Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Professor Shah (Episode 35)

Professor Shah by Zanoor Writes

شاہزیب ڈین کے آفس میں لاک کرتا داخل ہوا تھا۔چہرے پر چٹانوں سی سختی اسر بےحد سنجیدگی تھی۔

“کیا آپ اس کے بارے میں کچھ بتانا چاہیں گے مسٹر شاہزیب ؟”

انھوں نے چند تصویریں میز پر پھینکی تھی جو آج صبح ہی انھیں میل کے ذریعے ملی تھیں۔

“شی از مائی وائف۔۔”

اس نے بےتاثر انداز میں کہا تھا۔

“آپ جانتے ہیں یہ یونیورسٹی کے پالیسی کے اگینسٹ ہے۔۔کہ کسی بھی ٹیچر اور سٹوڈنٹ کا ریلیشن شپ نہیں ہونا چاہیے۔۔آپ کو ہمیں پہلے ہی انفارن کر دینا چاہیے تھا۔”

ڈین کرخت آواز میں بولا تھا۔

“اس سے ہماری یونیورسٹی پر نیگیٹو افیکٹ پڑا ہے۔۔آپ کی اس لاپرواہی کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔۔”

ڈین نے اس کے سپاٹ چہرے کو دیکھتے کہا تھا جو پتھر کا مجسمہ بنا بیٹھا تھا۔

“میں جوب سے ریزائن کردوں گا بٹ افرحہ کو آپ کچھ نہیں کہیں گے۔۔”

شاہزیب نے ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے کہا تھا۔

“یہ فیصلہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کریں گے۔۔فلحال مس افرحہ کو یونیورسٹی سے ایکسپل کیا جا رہا ہے۔۔”

ڈین کی بات نے اسے بھڑکا دیا تھا۔اسے اپنی فکر نہیں تھی اسے افرحہ کی فکر تھی۔

“آپ ایسا نہیں کرسکتے۔۔اٹس مائی مسٹیک۔۔”

وہ کھڑا ہوتا چیخا تھا۔ڈین کے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے۔

“مسٹر شاہزیب یہ میرا فیصلہ نہیں ہے مجھے بھی آرڈرز ملے ہیں۔۔ناو یو کین گو۔۔کل میٹنگ میں آپ سے اور مس افرحہ سے بات ہوگی۔۔”

ڈین نے کرخت لہجے میں کہا تھا۔۔شاہزیب کافی دیر اس سے بحث کرتا رہا تھا۔لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا آخرکار وہ غصے سے بھرا زور سے ڈین کے آفس کا دروازہ بند کرکے نکل آیا تھا۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

افرحہ پریشانی سے شاہزیب کا انتظار کرتی آفس میں چکر لگانے لگی تھی۔دروازہ کھلتے ہی وہ اس کی جانب مڑ گیا تھا۔

“اب کیا ہوگا شاہزیب۔۔؟”

اس نے شاہزیب کو واپس آتے دیکھ کر پوچھا تھا۔

“کیا وہ آپ کو جوب سے نکال دیں گے۔۔۔؟ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے شاہزیب۔۔”

اس نے کانپتی آواز میں شاہزیب دے کہا تھا جو دو گھنٹے ڈین سے سر کھپا کر آرہا تھا۔

“کچھ نہیں ہوگا۔۔تم ٹینشن مت لو۔۔”

شاہزیب نے پانی کا گلاس اٹھا کر لبوں سے لگاتے کہا تھا۔۔

“کیا بات ہوئی ہے شاہزیب مجھے بھی کچھ بتائیں۔۔میری پریشانی سے جان نکل رہی ہے۔۔”

افرحہ جھنجھلا کر اونچی آواز میں بولی تھی۔

“وہ تمھیں ایکسپل کرنا چاہتے ہیں ڈیم اٹ۔۔۔”

وہ اونچی آواز میں چیخا تھا۔۔اسے اپنی فکر نہیں تھی۔۔اسے افرحہ کے فیوچر کی فکر تھی۔اس کے پاس اتنا پیسہ تھا کہ وہ ساری زندگی بنا جوب کیے گزار سکتا تھا۔۔

افرحہ اسکی اونچی آواز سنتی سہم گئی تھی۔شاہزیب نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے اسے سینے سے لگا تھا۔۔

