ارد گرد پتھر اور ندی بھی بہتی تھی۔
“افرحہ گاڑی سے نکلتی سامنے موجود مناظر کو دیکھتی مسمرائز ہوگئی تھی۔کھلی ترو تازہ ہوا اور ٹھنڈک کے احساس نے اسے فریش کردیا تھا۔شاہزیب رینٹ پے کرتا سامان لیتا افرحہ کا ہاتھ تھام چکا تھا۔
“ہ۔۔ہم یہاں رہیں گے؟”
افرحہ کیبن کو دیکھتی بولی تھی جس کی ایک سائیڈ گلاس سے بنی ہوئی تھی جس سے سارے اندر اور باہر کے مناظر دکھائی دے رہے تھے۔
” ہاں ہم کچھ دن اب یہاں ہی رہیں گے۔۔”
شاہزیب اس کا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگاتا بولا تھا۔افرحہ کے اس کے لمس پر کھل کر گلاب ہوگئی تھی۔
“واو شاہزیب۔۔۔یہ بہت پیارا ہے۔۔”
وہ شاہزیب کے گلے میں باہوں کا ہار ڈال کر جھومتی ہوئی خوشی سے پرجوش انداز میں بولی تھی۔شاہزیب نے ہنس کر اس کے بال سہلائے تھے۔
“یہاں سے پانچ منٹ دور ایک ریسٹورنٹ ہے اس کا ویو بہت پیارا ہے ہم وہاں چلیں گے ڈنر پر۔۔”
شاہزیب نے افرحہ کا گال کھینچتے پیار سے کہا تھا۔
“اب جاو اور جاکر کچھ دیر ریسٹ کرلو۔۔میں بھی کچھ دیر تک آیا۔۔”
شاہزیب افرحہ کو بیڈ روم میں چھوڑتا گلاس ویو کے سامنے کرٹن کر چکا تھا جس سے کمرے میں اندھیرا چھا گیا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
ریڈ شرٹ بلیک جینز اور بلیک ہی لونگ کوٹ میں تیار افرحہ شاہزیب کے ساتھ اس وقت ڈنر کر رہی تھی وہ لوگ جس ریسٹورنٹ میں آیا تھا وہ گلاس کا تھا اس سے باہر سارا ویو دکھائی دے رہا تھا۔اندھیرے کی وجہ سے کافی کچھ چھپ گیا تھا لیکن پھر بھی ایک خوبصورت منظر ان کی آنکھوں کو رات بخش رہا تھا۔
“تم خوش ہو؟”
شاہزیب نے افرحہ کا ٹیبل پر دھڑا ہاتھ سہلاتے ہوئے پوچھا۔
“بہت زیادہ۔۔تھینک یو سو مچ۔۔”
افرحہ نے شاہزیب کا ہاتھ تھامتے اپنے ہونٹوں سے لگایا تھا۔شاہزیب مسرور سا مسکرایا تھا۔وہ لوگ ڈنر کرچکے تھے اب ڈیزرٹ سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔
“مجھے کبھی کبھی یقین نہیں آتا کہ میں اپنے ہسبینڈ سے ایسے ملوں گی۔۔”
وہ ہنس کر بولی تھی۔
“مجھے لگا تھا بابا جانی جو لڑکا پسند کریں گے میں شادی کرلوں گی لیکن یہاں تو قسمت نے الگ ہی کھیل کھلا ہے۔۔مجھے پتا بھی نہ چلا اور آپ طوفان کی طرح میری زندگی میں داخل ہوتے میرے دل کی دہلیز پر قدم رکھ چکے تھے۔۔”
وہ شاہزیب کی انگلیوں پر نظریں ٹکائے دھیمی آواز میں بول رہی تھی۔شاہزیب اس کے اظہار پر جتنی خوشی محسوس کر رہا تھا وہ شاید ہی بتانے سے قاصر تھا۔
“ہمیں اب چلنا چاہیے ورنہ میں مزید خود پر قابو نہیں کرپاوں گا۔۔”
شاہزیب ویٹر کو بولاتا بل کرتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔افرحہ اس کی آنکھوں کے پیچھے چھپے جذباتوں کے ٹھاٹھے مارتے سمندر میں غوطہ زن ہونے لگی تھی۔
افرحہ کا ہاتھ تھامتا شاہزیب تیزی سے ریسٹورنٹ سے نکل آیا تھا۔۔
افرحہ کو پتا بھی نہ چلا اور وہ لوگ کیبن میں پہنچ چکے تھے۔
