Professor Shah by Zanoor Writes NovelR50559 Professor Shah (Episode 29)
Rate this Novel
Professor Shah (Episode 29)
Professor Shah by Zanoor Writes
گاڑی میں بیٹھتے ہی شاہزیب نے افرحہ کو کھینچ کر اپنے قریب کرتے اس کی سانسوں کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔۔افرحہ اس کی حرکت پر ایک پل کو حیران رہ گئی تھی۔اس کہ قربت سے وہ کپکپا اٹھی تھی۔
شاہزیب اس کے ہونٹوں کو سختی سے اپنی گرفت میں لیتا پچھلے کئی گھنٹوں کی فرسٹریشن اس پر نکال چکا تھا۔
“ش۔۔شاہزیب رک جائیں۔۔”
وہ گہرے گہرے سانس بھرتی اس کے ہونٹوں کا لمس اپنی گردن پر محسوس کرتی بمشکل اس کے سینے پر ہاتھ رکھے وہ اسے خود سے دور کرچکی تھی۔
“آپ کا خون نکل رہا ہے پلیز کسی ڈاکٹر کے پاس چلیں۔۔”
وہ پریشان نظروں سے اس کی رستے خون سے نم شرٹ دیکھ کر بولی تھی۔
شاہزیب نے افرحہ کے دور ہٹنے پر سختی سے لب بھینچ لیے تھے۔افرحہ کے پریشان انداز نے اس کا ابلتے خون کو ٹھنڈا کر دیا تھا۔
“یہ معمولی سا زخم اس کے لیے ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں۔۔”
شاہزیب گاڑی اسٹارٹ کرتا سپاٹ لہجے میں بولا تھا۔
“اتنا زیادہ خون بہہ رہا ہے شاہزیب پلیز ہوسپٹل چلیں۔۔”
وہ اس کی گلی شرٹ کو دھیرے سے چھوتی بڑبڑائی تھی۔شاہزیب نے کن اکھیوں سے اسے گھورا تھا۔
“تمھیں کہیں چوٹ تو نہیں لگی ؟”
شاہزیب نے اس کا ہاتھ تھامتے دھیان ہٹانے کی کوشش کی تھی۔افرحہ کی نظر اپنے ہاتھ پر لگے شاہزیب کے خون سے ہوتی اس کے سرد ہاتھوں پر گئی تھی۔
“نہیں میں ٹھیک ہوں”
اس نے دھیمی آواز میں جواب دیا تھا مسز شہروز کی باتیں اس کے ذہن میں ہلچل مچا رہی تھی۔شاہزیب نے اس کا جواب سنتے اس کے ہاتھ کو مضبوطی سے تھامتے اپنے ہونٹوں سے لگایا تھا۔
“آپ ڈاکٹر پاس نہیں جائیں گے ؟”
افرحہ نے اس کے زخم پر نظریں گاڑھتے سپاٹ آواز میں پوچھا تھا۔
“افرحہ۔۔اب اس بات پر کوئی بحث نہیں ہوگی۔۔ہم اب سیدھا گھر جائیں گے وہاں جیسے چاہوں گی ویسا کروں گا اب ڈاکٹر کا نام بھی مت لینا۔۔”
شاہزیب کی سرد آواز سنتے وہ لب بھینچ کر کھڑکی کی طرف رخ موڑ گئی تھی۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
پینٹ ہاؤس پہنچتے ہی افرحہ کمرے میں چلی گئ تھی اسے جاتے دیکھ کر شاہزیب سارے دن کا تھکا لاونچ میں موجود صوفے پر گر گیا تھا۔
ابھی وہ فلحال افرحہ سے نبٹنا نہیں چاہتا تھا ورنہ تو دل کر رہا تھا اسے گھسیٹ کر اپنے پاس لے آئے اور باہوں میں سما کر سکون سے سوجائے۔۔
وہ آنکھیں موند کر صوفے کی بیک سے ٹیک لگا گیا تھا جب دھیمے قدموں کی آواز اپنے قریب آتے سنائی دی تھی۔وہ افرحہ کو اگنور کرنے کا ارادہ کرتا ویسے ہی اپنی جگہ پر قائم رہا تھا جب اچانک اپنے سینے پت نازک کانپتی انگلیوں کو محسوس کرتے اس نے جھٹکے سے اس کا ہاتھ پکڑتے آنکھیں کھولی تھی۔افرحہ کی معصوم شکل دیکھ کر ایک پل کو اس کا دل زور سے دھڑکا۔۔
“کیا کرنے کی کوشش کر رہی ہو؟”
