Professor Shah by Zanoor Writes NovelR50559 Professor Shah (Episode 16)
Rate this Novel
Professor Shah (Episode 16)
Professor Shah by Zanoor Writes
“میں چاہتا ہوں آپ داد سے بات کریں وہ میرا رشتہ لے کر افرحہ کے گھر جائیں۔۔”
شاہزیب نےماہین سے بات کرنے کے لیے رات کو اپنے فلیٹ میں انوائیٹ کیا تھا۔۔
“کیا تم نے افرحہ کو اپنے پاسٹ کے بارے میں بتا دیا ؟”
ماہین نے سنجیدگی سے شاہزیب کو دیکھتے پوچھا۔اس نے افرحہ کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار تو نہ کیا تھا البتہ یہ ضرور ماہین کو کہا تھا کہ وہ لڑکی اس کے دوبارہ جینے کی وجہ ہے۔۔
“ابھی اس کی ضرورت نہیں جب صحیح وقت آئے گا میں اسے بتا دوں گا۔”
شاہزیب اپنی بے چینی چھپاتا اٹھ کر اوپن کیچن میں جاتا وائن کا گلاس بھرنے لگا تھا۔۔
“اور یہ صحیح وقت کب آئے گا؟؟ تم نے یہ سوچا ہے اگر اسے کہیں باہر سے پتا چل گیا تو کیا ہوگا۔۔؟”
ماہین کی بات نے اسے مزید بےسکون کیا تھا۔
“آپ دادا کو بتا دیں جب وہ میرا رشتہ افرحہ سے فکس کردیں گے میں واپس پاکستان لوٹ جاوں گا۔۔”
شاہزیب کی بات نے ماہین کو حیران کیا تھا۔۔
“مجھے لگا تھا تم کبھی واپس پاکستان نہیں جانا چاہتے۔۔”
ماہین گہری نظروں سے شاہزیب کے تاثرات کا جائزہ لیتے ہوئی بولی۔
“میں اس لڑکی کی خاطر واپس بھی جاسکتا ہوں شرط یہ ہے کہ وہ بس میری ہوجائے۔۔”
شاہزیب کے کھلم کھلا اظہار سے ماہین کو خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔
“تم اس کے پیچھے زیادہ ہی پاگل ہو رہے ہو۔۔کیا خاص بات ہے اس میں جو اس کی خاطر اپنا ہی وعدہ توڑ رہے ہو؟”
ماہین بھنویں بھینچ کر پوچھنے لگی تھی۔
“وہ بہت خاص ہے۔۔وہ میرا سکون ہے۔۔اس کے لیے میں کچھ بھی کرسکتا ہوں۔۔”
وہ جتنی شدت سے بولا تھا۔ماہین بھی حیران رہ گئی تھی۔۔
“وہ لڑکی تمھارے حواسوں پر بری طرح چھا گئی ہے۔۔”
ماہین ہلکا سا مسکرا کر بولی تھی۔
“یہ کوئی بری بات تو نہیں۔۔”
وہ وائن کا گلاس ایک ہی جھٹکے میں اپنے اندر انڈیلتا سپاٹ لہجے میں بولا تھا۔۔
“میرے خیال میں اب آپ کو جانا چاہیے۔۔”
شاہزیب کے بولنے پر ماہین نے آنکھیں گھمائی تھی۔۔
“شرم کر لو کوئی اپنی پھپھو کو بھی خود نکل جانے کا بولتا ہے۔۔”
وہ اپنا بیگ اٹھاتی شکوہ کن لہجے میں بولی تھی۔
“آپ تو جانتی ہے یہ عنصر مجھ میں شروع سے ہی پایا نہیں جاتا۔۔”
وہ ہلکا سا مسکرا کر بولا تھا۔ماہین کو کئی سالوں بعد اس میں پہلے والے شاہزیب کی جھلک دکھائی دی تھی۔
