Professor Shah by Zanoor Writes NovelR50559 Professor Shah (Episode 18)
Rate this Novel
Professor Shah (Episode 18)
Professor Shah by Zanoor Writes
بریرہ افرحہ کے جانے بعد اداس ہوگئی تھی۔عادل سے تھپڑ کھانے کے بعد وہ اس سے ملنے بھی نہیں گئی تھی۔اس کے پیرنٹس کی مسلسل دو دن سے اسے کالز آرہی تھیں جنھیں وہ اگنور کر رہی تھیں۔ایک ہفتے بعد اس کی انگیجمینٹ تھی اور اس کا بھاگنے کا پورا پلان بن چکا تھا۔عادل سے وہ مکمل طور پر مایوس ہوچکی تھی۔
وہ دو دن سے مسلسل اپنے اکاونٹ سے وقفے وقفے سے رقم نکلوا رہی تھی۔تاکہ اس کے گھر والوں میں سے کسی کو شک نہ ہو۔۔اپنی ضرورت کی چیزیں وہ پیک کرنے لگی تھی۔اس کا ارادہ افرحہ کے پاس پاکستان جانے کا تھا۔
یہاں کے ماحول سے ویسے ہی اس کا دماغ خراب ہونے لگا تھا۔سگریٹ پینے کا دل شدت سے چاہا تھا۔لیکن خود کو روکتی وہ ہونٹ سختی سے بھینچ کر بیٹھ گئی تھی۔
صبح سے اپنا سامان پیک کرنے کے چکر میں وہ بری طرح تھک چکی تھی۔صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے وہ اپنا گھٹنا جھلا رہی تھی۔خود کو سگریٹ پینے سے روکنا کس قدر مشکل کام تھا اسے اب اندازہ ہو رہا تھا۔
“بھاڑ میں جائے سب کچھ۔۔”
وہ جھنجھلا کر سگریٹ کا پیکٹ نکالنے جانے لگی تھی جب دروازے پر ہوتی بیل نے اس کے قدم روک دیے تھے۔وہ آنکھیں گھماتی بےزار سی دروازہ کھولنے گئی تھی۔۔
“تم۔۔”
جھٹکے سے دروازہ کھولنے پرسامنے کھڑے عادل کو دیکھتی وہ چیخی تھی۔اس کا بھاری ہاتھ کا تھپڑ ابھی تک اس کی سوچوں میں پیوست تھا۔
“پیچھے ہٹو اندر آنے دو۔۔اپنے فیانسی کو دروازے پر کھڑے رکھنا اچھی بات نہیں ہے۔۔”
دروازہ مکمل کھولتا عادل دھڑلے سے اندر داخل ہوا تھا۔فلیٹ میں پھیلا سامان دیکھتے اس نے ائبرو اچکاتے بریرہ کو دیکھا تھا جو منہ بنائے غصے سے اسے گھور رہی تھی۔۔
“یہ تمھارا شادی کا جوڑا۔۔امی نے بھجوایا ہے ورنہ میرا تو دل تمھارا گلا دبانے کا تھا۔۔”
اپنے ہاتھ میں موجود شاپنگ بیگ اس کے قدموں کے پاس پھینکتا وہ سپاٹ انداز میں سرد لہجے میں گویا ہوا۔
بریرہ کے چہرے پر مایوسی اور ذلت کے احساس کے تحت گہرے سائے لہرائے تھے۔اس نے اپنے قدموں میں پڑے بیگ کو دیکھا تھا جس میں سےسرخ رنگ کا جوڑا اپنی جھلک دکھا رہا تھا۔
“اپنا یہ دو ٹکے کا ڈریس اٹھاو اور میرے فلیٹ سے نکل جاو۔۔”
وہ غصے کی شدت سے کانپتی چیخی تھی۔عادل کا چہرہ غصے سے سرخ پڑنا شروع ہوا تھا۔۔
“تمھیں ہی میری بیوی بننے کا شوق تھا اب چپ چاپ کل تیار رہنا۔۔”
وہ ایک قدم بریرہ کی جانب بڑھاتا ناگواریت سے بولا تھا۔بریرہ نے اسے کھاجانے والی نظروں سے دیکھا تھا۔
