Professor Shah by Zanoor Writes NovelR50559 Professor Shah (Episode 34)
Rate this Novel
Professor Shah (Episode 34)
Professor Shah by Zanoor Writes
افرحہ اور شاہزیب اپنے ہنی مون سے دو دن بعد ہی واپس آگئے تھے۔شاہزیب کی چھٹیاں ختم ہوچکی تھیں اور افرحہ کا بھی سمسٹر سٹارٹ ہوچکا تھا۔
افرحہ کو شاہزیب نے کچھ دن پہلے ہی بریرہ کا نمبر دے کر اسے ساری بات بتا دی تھی۔کہ کیسے اسکے پیرنٹس اسے شادی کرنے کے لیے فورس کررہے ہیں۔۔
عادل ضروری کام کے سلسلے میں شاہزیب سے ملنے یونیورسٹی آیا تھا اس کے ہاتھ کچھ ثبوت لگے تھے۔
“یہ دیکھو فوٹیج اور اس شخص کی ریکورڈنگ۔۔مسز شہروز نے تمھیں مارنے کے لیے اسے پیسے دیے تھے۔۔”
عادل نے اسے بتایا تھا۔
“میں چاہتا ہوں تم اس کے خلاف کیس کرو۔۔اس عورت کی وجہ سے میری بیوی ناجانے کتنے دن مجھ سے ناراض رہی۔۔اور جو خناس اس نے افرحہ کے دماغ میں بھرا تھا اس کا حساب کتاب بھی کرنا ہے ابھی۔۔”
شاہزیب نے کرسی سے ٹیک لگاتے کہا تھا۔
“میرا بھی کچھ حساب نکلتا ہے مسٹراور مسز شہروز سے۔۔”
عادل اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا بولا تھا۔
“پھر دیرکس بات کی ہے ؟ کام شروع کیا جائے۔۔”
شاہزیب ہنس کر بولا تھا۔
“تمھاری بیوی کسی ہے ؟ “
شاہزیب نے سگریٹ سلگاتے اس سے پوچھا تھا۔
“ہاں وہ ٹھیک ہے۔۔”
بریرہ کے بارے میں سوچتے وہ مسکرا اٹھا تھا۔جوابا شاہزیب نے سرہلا دیا تھا۔
“خیال رکھا کرو اپنی بیوی کا۔۔وقت اور حالات کی ماری ہے بالکل میری طرح۔۔”
شاہزیب نے گہرا کش لیتے کہا تھا۔
“مجھے سب پتا چل گیا ہے۔۔”
وہ لب بھینچ کر بولا تھا۔
“ہمم۔۔میں برداشت نہیں کروں گا اگر تم نے اسے کوئی بھی نقصان پہنچایا۔۔وہ افرحہ کی دوست ہے اور اگر افرحہ بریرہ کی وجہ سے پریشان ہوئی اور اس کی وجہ تم بنے تو اپنی خیریت منانا۔۔”
شاہزیب نے اسے پرسکون انداز میں دھمکایا تھا۔۔
عادل نے اس کی بات سن کر مسکرا کر اپنا سر جھٹکا تھا۔۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
افرحہ شاہزیب سے پرمیشن لیتی آج بریرہ سے ملنے آئی تھی۔بریرہ کی ضد پروہ لوگ باہر لنچ کرنے کے لیے گئے تھے جبکہ عادل نے فلحال بریرہ کو گھر سے نکلنے سے بھی سخت انداز میں منع کیا تھا چونکہ وہ مسٹر اور مسز شہروزکے خلاف کیس سٹارٹ کرچکا تھا۔
بریرہ افرحہ سے بات کر رہی تھی جب اس کی نظر کیفے کے شیشے سے باہر اوپن کیفے میں پڑی تھی۔
وہ سرسری نظر ڈالتی اپنا رخ افرحہ کی جانب موڑنے لگی تھی۔جب عادل کو عام کپڑوں میں ایک لڑکی کے ساتھ بیٹھے دیکھ کر اس کی آنکھیں ایک دم پھیل گئی تھی۔
جلن کے احساس سے اس کی آنکھوں میں مرچیں سی چھبنے لگی تھیں۔اسے کہاں منظور تھا وہ اسے اپنا دیوانہ بنا کر دوسری لڑکیوں کے ساتھ لنچ کرتا پھرے۔