گھر میں داخل ہوتے ہی شاہزیب نے افرحہ کی گردن میں ہاتھ ڈالتے اس کے چہرے کو بلند کرتے اس کی سانسوں کو خود مِن قید کر لیا تھا۔۔افرحہ نے پاوں کے بل اوپر اٹھتے شاہزیب کی گردن میں باہیں ڈال لی تھیں۔
فسوں خیز لمحوں میں ان کی تیز سانسیں اور دھرکتے دل ایک عجیب ہی کیفیت پیدا کر رہے تھے۔۔
شاہزیب نے افرحہ کا کوٹ اتار کر پھینکتے اسے اپنی باہوں میں اٹھا لیا تھا وہ تیزی سے سڑھیاں پھلانگتا روم میں پہنچا تھا۔افرحہ اس کی گردن میں منہ چھپائے اپنا سانس بحال کر رہی تھی۔۔
“شاہزیب۔۔”
شاہزیب افرحہ کے چہرے پر جابجا اپنی محبت کے پھول کھلاتا اس کو اپنے لمس سے روشناس کروا رہا تھا۔جب افرحہ نے شاہزیب کو پکارا تھا۔
“میں ابھی کچھ نہیں سننا چاہتا۔۔”
اتنے مہینوں کا خود کے جذبات پر باندھا بندھ آج ٹوٹ گیا تھا۔۔
“شاہزیب۔۔”
افرحہ نے اس کا چہرہ تھامتے اوپر اٹھایا تھا۔
“آئی لو یو سو مچ۔۔۔میں نے اپنا دل آہ کے حوالے کردیا ہے اس کو سنبھال کر رکھیا گے اگر یہ ٹوٹ گیا تو میری سانسیں روک جائیں گی۔۔”
افرحہ نے بولتے ہی شاہزیب کے ماتھے پر ہونٹ ٹکائے تھے۔شاہزیب نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتے اسے بیڈ پر لٹایا تھا۔
افرحہ کی شرٹ کندھے سے کھسکاتے شاہزیب نے وہاں اپنے دہکتے لمس سے جابجا نشان چھوڑے تھے۔۔
افرحہ کے سرخ چہرے ، بند آنکھیں اور پھولے سانس کو دیکھتے شاہزیب نے ایک بار پھر اس کی سانسیں خود میں قید کر لی تھیں۔افرحہ مکمل طور پر اپنا وجود اس کے حوالے کرچکی تھی۔
چاند بھی آج ان دنوں کے ملن پر بادلوں کی اوٹ میں چھپ چکا تھا۔آج دو محبت کرنے والے مل چکے تھے۔آپ نے رشتے کو نئی اہمیت دے چکے تھے۔۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
افرحہ شاہزیب کی باہوں میں لپٹی ہوئی تھی جب اس کی آنکھ کھلی مسکرا کر شاہزیب کی طرف دیکھتی وہ آہستہ سے اس کی گرفت سے نکلتی ڈریس چینج کرتی گلاس روم کے ساتھ موجود بالکونی میں کچھ دیر ٹھنڈی ہوا کھانے کے لیے چلی گئی تھی۔
شاہزیب کے ہر عمل نے اس کی محبت کی شدت اور دیوانگی کا بتا دیا تھا۔ جس پر وہ بے حد مسرور تھی۔
شاہزیب کی جب آنکھ کھلی تو اس نے خود کو اکیلا پایا تھا وہ ایک پل کو ڈر گیا تھا اسے لگا افرحہ اسے چھوڑ کر چلی گئی ہے۔۔وہ تیزی سے بیڈ سے اٹھ کر افرحہ کو ڈھونڈنے لگا تھا جب وہ اسے بالکونی میں دکھائی دی تھی۔
“یہاں چھپ کر کیا کر رہی ہو؟ اور کب سے یہاں موجود ہو؟”
شاہزیب نے افرحہ کے گرد بازو پھیلاتے اس کی گردن میں منہ چھپاتے ہوئے پوچھا تھا۔
“ویسے ہی کچھ دیر ٹھنڈی ہوا کھانے کا دل کر رہا تھا۔۔”
وہ مسکرا کر شاہزیب کے بالوں میں انگلیاں پھیرتی ہوئی بولی تھی۔
“میں نہیں چاہتا آئیندہ تم مجھے یوں اکیلا چھوڑ کر اٹھو۔۔”
وہ افرحہ کے گرد اپنا گھیرا تنگ کرتا بولا تھا۔افرحہ کو اس کی تیز دھڑکن اپنے کانوں میں سنائی دے رہی تھی۔
“کیا ہوا آپ کہ طبیعت تو ٹھیک ہے؟”
افرحہ نے پریشانی سے پوچھا تھا۔لیکن شاہزہب خاموش ہی رہا تھا۔ وہ اسے کیا بتاتا کہ اس کی غیر موجودگی محسوس کرکے وہ ایک پل کو ڈر گیا تھا۔