“تم جیسے آدھے دماغ والے شخص کی بیوی بننے سے بہتر ہے میں زہر کھالوں۔۔”
وہ طیش کے عالم میں بولی تھی اس کے منہ سے سچائی کچھ زیادہ ہی کڑوی محسوس ہو رہی تھی۔
“تم نے جو مزاق میں گھٹیا حرکت میرے پیرنٹس کے سامنے کی ہے اس کا خمیازہ تو بھگتنا ہی پڑے گا۔۔”
وہ پینٹ کی پاکیٹوں میں ہاتھ ڈالے سرسراتے لہجے میں بولا تھا۔بریرہ کو بےساختہ اس سے خوف محسوس ہوا تھا۔
“شٹ اپ فورا نکلو یہاں سے۔۔”
وہ دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے چیخی تھی۔عادل نے اپنے کان پر بےساختہ ہاتھ رکھا تھا۔
“آہستہ آواز میں بولو تمھارے قریب ہی کھڑا ہوں میلوں فاصلے پر نہیں جو میرے کان پھاڑنے کی کوشش کر رہی ہو۔۔تیار رہنا کل ایک بجے پک کرنے آوں گا اور کوئی بھی چالاکی مت کرنا۔۔اب میں نے پختہ ارادہ کر لیا ہے تمھیں اپنی بیوی بنانے کا اس لیے بھاگنے اور چھپنے سے گریز کرنا۔۔
عادل سخت لہجے میں اس کی جانب دیکھتا بولا تھا۔بریرہ نے اسے پھاڑ کھاجانے والی نظروں سے دیکھا تھا۔۔
“واٹ ایور جسٹ گیٹ آوٹ۔۔”
وہ ہاتھ ہلاتی بظاہر لاپرواہ انداز میں بولی تھی لیکن دل میں آگ سی لگی ہوئی تھی۔عادل ایک نظر اس پر ڈالتا باہر کی جانب بڑھ گیا تھا۔
“تمھاری اس زبان کا علاج میں بعد میں کروں گا۔۔”
اس کے قریب سے گزرتا وہ دھیمے مگر سنجیدہ آواز میں بولتا اس کی دھڑکنیں منتشر کر گیا تھا۔بریرہ نے بےساختہ اپنی مٹھیاں بھینچی تھیں۔۔اس کے جانے کے بعد وہ زور سے دروازہ بند کرتی زمین پر بیٹھتی چلی گئی تھی۔۔
سامنے پڑے سرخ کو گھورتے اس نے آہستہ سے اپنی طرف کھسکتے کھولا تھا جس میں سرخ رنگ کا نفیس سے کام والی میکسی تھی۔اس پر نرمی سے ہاتھ پھیرتے وہ اپنی سوچوں میں غرق ہوگئی تھی۔اس نے آج تک بمشکل ہی کبھی ایسٹرن سٹائل کا ڈریس پہنا ہوگا۔تبھی فراک کو دیکھتے اسے عجیب محسوس ہو رہا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
وہ آئینے کے سامنے کھڑی خود کو دیکھ رہی تھی۔شاہزیب اسے روم میں چھوڑ کر ناجانے خود کہا غائب ہوگیا تھا۔افرحہ نے خود پر ایک بھرپور نظر ڈالی تھی۔سکن گولڈن جوڑے میں وہ قیامت خیز لگ رہی تھی اوپر سے سرخ آنکھیں اس کے حسن کو مزید دو آتشہ کر رہے تھے۔۔
اس نے آہستہ سے اپنے ہاتھ میں موجود چوڑیاں اتارنا شروع کی تھیں۔سوچوں کا مرکز انجانے میں ہی شاہزیب کے گرد تھا۔اسے امید نہیں تھی شاہزیب کچھ ایسا بھی کرسکتا تھا۔
چوڑیاں اتار کر ابھی وہ ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ ہی رہی تھی جب دروازہ کھولتے شاہزیب روم میں داخل ہوا تھا۔افرحہ نے ایک نظر اس پر ڈالتے ہی اپنی نظریں جھکا لی تھیں۔