“امید ہے آپ میرا پیغام پہنچا دیں گی۔۔میں آپ کو افرحہ کا اڈریس کل تک سینڈ کردوں گا انھیں کہیے گا کسی کو ساتھ لے جانے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی میرے ماضی کو ان کے سامنے کھولنے کی ضرورت ہے۔۔ورنہ پہلے وہ میری شکل دیکھنے کو ترستے ہیں پھر میں انھیں ہر چیز کے لیے ترسا دوں گا۔۔”
وہ سفاکیت سے پروپرٹی کے بارے میں دھمکی دیتا ہوا بولا تھا۔۔
“بابا کے ساتھ ایسا کرنے کا سوچنا بھی مت شاہزیب ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔”؟
ماہین انگلی اٹھا کر وارننگ دیتے ہوئے بولی تھی۔وہ ان کا بھتیجا تھا تو دوسری طرف ان کا باپ تھا اور یقینا باپ کا پلرا ہی بھاری ہونا تھا۔۔
“ہاہاہا۔۔کوئی مجھے روک نہیں پائے گا۔۔”
وہ باہر کا دروازہ کھولتا وہ بےرحمی سے بولا تھا۔۔ماہین اسے گھورتے ہوئے وہاں سے چلی گئی تھی۔۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
“افرحہ تمھیں چھپ کر دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے باہر آجاو۔۔”
شاہزیب نے اسے فلیٹ کے دروازے سے جھانکتے دیکھ کر سپاٹ لہجے میں کہا تھا۔۔
“میں آپ کو نہیں دیکھ رہی تھی۔۔”
وہ دروازہ پورا کھولتے ہوئے باہر آگئی تھی۔۔شاہزیب اپنے فلیٹ کا دروازہ کھولا چھوڑ کر لاونج میں آگیا تھا۔افرحہ دھیرے سے قدم اٹھاتی اندر آگئی تھی۔۔
“میری جاسوسی کر رہی تھی۔۔”
شاہزیب اس کی جانب دیکھتا سرد لہجے میں پوچھنے لگا۔۔
“اپنے پیاروں کی خیر خبر رکھنے میں کوئی بری بات نہیں ہے۔۔”
وہ لب دبا کر جس انداز میں بولی تھی شاہزیب نے ائبرو اچکاتے اسے دیکھا تھا۔
“اچھا۔۔۔”
شاہزیب اس کی جانب ایک قدم بڑھاتا بولا۔
“جی اب یہ بتائیں وہ کون تھی ؟”
افرحہ نے لب کاٹتے کڑے تیوروں سے پوچھا۔
“تمھیں اس سے کیا مطلب ؟”
شاہزیب لب دبا کر اس کے چہرے پر غصہ چھاتا ہوا دیکھ رہا تھا۔
“ایک بات یاد رکھیے گا آپ صرف میرے ہیں اگر آپ کسی دوسرے کی نظر مجھ پر برداشت نہیں کرسکتے تو میں بھی ہر گز کسی دوسری عورت کو آپ کے ارد گرد برداشت نہیں کروں گی۔۔”
وہ غصے سے بپھری چند قدم شاہزیب کی طرف بڑھاتی اس کا کالر جکڑتی ہوئی چیخ کر بولی تھی۔
شاہزیب کے ہونٹ ایک جاندار مسکراہٹ میں ڈھلے تھے پہلی بار اسے افرحہ کا چیخنا برا نہیں لگا تھا۔اس کا اس طرح حق جمانا شاہزیب کو خوش کر گیا تھا۔اس کا مطلب تھا آگ دونوں طرف برابر لگی ہوئی تھی۔
“وہ میری پھپھو تھیں۔۔”
شاہزیب کے جواب پر اس نے معصومیت سے آنکھیں جھپکی تھیں اسے ایک منٹ لگا تھا سمجھنے میں۔۔
“تمھارے گھر رشتہ بھیجنے کی بات کی ہے تم بھی رات کو اپنے پیرنٹس سے بات کرلو اور مجھے اپنے گھر کا ایڈریس دے دو۔۔”
نرمی سے چند لٹیں اس کے چہرے سے ہٹاتے گال کے پیچھے اڑستے ہوئے وہ سنجیدگی سے گویا ہوا تھا۔افرحہ نے آہستہ سے اس کا کالر آزاد کیا تھا۔۔