“آر یو اوکے ؟”
افرحہ نے اسے ایک دم خاموش ہوتے دیکھ کر پوچھا تھا۔
آنسوں کا پھندا اس کے گلے میں پھنس گیا تھا۔ افرحہ پر ایک نظر ڈالتے اس کی نگاہیں دوبارہ باہر کی طرف گئی تھیں۔ افرحہ کی نظریں اس کی پیروی کرتیں عادل پر پڑی تھیں۔
“تم جیسا سوچ رہی ہو ویسا کچھ نہیں ہوگا بریرہ۔۔”
افرحہ اس کا سپاٹ چہرہ دیکھتی بولی تھی۔
“میں اس کمینے انسان کو چھوڑوں گی نہیں۔۔اور اس عورت کے بال نہ جڑ سے اکھیڑ دیا تو میرا نام بھی بریرہ نہیں۔۔”
وہ اندھی طوفان بن کر اٹھی تھی اور باہر کی جانب بھاگی تھی۔
“بریرہ رکو یار۔۔شاید وہ بھائی کی دوست ہوں۔۔”
افرحہ نے اس کو روکنا چاہا تھا مگر تب تک دیر ہوچکی تھی۔وہ روڈ کراس کرتی پھرتی سے عادل کے پاس پہنچ گئی تھی۔
“اس کی ساری دوستیاں آج میں اپنے ہاتھوں سے ختم کروں گی۔۔”
وہ غصے سے بڑبڑائی تھی۔
عادل جو اس کی اچانک یوں پہنچ جانے پر حیران ہوا ہی تھا کہ بریرہ کی حرکت سے اس کی آنکھیں ابل پڑی تھیں۔۔
“اس چڑیل کو میں چھوڑوں گی نہیں۔۔”
بریرہ نے اس گوری سی لڑکی کے بال دبوچ لیے تھے۔
“بریرہ پاگل ہوگئی ہو چھوڑو اسے۔۔”
عادل ہڑبڑا کر سیٹ سے اٹھتا اسے دور کرنے کی کوشش کرنے لگا تھا۔مگر بریرہ نے مضبوطی سے اس لڑکی کے بال پکڑ رکھے تھے جس سے عادل اسے چھڑوا بھی نہیں پارہا تھا۔
“تم سے میں بعد میں نمبٹتی ہوں۔۔یہ جو تمھاری آنکھیں ہیں ان کا بھی انتظام کرتی ہوں۔۔دوبارہ یہ کسی لڑکی کو دیکھنے کے قابل نہیں رہیں گی۔۔”
“ہٹو پیچھے۔۔یہ ساری میری ڈھیل کا نتیجہ ہے تمھیں تو میں اچھے سے سیدھا کروں گی۔”
بریرہ نے عادل کو گھور کر دیکھا تھا۔عادل اس کے بھپری ہوئی شیرنی کا روپ دیکھتا گھبرا گیا تھا۔
“عادل۔۔پیلپ می۔۔شی از کریزی۔۔”
وہ لڑکی چیخی تھی۔عادل نے بے بسی سے افرحہ کو دیکھا تھا جو اپنی ہنسی دبا رہی تھی۔
“اس سے کیا بول رہی ہو ؟ مجھ سے بات کرو۔۔یہ میرا شوہر ہے اور صرف میری ہی بات مانتا ہے۔۔”
بریرہ چیخ کر
بولی تھی۔ان کے ارد گرد لوگ اکھٹے ہونے لگے تھے۔
“بس بہت ہوگیا۔۔چلو یہاں سے۔۔”
عادل نے بریرہ کو کمر سے تھام کر پیچھے کیا تھا افرحہ نے جلدی سے اس کے ہاتھوں سے مقابل لڑکی کے بال آزاد کروائے تھے۔
“چھوڑو مجھے میں اس کا قتل کردوں گی۔۔”
بریرہ نے اسکے شکنجے سے آزاد ہونے کی بہت سی کوششیں کی تھیں مگر عادل اسے گھسٹیتا ہوا اپنی گاڑی تک لے گیا تھا۔
اسے گاڑی میں بیٹھاتے وہ چائلڈ لاک لگا چکا تھا۔بریرہ حلق پھاڑ کر چلا رہی تھی مگر وہ اگنور کرتا واپس کیفے گیا تھا جہاں افرحہ اس لڑکیسے معذرت کر رہی تھی۔
“آئی ایم سوری لنڈا مائی وائف از آ لٹ بٹ کریزی۔۔”