“ہمم۔۔”
اس کی گردن پر ناک رگڑتے شاہزیب نے ہنکار بھرا تھا۔
“تم ٹھنڈی پڑ رہی ہو۔۔”
افرحہ کے سرد بازوں کو سہلاتے شاہزیب نے مدھم سے لہجے میں۔کہا تھا۔افرحہ اس کے بدلے تیور دیکھتی گھبرا گئی تھی۔
“ہمیں اندر چلنا چاہیے۔۔”
شاہزیب افرحہ کی سرخ ناک کو چومتا بولا تھا افرحہ اس کے لمس پر ہلکا سا مسکرائی تھی۔
“آپ نے کہا تھا آپ مجھے اپنے پاسٹ کے بارے میں بتائیں گے۔۔”
افرحہ نے روم میں داخل ہوتے شاہزیب کی طرف دیکھتے پوچھا۔
شاہزیب نے اسے بیڈ پر بیٹھایا تھا اور خود اس کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا تھا۔
“تم واقعی اس وقت یہ جاننا چاہتی ہو تم چاہو تو ہم کچھ اور بھی کرسکتے ہیں۔۔”
شاہزیب اس کی گود میں منہ چھپاتا بولا تھا۔
“شاہزیب۔۔”
افرحہ کے پکارنے پر شاہزیب نے ایک گہرا سانس خارج کیا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
ماضی :
حاتم شاہ کا ایک بیٹی اور بیٹا تھا اپنی بیٹی کی شادی وہ باہر کے ملک کرچکے تھے جبکہ میر شاہ جس کی شادی ان کی دوست کی بیٹی زینب سے ہوئی تھی شادی کے دو سال بعد ان کے گھر بیٹا پیدا ہوا تھا جن کا نام انھوں نے شاہزیب رکھا تھا۔ جو سارے گھر کی رونق تھا۔زندگی خوشحال چل رہی تھی جب نو سال بعد زینب بیگم پھرسے پریگنینٹ ہوئی تھیں ڈاکٹر نے انھیں بتایا تھا یہ ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے جس پر انھوں نے کان نہیں دھڑے تھے۔
جس بات کا ڈر تھا وہ ہی ہوا ذینب بیگم زندگی کی بازی ہار گئی تھیں۔وہ اپنے پیچھے روتے بلکتے سب لوگوں کو چھوڑ گئی تھیں۔
میر شاہ کے لیے بکھرے شاہزیب اور بلکتی نورے کو سنبھالنا نہایت مشکل ثابت ہو رہا تھا۔ شاہزیب آہستہ زندگی کی طرف لوٹ آیا تھا چھ سال گزر گئے تھے شاہزیب پندرہ سال کا ہوگیا تھا جبکہ نورے چھ سال کی۔۔ماہین اس عرصے میں کئی بار چکر لگا چکی تھی اس کے لیے بار بار پاکستان آنا آسان نہ تھا تبھی اس نے اپنے بھائی کو دوبارہ شادی کرنے کا کہا تھا۔
اسی دوران میر شاہ کو اپنی آفس ورکر فاطمہ پسند آگئی تھی جو بیوہ تھیں۔ انھوں نے اپنی پسندیدگی کا اظہار حاتم شاہ سے کیا تھا۔
“شاہزیب تمھارے بابا دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں۔۔نورے اور تمھیں ایک ماں کی ضرورت ہے میں یہ نہیں کہتا تم اسے اپنی ذینب کی جگہ دو مگر اسے کم از کم ایک موقع دو۔۔”
حاتم شاہ نے شاہزیب کو اپنے پاس بیٹھا کر محبت سے سمجھایا تھا۔
“مجھے اس بات سے کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن اگر بابا یہ بات خود مجھ سے کرتے تو مجھے زیادہ اچھا محسوس ہوتا۔۔”
وہ نظریں حاتم شاہ پر گاڑھے بولا تھا جس پر وہ اپنے پوتے کے جواب پر کھل اٹھے تھے کیونکہ ان کے گھر میں ایک عورت کے وجود کی شدید کمی تھی ان کی خود کی زوجہ بھی کئی سالہ پہلے ان کا ساتھ چھوڑ کر جاچکی تھیں اور بیٹی بھی پرائے ملک تھیں۔