“ج۔۔جی میں آج رات بات کروں گی اور انھیں آپ کے بارے میں بھی بتا دوں گی۔۔لیکن مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔اگر انھوں نے انکار کردیا۔۔”
وہ لرزتی پلکیں اٹھاتی اپنی سنہری آنکھیں شاہزیب کی سیاہ آنکھوں سے ملاتی ایک انجانہ خوف کے زیرِ اثر بولی تھی۔
“میں تمھیں کبھی خود سے جدا نہیں ہونے دوں گا۔۔تمھیں میرا بنبے سے تمھارے پیرنٹس بھی روک نہیں پائیں گے۔۔ایک بار جو چیز شاہزیب میر حاتم کو پسند آجائے وہ پھر اس کی ہی ہوکر رہتی ہے۔۔”
وہ ٹھنڈے ٹھار لہجے میں بولا تھا۔افرحہ کا دل بےدھڑک دھڑکنے لگا تھا۔
“م۔۔میں کوئی چیز نہیں ہوں۔۔”
وہ چٹخ کر بولی تھی۔
“جانتا ہوں تم تو میری روح کا حصہ ہو۔۔”
وہ جس انداز میں بولا تھا افرحہ کی دھرکنیں رقص کرنے لگی تھیں۔۔
“م۔۔میں اب جاتی ہوں بابا کی کال بھی آنے والی ہوگی۔۔”
وہ تیزی سے شاہزیب سے دور ہٹتی باہر بھاگی تھی۔جس پر شاہزیب نے اسے جاتا دیکھ کر ایک گہری سانس خارج کی تھی۔اسے امید تھی جیسا وہ چاہتا ہوگا ویسا ہی ہوگا۔۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
“بابا جانی میں زید سے شادی نہیں کرنا چاہتی م۔۔میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں۔۔”
وہ آنکھیں میچ کر تیزی سے بول گئی تھی باپ کے سامنے پسندیدگی کا اظہار کرنے میں اسے شدید جھجھک محسوس ہورہی تھی۔
رحیم صاحب بیٹی کی بات سنتے ایک دم خاموش ہوگئے تھے۔۔
“کون ہے لڑکا۔۔؟”
انھوں نے بیٹی کے پریشان چہرے پر نظر ڈالتے سنجیدگی سے پوچھا۔
“ہمارے ساتھ والے فلیٹ میں رہتے ہیں۔۔کسی یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔۔پاکستان سے تعلق ہیں میرا ایڈریس مانگ رہے ہیں ہمارے گھر رشتہ بھیجنے کے لیے۔۔”
وہ لب کاٹتی دھیمی آواز میں بول رہی تھی۔شاہزیب کے اپنے پروفیسر ہونے کے بارے میں بھی وہ چھپا گئی تھی۔۔رحیم صاحب نے گہری نظروں سے بیٹی کا جائزہ لیا تھا۔
“ٹھیک ہے تم اسے ایڈریس دے دو اسے کہو رشتہ بھیجے۔۔”
ان کی بات سنتے افرحہ شدید حیران ہوئی تھی۔
“تھینک یو سو مچ بابا جانی۔۔”
وہ نم لہجے میں بولی تھی۔۔رحیم صاحب نے دھیرے سے سر ہلایا تھا۔۔
“اگر اس لڑکے میں کوئی بھی خرابی نکلی تو میں ہرگز اس رشتے کے لیے ہاں نہیں کروں گا۔۔”
رحیم صاحب سنجیدگی میں جس انداز میں گویا ہوئے تھے افرحہ گھبرا گئی تھی۔
“وہ بہت اچھے ہیں بابا جانی۔۔امید ہیں آپ کے معیار پر بھی پورا اتریں گے۔۔”
افرحہ بھی سنجیدگی سے بولی تھی جس پر رحیم۔صاحب نے صرف ہنکار بھرنے میں ہی اکتفا کیا تھا۔افرحہ سے مزید باتیں پوچھتے وہ کال بند کر گئے تھے۔۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