کالے کرتے میں وہ آج کچھ زیادہ ہی ہینڈسم لگ رہا تھا۔ اس کے ماتھے پر بکھرے بال اور چہرے پر چھائی انوکھی چمک اس کی خوشی کا اظہار کر رہے تھے۔
وہ دھیرے سے قدم اٹھاتا اس کے عین پشت پر کھڑا ہو گیا تھا۔افرحہ کی تھوڑی پکڑتے اس کا چہرہ اوپر اٹھایا تھا۔
افرحہ کی نظریں شیشے سے شاہزیب کی پرتپش نگاہوں سے ملی تھیں۔۔اس کی دھڑکنیں بےساختہ بڑھ گئی تھیں۔ہاتھوں میں پسینہ آنے لگا تھا۔کانوں سے دھواں نکلتا محسوس ہونے لگا تھا۔
“تم نے سوچ بھی کیسے لیا میں تمھیں کسی اور کا ہونے دوں گا۔۔”
اس کی گردن دبوچتے شاہزیب نے اس کی پشت اپنے سینے سے لگا لی تھی۔۔افرحہ گھبراتی ہوئی اس کے ہاتھ کو تھام گئی تھی۔لیکن اس کا نازک ہاتھ شاہزیب کے فولادی ہاتھ کا مقابلہ ہرگز نہیں کرسکتے تھے۔
“ش۔۔شاہزیب۔۔”
اس کے منہ سے پہلی بار اپنا نام سنتے شاہزیب کو خود میں سرور سا اترتا ہوا محسوس ہوا تھا۔
“میں جب بھی یہ سوچتا ہوں تم مجھے چھوڑ کر اس چپکو سے شادی کرنے والی تھی میرے دل سلگ اٹھتا ہے۔۔سب سے پہلے تمھاری سانس روکنے کو دل کرتا ہے جس نے میری محبت میں خیانت کرنے کا خیال اپنے ذہن میں لایا۔۔”
وہ اس کی گردن پر ہلکی سی گرفت مضبوط کرتا بول اٹھا تھا۔افرحہ کی آنکھیں خوف سے مزید پھیلی تھیں۔۔
“آ۔۔آپ نے م۔۔مجھ سے باتیں چھپائی۔۔”
وہ شکوہ کن نظروں سے بولی تھی۔شاہزیب نے اپنا دوسرا ہاتھ اس کے پیٹ کے گرد باندھتے اسے زور سے اپنے سینے میں بھینچا تھا۔
“میں نے تم سے کچھ بھی چھپایا نہیں تھا بس تمھیں فلحال بتانا مناسب نہیں سمجھا تھا اور جو بھی بات ہے میں خود تمھیں بتا دوں گا دوبارہ کسی دوسرے کی بات سن کر میرے پر الزام لگانے اور لڑنے کی جرت مت کرنا۔۔”
وہ آئینے میں اس کی نظروں میں نظریں ڈالتا سنجیدگی سے بولا. تھا افرحہ نے اپنے لب کاٹے تھے۔
“مجھے بھی حقیقت جاننے کا حق ہے۔۔”
وہ دھیمی آواز میں بولی تھی۔شاہزیب کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی تھی۔اس کی گردن سے اپنی گرفت ہٹاتے وہ اپنے دونوں ہاتھ اس کی کمر کے گرد باندھ چکا تھا۔
“تمھارے اور بھی بہت سے حق ہیں۔۔”
وہ اس کا دوپٹہ کندھے سے ہٹاتا وہاں اپنی ٹھوڑی رکھتا اس کے کان میں گھمبیر لہجے میں بولا تھا۔افرحہ اس کا ذومعنی بات سمجھتی گردن تک سرخ پڑ گئی تھی۔
“آ۔۔آپ بہت بےشرم ہیں۔۔”
وہ آنکھیں جھکاتی کپکپاتی آواز میں بولی تھی۔
“فورا اوپر دیکھو۔۔دوبارہ اپنی نظریں نیچے مت جھکانا”
شاہزیب کے سنجیدگی سے بولنے پر اس نے لرزتی پلکیں دوبارہ اوپر اٹھائی تھیں۔۔آئینے میں اس کی نظریں شاہزیب سے ٹکرائی تھیں۔۔اس کی بیک بون میں سرسراہٹ سی ہوئی تھی۔