“یہ شکوہ شکایت تم دونوں باپ بیٹے کے درمیان ہے میں کچھ نہیں بولو گا میرے شہزادے۔۔”
حاتم شاہ مسکرا کر بولے تھے۔
ایک چھوٹی سی تقریب میں سادگی سے فاطمہ کا نکاح میر شاہ سے کر دیا گیا تھا۔فاطمہ ایک سلجھے گھرانے سے تعلق رکھتی نرم مزاج عورت تھیں۔
“میں آپ کو اپنی ماں کی جگہ تو نہیں دے سکتا آنٹی لیکن میں آپ کی عزت اپنی ماں کی برابر کروں گا۔۔”
شاہزیب نے ان کے سامنے بیٹھتے سنجیدگی سے کہا تھا وہ اپنی جسامت اور قد کی وجہ سے اپنی عمر سے بڑا لگتا تھا۔
انھوں نے نورے کو اچھے سے سنبھال لیا تھا جبکہ شاہزیب کا بھی دل وہ آہستہ آہستہ جیتنے لگی تھیں۔
فاطمہ نے ان کا دل ایسا جیتا کہ شاہزیب بھی انھیں آہستہ آہستہ مما جان کہہ کر بلانے لگا تھا۔فاطمہ کی بہن زباریہ جو کہ اپنے سے بیس سالہ بڑے آدمی کے ساتھ شادی شدہ تھی وہ دوسرے شہر سے ان کے شہر بلکہ ان کی کالونی میں ہی شفٹ ہوگئے تھے۔
“شاہزیب یہ میری بہن ہے زباریہ۔۔”
زباریہ فاطمہ سے ملنے آئی تھی جب پہلی بار فاطمہ نے ان دونوں کا آپس میں انٹرو کروایا تھا۔وہ فاطمہ کے مقابلے میں انتہائی حسین اور پرکشش تھی۔شاہزیب نے ان کے شوہر کو تصویروں میں دیکھا تھا جو فاطمہ نے اسے دکھائی تھی۔
اسے یہ سمجھ نہ آسکا اتنی خوبصورت ہونے کے باوجود اتنے ضعیف آدمی سے کیوں شادی کی؟
“اسلام علیکم آنٹی۔۔”
شاہزیب خوشگوار لہجے میں بولا تھا۔
“آنٹی میں ابھی ینگ ہوں شاہزیب تم مجھے میرے نام سے بلا سکتے ہو۔۔”
اپنے سنہری بالوں کو پیچھے جھٹکتی وہ ایک ادا سے بولی تھی۔
“اوکے زباریہ نائس ٹو میٹ یو۔۔مما جان میں اپنے فرینڈز کے ساتھ باہر جا رہا ہوں۔”
شاہزیب فاطمہ سے بولتا چلا گیا تھا۔زباریہ کی نظروں نے دور تک اس کا پیچھا کیا تھا۔۔
“تم نے کبھی بتایا نہیں شاہزیب اتنا ہینڈسم ہے۔۔”
زباریہ ہنس کر بولی تھی۔فاطمہ اس کی بات پر بس مسکرا کر رہ گئی تھی۔
دن تیزی سے گزرنے لگے تھے زباریہ اب دن کے وقت زیادہ تر فاطمہ کے گھر ہی گزارتی تھی بلکہ جب بھی اس کا شوہر بزنس کے سلسلے میں باہر جاتا تھا وہ یوں ہی ان کے گھر رہنے آجاتی تھی۔اس دوران اس کی آہستہ آہستہ شاہزیب سے بہت گہری دوستی ہوگئی تھی۔ان کی یہ دوستی حاتم شاہ کو کچھ خاص پسند نہ آئی تھی لیکن وہ کچھ بول بھی نہ پائے تھے۔
“زباریہ یار میں ٹرپ پر جا رہا ہوں میری مدد کردیں پیکنگ میں۔۔”
شاہزیب بےتکلفی سے اس کے ساتھ بیٹھتا ہوا بولا تھا وہ سترہ سال کا ہوگیا تھا۔لیکن دیکھنے میں ایک حسین گھبرو جوان لگتا تھا کچھ اس کے جم جانے سے بھی اس کی اچھی خاصی بوڈی بن چکی تھی۔
“ہاں چلو میں تمھاری مدد کرتی ہوں۔۔”
اس کے بازو پر ہاتھ پھیرتی زباریہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔زباریہ کی اس حرکت پر شاہزیب نے گور نہ کیا تھا مگر زباریہ کو اس سے شہ مل گئی تھی وہ کسی نہ کسی بہانے اسے چھوتی رہتی تھی۔
فاطمہ بیگم اپنی بہن اور شاہزیب کے درمیان اتنی گہری دوست کر خوش تھیں اس بات سے بے خبر کہ یہ دوستی ایک معصوم کی زندگی تباہ کرنے والی تھی۔