“سوری۔۔ساری غلطی میری ہے مجھے ٹائم پرہی جوب چھوڑ دینی چاہیے تھے۔۔اس میں تمھاری کوئی غلطی نہیں ہے۔۔میں سب سنبھال لوں گا۔۔”

وہ بھاری آواز میں افرحہ سے بولا تھا۔جبکہ نرمی سے اس کی کمر سہلاتا وہ اسے پرسکون کر گیا تھا۔۔

“اٹس اوکے۔۔شاہزیب آپ پریشان مت ہوں سب صحیح ہوجائے گا۔”

افرحہ نرم آواز میں بولی تھی۔شاہزیب نے جوابا ہنکار بھرا تھا جبکہ اس کا دماغ فل سپیڈ سے دور رہا تھا۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

“عادل تم نے مسز شہروز کے خلاف ثبوت پولیس کو دے دیے ہیں ؟؟”

شاہزیب یونیورسٹی سے واپس آچکا تھا۔افرحہ کو وہ ریسٹ کرنے کا بول چکا تھا۔عادل کو وہ کال کرکے سب بتا چکا تھا۔اسے پہلے ہی شک تھا یہ سارا کام مسزشہروز نے ہی کیا ہوگا۔۔

اسے اس عورت سے سخت نفرت ہونے لگی تھی۔اس کا دل تو کر رہا تھا وہ سامنے ہوتی اور وہ اپن ساری گن اس پر خالی کر دیتا۔

“ہاں آج صبح ہی دیے ہیں مگر وہ لوگ بھاگ نکلے ہیں۔۔پولیس نے ان کے گھر ریڈ کی لیکن وہاں کوئی موجود نہیں ہے۔۔”

عادل کے جواب نے اسے مزید بھڑکا دیا تھا۔

“تمھیں ایک کام دیا تھا تم وہ بھی نہیں کرپائے۔۔۔تمھارا پولیس میں ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔۔”

وہ غصے سے بولا تھا۔ان کا بھاگ نکلنا کتنا خطرناک ہوسکتا تھا اس کا اندازہ شاہزیب کو تھا۔وہ لوگ شاہزیب کو قتل کروانے کے منصوبے بنا سکتے ہیں اب تو ان کی عزت کا ستیاناس ہوا ہے وہ لوگ زخمی بن کر وار کریں گے۔۔

“مجھے کیا پتا تھا وہ یہ وہ کردیں گے۔۔ تم نے ہی کہا تھا پولیس کو اگلے دن ثبوت دینا۔۔”

عادل جھنجھلا کر بولا تھا۔وہ بھی بریرہ کے لیے بے حد پریشان تھا۔۔

“میں ڈینیل کی مدد لینے لگا ہوں یہ پولیس والوں سے کچھ نہیں ہوپائے گا۔۔اب یہ میں اپنے طریقے سے ہینڈل کروں۔گا۔۔”

شاہزیب نے گہری سانس بھرتے غصہ کم کیا تھا۔۔

“اوکے ٹھیک ہے ڈینیل سے مدد لے لو مگر جلدی کرو۔۔صبح والے واقع کے بعد میں بریرہ کو اکیلا چھوڑ کر کہیں نہیں جانا چاہتا۔۔”

عادل نے اپنی پریشانی ظاہر کی تھی۔

“روحان کو بلا لو تمھاری غیر موجودگی میں وہ بریرہ کو سیف رکھے گا۔۔”

شاہزیب کی بات سنتا عادل ہتھے سے اکھڑ گیا تھا۔

“بالکل بھی نہیں۔۔مجھے وہ شخص بریرہ کے آس پاس بھٹکتا ہوا زہر لگتا ہے۔۔۔”

ٰعادل کی کیفیت سمجھتے شاہزیب نے آنکھیں گھمائیں تھیں۔

“تم اپنی جیلیسی کو کنٹرول کرو اور بریرہ کی سیفٹی کے بارے میں سوچو۔۔باقی تمھاری مرضی۔۔۔”

شاہزیب نے سنجیدگی سے کہا تھا جس پر عادل بھی سوچ میں پڑ گیا تھا۔

“اوکے تم ڈینیل سے بات کرو میں بھی دیکھتا ہوں اس مسز شہروز کو جیل میں بند کروا کر ہی میں سکون کا سانس لوں گا۔۔”

عادل جوابا بولا تھا جس پر شاہزیب ہنکار بھر گیا تھا۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

شاہزیب ڈینیل سے بات کرتا اسے سب کچھ بتا چکا تھا۔افرحہ کے ساتھ رات کو ڈنر کرتے وہ لوگ ایک تھکا دینے والے دن کے بعد سوچکے تھے۔۔

لگاتار بجتی فون کی رنگ سے شاہزیب کی آنکھ کھلی تھی۔پاکستانی نمبر سے فون آتا دیکھ کر وہ ماتھا مسلتا افرحہ پر کمفرٹر اوڑھتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔

“بابا کو ہرٹ اٹیک ہوا ہے تمھیں یاد کر رہے ہیں۔۔”

کال اٹھاتے ہی اس کے کانوں میں اپنے باپ میر شاہ کی آواز پڑی تھی۔حاتم شاہ کی حالت سن کر اس نے سختی سے لب بھینچ لیے تھے۔

“تمھارا دل کیا تو آجانا۔۔ ڈاکٹر نے انھیں ہر قسم کی ٹینشن سے دور رکھنے کا کہا ہے۔۔”

میر شاہ نے اس کی خاموشی محسوس کرتے مزید کہا۔

“میں نہیں آرہا پاکستان اور دوبارہ مجھے کبھی کال مت کیجیے گا۔۔میرا آپ سے اور اس گھر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔”

وہ سرد لہجے میں بولا تھا۔اس کی جذبات سے عاری آواز نے میر شاہ کو غصہ دلا دیا تھا۔

“تم سے امید بھی کیا کی جاسکتی ہو۔۔تم ہمارے خاندان کے لیے ایک دھبہ ہو۔۔میں نے تمھیں شوق سے فون نہیں کیا تھا۔۔بابا کی حالت نے مجبور کیا تھا۔۔اگر بابا کو کچھ بھی ہوا تو تم اس کے ذمہدار ہوگے۔۔۔”

میر شاہ زہر خند لہجے میں بولے تھے۔۔

“ہر برے کام پر میرا نام لگانا تو ویسے بھی آپ کا اور آپ کی بیوی کا دوسرا کام ہے۔۔”

وہ بھی جوابا اغصے سے بولا تھا ان کی باتوں سے اس کی رگ رگ میں زہر گھل گیا تھا۔

“میرے ساتھ بکواس کرنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی میں فاطمہ کے بارے میں کوئی فضول بات سنوں گا۔۔اور کوئی ضرورت نہیں یہاں آنے کی سڑتے رہو ساری زندگی کینیڈا میں۔۔”

وہ غصے سے بولتے شاہزیب کو مزید طیش دلا گئے تھے۔۔۔شاہزیب نے غصے میں فون دیوار پر دے مارا تھا۔فون ٹوٹ کر زمین بوس ہوگیا تھا۔

“شاہزیب۔۔”

افرحہ نے نرمی سے اسے پکارتے پیچھے سے اس کے گرد اپنے بازو باندھ لیے تھے۔ افرحہ کے نرم و ملائم لمس اور میٹھی آواز نے اس کو پرسکون کردیا تھا۔

افرحہ کو بازو سے پکڑتے اپنے آگے کرتا وہ اس کو مضبوطی سے خود میں چھپاتا اس کی گردن میں منہ چھپا گیا تھا۔افرحہ پاوں کے بل اوپر اٹھتی نرمی سے اس کے گردن کے بالوں کو سہلانے لگی تھی۔

“کس کا فون تھا شاہزیب۔۔”

اس نے نرم آواز میں پوچھا تھا۔

“با۔۔ میر شاہ کا فون تھا دادا کو ہرٹ اٹیک آیا ہے مجھے پاکستان بلا رہے ہیں۔۔”

اس کے منہ میں لفظ ” بابا ” دب گیا تھا۔

“ہمیں پاکستان جانا چاہیے انھیں آپ کی ضرورت ہے۔۔”

افرحہ پریشانی سے بولی تھی۔دادا جان کی طبیعت خرابی کا سن کر وہ فورا واپس پاکستان جانا چاہتی تھی۔

“میں واپس پاکستان نہیں جانا چاہتا۔۔”

وہ بھاری آواز میں بولا تھا۔

“آپ فلائیٹ بک کروائیں ہم پاکستان جائیں گے۔۔دادا جان کو آپ کی ضرورت ہے۔۔”

افرحہ نے دو ٹوک انداز میں کہا تھا۔شاہزیب خاموشی سے لب بھینچتا اس کی خوشبو خود میں اتارنے لگا تھا۔۔