“اور میں نے ابھی ایسی کوئی حرکت نہیں کی کہ تم مجھے بےشرم کہو۔۔”
وہ اس کے گلابی نرم و نازک گالوں پر ہولے سے لب رکھتا جذبات سے چور لہجے میں بولا تھا۔افرحہ کا دل تیزی سے دھڑک اٹھا تھا۔وہ گہرے گہرے سانس بھرتی شاہزیب کا پرحدت لمس خود پر محسوس کر رہی تھی۔۔
“ش۔۔شاہ۔”
شاہزیب نے ایک جھٹکے میں اسے خود کی طرف موڑتے اس کی سانسوں کو خود میں قید کیا تھا۔اس کے نرم و نازک لپ اسٹک سے سجے ہونٹوں کو نرمی سے اپنی گرفت میں لیتے شاہزیب نے اس کو کمر سے مضبوطی تھام کر اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔۔
افرحہ نے بےساختہ اس کے کرتے کے کالر کو ہاتھوں میں دبوچا تھا۔
اس کی سانسوں کو خود میں قید کرتے شاہزیب مدہوش ہوا تھا۔کمرے میں فسوں خیز خاموشی تھی بس ان کی دھڑکنوں کا رقص سنائی دے رہا تھا۔
افرحہ نے اپنا سانس بند ہوتا محسوس کرکے اس کے سینے پر ہاتھ مارنا شروع کیا تھا۔شاہزیب نے دھیرے سے اس کے لبوں کو آزاد کیا تھا۔افرحہ گہرے گہرے سانس لیتی اس کے سینے پر سر ٹکا گئی تھی۔
شاہزیب نے مسکراتے ہوئے اس کے گرد اپنا گھیرا تنگ کیا تھا۔اسے اپنے حصار میں لیتے شاہزیب کو بےحد سکون محسوس ہو رہا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
شاہزیب نے اسے خود سے ہٹاتے دھیرے سے اس کے دوپٹے کی پنز کھولنا شروع کی تھیں افرحہ سرخ چہرے سے آنکھیں جھکائے کھڑی تھی۔اس کی انگلیوں کا سرسراتا لمس اپنے کندھے پر محسوس کرتے وہ ایک پل کو اچھل پڑی تھی۔
شاہزیب کے ہونٹوں پر دلفریب مسکراہٹ آئی تھی۔دوپٹہ اتار کر ڈریسنگ ٹیبل پر پھینکتے اس نے افرحہ کے کانوں میں موجود جھمکے نکالے تھے۔اس کی کان کی لو کو ہونٹوں سے چھوتے شاہزیب افرحہ کا سانس خشک کر گیا تھا۔
“شاہزیب پل۔۔پلیز۔۔”
وہ مقابل کی ٹھنڈی انگلیوں کا لمس گردن پر محسوس کرتی تڑپ اٹھی تھی۔شاہزیب نے اس کے نیکلس کی ڈووری کھولتے اس کی گردن پر اپنے ہونٹ رکھے تھے۔اس کے لمس سے افرحہ نے زور سے آنکھیں میچ لی تھیں۔شاہزیب کی داڑھی کی چھبن ایک عجیب سا سرور پیدا کر رہی تھی۔۔شاہزیب نے اس کی گردن سے ہونٹ ہٹاتے اس کے جوڑے میں مقید بالوں کو کھول دیا تھا۔
“جاو کپڑے چینج کرلو۔۔۔”
اس کی حالت پر ترس کھاتا شاہزیب پیچھے ہٹ گیا تھا۔۔الماری میں سے اپنا ٹراوزر اور شرٹ نکال کر اس نے افرحہ کے ہاتھوں میں تھمائی تھی کیونکہ افرحہ کے چینج کرنے کے لیے کوئی کپڑا نہ تھا۔
“م۔۔میں یہ کیسے پہنوں گی۔۔”
وہ لب دبا کر کپکپاتی آواز میں گویا ہوئی۔
“جیسے پہنتے ہیں۔۔صبح تمھارے کپڑے منگوا دوں گا فلحال ان سے گزارا کرو۔۔اس سے پہلے میں اپنا ارادہ بدل لوں جلدی سے کپڑے چینج کرلو۔۔”
اس کے چہرے سے بال ہٹاتا وہ اس کے دائیں گال کو سہلاتا ہوا لو دیتی نظروں سے بولا تھا۔افرحہ تیزی سے کپڑے سینے سے لگاتی واشروم میں بھاگ گئی تھی۔
اس کی تیزی دیکھتے شاہزیب کے ہونٹ ہلکے سے اوپر اٹھے تھے۔اس کے انتظار میں شاہزیب بیڈ پر بیٹھ گیا تھا۔سائیڈ ٹیبل سے سگریٹ اٹھاتے شاہزیب نے سلگاتے ہوئے اپنے لبوں میں دبائی تھی۔
دھواں کے مرغلے ہوا میں چھوڑتے وہ مسرور سا ٹیک لگائے لیٹنے کے انداز میں بیڈ پر بیٹھا ہوا تھا۔
افرحہ اپنے سرخ لب کاٹتی آہستہ سے واشرم سے نکلی تھی۔اس کی شرٹ اور ٹراوزر میں وہ بالکل ہی چھپ گئی تھی۔ٹروازر کو آدھے سے زیادہ وہ نیچے سے فولڈ کر چکی تھی۔جبکہ شرٹ کے بازوں کو بھی کوہنیوں تک فولڈ کیے ہوئے تھا۔۔
شاہزیب کی نظروں سے کنفیوز ہوتے افرحہ اپنی ہاتھوں کی انگلیوں سے کھیلنے لگی تھی۔۔
“میرے پاس آو۔۔”
سگریٹ زمین پر پھینک کر مسلتے شاہزیب نے اس کی جانب ہاتھ بڑھاتے اپنے پاس بلایا تھا۔
افرحہ کانپتی ٹانگوں سے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر اس کے قریب گئی تھی۔۔اپنا چھوٹا سا ہاتھ اس نے شاہزیب کے ہاتھ پر رکھا تھا جسے اپنی مضبوط گرفت میں لیتے شاہزیب نے اسے اپنے اوپر کھینچ کر گرایا تھا۔
افرحہ بری طرح گڑبڑائی تھی۔شاہزیب کی جانب دیکھتے اس نے اپنے لب کاٹنا شروع کیے تھے۔
“مجھے اریٹیشن ہورہی ہے دوبارہ ایسا مت کرنا۔۔”
افرحہ کا ہونٹ انگوٹھے کی مدد سے افرحہ کے دانتوں سے آزاد کرواتے وہ جھنجھلا کر بولا تھا۔اس کا خوشبووں میں بسا نرم وہ نازک وجود شاہزیب کے ہوش اڑا رہے تھے اوپر سے اس کی یہ حرکتیں وہ خود پر کنٹرول بمشکل رکھ پا رہا تھا۔۔
افرحہ شرمندگی سے سرخ پڑتی دھیرے سے سر ہلا گئی تھی۔اس کا سر اپنے سینے سے لگاتے شاہزیب نے اس کے بالوں میں اپنا چہرہ چھپا لیا تھا۔
وہ شاہزیب کا سکون تھی۔۔
اس کی روح کا حصہ تھی۔۔
اس کی پہلی محبت تھی۔۔
افرحہ شاہزیب میر حاتم۔۔
افرحہ آنکھیں موندتی اس کے سینے میں سر رکھے ہی نیند کی آغوش میں چلی گئی تھی۔۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
عادل بےزار سا بلیک فارمل ڈریس میں بریرہ کو پک کرنے آیا تھا۔اسے امید تھی بریرہ اب تک بھاگ گئی ہوگی۔دروازے پر بیل بجاتے وہ اس کے دروازہ نہ کھولنے پر مسکراتا ہوا مڑنے لگا تھا جب دروازہ کھلنے کی آواز پر اس کی مسکراہٹ سمٹی تھی۔
بریرہ پر نظر پڑتے ہی وہ ساکت ہوا تھا۔سرخ گھیر دار فراک میں لائٹ سا میک اپ کیے وہ بےحد پیاری لگ رہی تھی۔اس نے پہلی بار بریرہ کو اس طرح کے ڈریس میں دیکھا تھا اور دیکھتا ہی رہ گیا تھا۔
“تمھیں کیا لگا میں ڈر کر بھاگ جاوں گی ؟”
ائبرو اچکاتے بریرہ نے استہزایہ نظروں سے اسے دیکھتے پوچھا جو بلیک تھری پیس سوٹ میں اپنی شاندار پرسنیلٹی کے ساتھ اسے کھلے منہ کے ساتھ دیکھ رہا تھا۔ایک پل کو بریرہ کو لگا تھا شاید وہ اچھی نہیں لگ رہی۔۔لیکن اس کی آنکھوں میں پسندیدگی دیکھتی وہ گردن اکڑا کر کھڑی ہوگئی تھی۔
“مجھے تم سے کوئی امید نہیں تھی۔۔”
اپنا گلا کھنگارتے عادل بریرہ سے نظریں پھیرتے ہوئے بولا تھا۔
“ہاں بلاں بلاں۔۔اندر آجاو ابھی میں نے اپنی ہیلز پہننی ہیں۔۔”
وہ منہ بگاڑتی اسے اندر آنے کا بولتی اپنے روم میں چلی گئی تھی۔۔
عادل منہ پر ہاتھ پھیرتا لاونج میں بیٹھ گیا تھا۔اس کا دل عجیب انداز میں دھڑک رہا تھا۔۔کچھ ہی دیر بعد اس کا بریرہ سے نکاح تھے جسے سوچتے ہی وہ ایک الگ سی کیفیت محسوس کررہا تھا۔۔
اس نے ہمیشہ اپنی بیوی کے لیے کسی پاکستانی معصوم سی پڑھی لکھی لڑکی کا سوچا تھا نہ کہ بریرہ جیسی بولڈ ، کینیڈا کے ماحول میں پلی بھری ، کلبنگ کرتی ہوئی لڑکی کا سوچا تھا۔۔
“چلو چلیں۔۔”
دوپٹہ اپنے بازوں پر ڈالنے کی کوشش میں جھنجھلاتی ہوئی بریرہ عادل سے بولی تھی۔
عادل نے اس کی مشکل آسان کردی تھی وہ آگے بڑھتا اس کے ہاتھ سے دوپٹہ تھام کر اس کے کندھوں پر دھیرے سے پھیلا گیا تھا۔۔بریرہ شدید حیران ہوئی تھی۔۔
عادل اس کا دوپٹہ ڈالتا پیچھے ہٹ گیا تھا۔بریرہ خاموشی سے لب دباتی اس کے پیچھے چل پڑی تھی۔۔
نکاح کا انتظام عادل کے گھر پر کیا گیا تھا۔جہاں عادل کے دوست اور چند رشتے دار موجود تھے۔بریرہ سے عادل نے اس کے پیرنٹس کا پوچھا تھا جس کے بارے میں وہ سختی سے انکار کرگئی تھی۔اس کے بعد کسی نے اس سے اس متعلق کچھ نہیں پوچھا تھا۔۔
گواہوں کی موجودگی میں کچھ ہی دیر میں ان کا نکاح ہو گیا تھا۔۔مسز طلحہ نے اس کا ماتھا چومتے مبارک باد تھی۔پہلی بار اتنا شفقت بھرا لمس محسوس کرکے بریرہ کی آنکھیں نم ہوئی تھیں۔۔اپنے ماں باپ کا خیال آتے اس نے سختی سے لب بھینچ لیے تھے۔۔
“مجھے پتا ہے آپ نے اس دن انگیجمنٹ کے بارے میں جھوٹ بولا تھا۔۔”
مسز طلحہ اسے روم میں لے کر آئی تھیں جہاں نرمی سے بریرہ کا ہاتھ تھامتی وہ گویا ہوئی تھیں۔۔بریرہ اک دل بری طرح دھڑکا تھا۔۔اس کی زبان پر تالا لگ گیا تھا۔۔
“مجھے اپنے بیٹے پر اتنا اعتماد ہے کہ وہ کبھی بھی ہم سے چھپا کر اتنا بڑا قدم نہیں اٹھا سکتا۔۔”
مسز طلحہ اس کے خاموش جھکے چہرے پر نظریں مرکوز کیے بول رہی تھیں۔۔
“پ۔۔پھر آپ شادی کے لیے کیوں مانی ؟”
بریرہ نے ناسمجھی سے انھیں دیکھا۔۔
“صحیح وقت پر آپ کو پتا چل جائے گا۔۔۔”
اس کا چہرہ تھپتھپاتی مسز طلحہ اسے کنفیوز چھوڑ کر چلی گئی تھی۔۔
جاری ہے۔۔