اس نے بوجھل آواز میں افرحہ کی جانب دیکھتے پوچھا۔
“آپ کا زخم صاف کرنے لگی تھی۔۔آپ کو تو کوئی پرواہ ہی نہیں ہے۔۔”
وہ آنکھیں مقابل کی سرخ آنکھوں سے ملاتی دھیمی آواز میں بولی تھی۔
شاہزیب خاموشی سے اس کا ہاتھ چھوڑتا دوبارہ صوفے کی پشت سے سر ٹکا گیا تھا۔
افرحہ نے شرٹ کے بٹن کھولتے اس کے زخم کو دیکھا تھا جو کافی گہرا لگ رہا تھا۔
“آپ کو سٹیچیز کی ضرورت ہے شاہزیب۔۔”
وہ سرگوشی میں بولی تھی۔
“مجھے ضرورت نہیں صاف کرکے بینڈیج کردو۔۔پانچ منٹ ہیں تمھارے پاس ورنہ میں یہ بینڈیج بھی نہیں کرواوں گا۔۔”
شاہزیب کا اکھڑا ہوا لہجہ سن کر افرحہ نے آنکھیں گھمائی تھی۔
“اتنے نخرے تو ہم لڑکیاں بھی نہیں کرتیں جتنے نخرے آپ کرتے ہیں۔۔۔”
وہ منہ پھولا کر شاہزیب کا زخم صاف کرتی اس کا دھیان بھٹکانے کے لیے بولی تھی۔
شاہزیب کے برہنہ سینے سے نظریں چراتی وہ ہلکی سی سرخ پر گئی تھی۔جو مقابل کی نظروں سے چھپا نہ تھا۔
شاہزیب اپنی عقابی نظریں اس پر ٹکائے بنا کوئی تاثر دیے بغیر بیٹھا رہا تھا۔کتنا سکون تھا مقابل کی قربت اور آواز میں اسے اپنی رگ رگ میں سکون اترتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔
“آپ کو پتا ہے ایک بار بابا کا ایکسیڈینٹ ہو گیا تھا میں اور مما بہت زیادہ ڈر گئے تھے ان کے آٹھ سٹیچیز بازو پر لگے تھے انھوں نے آپ کی طرح نخرے نہیں کیے تھے۔۔”
افرحہ اپنے پیرنٹس کے بارے میں بولتی ایک دم خاموش ہوگئی تھی ان کا ذکر کرتے اسے ان کی ناراضگی یاد آگئی تھی کیسے رخصت کرتے وقت انھوں نے ایک بار بھی اسے پیار بھری نگاہوں سے نہ دیکھا تھا۔
“کیا ہوا خاموش کیوں ہوگئی۔”
اس کا مرجھاتا چہرہ دیکھتے شاہزیب نے اس کی ٹھوڑی پکڑ کر اس کا چہرہ اوپر اٹھایا تھا۔
“بابا جان کی یاد آرہی اور مما کی بھی۔۔”
وہ شاہزیب کی طرف دیکھنے سے اجتناب کرتی اس کے بینڈیچ کرچکی تھی۔۔
“ہم جب پاکستان جائیں گے تب مل لینا۔۔اب اپنا موڈ خراب مت کرو اور جاو کچھ کھانے کو نکالو میں فریش ہوکر آیا۔۔”
وہ اسے یہ نہ بتا پایا کہ اب کبھی وہ واپس پاکستان نہیں جائیں گے چاہے کوئی بھی وجہ ہو۔۔وہ واپس اس گھر اور لوگوں کے روبرو کبھی نہیں جائے گا۔۔
افرحہ کو چھوڑتا وہ کمرے میں چلا گیا تھا۔جبکہ پیچھے افرحہ کو گہری سوچ میں چھوڑ گیا تھا۔۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
” مجھے سونے بھی دو گے یا ایسے ہی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر چھچھوروں کی طرح گھورتے رہو گے؟؟”
بریرہ جو سونے کی کوشش کر رہی تھی عادل کی مسلسل خود پر نظریں محسوس کرتی چٹخ کر بولی تھی۔
“میری آنکھیں ہیں جہاں چاہیں دیکھوں گا۔۔”
وہ اسے تپانے کے لیے اس پر جھکتا اس کے ماتھے پر زور سے انگلی مارتا بولا تھا۔۔
“تم میرے ہاتھوں قتل ہوجاو گے۔۔”
وہ دانت کچکچاتی چیخی تھی۔جو مقابل کو سرور کرگئی تھی۔
“ایک پولیس والے کو قتل کی دھمکی دے رہی ہو؟”
وہ بھنویں اچکاتا پوچھنے لگا۔