عادل نے اسے بولتے افرحہ کو چلنے کا اشارہ کیا تھا۔
گاڑی میں بیٹھتے ہی بریرہ عادل کی طرف جنگلی بلی بن کر جھپٹی تھی۔عادل نے تیزی سے اپنے ڈیش بورڈ میں سے ہتھکڑی نکالتے اس کے دونوں ہاتھوں میں ڈال دی تھی۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
افرحہ کیب کروا کر گھر جاچکی تھی۔اب صرف وہ دونوں ہی گاڑی میں موجود تھے۔۔
“تمھاری ہمت کیسے ہوئی اس چڑیل کے پاس واپس جانے کی۔۔۔اور مجھ سےبےوفائی کرنے کی۔۔جھوٹےانسان۔۔۔”
وہ چیخ رہی تھی۔جلن سے اس کے اندر انگارے جل رپے تھے۔۔
“شش۔۔ایک دم خاموش۔۔وہ میرے کیس کی گواہ ہیں اڈیٹ۔۔”
عادل نے اس کی گردن کو پکڑتے اسکا چہرہ اپنے بےحد قریب کرلیا تھا۔
“دوبارہ کبھی سوچنا بھی مت میں کسی لڑکی کےساتھ مل کر تم سے بےوفائی کروں گا۔۔”
وہ شدت سے اس کے ہونٹوں کو چھوتا پیچھے ہٹ گیا تھا۔
گھر پہنچتے اس نے بازو سے پکڑ کر خاموش بیٹھی بریرہ کو باہر نکالا تھا۔
“اچھا آئی ایم سوری اب یہ میرے ہاتھ آزاد کردو۔۔”
بریرہ اسکے جواب پر شرمندہ تھی تبھی خاموشی سے منمنائی تھی۔۔
“تم نے ایسا سوچا بھی کیسے میں تمھارے علاوہ کسی اور کہ پاس جاوں گا ؟ “
اس نے بریرہ کے ریشمی بالوں کو کیچر سے آزاد کرتے اپنے ہاتھوں میں جکڑتے بےحد نرمی مگر سنجیدگی پوچھا تھا۔۔
عادل کو ہاتھ اٹھاتے دیکھ کر اس نے اپنا چہرہ چھپانے کی ناکام سی کوشش کی تھی۔
“میں کبھی مرکر بھی تم پر ہاتھ اٹھانے کے بارے میں نہیں سوچ سکتا بریرہ۔۔”
عادل اس کو کھینچ کر اپنے سینے سے لگاتا بولا تھا۔۔
“مم۔۔میں ڈر گئی تھی مجھے لگا تم بھی مجھے چھوڑ جاو گے۔۔”
وہ اس کے سینے میں منہ دیتی کپکپاتی آواز میں بولی تھی۔۔عادل نے نرمی سے اس کے بال سہلائے تھے۔۔
“میں تمھارے سارے خدشات ختم کرنا چاہتا ہوں۔۔کیا اجازت ہے ؟”
عادل نے اس کا چہرہ تھام کر سہلاتے ہوئے پوچھا تھا جبکہ بریرہ نے نم پلکیں جھکا کر دھیرے سے سر ہلا دیا تھا۔وہ بھی عادل کے ساتھ اپنا رشتہ قائم کرنا چاہتی تھی۔
عادل نے اپنی جیب سے چابی نکالتے اس کے ہاتھ ہتھکڑی سے آزاد کردیے تھے۔۔اس کی ہلکی ہلکی سرخ کلائیوں کو پکڑتے اس نے اپنی لبوں سے لگائی تھی۔جیسے اس کے درد کو دوا لگا رہا ہو۔
عادل نے اسکا چہرہ تھامتے نرمی سے جابجا اس کے چہرے پر اپنا ٹھنڈا لمس چھوڑتے اس کا لونگ کوٹ اتار کر زمین پر پھینک دیا تھا۔
اس کے چہرے کو تھامتے اس نے نرمی سے بریرہ کے ہونٹوں پر لمس چھوڑتے اس کے بکھرتے وجود کو خود میں سمیٹ لیا تھا۔
عادل کی انگلیوں کا سرسراتا لمس اسے شرم سے دوہرا کر رہا تھا۔اس کے سفید گال شرم و حیا سے سیب کی طرح لال ہوچکے تھے۔
شرم و حیا سےلبریز وہ اپنی نظریں جھکا کر خود کو مکمل طور پر عادل کے سپرد کرگئی تھی۔