عادل اپنے پیرنٹس کے ساتھ شروع سے ہی کینیڈا میں رہا تھا چند سال پہلے ہی اس کے پیرنٹس پاکستان شفٹ ہوئے تھے۔دو دن پہلے ہی وہ اس سے ملنے کینیڈا آئے تھے۔
عادل آج ان کے ساتھ ڈنر کرنے ہوٹل میں آیا تھا ہلکی پھلکی باتیں کرتا وہ پرانی باتیں یاد دلاتا انھیں ہنسانے لگا تھا۔جب اچانک سامنے بریرہ نامی بلا پر نظر پڑتے ہی اس کی مسکراہٹ سمٹی تھی۔
“یہ مصیبت یہاں کیا کر رہی ہے؟”
وہ منہ میں بڑبڑایا تھا۔ساتھ ہی فورا اپنا رخ بائیں جانب موڑ گیا تھا۔تاکہ اس کی چیل جیسی نظروں سے بچ سکے مگر ایسا ممکن ہوسکتا تھا کہ اس سے کوئی بچ سکے۔۔
“واٹ آ سرپرائز جان۔۔”
بریرہ اس کے قریب آتی خوشگوار لہجے میں بولی تھی۔عادل کے پیرنٹس طلحہ صاحب اور مسز طلحہ نے حیرت سے سامنے کھڑی بریرہ اور پھر عادل پر نظر ڈالی تھی۔جو اس کے اس طرح قریب آکر بولنے پر ہربڑا گیا تھا۔
“ایکسکیوز میں موم ڈیڈ۔۔۔”
وہ ان سے ایکسکیوز کرتا اٹھنے لگا تھا جب مسز طلحہ نے اسے روکا تھا۔
“ایک منٹ رکو عادل۔۔۔تم نے بتایا نہیں تم کسی لڑکی کو پسند کرتے ہو۔۔”
مسز طلحہ حیرانی سے پوچھ رہی تھیں۔عادل نے بےساختہ اپنی مٹھیاں بھینچ کر کڑے تیوروں سے بریرہ کو دیکھا تھا جو اسے اگنور کرتی کرسی کھینچ کر بیٹھ چکی تھی۔
“موم م۔۔”
وہ انکار کرنے لگا تھا لیکن بریرہ اس کی بات کو نرمی سے کاٹ گئی تھی۔
“جی آنٹی عادل نے مجھے چند دن پہلے ہی پرپوز کیا ہے۔۔وہ آپ لوگوں کو مجھ سے ملوانے کے لیے ہی یہاں لایا تھا۔۔”
بریرہ اپنے ہاتھ میں موجود ڈائمنڈ رنگ انھیں دیکھاتی ہوئی بولی تھی۔عادل اس کی بکواس سنتا طیش میں آیا تھا جبکہ طلحہ صاحب اور ان کی بیگم لاجواب ہوکر عادل کو دیکھنے لگے تھے۔
“موم یہ لڑکی جھوٹ بول رہی ہے۔۔”
وہ چٹخ کر اپنا غصہ بمشکل کنٹرول کرتا ہوا بول رہا تھا۔۔
“میں جھوٹ کیوں بولوں گی آنٹی ؟”
بریرہ آنکھوں میں نقلی آنسو لاتی بولی تھی اور یہاں ہی مسز طلحہ پگل گئی تھی۔
“شیم اون یو عادل ہم نے تمھاری ایسی تربیت نہیں کی تھی۔اگر تم اس لڑکی کو پسند کرتے ہو تو ہم سے چھپانے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی ہمیں کوئی اعتراض ہے۔۔”
مسز طلحہ برہمی سے بولی تھیں۔۔
“موم ایسا کچھ نہیں ہے کیا آپ کو اپنے بیٹے پر یقین نہیں؟”
وہ اپنے ماں باپ کو اٹھتا دیکھ کر جھنجھلا کر بولا تھا۔
“تم اپنی زندگی کا فیصلہ کرچکے ہو۔۔ہمیں تمھاری پسند سے کوئی اعتراض نہیں اب کم از کم ہمارے یہاں ہوتے ہوئے نکاح کرلینا۔۔”
طلحہ صاحب تیز لہجے میں بولتے اپنی بیگم کو لے کر جا چکے تھے۔پیچھے بریرہ اور حیران و پریشان کھڑا عادل بچے تھے۔
عادل نے بریرہ کی طرف رخ موڑا تھا۔اسے سرخ انگارہ آنکھوں سے گھورتے اس وقت اس کا دل بریرہ قتل کرنے کا چاہا تھا۔
“اتنا ہائپر کیوں ہو رہے ہو؟ چل ک۔۔”
اس کی باتیں عادل کو مزید طیش دلا گئی تھیں اس کا ہاتھ بے ساختہ اٹھا تھا اور بریرہ کے چہرے پر چھاپ چھاڑ چکا تھا۔سہ اس کے ضبط کی انتہا کو چھو گئی تھی۔
آج تو اس نے ہر حد پار کردی تھی اسے اس کے ماں باپ کے سامنے شرمندہ کردیا تھا۔وہ کیسے برداشت کرلیتا۔۔؟
“تمھیں یہ سب بہت بھاری پڑے گا۔۔تمھاری زندگی حرام نہ کردی میرا نام بھی عادل نہیں۔۔”
وہ اس کے چہرے پر غراتا اپنے والٹ سے پیسے نکال کر ٹیبل پر پھینکتا منہ پر ہاتھ رکھے حیران بیٹھی بریرہ کو چھوڑ کر جا چکا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
ایک ہفتہ گزر گیا تھا سب کچھ اچھے سے جارہا تھا۔شاہزیب افرحہ کے ساتھ حسین یاد بنانے میں مصروف تھا زندگی خواب سی لگنے لگی جب ایک دن اچانک افرحہ سرخ آنکھیں لیے اس کے فلیٹ میں داخل ہوئی تھی۔۔ایک انجانے خوف کے تحت شاہزیب کا دل زوروں سے دھڑکا تھا۔
“کیوں چھپایا مجھ سے۔۔”
افرحہ شاہ زیب میر حاتم کے روبرو کھڑی چیخی تھی۔۔سرخ آنکھیں اس کے رونے کی چغلی دے رہی تھیں۔۔
شاہ زیب نے ناسمجھی سے اس کی طرف دیکھا۔۔
“کس بارے میں بات کر رہی ہو؟”
شاہ زیب نے اپنی سنجیدہ بھاری آواز میں پوچھا۔
“ہاہاہا۔۔۔آپ جیسا جھوٹا اور مکار شخص میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔۔”
وہ خالی قہقہہ لگاتی اسے گھور رہی تھی۔
“افرحہ جو بھی بات ہے صاف بتاو۔۔مجھے تمھاری بات کی کوئی سمجھ نہیں آرہی۔۔”
شاہ زیب ماتھے پر سلوٹیں ڈالے بولا تھا۔۔
“کیوں چھپایا مجھ سے کہ آ۔۔آپ ر۔۔ر۔۔ریپسٹ ہیں۔۔”
وہ شاہ زیب کا گریبان پکڑتی چیخی تھی۔۔اس کی باتیں شاہ زیب پر بجلی بن کر گری تھی۔وہ جتنا یہ بات افرحہ سے چھپانے کی کوشش کر رہا تھا وہ بات اتنی ہی کھل کر اس کے سامنے آچکی تھی۔۔
“افرحہ تم غلط سمجھ رہی ہو۔۔ایسا کچھ نہیں ہے۔۔”
شاہ زیب نے اس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی تھی۔۔
“مجھے آپ پر یقین نہیں رہا۔۔”
وہ شاہ زیب سے دور ہٹتی بولی تھی۔۔
“افرحہ یہ سچ نہیں ہے۔۔”
شاہ زیب مٹھیاں بھینچتا بولا تھا۔۔
“م۔۔مجھے تو آپ کے ساتھ یہاں اکیلے ک۔۔کھڑے رہنے م۔۔میں ب۔۔بھی ڈر لگ رہا ہے۔۔”
وہ بگڑے تنفس سے بولی تھی۔۔اس کا سانس اکھڑنے لگا تھا۔۔
“تمھارا انحیلر کہاں ہے ؟”
اس کی بات پر اپنے لب بھینچتے وہ بھاری آواز میں پوچھ رہا تھا۔۔
“آپ کو۔۔م۔۔میری فکر کرنے کی ک۔۔کوئی ض۔۔ضرورت نہیں ہے۔۔میں رات کی فلائٹ سے واپس جارہی ہوں۔۔”
وہ گہرے گہرے سانس لیتی چیخ کر بولی تھی۔۔شاہ زیب کو لگا اس کا دل کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔
“مجھے ایک بار ایکسپلین کرنے کا موقع دو۔۔”
شاہ زیب سرخ چہرے کے ساتھ آنکھوں میں آس لیے بولا تھا۔۔
“آپ نے سب کچھ ختم کردیا۔۔اب آپ کی ایکسپلینیشن میرے کسی کام کی نہیں۔۔آپ نے میرا بھروسہ توڑ دیا۔۔بابا نے میری شادی زید سے فکس کردی ہے دو دن بعد میرا نکاح ہے۔۔”
وہ بھیگی پلکوں اور سرخ آنکھوں سے بگڑے تنفس کے ساتھ اذیت بھری مسکراہٹ کے ساتھ بولتی شاہ زیب کی سانسیں روک گئی تھی۔۔
“تم نے جو میرے ساتھ وعدہ کیا تھا اس کا کیا ؟”
وہ لال ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھتا پوچھ رہا تھا۔
“وعدے تو ٹوٹنے کے لیے ہی ہوتے۔۔جیسے آپ نے میرا یقین توڑا۔۔”
وہ گہرے گہرے سانس لیتی بول رہی تھی۔۔
“اس شادی سے انکار کردو افرحہ پلیز۔۔مجھے ایک موقع دو۔۔”
شاہ زیب زندگی میں پہلی بار کسی کے سامنے گڑگڑایا تھا۔۔
“میں انکار نہیں کرسکتی۔۔بابا کی بات سے کیسے انکار کردوں ؟ انھوں نے پہلی بار کچھ مانگا ہے دینا تو پڑے گا۔۔”
“مجھ سے نکاح کر لو افرحہ۔۔”
وہ افرحہ کا ہاتھ پکڑتا التجائیہ انداز میں بولا تھا
“آپ کی چند دنوں کی محبت میرے ماں باپ کی محبت کے آگے کچھ بھی نہیں ہے۔۔وہ لوگ تو مان بھی گئے تھے اگر آپ کے پیرنٹس انھیں آپ کی اصلیت نہ بتاتے۔۔بابا نے کہا اگر میں رات کو واپس نہ آئی وہ مجھ سے ہر قسم کا رشتہ ختم کردیں گے۔”
وہ شاہ زیب سے ہاتھ چھڑواتی پیچھے ہٹی تھی۔۔
“آپ جیسے جھوٹے اور ریپسٹ شخص کے لیے میں اپنے پیرنٹس کو نہیں چھوڑ سکتی۔۔”
وہ چیخ کر بولی تھی۔۔
“فار گاڈ افرحہ سیک۔۔میں ریپسٹ نہیں ہوں۔۔”
شاہ زیب پہلی بار چیخا تھا۔۔افرحہ کا دل اچھل کر حلق میں آگیا تھا۔۔وہ ڈر کر شاہ زیب سے مزید دور ہوئی تھی۔۔
“اگر میں ایسا ہوتا تو اس وقت تم باعزت میرے سامنے کھڑی نہ ہوتی۔۔مت بھولو میں نے ہی تمھاری عزت کو بچایا تھا۔۔میں تمھیں ابھی کچھ نہیں بتاوں گا کیونکہ تم سمجھنے کی کنڈیشن میں نہیں ہو۔۔”
شاہزیب سرخ آنکھیں ، سختی سے پیوست ہونٹوں اور مٹھیوں کو بھینچتا ضبط کی انتہا پر تھا۔۔
“مجھے اب آپ کی کوئی بات نہیں سننی۔۔”
وہ اپنا تنفس بحال کرنے کی کوشش میں ہلکا ہوتی بولی تھی۔
“شاہزیب میر حاتم کی رگوں میں خون بن کر تمھاری محبت دوڑتی ہے۔۔جہاں تک ممکن ہوتا ہے بھاگ لو۔۔لیکن میری ایک بات یاد رکھنا۔۔۔بیوی تم صرف میری ہی بنو گی۔۔”
شاہزیب ایک قدم اس کے قریب بڑھتا دھیمے لہجے میں غریا تھا۔۔افرحہ کو اس سے شدید خوف محسوس ہوا تھا۔وہ الٹے قدموں سے مڑتی تیزی سے وہاں سے بھاگ گئی تھی۔۔شاہزیب نے اس کے جانے کے بعد سارے فلیٹ کو تہس نپس کر دیا تھا۔
“مجھ سے چھٹکارا پانا آسان نہیں افرحہ۔۔شادی تو تمھاری صرف مجھ سے ہی ہوگی۔۔”
وہ بالوں کو نوچتا شدت گریہ سے چیخا تھا۔