“ہاں میں ڈرتی نہیں تم سے۔۔اور میرے سامنے یہ پولیس گیری جھاڑنے کی ضرورت نہیں ایک ہی مکے کے ساتھ ناک توڑ دوں گی۔۔”
بریرہ بولتے ہوئے مکہ بنا کر دھیرے سے مقابل کے مارتے ہوئے بولی تھی۔
“اوہ میرا بےبی۔۔۔کچی کچی کو”
عادل مصنوعی مسکراہٹ سجاتا مکے کا بدلہ لیتا اس کے دونوں گال پکڑ کر ان کو زور سے کھینچنے لگا تھا۔
“یہ کیا کر رہے ہو پاگل انسان۔۔”
بریرہ اس کے ہاتھوں پر زور سے تھپڑ مارتی بولی تھی۔۔اس کی سفید میدہ جیسے رنگت میں سرخیاں گھل گئی تھی کچھ غصے کی وجہ سے اور کچھ عادل کے ظلم کی وجہ سے۔۔
بریرہ عادل کو مارنے لگی تھی جب عادل نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑتے اسے زور سے خود میں بھینچ لیا تھا۔
“صبح میں تمھیں فجر ٹائم اٹھاوں گا تم میرے ساتھ نماز ادا کرو گی اور اب سے یہ ہی تمھاری ڈیلہ روٹین ہوگی ہم ایک نماز سے شروع کریں گے اور پھر آہستہ آہستہ تم پانچ وقت کی نماز ادا کرنے لگو گی۔۔”
“تمھارے لیے میں کچھ ڈریسز بھی آرڈر کرچکا ہوں جو کل تک پہنچ جائیں گے۔۔”
عادل نے نرم لہجے میں بریرہ سے کہا تھا بریرہ جوابا کچھ نہ بولی تھی۔اس کی خاموشی نے عادل کو مثبت جواب دے دیا تھا۔
عادل نے نرمی سے اس کی پیشانی پر ہونٹ رکھے تھے۔موبائل رنگ ہونے پر وہ ایک سرد آہ خارج کرتا بریرہ کو چھوڑتا اپنے موبائل کی طرف بڑھا تھا۔
شاہزیب جس بار میں جاتا تھا اس بار سے فون آتے دیکھ کر عادل حیران ہوا تھا۔
“سر مسٹر شاہزیب ڈرگز لے رہے ہیں۔۔اور کافی زیادہ ڈرنکنگ بھی کرچکے ہیں اب وہ سین کریٹ کر رہے ہیں چیزیں توڑ رہے ہیں۔۔”
ویٹر کی بات سنتے عادل کی پیشانی پر ڈھیروں بل پڑے تھے۔
“میں پندرہ منٹ میں پہنچ رہا ہوں شاہزہب کو اب مزید کوئی ڈرگ یا ڈرنک سرو نہیں ہونی چاہیے۔۔”
عادل کال بند کرتا تیزی سے روم میں آیا تھا۔اپنی گاڑی کی چابی اٹھاتے اس کی نظر بریرہ پر پڑی تھی جو سو چکی تھی۔عادل نے جھک کر کمفرٹر اس پر صحیح کیا تھا اور تیزی سے نکل گیا تھا۔۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
وہ فریج سے فریز پیزا نکال کر اون میں گرم کرنے کے لیے رکھ چکی تھی۔اس کے ذہن میں مسز شہروز کی باتیں گھوم رہی تھی۔اسے یہ سمجھ نہیں آرہا تھا بریرہ کو چھپا کر شاہزیب کو کیا فائدہ ہونا تھا۔۔
“کن سوچوں میں گم ہو؟ مجھے پسند نہیں تم میرے علاوہ کسی اور کے بارے میں سوچو۔۔”
شاہزیب کیچن میں داخل ہوتا بولا تھا۔افرحہ اپنے خیالوں سے باہر نکلتی شاہزیب کی جانب دیکھنے لگی تھی۔
“مجھے سے پہلے آپ کا کتنی لڑکیوں کے ساتھ ریلیشن رہ چکا ہے؟”
افرحہ کے چبھن زدہ لہجے کو سن کر شاہزیب نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا تھا۔
“کیا بکواس کر رہی ہو؟ میرا کسی لڑکی سے کوئی ریلیشن نہیں ہے۔۔”
شاہزیب اپنی مٹھیاں بھینچتا بولا تھا۔
“میں معصوم ضرور ہوں لیکن بےوقوف نہیں ہوں شاہزیب۔”
افرحہ نے بھینچے ہونٹوں کے ساتھ سلگ کر جواب دیا تھا۔
“تم کہنا کیا چاہتی ہو؟”
شاہزیب نے جبڑے بھینچ کر سرد آواز میں پوچھا تھا۔
“آپ جھوٹے ہیں۔۔آپ نے مجھ سے جھوٹ بولا۔۔”
افرحہ کے اونچی آواز میں چیخنے پر شاہزیب کے چہرے پر ناگورایت امڈ آئی تھی۔
“شٹ اپ۔۔دھیمی آواز میں بات کرو۔۔”
شاہزیب نے اپنا ماتھا مسلتے سرد آواز میں کہا تھا۔
“مجھے چھونے کی کوشش مت کیجیے گا۔۔دور رہیں مجھ سے۔۔”
وہ شاہزیب کو اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر غصے سے پھٹ پڑی تھی۔شاہزیب کا ہوا میں ہاتھ تھم گیا تھا۔۔
سرخ چہرے پر جنھجھلاہٹ اور غصے کی وجہ سے سرد تاثرات چھاگئے تھے۔۔
ایک ہی جست میں افرحہ تک پہنچتے وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے قریب کر گیا تھا۔
“کیوں میرا دماغ خراب کر رہی ہو؟ پہلے ہی تمھارے غائب ہوجانے پر میرا دماغ گھوم گیا تھا۔دل کر رہا تھا سب کو جلا دوں جس نے تمھیں مجھ سے دور کرنے کی کوشش کی ہے اسے زندہ جلا کر خاک کر دوں۔۔ایک بات یاد رکھنا تم پر میرا پورا حق ہے اور مجھے میرے حقوق سے محروم کرنے کی جرت بھی مت کرنا۔۔”
افرحہ کے ہونٹوں پر ہاتھ جماتے وہ ٹھنڈے ٹھار لہجے میں بولا تھا۔خوف کی لہر افرحہ کی رگ رگ میں سرایت کرگئی تھی۔
“یقینا یہ خناس تمھارے دماغ میں مسز شہروز نے بھرا ہوگا۔۔کیا تمھیں اپنے شوپر پر زرا بھی یقین نہیں ؟ کیا کبھی میں نے ایسا ظاہر ہونے دیا کہ میں کسی اور میں انٹرسٹڈ ہوں جو تمھیں لگا ہو کہ میں پہلے نہ جانے کتنے ریلیشنز میں رہ چکا ہوں۔۔”
وہ افرحہ کی کمر پر گرفت مضبوط کرتا غرایا تھا۔۔
“آپ نے بریرہ کے بارے میں مجھ سے کیوں چھپایا؟ کہاں ہے وہ ؟ اور یہ مت کہیے گا ویکیشنز پر گئی ہے مجھے پتا ہے آپ نے جھوٹ بولا تھا۔۔”
افرحہ مردہ آواز میں بولی تھی۔۔
“وہ عادل کے ساتھ اس کے گھر میں موجود ہے کیونکہ وہ دونوں شادی کرچکے ہیں۔۔اب خوش ؟ سچائی جان لی۔۔اب وجہ جاننا چاہو گی تو میں یہ بتا دوں اس کے سوکولڈ پیرنٹس اس کی زبردستی شادی کرنے لگے تھے وہ خود اپنی مرضی سے گھر سے بھاگی تھی اور اس سے پہلے ہی وہ عادل سے نکاح کرچکی تھی۔۔”
شاہزیب زہرخند لہجے میں بولا تھا افرحہ کی بےاعتباری گہری چوٹ پہنچا رہی تھی۔اس کے ماضی کے زخم پرے کر رہی تھی۔۔
“آ۔۔آپ یہ مجھے پہلے بھی بتا سکتے تھے اس میں چھپانے والی بات کیا تھی ؟”
افرحہ اس کے جواب پر ایک دم نرم پڑگئی تھی۔افرحہ اسے ایک جھٹکے سے چھوڑتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔
“شاہزیب ؟ کہاں جا رہے ہیں آپ ؟؟”
وہ شاہزیب کو باہر کی طرف بڑھتے دیکھ کر بولی تھی۔شاہزیب بنا اس پر نظر ڈالے اپنا کوٹ پہنتا گھر سے نکل گیا تھا اسے اپنے پیچھے افرحہ کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں جنھیں اگنور کرتا وہ لفٹ میں داخل ہوچکا تھا۔۔
اس کا سانس گھٹ رہا تھا۔۔لفٹ سے نکلتے ہی اس نے سگریٹ نکال کر سلگائی تھی۔۔ایک گہرا کش لیتے اسے تھوڑا بہتر محسوس ہوا تھا۔ وہ ابھی اپنی ساری سوچوں کو بھلانا چاہتا تھا جو شاید ہی ممکن تھا۔۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