اس کے نرم و نازک گالوں پر گلال بکھیرتے وہ اپنے لمس اور محبت سے اسے خود میں چھپا گیا تھا۔وہ ساری رات اسے اپنی محبت کا یقین دلاتا رہا تھا۔
بریرہ کے تھکے وجود کو باہوں میں بھرتے وہ اس کے گلابی ہونٹوں کو چھوتا لیٹ گیا تھا۔بریرہ کو زور سے خود میں بھینچتا وہ سکون کی نیند سو گیا تھا جبکہ بریرہ کے چہرے پر بھی ایک سکون دار مسکراہٹ موجود تھی۔۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
مسٹر اور مسز شہروز مزے سے ڈنر کر رہے تھے۔شہروز صاحب آج ڈیل فائنل کرکے آئے تھے جس پر وہ بےحد خوش تھے۔اس بات سے خبر ان کے کالے کاموں اور ناجائز ڈیلوں کا سارا چٹھا نیوز چینلز پر نشر ہو رہا تھا۔کچھ سالوں پہلے مسٹر شہروز نے ایک ایمپلوئے کو مار کراپاہج کر دیا تھا اسکے اور ایسے کئی وکٹمز کی رپورٹس بھی میڈیا کے پاس پہنچ گئی تھی۔
مسز شہروز اپنی ہی دنیا میں مست تھی جب اپنی دوست کی کال اٹینٹڈ کی تھی۔
“یار نیوز پر دیکھو اس وقت تم لوگوں کے بارے میں خبریں چل رہی ہیں۔۔”
“کیسی خبریں؟”
کرسی سے کھڑے ہوتے وہ تیزی سے لاونچ کی طرف بڑھی تھی۔مسٹر شہروز ماتھے پر بل ڈال کر کھانا ادھوڑا چھوڑ کر اس کے پیچھے گئے تھے۔جو ٹی وی چلا رہی تھیں۔
مسز شہروزفون ببد کرچکی تھیں۔نیوز دیکھتے ہی ان کا رنگ فق ہو گیا تھا ساتھ ہی مسٹر شہروز کی بھی حالت خراب ہونے لگی تھی آخر ان کے کالے کرتوت جو لوگوں کے سامنے آنے لگے تھے۔۔
“ڈیم اٹ۔۔اب کیا ہوگا شہروز۔۔”
مسز شہروز نے پریشانی سے شہروز صاحب کی طرف دیکھا تھا جو خود پریشان نظر آرہے تھے۔
“مجھے یہ اس شاہزیب کا کام لگتا ہے اور اس پولیس والے کا۔۔”
مسٹر شہروز پرسوچ انداز میں بولے تھے انھیں صبح ہی بریرہ کی لوکیشن بھی پتا چل چکی تھی۔
“ہم برباد ہوگئے ہیں لیکن انھیں بھی ہم سکون میں رہنے دیں گے۔۔”
مسز شہروز نے بولتے ہی فون اٹھا کر کسی کو کال ملائی تھی۔
“اس سے پہلے پولیس ہمارے خلاف ایکشن لے ہمیں یہاں سے نکل جانا چاہیے۔۔”
مسٹر شہروز نے سجیشن دی تھی جس کو سنتے ہی مسز شہروز فورا راضی ہوگئی تھیں۔۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
صبح صبح کا وقت تھا عادل اور بریرہ سو رہے تھے جب ان کے گھر پر مسلسل بیل اور دستک سے عادل کی آنکھ کھلی تھی۔
وہ لوگ فجر کی نماز پڑھ کر ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی سوئے تھے۔آج اسنےپولیس اسٹیشن سے بھی چھٹی لے لی تھی۔
وہ سارا دن بریرہ کے ساتھ گزارنا چاہتا تھا۔دروزہ کھولتے ہی اس کا سامنا پولیس سے ہوا تھا۔
“ہاو کین آئی ہیلپ یو؟”
عادل نے بھنویں اچکاتے پوچھا تھا۔
“آپ کے خلاف بریرہ شہروز کو کیڈنیپ کرنے کی رپورٹ ملی ہے۔۔”
پولیس آفسر نے جواب دیا تھا۔
“آپ اندر آسکتے ہیں۔۔بریرہ میری وائف ہے آپ ان سے کنفرم کرسکتے ہیں۔۔بائے دا وے آئی ائم آلسو این آفسر۔۔”
عادل نے اسے اپنا پولیس کارڈ نکال کر دکھایا تھا۔
بریرہ نیند سے اٹھتی باہر نکلہ تھی۔عادل کو پولیس آفسر کے ساتھ دیکھ کر اسے لگا تھا شاید وہ لوگ عادل سے ملنے آئے ہیں۔۔
“ایکسکیوز می میم۔۔ہم آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔۔”
لیڈی آفسر نے بریرہ کو دیکھتے کہا تھا۔
“کیا ہورہا ہے عادل مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی۔۔”
بریرہ نے ناسمجھی دے اسے دیکھا تھا جب لیڈی آفسر اسے پکڑ کر روم میں لے گئیں تھیں۔۔
“مسٹر عادل کے خلاف آپ کو کڈنیپ کرنے کا رپورٹ ہوئی ہے۔۔جو کہ آپ کے پیرنٹس مسٹر اور مسز شہروز نے آج صبح ہی کروائی ہے۔۔”
لیڈی آفسر نے بریرہ کو بتایا تھا۔
“ایکچولی میرے پیرنٹس میری زبردستی شادی کرنا چاہتے تھے جبکہ میں پہلے سے ہی عادل سے نکاح کرچکی تھی۔لیکن وہ مجھےفورس کر رہے تھے سو میں نے ان کا گھر چھوڑ دیا میں ٹونٹی ون ائیر کی ہوں سو میں الگ رہ سکتی ہوں۔۔”
لیڈی آفسر نے بریرہ کی بات اطمینان سے سنی تھی۔۔
“کیا واقعی آپ یہاں اپنی مرضی سے رہ رہی ہیں ؟ مسٹر عادل آپ کو فورس تو نہیں کر رہے ؟”
“نو۔۔میں خود یہاں رہ رہی ہوں اور اپنے پیرنٹس سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتی۔۔کیونکہ وہ لوگ مجھے ابیوز کرتے تھے۔۔”
اس نے لیڈی آفسر کوصاف صاف بتا دیا تھا۔۔
“اوکے میم ہم نے آپ کا بیان ریکارڈ کر لیا ہے آپ کو کچھ پیپر ورک کرنےکے لیے پولیس اسٹیشن آنا پڑے گا۔۔”
لیڈی آفسر بریرہ سےسارے سوال کے جوابات لیتی مطمئن ہوچکی تھی۔
بریرہ جب باہر نکلی تھی عادل نےاس کی طرف پریشانی سےدیکھا تھا۔بریرہ نے مسکرا کر اس کی پریشانی ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔
پولیس کے جاتے ہی عادل نے اسے زور سے اپنی باہوں میں بھر لیا تھا۔وہ ایک پل کو ڈر گیا تھا کہ شاید وہ بریرہ کو کھو دے گا۔اس کی باہوں میں لپٹی بریرہ بھی سکون محسوس کررہی تھی۔
عادل جانتا تھا رات کو جو ثبوت انھوں نے مسز شہروز کے خلاف میڈیا کو دہے ہیں یہ ان کی وجہ سے ہوا ہے۔۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
افرحہ یونیورسٹی میں داخل ہوئی تھی جب اسے سب لوگوں کی نظریں خود پر محسوس ہوئیں تھیں۔
وہ بھنویں بھینچتی تیزی سے کلاس میں چلی گئی تھی۔اس کے کلاس میں اینٹر ہوتے ہی گہری خاموشی چھا گئی تھی۔پھر دیکھتے ہی دیکھتے لوگ اپنی موبائل کی سکرینوں کو دیکھتے افرحہ کی طرف اشارہ کرنے لگے تھے۔
“ہاں یہ وہ ہی لڑکی ہے۔”
“دیکھنے میں تو معصوم لگتی تھی۔۔”
“گریڈز کے لیے کسی ٹیچر کے ساتھ ریلیشن بنابا اوہ مائی گوڈ ڈسگسٹنگ۔۔”