شاہزیب لائن فلائیٹ بک کرواچکا تھا۔دوبارہ سونے کی بجائے وہ لوگ پیکنگ کرنے لگ پڑے تھے۔شاہزیب ساری سچوئیشن عادل اور ڈینیل کو بتاتا ساتھ ہی اپنی یونیورسٹی کو بھی انفارم کر چکا تھا۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

“آج میں بہت خوش ہوں۔۔بہت زیادہ۔۔”

وہ خوشی سے لہراتی بولی تھی آخر جس شخص کا انتظار تھا وہ واپس پاکستان آنے والا تھا۔

“اس کی بیوی کا انتظام بھی کرنا ہوگا۔۔”

افرحہ کے بارے میں سوچتے زباریہ کا حلق تک کڑوا ہوگیا تھا۔

جب شاہزیب چند ماہ پہلے پاکستان آیا تھا وہ تب ہی اس سے دوبارہ ملنا چاہتی تھی لیکن اس کی شادی کی خبر نے اس کو آگ لگا دی تھی۔اس سے پہلے وہ کوئی پلان بناتی وہ واپس کینیڈا چلا گیا تھا۔۔

“تمھیں پانے کے لیے اس بار میں ہر حد سے گزر جاوں گی شاہزیب میر حاتم۔۔”

وہ مسکراتی ہوئی اپنے موبائل میں اس کی تصویر دیکھتے ہوئے بولی تھی۔

ارشد جو ابھی آفس سے لوٹا تھا اسے پاگلوں کی طرح تصویر سے باتیں کرتے دیکھ کر لب بھینچ گیا تھا۔اگر اسے زباریہ سے محبت نہ ہوتی تو وہ اسے کب کا فارغ کرچکا ہوتا۔۔ مگر آہ۔۔ محبت نے اسے تباہ کر دیا تھا۔ آہستہ آہستہ اس کا دل زباریہ سے اٹھنے لگا تھا۔ اور اس کی ایک اور وجہ تھی جسے وہ سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا۔

وہ اسے نفسیاتی اور پاگل لگنے لگی تھی جو شاہزیب کی تصویر کو گھنٹوں بیٹھی حسرت سے دیکھتی رہتی تھی۔۔اس کا دل کرتا تھا اب وہ اسے چھوڑ کر کہیں دور چلا جائے۔۔

“جان آگئے تم۔۔ میرے لیے پھول نہیں لائے۔۔۔”

وہ ارشد کو دیکھتی موبائل بندکرتی اسے خالی ہاتھ دیکھ کر غصےسے بولی تھی۔ وہ بےشک جتنا شاہزیب کو پانے کی چاہ کرتی وہ جیسی زندگی جی رہی تھی اس کی وجہ ارشد ہی تھا تبھی اسے وہ کھینچ کر اپنے حسن اور باتوں کے زیرِ اثر رکھتی تھی۔

“ہمم۔۔ باہر پڑے ہیں جاو لے لو۔۔”

ارشد نے بےزار لہجے میں کہا تھا جسے اگنور کرتی وہ باہر بھاگی تھی۔ارشد نے اس کے جاتے ہی سکون کا سانس لیا تھا ورنہ اس کی موجودگی میں اسکا دم بھی گھٹنے لگا تھا۔۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

شاہزیب اور افرحہ پہلی فلائٹ سے پاکستان پہنچ گئے تھے۔۔گھر سامان رکھتا شاہزیب افرحہ کےساتھ آتے ہی بنا آرام کیے ہوسپٹل روانہ ہو گیا تھا۔وہ ظاہر نہیں کر رہا تھا مگر اس کے ہر اشارے سے اس کی بےچینی صاف واضح ہورہی تھی۔

“دادا جان بالکل ٹھیک ہوں گے۔۔آپ زیادہ پریشان مت ہوں۔۔”

شاہزیب کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتی وہ نرمی سے بولی تھی۔ شاہزیب نے سر ہلانے پر گزارا کیا تھا۔۔

“میرے ساتھ رہنا۔۔”

شاہزیب نے افرحہ کو کہا تھا جو اس کے ساتھ چلتی سر ہلا گئی تھی۔

ریسپشنسٹ سے ہوٹل روم کا پوچھتے وہ لوگ مطلوبہ روم میں چلے گئے تھے۔۔

“شاہزیب۔۔ میرے شہزادے۔۔”

حاتم شاہ جو بیڈ پر لیٹے کوئی کتاب پڑھ رہے تھے دروازہ کھلنے کی آواز پر سر اٹھاتے شاہزیب کو دیکھتے کانپتی آواز میں بولے تھے۔

“دادا آپ نے اپنی یہ کیا حالت بنالی ہے؟”

شاہزیب ان کا ضعیف وجود دیکھتا بولا تھا۔افرحہ اندر جانے کی بجائے باہر رک گئی تھی وہ چاہتی تھی شاہزیب کھل کر ایک بار حاتم شاہ سے بات کرلے۔۔۔

“تمھارے دادا اب پہلے جیسے نہیں رہے۔۔بس اب مرنے کی عمر ہوگئی ہے۔۔ میں چاہتا ہوں آخری دن اپنے پوتے کے ساتھ گزاروں۔۔”

وہ مسکر کر بولے تھے۔۔ان کی بات سن کر شاہزیب کے گلے میں آنسوں کا پھندا سا پھنس گیا تھا۔

“کیسی بات کر رہے ہیں۔۔ابھی آپ کی عمر ہی کیا ہے۔۔”

وہ ان کے قریب بیٹھتا ان کا جھریوں سے بھرا ہاتھ تھام کر اپنے ہونٹوں سے لگا گیا تھا۔وہ جیسے بھی تھے لیکن مشکل وقت میں انھوں نے ہی اس کی کینیڈا جانے میں مدد کی تھی۔۔

” ہاہاہا۔۔۔تم سے ایک بہت ضروری بات کرنا چاہتا ہوں۔۔جانتا ہوں بہت دیر کردی لیکن ابھی بھی وقت تھا۔”

وہ ہنس کر ایک دم سنجیدہ ہوئے تھے۔شاہزیب نے انھیں سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا۔

“مجھے پتا ہے اس دن تم نے کچھ غلط نہیں کیا تھا۔۔میں تمھارا ساتھ دینا چاہتا تھا لیکن اس وقت نہیں دے پایا۔۔یہ ہی میری سب سے بڑی غلطی تھی۔۔میری خاموشی نے تمھیں مجھ سے دور کردیا۔۔اور بدگمان بھی۔۔”

وہ نم آنکھوں سے بول رہے تھے۔۔شاہزیب نے لب بھینچ کر ضبط سے سرخ پڑتی آنکھوں سے انھیں دیکھا تھا۔

“میں جانتا ہوں بہت دیر کردی لیکن پھر بھی ایک ہی بات کہوں گا مجھے معاف کردو شاہزیب مظلوم تو تم تھے لیکن ظلم بھی تم ہر ہی ڈھائے گے۔۔”

انھوں نے اپنا کانپتا ہاتھ آگے بڑھتے شاہزیب کے سر پر دھرا تھا جو بالکل ساکت بیٹھا تھا۔۔ان کے کانپتے ہاتھ جو شاہزیب نے مضبوطی سے تھام لیا تھا۔۔

“آپ سے میری کوئی ناراضگی نہیں ہے دادا جان۔۔ بس آپ جلدی سے ٹھیک ہوجائیں۔۔”

وہ بمشکل مسکراتا بولا تھا جبکہ جذبات کی شدت سے اس کا دل پھٹ رہا تھا سارے زخم ہرے ہوگئے تھے۔۔

شاہزیب ابھی مزید کچھ بولتا کہ باہر سے آنے والی اونچی آوازوں نے اسے روک دیا تھا۔۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

افرحہ خاموشی سے کمرے کے باہر کھڑی تھی۔ جب فاطمہ بیگم اور میر شاہ وہاں پہنچے تھے۔۔

“لڑکی اس کمرے کے باہر کیوں منڈلا رہی ہو ؟ “

وہ دور سے ہی اسے دیکھ چکی تھیں تبھی بنا لحاظ کیے بولی تھی۔

“شاہزیب کی بیوی ہے یہ۔۔”

اس سے پہلے افرحہ جواب دیتی میر شاہ نے اس پر کٹیلی نظر ڈال کر پھیرتے ہوئے کہا تھا۔انھیں پتا چل گیا تھا یقینا اندر شاہزیب موجود ہے۔۔

افرحہ میر شاہ اور ان کے ساتھ کھڑی فاطمہ کو دیکھ کر جانچکی تھی کہ یہ ہی شاہزیب کی سوتیلی ماں ہے۔۔

“اوہ تو یہ ہے وہ گھٹیا لڑکی جس نے اس گھٹیا شخص سے شادی کی۔۔”

فاطمہ بیگم شاہزیب کا نام سن کر بھڑک اٹھی تھیں۔۔

“آپ بڑی ہیں اس لیے میں کچھ بول نہیں رہی مگر شاہزیب کے خلاف میں ایک لفظ بھی نہیں سنوں گی۔۔”

افرحہ غصے کو بمشکل کنٹرول کرتی چیخ کر بولی تھی۔فاطمہ بیگم اس کی بات پر مزید اگ اگلنے لگ پڑی تھی۔۔

“شاید تمھیں اس نے بتایا نہیں وہ کتنا گھٹیا آدمی ہے اپنی خالہ جیسی عورت سے۔۔۔”

“چپ۔۔۔ بالکل چپ۔۔ اس گندی عورت کا نام بھی مت لیجیے گا۔۔وہ تو عورت کے نام پر دھبہ ہے۔۔اور اگر ایک لفظ مزید آپ نے شاہزیب کے خلاف بولا تو میں کوئی لحاظ نہیں کروں گی۔۔”

افرحہ غصے کی شدت سے کانپتی چیخی تھی۔

“فاطمہ خاموش ہوجاو۔۔”

میر شاہ معاملہ بگڑتے دیکھ کر بولے تھے۔لوگ ان کی طرف متوجہ ہونے لگے تھے۔

“یقینا اس نے تمھارا برین واش کیا ہوگا۔۔ اوہ بی بی اپنی آنکھیں کھولو میری بہن معصوم تھی اب اسے کچھ کہا تمھاری زبان گدی سے کھینچ لوں گی۔۔”

فاطمہ بیگم چیخ کر بولی تھیں۔۔

“میں بولوں گی۔۔ بار بار بولوں گی وہ گندی عورت۔۔۔ عورت کہلانے کے لائق نہیں ہے۔۔”

افرحہ ابھی بول ہی رہی تھی جب فاطمہ بیگم کا ہاتھ اٹھا تھا۔

افرحہ نے زور سے آنکھیں میچ لی تھیں۔۔تھپڑ نہ بجنے پر اس نے آنکھیں دھیرے سے کھولی تھیں۔ جہاں شاہزیب فاطمہ بیگم کی کلائی کو پکڑے ان کا ہاتھ افرحہ کے چہرے تک پہنچنے سے پہلے روک چکا تھا۔

“میری بیوی پر ہاتھ اٹھانے کے بارے میں دوبارہ سوچیے گا بھی مت۔۔ اس کے معاملے میں مجھ میں صبر نام کی کوئی چیز نہیں۔۔بنا لحاظ کیے ہاتھ توڑدوں گا۔۔”

شاہزیب زور سے ان کا ہاتھ جھٹکتا اونچی آواز دھاڑا تھا۔میر شاہ نے ڈگمگاتی فاطمہ کو فورا تھام لیا تھا۔۔

“زرا شرم نہیں ہے تم میں۔۔یہ ماں ہے تمھاری۔۔”

میر شاہ غصے سے بولے تھے۔

“بالکل غلط۔۔ یہ میری ماں نہیں سوتیلی ماں ہیں۔۔ جنہیں میں اپنی ماں کا رتبہ دینے سے انکار کرچکا ہوں۔۔میرے لیے یہ صرف اس نیچ اور گھٹیا عورت کی بہن ہیں جس نے میری زندگی تباہ کردی۔۔”

شاہزیب کی غصےسے رگیں پھول گئی تھیں۔۔افرحہ نے اس کا بازو نرمی سے سہلاتے اسکا غصہ کم کرنے کی کوشش کی تھی۔۔شاہزیب نے افرحہ کو تھامتے بنا لحاظ کیے فورا خود میں بھینچ لیا تھا۔ورنہ نا جانے وہ غصے میں کیا کرجاتا۔۔

“میری بہن کے خلاف بکواس کرنے کی ضرورت نہیں۔۔”

فاطمہ سنبھل کر چیخی تھی۔

“انکل پلیز انھیں یہاں سے لے جائیں۔۔”

افرحہ نے شاہزیب سے دور ہٹتے کہا تھا۔میر شاہ معاملہ بگڑتے دیکھ کر فورا فاطمہ کو وہاں سے لے گئے تھے۔۔افرحہ سب سے معذرت کرتی شاہزیب کو روم میں لے گئی تھی۔۔جہاں حاتم شاہ پریشان سے بیٹھے تھے۔۔