“شاہزیب یہ تم نے اپنی کیا حالت بنا رکھی ہے؟؟ اور تم یہاں کیا کر رہے ہو؟؟”
پرائیویٹ روم میں داخل ہوتے ہی ٹوٹی پھوٹی بوتلوں سے پھلانگتا ہوا عادل شاہزیب کے پاس گیا تھا۔جو بکھرے حلیے میں اپنے ہوش و حواس میں نہیں لگ رہا تھا۔۔
شاہزیب نے سرخ آنکھوں سے عادل کی طرف دیکھا تھا۔جسے صاف پتا چل رہا تھا وہ ڈرگز خاصی تعداد میں اپنے اندر اتار چکا تھا۔
“آگئے تم ہمیشہ کی طرح مجھے درس دینے۔”
شاہزیب کا ڈگمگاتا لہجہ سن کر عادل ساکت ہو گیا تھا۔
“مجھے سخت نفرت ہے اس عورت ذات سے۔۔ان کے سامنے چاہے اپنا دل بھی نکال کر رکھ دوں گے تو وہ یہ شکایت ضرور کریں گی یہ سونے کا کیوں نہیں۔۔لیکن آپ پر اعتبار نہیں کریں گی۔۔”
شاہزیباپنے بالوں کو زور سے کھینچتا چیخ کر بولا تھا۔۔
“شاہزیب کالم ڈاون۔۔”
عادل نے اسے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی تھی۔
“آئی ہیٹ ہر اگر وہ میرے سامنے ہوتی میں اس کا قتل کر دیتا۔۔اس نے مجھ سے میری زندگی کا مقصد چھین لیا۔۔اس کے بدلے یہ اندھیروں سے بھری زندگی میں دھکیل دیا۔۔”
“مجھے میری ماں ، بہن ، بابا اور دادا سے الگ کرکے اسے کیا ملا ؟؟ میں نے کیا بگاڑا تھا اس کا؟؟”
وہ زور سے چیخ چیخ کر بول رہا تھا۔
“شاہزیب میرے یار اس میں تیری کوئی غلطی نہیں بس کچھ لوگوں کے ضمیر مرچکے ہیں۔۔اور اب ماضی کی باتوں کو زیادہ نہ سوچ۔۔حال میں جیو اب تو تمھاری بیوی ہے اس کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزارو کیوں خود کو برباد کر رہے ہو؟”
عادل اس کے تاثرات دیکھتے بولا۔۔
“میری بیوی؟ ہاں بہت محبت کرتا ہوں۔۔اس کے پیچھے پاگل ہوں لیکن وہ بھی مجھ پر اعتبار نہیں کرتی۔۔کیا اتنا برا ہوں میں؟؟”
وہ ڈگمگاتے قدم لیتا عادل کے پاس جاتا اس سے پوچھ رہا تھا۔
“نہیں میرے یار تو تو بہت اچھا ہے بس لوگوں کو تیری قدر نہیں۔۔”
عادل نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا۔جب اچانک شاہزیب نے اس کو زور سے گلے لگا لیا تھا۔۔
“میں بہت تکلیف میں ہوں یار۔۔۔کوئی مجھے نہیں سمجھ سکتا۔۔میرا دل پھٹ رہا ہے۔۔دم گھٹنے لگا۔۔اب تو زندہ رہنے کی خواہش بھی ختم ہوگئی ہے۔۔”
شاہزیب درد بھرے لہجے میں آنکھیں بند کرتا بڑبڑایا تھا۔عادل نے اس کی تکلیف محسوس کرتے لب بھینچ لیے تھے
شاہزیب کی گرفت ڈھیلی پڑتی دیکھ کر اسے پتا چل گیا تھا کہ وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہوچکا ہے۔۔وہ ویٹر کی مدد سے شاہزیب کو اپنی گاڑی تک لایا تھا۔۔وہ اسے واپس اس حالت میں افرحہ کے پاس لے جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا تبھی ایک پرائیویٹ ہوٹل میں بوکنگ کرواتا وہ شاہزیب کو وہاں لے گیا تھا وہ ایک پل بھی شاہزیب کو اس حالت میں اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا تبھی ساری رات اس نے کاوچ پر بیٹھ کر گزار دی تھی۔وہ افرحہ سے کل بات کرنے کا سوچتا آنکھیں موند گیا تھا۔
جاری ہے۔۔