مختلف سرگوشیاں سن کر وہ ساکت ہوگئی تھی ۔اپنے موبائل پر میسج کی بیل سنتے اس نے کانپتے ہاتھوں سے میسج کھولا تھا۔جس میں اس کی اور شاہزیب کی تصویریں تھیں جس میں وہ اس کے گلے لگی ہوئی تھی۔
اس کو اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہونے لگا تھا۔۔پینک اٹیک محسوس کرتی وہ تیزی سے اپنے سامنے کھڑے لوگوں کو دیکھتی کوریڈوروں میں بھاگی تھی۔۔اس کا پاوں اچانک مڑا تھا اور وہ زمین بوس ہوگئی تھی۔۔
لوگوں کا ہجوم اور سرگوشیاں اس کا سانس روک رہی تھی۔۔اسکے منہ سے بےاختیار شاہزیب کا نام نکلا تھا۔۔
اسے اپنے سینے میں شدید تکلیف محسوس ہورہی تھی جب اچانک ہجوم کو چیڑتا شاہزیب اس کے پاس پہنچا تھا۔۔افرحہ کی حالت دیکھ کر اس نے اپنے جبڑے بھینچ لیے تھے۔اس کے بیگ کو پکڑتے شاہزیب نے تیزی سے اس کا انحیلر نکالتے اس کے منہ کے قریب کرتے اسے اپنے حصار میں لے لیا تھا۔
“میں تمھارے پاس ہوں۔۔افرحہ میرے سکون۔۔تمھیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔۔جسٹ ریلکس۔۔”
وہ افرحہ کے کان میں سرگوشیاں کر رہا تھا۔۔افرحہ کا سانس بحال ہوتے ہی وہ اسے باہوں میں اٹھاتا ہجوم میں سے گزر کر اپنے آفس میں لے گیا تھا۔
وہ جب یونیورسٹی داخل ہوا اسے تب ہی جسی گڑبڑ کا احساس ہوگیا تھا۔جسے پختہ لوگوں کی سرگوشیوں اور اس کے موبائل میں ملنے والے میسج نے کردیا تھا۔۔
“شاہزیب ا۔۔اب کیا ہوگا۔ و۔۔وہ آپ کو نکال دیں گے۔۔ مم۔میری وجہ سے آپ کی جوب چلی جائے گی۔۔”
افرحہ نے اس کی شرٹ کا کالر دبوچتے سہمے انداز میں کہا تھا۔۔
“اس میں تمھاری کوئی غلطی نہیں ہے۔۔اور تمھارے منہ سے میں کچھ بھی الٹا سیدھا نہیں سننا چاہتا میں یہ سب خود ہینڈل کرلوں گا۔۔”
افرحہ کا سارا الزام خود پر ڈال لینے سے اسے تکلیف محسوس ہوئی تھی۔۔تبھی وہ سنجیدگی سے بولا تھا۔۔
افرحہ کا سرخ چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرتا وہ اسے نرمی سے صاف کرگیا تھا۔افرحہ کے چہرے کو اوپر اٹھاتا وہ شدت سے اس کے ماتھے کو چوم گیا تھا۔۔
“ؓمجھ سر نے بلایا ہے۔۔تم ریسٹ کرو۔۔کسی چیز کی ٹینشن نہیں لینی اوکے ؟ اس میں ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔۔”
وہ افرحہ کی گال کو ہاتھ کی پشت سے سہلاتا نرمی سے اس کے آدھ کھلے ہونٹوں کو چھوتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
وہ ابھی اسے اکیلا چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا تھا مگر مجبوری کی وجہ سے چلا گیا تھا۔افرحہ شاہزیب کے آفس کی کرسی پر بیٹھی میز پر سر رکھ گئی تھی۔من میں دعائیں پڑھتی وہ سب کچھ صحیح ہونے کی دعا کرنے لگی تھی۔۔
جاری ہے۔۔