“شاہزیب۔۔”

حاتم شاہ نے اسے بلایا تھا۔

“میں ٹھیک ہوں دادا جان۔۔”

وہ بھاری آواز میں بولا تھا۔

“یہ تو ایک دم فٹ ہیں دادا جان۔۔ میں آپ کے پوتے کا خاص خیال رکھتی ہوں۔۔آپ بتائیں کیسے ہیں؟”

افرحہ نے شاہزیب کا دھیان ہٹانے کے لیے بات شروع کی تھی جس میں وہ کامیاب ہوگئی تھی۔۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

“عادل کیا بنا ؟ پتا چلا وہ لوگ کہاں گم ہیں ؟”

عادل ڈیوٹی سے لوٹا تھا جب بریرہ نے اسے پانی پکڑاتے پوچھا تھا۔اپنے ماں باپ کے یوں چھپ جانے سے وہ بھی بےحد پریشان تھی۔

وہ جانتی تھیں مسز شہروز کتنی تیز ہیں اور کس حد تک جاسکتی ہیں۔

“کچھ پتا نہیں چل رہا۔۔وہ لوگ ایسے غائب ہوئے ہیں جیسے کبھی یہاں تھے ہی نہیں۔۔”

عادل بالوں میں ہاتھ پھیرتا بولا تھا۔بریرہ کے پاس سے اٹھتا وہ لاونچ میں چکر لگانے پگ پڑا تھا۔

“عادل از ایوری تھنگ آلرائیٹ۔۔؟”

اس نے بھنویں بھینچ کر پوچھا تھا۔عادل کے چہرے سے ہی پریشانی چھلک رہی تھی۔

“آج صبح ہی مسز شہروز کے کمرے کی تلاشی لی گئی تھی۔ اس میں سے کچھ فائلز اور رپورٹز ملی ہیں۔۔اور کنٹریکٹس”

عادل جبڑے بھینچ کر بولا تھا۔

“تو اس میں پریشان ہونے والی کیا بات ہے؟”

بریرہ نے ناک چڑھاتے پوچھا۔

عادل اس کے قریب آکر بیٹھتا اس کے ہاتھ نرمی سے تھام گیا تھا۔

“اس میں تمھارے اڈپشن پیپرز ہیں۔۔تم ان کی بیٹی نہیں ہو۔۔”

اس نے لب بھینچ کر بتایا تھا۔عادل کی نظریں مسلسل اس کے چہرے پر ٹکی ہوئی تھی جو یک دم ساکت ہوگئی تھی۔

“ا۔۔اچھی ب۔۔بات ہے نہ ی۔۔یہ۔۔؟”

وہ مسکرا کر بولی تھی۔۔عادل نے اسے کھینچ کر زور سے سینے سے لگا لیا تھا۔

“انھیں بچہ لینے کی ضرورت ہی کیا تھا جب انھوں نے مجھ پر اتنے ظلم ڈھانے تھے۔۔”

وہ اس کے سینے میں منہ دے کر چیخی تھی۔عادل کے دل کو کچھ ہوا تھا۔

“ک۔۔کون ہیں میرے پیرنٹس؟ کیا انھیں مجھ سے پیار نہیں تھا جو یوں کسی غیر کی جھولی میں ڈال دیا ؟”

وہ سیدھی ہوتی ایک دم چیخ کر بولی تھی۔

“جن کا نام اڈپشن پیپرز پر تھا ان کی ڈیتھ ہوچکی ہے بریرہ اکیس سال پہلے۔۔ان کی ڈیتھ کے ایک ماہ پہلے مسز شہروز نے تمھیں اڈاپٹ کیا تھا۔۔”

عادل کی بات سے وہ ایک دم خاموش ہوگئی تھی۔

“شاید میری زندگی پیرنٹس کا پیار ہی نہیں لکھا تھا۔۔”

وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھتی بولی تھی۔

“اٹس اوکے تمھارے رونے کو دل کر رہا ہے تو رو لو دل ہلکا ہوجائے گا۔۔”

عادل نے اسے سینے سے لگاتے اس کے بالوں کو نرمی سے چھوتے کہا تھا۔جس پر وہ زور سے رونے لگی تھی۔

جاری پے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *