Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Professor Shah (Episode 33)

Professor Shah by Zanoor Writes

عادل ڈیوٹی سے تھکا ہارا گھر لوٹا تھا۔۔آج سارا دن ایک ضروری کیس کی سٹڈی میں گزر گیا تھا جس سے وہ خاصا تھک گیا تھا۔

“بریرہ ؟”

خالی گھر دیکھتے اس نے بریرہ کو پکارا تھا۔ اس کا دل بری طرح دھڑکا تھا۔

“بریرہ کہاں ہوں تم؟؟”

اس نے لاونچ کی لائٹس اون کرتے پوچھا تھا جب تءزی سے کچھ اڑتا ہوا آکر اس کے منہ پر گرا تھا۔ساتھ ہی بریرہ کی کھلکھلاتی ہنسی اور مزید ٹھنڈا پانی اس کے اوپر گرا تھا۔

“کیا کر رہی ہو بریرہ پاگل ہوگئی ہو۔۔”

ٹھنڈے پانی نے اسے ہلا کر رکھ دیا تھا۔

“یہ مجھے اس گھر میں سارا دن بند رکھنے کی سزا وہ بھی بنا کھانے کے۔۔”

وہ کمر پر ہاتھ ٹکاتی بولی تھی۔جبکہ پیٹ میں تیزی سے چوہے دوڑ رہے تھے۔

“تمھیں اس کی سزا ملے گی۔۔”

عادل سنجیدگی سے اسے دیکھ کر بولتا ایک ہی جھٹکے میں اس کے قریب پہنچ گیا تھا۔

“نہیں۔۔۔ نہیں پلیز میرے قریب مت آنا۔”

بریرہ ابھی چیخی ہی تھی کہ عادل نے آگے بڑھتے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے سینے سے لگا لیا تھا۔جس سے بریرہ کے کپڑے بھی گیلے ہو گئے تھے۔۔

“یو اڈیٹ۔۔ یہ کیا کیا تم نے ؟”

بریرہ نے چیخ کر کہا تھا۔عادل نے اس کے غصے سے سرخ پڑتے چہرے پر جھکتے اس کا منہ بند کردیا تھا۔بریرہ تو ہکا بکا رہ گئی تھی۔

“یہ کیا بےہودہ حرکت کررہے ہو۔۔”

وہ گہرے سانس بھرتی نظریں چڑا گئی تھی۔عادل نے مسکراہٹ دبائی تھی۔

“یہ مجھے گیلا کرنے کی سزا ہے۔۔”

عادل نے اس کی گردن کے قریب جھکتے اس کی مہک خود میں اتاری تھی۔بریرہ اس کی حرکت پر کپکپا اٹھی تھی۔

“عادل چھچھوڑا بننے کی ضرورت نہیں ہے مجھے بھوک لگی ہے کچھ آرڈر کرو۔۔”

وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی تھی۔

“اس کے بدلے میں مجھے کیا انعام ملے گا۔۔”

وہ ناک سے اس کی گال سہلاتا گہری آواز میں بول رہا تھا۔سارے دن کی تھکن اسے بریرہ کے نرم و نازک وجود سے ختم ہوتی محسوس ہورہی تھی۔

“آپ کو ثواب ملے گا۔۔۔اور کیا چاہیے آپ کو؟”

وہ پلکوں کی جھالر اٹھاتے گراتے دھیمی آواز میں بولی تھی۔عادل کی حرکت اس کی آواز گلے میں ہی دبا گئی تھی۔

“مجھے کچھ اور چاہیے۔۔”

وہ سرگوشیانہ انداز میں بولا تھا۔

“اوکے اوکے جو چاہیے گا لے لینا اب جلدی سے کھانا آرڈر کرو میں تب تک کپڑے چینج کرلوں۔۔”

وہ عادل کی باہوں کو ہٹاتی رخ پھیرتی بول کر تیزی سے کمرے میں بھاگ گئی تھی۔

عادل نے مسکرا کر اسے جاتے دیکھا تھا جبکہ اپنی بھوکی بیوی کے لیے آرڈر کرتا اپنے گیلے یونیفارم کو دیکھتا خود بھی روم میں چلا گیا تھا۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

“کالم ڈاون شہروز تمھارے اتنے ہائپر ہوجانے سے کچھ نہیں ہوگا۔۔”

مسز شہروز نے نخوت بھرے انداز میں اپنے شوہر کے غصے کو لگام ڈالی تھی۔

“وہ کل کا آیا لڑکا مجھے میرے ہی آفس میں گولی مار کر چلا گیا اور تم کہہ رہی ہو کالم ڈاون۔۔”

شہروز صاحب بھڑ کر بولے تھے۔وہ بیڈ ریسٹ پر تھے فلحال اور شاہزیب سے بدلہ لینا چاہتے تھے۔

“اس کو سبق تو میں بھی سکھانا چاہتی ہوں سب ملازموں کے سامنے وہ مجھے بےعزت کرکے گیا ہے۔۔”

مسز شہروز بیڈ پر بیٹھتی بولی تھیں۔

“میری بات مانوں تو اس پر بریرہ کی کڈنیپنگ اور ہمھیں زخمی کرنے کی ایف ائی آر کٹوا دیتے ہیں جب یہ جیل میں سڑے گا تب ہی میرے دل کو ٹھنڈک پڑے گی۔”

شہروز صاحب کے جذباتی جواب نے مسز شہروز کو آنکھیں گھمانے پر مجبور کر دیا تھا۔

“ڈونٹ بی سلی۔۔ ہم۔اس سے خود بدلہ لیں گے۔۔اس کا خون ہی مجھے سکون دے گا۔”

مسز شہروز مسکراتی ہوئی بولی تھیں۔شہروز صاحب بھی اس کا انداز و اشارہ سمجھ کر مسکرا اٹھے تھے۔

“بریرہ کا کچھ پتا چلا ؟؟”

شہروز صاحب نے پوچھا تھا۔

“پتا نہیں وہ بھگوڑی کہاں جا کر مر گئی ہے۔۔جسٹن نے بھی میری ناک میں دم کیا ہوا ہے کہ بریرہ سے ملنا ہے اس کے ساتھ پری ہنی مون ٹرپ پر جانا ہے۔۔بلاں بلاں۔۔۔”

مسز شہروز خاصی تپ کر بولی تھیں۔

“یہ شاہزیب کا کام تمام کرنے کے بعد بریرہ کو ڈھونڈنے پر زور دینا ہم جسٹن کے ساتھ ڈیل نہیں توڑ سکتے۔۔”

شہروز صاحب نے پرسوچ انداز میں کہا تھا جس پر مسز شہروز سر ہلا کر رہ گئی تھیں۔

انھوں نے شاہزیب کو ماہرانہ انداز میں ختم کرنے کے لیے اس کا ایکسڈینٹ کروا دیا تھا۔مگر شاہزیب کی خوش قسمتی تھی یا مسز شہروز کی بددعا جو وہ بچ گیا تھا۔

“افف کب چھوٹے گی اس شخص سے ہماری جان۔۔”

شاہزیب کے صحیح سلامت ہونے کی خبر سن کر مسز شہروز چیخ کر بولی تھیں۔ساتھ ہی اپنے دوسرے ہاتھ میں موجود حرام مشروب وہ اپنے اندر انڈیل گئی تھیں۔

شاہزیب کے اپنی بیوی کے ساتھ ہنی مون جانے کی خبر نے ان کے زخموں پر جلتی کا کام کیا تھا اور ساتھ ہی ایکسڈینٹ کی انوسٹیگیشن کا سن کر وہ خاصی پریشان ہوگئی تھیں۔

لیکن جلد ہی ان کے شیطانی دماغ میں ایک آئیڈیا آیا تھا جس پروہ کھلکھلا جت ہنس پڑی تھیں۔

شاہزیب کو برباد کرنے کا سوچتے ہی وہ مسرورہوگئی تھیں۔

اس بات سے بےخبر کہ شاہزیب اسے بہت بری طرح مات دینے والا تھا۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

اذان کا الارم بجتے ہی عادل کی آنکھ کھل گئی تھی۔ اس نے اٹھ کر بیٹھتے الارم بند کرتے بریرہ کو دیکھا تھا جو آدھے بیڈ پر پھیل کر سو رہی تھی۔۔

اس کو عجیب و غریب انداز میں سوتے دیکھ کر عادل کے ہونٹوں کو مسکراہٹ چھو کر گزری تھی۔

“بریرہ۔۔”

عادل نے اس کے بالوں میں نرمی سے ہاتھ پھیرتے اسے اٹھایا تھا۔

“کیا ہے اب مجھے سونے بھی نہیں دیں گے؟”

وہ نیند میں بڑبڑائی تھی جبکہ عادل کی سر میں چلتی انگلیاں اسے سکون بخش رہی تھیں۔

“اٹھ جاو بریرہ نماز کا ٹائم ہوگیا ہے۔۔”

اس نے بریرہ کی کمر میں ہاتھ ڈالتے اسے اٹھا کر بیٹھا دیا تھا۔بریرہ نے مندی آنکھوں سے معصوم انداز میں عادل کودیکھا تھا۔

“میں کل پڑھ لوں گی اب مجھے سونے دو پلیز۔۔”

وہ نیند میں جھولتی بول رہی تھی۔

“نہیں ابھی اٹھو شاباش۔۔”

عادل نے اس کے ماتھے کو چوم کر اس قدر نرم لہجے میں کہا تھا کہ وہ آنکھیں کھولنے پر مجبور ہوگئی تھی۔

“تم نے اتنے ہیار سے کہا ہے تبھی اٹھ رہی ہوں۔۔”

وہ مکمل آنکھیں کھولتی ہلکی مسکان کے ساتھ بولی تھی۔

“تم جاکر پہلے فریش ہوجاو میں نہیں چاہتا تم دوبارہ سو جاو۔۔”

عادل نے اسے جلدی جلدی اٹھا کر واشروم کی طرف دھکیلا تھا۔

بریرہ نےاس کی بات سن کر خاموشی سے آنکھیں گھما دی تھیں۔

بریرہ کے فریش ہونے کے بعد وہ بھی فریش ہوکر وضو کر چکا تھا۔۔

نماز کے بنیادی تمھام علم بریرہ کے پاس موجود تھا۔عادل نے اسے اچھے سے پہلے ساری طرح نماز کے بارے میں سمجھایا تھا کہ کیسے اورکس طرح سے نماز ادا کی جاتی ہے۔۔

عادل کی سربراہی میں بریرہ نے اپنی زندگی کی پہلی نماز ادا کی تھی اور نماز پڑھتے اسے اپنی رگ رگ میں سکون اترتا ہوا محسوس ہوا تھا۔اسے اپنے اندر موجود خالی پن بھی کم ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔

عادل کے دعا مانگتےدیکھ وہ بنا دعا مانگے اٹھ پڑی تھی۔ عادل نے اس کو اٹھتے دیکھ کر خاموشی سے اپنی دعا مکمل کی تھی۔

“تم نے دعا کیوں نہیں مانگی؟ “

عادل نے دعا مانگتے ہی بریرہ سے پوچھا تھا۔

“میرا دل نہیں کر رہا تھا۔۔”

وہ نظریں جھکا کر بولی تھی۔ عادل اس کی کیفیت سمجھتا خاموش ہوگیا۔

ایک دن ، دو دن اور اب ہر روز بریرہ عادل کے ہمراہ نماز پڑھتی تھی لیکن ایک بات عادل کو سمجھ نہیں آرہی تھی وہ دعا نہیں مانگتی تھی۔۔

“یہاں میرے پاس بیٹھو۔۔۔”

بریرہ نماز پڑھتی اٹھنے لگی تھی جب عادل نے اس کا ہاتھ تغامتے اسے روک لیا تھا۔

“مجھے سچ سچ بتاو ایسی کیا وجہ ہے جو تم دعا نہیں مانگتی ؟”

عادل کے پوچھنے پر برہرہ نظریں جھکاتی اپنی شرٹ کے کنارے پر انگلی پھیرنے لگی تھی۔

“تمھاری خاموشی سے مجھے کوئی جواب نہیں مل رہا۔”

عادل کے بولنے پر وہ لب بھینچ گئی تھی۔

“میری جان جو بھی بات ہے تم مجھے بتا سکتی ہو۔۔”

عادل نے اس کا چہرہ تھام کر نرم لہجے میں بولا تھا۔

“میں بہت گنہگار ہوں۔۔۔میں خود کو اس قابل نہیں سمجھتی کہ اس پاک ذات سے کچھ مانگ سکوں۔۔”

وہ عادل کے کندھے پرسر رکھتے انتہائی دھیمی آواز میں بولی تھی۔ اس کا بدلہ انداز عادل کو بےحد بھانے لگا تھا۔

“آئیندہ کے بعد کبھی ایسا مت سوچنا میرا رب تمھیں تمھاری سوچ سے بھی زیادہ چاہتا ہے۔۔۔تم اس سے دعا مانگا کرو اس سے باتیں کیا کروں۔تمھارے دل کو سکون ملے گا۔۔میری جان۔۔”

عادل کے انداز اور بات سے ایک آنسو اس کی آنکھ سے نکلتا اس کے گال پر بہہ نکلا تھا۔ جسے عادل نے اپنے ہاتھ سے صاف کردیا تھا۔

بریرہ نے عادل کی طرف دیکھتے مسکرا کرسر ہلاتے دعا کے لیے ہاتھ پھیلائے تھے۔

عادل ناشتہ کرکے ڈیوٹی کے لیے نکل گیا تھا آج کل وہ شاہزیب کے ایکسڈینٹ کی انویسٹیگیشن بھی کر رہا تھا اور ایک کیس کو بھی ڈیل کر رہا تھا۔

مسز شہروز کے خلاف وہ کافی ڈیٹیلز حاصل کرچکا تھا۔جنھیں شاہزیب کے واپس آتے ہی وہ اس کے سپرد کرنے والا تھا۔

بریرہ دن بدن اس کے دل کے قریب ہوتی جارہی تھی اب وہ اسے کسی قیمت میں بھی کھونا نہیں چاہتا تھا۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

شاہزیب اپنا ماضی بتا کر افرحہ کی گود میں منہ چھپا گیا تھا۔افرحہ کی آنکھیں نم پڑ گئی تھیں۔جبکہ ہاتھ مسلسل شاہزیب کے بالوں میں حرکت کر رہے تھے۔

“شاہزیب آپ ٹھیک ہیں؟”

افرحہ نے جذبات سے بھاری پڑتی آواز کے ساتھ شاہزیب سے پوچھا تھا۔جس نے بس ہنکار بھرا تھا۔وہ کیا بتاتا ماضی نے سارے زخم ہرے کردیے تھے۔اسے تو اپنوں کی بےاعتباری اور باپ کے الفاظوں نے زندہ لاش بنا دیا تھا۔

“شاہزیب پلیز کچھ بولیں میرا دل گھبرا رہا ہے۔۔”

وہ زبردستی شاہزیب کا چہرہ اپنہ گود سے اٹھاتی اپنے ہاتھوں میں تھام گئی تھی۔اس کی سرخ انگارہ آنکھیں اس کی تکلیف اور اذیت کے بارے میں بتا رہی تھیں۔

“یہاں۔۔ مجھے یہاں درد ہوا تھا جب میرے باپ نے میرے مرنے کی خواہش کرتے مجھ پر ہاتھ اٹھایا تھا۔”

وہ اس کا ہاتھ اپنے سینے پر رکھتا بولا تھا۔افرحہ اس کی تکلیف پر تڑپ اٹھی تھی۔

“شاہزیب سنبھالیں خود کو۔۔”

اسے تکلیف میں دیکھتی وہ اسے اپنے سینے سے لگاتی تکلیف دہ لہجے میں بولی۔۔

“مجھ سے برداشت نہیں ہورہا ہے۔۔کو۔۔کوئی عورت اتنا بھی گرسکتی ہے مجھے علم نہیں تھا۔۔”

وہ اس کے غم میں شراکت کرتی بول رہی تھی۔

“شش تمھاری آنکھوں میں آنسو میں برداشت نہیں کرسکتا۔۔”

وہ افرحہ کے آنسو دیکھتا خود کو مضبوط بناتا اس کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالوں میں تھام کر بولا تھا۔افرحہ نے اس کی آنکھوں میں بےساختہ دیکھا تھا جہان بے پناہ محبت اور دیوانگی رقم تھی۔

“آپ مجھ سےوعدہ کریں اس عورت کو سزا دلوائیں گے۔۔مجھے تو یہ حیرانی ہے آپ نے ابھی تک اسے سزا کیوں نہیں دلوائی۔۔؟؟ اسے جیل میں سڑنا چاہیے تھا۔”

افرحہ نے اس کے ہاتھ کو تھامتے مضبوط لہجے میں کہا تھا۔

“میں واپس پاکستان نہیں جانا چاہتا۔۔”

شاہزیب سنجیدگی سے بولا تھا۔

“لیکن شاہزیب۔۔”

“میں اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا افرحہ اب چپ کرکے سوجاو۔۔”

شاہزیب اسکی بات کاٹتا اسے باہوں میں بھر کر لیٹ گیا تھا۔

“شاہزیب میں اتنی آسانی سے اس عورت کو جانے نہیں دوں گی۔۔اس کا منہ نوچ لوں گی۔۔اس کا اپنے ہاتھوں سے گلا دبا دوں گی۔۔”

افرحہ اس کے ساتھ لیٹتے بولی تھی۔شاہزیب نے اس کا رخ موڑتے اس کے ہونٹوں کو قید کرتے اس کی زبان بند کروا دی تھی۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

عادل کو آج ہی مسٹر اور مسز شہروز کے بارے میں کافی حیران کن باتیں پتا چلی تھی جنھیں سن کر وہ بے یقین سا تھا۔

“کیا ہوا کن خیالوں میں گم ہو؟”

بریرہ نے اس کی آنکھوں کے آگے ہاتھ ہلاتے پوچھا تھا۔ جب سے وہ ڈیوٹی دے لوٹا تھا ایسے ہی بی ہیو کر رہا تھا۔۔

“کہیں نہیں تم بتاو کیسا گزرا دن ؟”

عادل نے اسے اپنے ساتھ کھینچ کر بیٹھاتے پوچھا تھا۔

“کچھ نہیں سیم روٹین تم بتاو مجھے افرحہ سے کب ملوانے لے کر جاو گے ؟ میرا اس سے ملنے کو بہت دل کر رہا ہے۔۔”

بریرہ نے ہلکی مسکان کے ساتھ کہا تھا۔

“ابھی وہ اپنا ہنی مون ٹرپ انجوائے کر رہی ہے جب واپس آئے گی تب ملوا دوں گا۔۔۔”

عادل نے اس کے بال سہلاتے جواب دیا تھا۔

“اوکے اور تم مجھے گھمانے کب لے کر جارہے ہو؟ ؟ “

بریرہ نے ہنس کر پوچھا تھا لیکن عادل کا سنجیدہ چہرہ دیکھ کر اس کی مسکراہٹ سمٹ گئی تھی۔۔۔

“کیا بات ہے عادل ؟”

بریرہ نے سیدھے ہوتے پوچھا تھا۔

“مجھے تمھارے پاسٹ کے بارے میں جاننا ہے۔۔۔”

وہ سنجیدگی سے بریرہ کا ہاتھ تھامتا بولا تھا جبکہ وہ ساکت ہوگئی تھی۔

“کیسا پاسٹ ؟ میرا کوئی پاسٹ نہیں ہے۔۔”

وہ گھبرا گئی تھی عادل کی بات سن کر۔۔۔

“جسٹ ریلکس۔۔میری طرف دیکھو۔۔”

اس نے بریرہ کا چہرہ تھام کر نرمی سے کہا تھا۔

“ناو ٹیل می۔۔۔اور جھوٹ بولنے اور باتیں چھپانے کی کوشش بھی مت کرنا۔۔۔”

عادل نے اسے وارن کیا تھا۔ بریرہ نے ہونٹ کاٹے تھے۔ وہ ایک گہری سانس خارج کرتے عادل کی طرف سے رخ پھیڑ گئی تھی۔

(بریرہ کا ماضی)

بریرہ جب سے پیدا ہوئی تھی تب سے ہی اس کی پرورش ملازمین نے ہی کی شاید ہی کوئی ایسادن ہوگا جب اس کے پیرنٹس اس کے ساتھ ہوں گے۔۔سکول کے پہلے دن سے کالج کے پہلے دن تک اس کے ماں باپ اس سے لاتعلق رہے تھے۔

بالکل ایسے ہی جیسے اسے پیدا کرکے احسان کردیا ہو اور اسے دنیا کے حوالے چھوڑ دیا ہو۔۔

“مما یہ دیکھیں مجھے پرائز ملا۔”

آٹھ سالہ بریرہ نے خوشی سے بھاگ کر آتے اپنی ماں کو دکھایا تھا۔جو شاید پہلے سے غصے میں بھری بیٹھی تھیں۔بریرہ کو دیکھتے ہی انھوں نے اسے ایک زوردار تھپڑ مارا تھا۔۔

“اس منحوس کو کمرے میں لے جاو دماغ کھا رہی ہے میرا۔۔”

مسز شہروز ناگواریت سے چیخ کر ملازمہ سے بولی تھیں۔بریرہ تو بری طرح ان سے سہم گئی تھی۔

تھپڑوں کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ جب بھی مسز شہروزکو غصہ آتا وہ بریرہ پر اتار دیتی تھیں۔بریرہ اپنی عمر کے بچوں کے مقابلے میں کافی خاموش رہنے لگی تھی۔جب کہ ماں کے ہاتھ سے ہتھوڑے کی طرح پڑتے تھپروں اور مکوں کے نشانہ اسکے ذات کا حصہ بن گئے تھے۔

جس سے وہ مسز شہروز سے خاصا ڈرنے لگ پڑی تھی۔جبکہ اس کا باپ ان کے معاملے میں بالکہ بھی نہ بولتا تھا۔ بریرہ ان سے چند ایک بار بات کرنے نی کوشش کر چکی تھی مگر ان کی مصروفیات نے اسے مزید مایوس کردیا تھا۔

وہ بارہ سال کی تھی جب اسے پتا چلا اس کے ماں باپ رات کے اندھیرے میں کیا گھناونا کام کرتے ہیں۔ وہ لوگ غیر مردوں اور عورتوں کے ساتھ ناجائز تعلقات رکھتے تھے۔

وہ عمر سے پہلے بڑی ہوگئ تھی اسے حالات نے بڑا کردیا تھا۔ وہ ایک رات کمرے میں لیٹی ہوئی تھی جب ایک شخص اس کے کمرے میں آیا تھا وہ بری طرح ڈر گئی تھی اس کے حلق سے ایک زوردارچیخ نکلی تھی جسے سن کر وہ آدمی فورا الٹے قدم باہر نکل گیا تھا جسسے اس کی معصومیت بچ گئی تھی۔

اس دن کے بعد وہ ہر روز روم کس کمپلسری لاک کرکے رکھتی تھی۔ وہ ہائی سکول کے لاسٹ ائیر میں تھی جب اس کی کلاس فیلو اسے کلب لے کر گئ تھی اور اسے شراب پلائی۔شراب سے اسے اپنے سارے دکھ ختم ہوتے محسوس ہونے لگے تھے۔ تبھی وہ اکثر شاموں کو بارز اور کلبز میں پائی جانے لگی تھی اس کے گھر والوں کوکوئی پرواہ نہیں تھی وہ اسے بس منتھلی پاکٹ منی دے دیتے تھے اسکے علاوہ وہ بھاڑ میں جائے یا جہاں مرضی جائے انھیں فرق نہیں پڑتا تھا۔

جب اس نے یونیورسٹی جوائن کی تھی تب وہ چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں شفٹ ہوگئی تھی۔ سٹڈیز کے دوسال بعد افرحہ اس کے ساتھ رہنے لگی تھی جس سے اس کی زندگی میں تھوڑا سدھار آنے لگا تھا مگر افرحہ بھی اسے حرام مادہ پینے سے روک نہ پائی تھی۔جو کوئی نہ کرسکا وہ عادل نے کردیکھایا تھا وہ بریرہ کے لیے روشنی بن کر آیا تھا۔

جاری ہے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *