Professor Shah by Zanoor Writes NovelR50559 Professor Shah (Episode 27)
Rate this Novel
Professor Shah (Episode 27)
Professor Shah by Zanoor Writes
“تمھاری ہمت کیسے ہوئی مجھے زبردستی یہاں لانے کی کمینے انسان۔۔”
بریرہ عادل کو دیکھتی اونچی آواز میں چیخی تھی ماتھے پر تیوری چڑھائے وہ بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہوتی اسے ڈریسنگ کے سامنے تیار ہوتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔
جب آنکھ کھلنے پر اس نے خود کو اس روم میں پایا تو اس دماغ گھوم گیا تھا۔اسے اس وقت عادل سب سے زیادہ زہر لگ رہا تھا۔جو اسے اگنور کیے یونیفارم پہنے ڈیوٹی پر جانے کے لیے تیار کھڑا تھا۔
“اچھی بیویاں اپنے شوہروں سے اونچی آواز میں بات نہیں کرتیں۔۔”
عادل نے اس کی جانب قدم بڑھاتے اس کا چہرہ تھپتھپاتے نرم لہجے میں کہا۔۔اس کی بات پر بریرہ کو آگ لگ گئی تھی۔۔
“لیکن میں اچھی بیوی نہیں ہوں۔۔سنا تم نے اور میرے سامنے یہ اچھا بننے کی کوشش مت کرو۔۔میں وہ ہی لڑکی ہوں جو رات کے اندھیروں میں شراب پی کر لوگوں کی باہوں میں جھولتی ہوں۔۔”
وہ غصے میں زہر اگل رہی تھی۔۔اس کی آخری بات پر عادل نے بے ساختہ اس کے بازو کو دبوچتے اسے اپنے قریب کھینچا تھا۔۔
“ایک بات اپنی اس خالی دماغ میں بیٹھا لو شادی سے پہلے تم جیسی تھی اس سے مجھے فرق نہیں پڑتا لیکن اب تم میری بیوی ہو۔۔خود کو میرے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرنا شروع کردوں کیونکہ ساری زندگی اب تم نے میرے ساتھ ہی گزارنی ہے۔۔”
عادل اس کو کھینچ کر اپنے بےحد قریب کرتا غرایا تھا۔عادل کی سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کرتے وہ چہرے کا رخ دوسری جانب موڑ گئی تھی۔۔عادل کی باتیں اسے فضول لگ رہی تھیں اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا ساری زندگی عادل کے ساتھ گزارنے میں۔۔وہ پہلے اسے اچھا سمجھتی تھی لیکن اب اس کی عادل کے بارے میں رائے بدل چکی تھی
اب وہ آزاد رہنا چاہتی تھی یہ ملک چھوڑ کر کہیں دور چلے جانا چاہتی تھی جہاں وہ کم سے کم کھل کر سانس لے سکے اب اس کا کینیڈا میں شدید دم گھٹنے لگا تھا اسے نفرت ہوگئی تھی یہاں کی ہر جگہ ، ہر شخص اور ہر یاد سے۔۔۔
“ہاہاہا اچھا جوک تھا۔۔میں کبھی بھی خود کو کسی کے لیے نہیں بدلوں گی میں جیسی ہوں ویسے ہی رہوں گی۔۔”
وہ منہ بگاڑ کر آنکھیں گھماتی بولی تھی۔۔عادل نے غصے سے اپنے لب بھینچ تھے۔۔
“یہ جو تمھاری اکڑ ہے نہ مجھے یہ ہی توڑنی ہے۔۔اگر تمھیں خود کے مطابق نہ ڈھال لیا تو میرا نام بھی عادل نہیں۔۔”
وہ اس کے چہرے سے آوارہ لٹوں کو ہٹاتا زہر خند مسکراہٹ سے بولا تھا۔۔ایک ضد تھی بریرہ کو توڑنے کی۔۔جسے وہ ہر حال میں پورا کرنا چاہتا تھا۔۔اب تک اس کا سامنا بریرہ جیسی کسی لڑکی سے نہیں ہوا تھا اسے لگتا تھا لڑکیوں کو نازک ہونا چاہیے جو دھیمی آواز میں بولیں اور شوہر کے سامنے خاموشی سے سر جھکا لیں مگر بریرہ اس سب کے برعکس تھی۔
بریرہ وہ لڑکی تھی جو اپنے ماں باپ کی زیادتیوں سے مضبوط بنی تھی اسے توڑنا اور بدلنا آسان نہیں تھا۔بریرہ کا چہرہ ہاتھ کی پشت سے چھوتا وہ پیچھے ہٹ گیا تھا۔۔
“کیچن میں سارا سامان موجود ہے کھانا بنا لینا میں رات کو لوٹوں گا۔۔اور مجھے رات کو کھانا چاہیے ورنہ۔۔۔جو ہوگا اس کی ذمہ دار تم خود ہوگی۔۔”
وہ بریرہ کو وارن کرتا اپنی چیزیں لیتا نکل گیا تھا۔۔
“تمھارے لیے تو ایسا کھانا بناوں گی جسے کھا کر تمھاری سات پشتیں یاد رکھیں گی کمینے انسان۔۔”
وہ دانت کچکچا کر بڑبڑاتی فریش ہونے چلی گئی تھی۔۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
شاہزیب نے سب سے پہلے کیفے کی فوٹیج دیکھی تھی۔افرحہ کس زبردستی وین میں کھینچتے دیکھ کر غصے سے اس کی رگیں ابھر پڑیں تھیں۔مطلوبہ گاڑی کا نمبر نوٹ کرتے اس نے اپنے دوست ڈینیل مارٹین کو کال ملائی تھی اس کے کافی زیادہ کنیشنز تھے ایک وقت تھا جب وہ ڈینیل کے ساتھ کام کرتا تھا لیکن وہ پانچ سالوں سے سب کچھ چھوڑ چکا تھا لیکن وہ ابھی تک اس سے رابطے میں تھا۔
“تمھیں ایک گاڑی کا نمبر سینڈ کر رہا ہوں مجھے اس کی لوکیشن اور ساری انفارمیشن ایک گھنٹے کے اندر اندر چاہیے۔۔”
شاہزیب نے بنا سلام جواب کیے سیدھا مدعے کی بات کی تھی۔
“اوکے باس اور کوئی حکم ؟ “
ڈینیل کی طنزیہ آواز سن کر شاہزیب نے اپنا ماتھا مسلا تھا۔
“کسی نے میری بیوی کو کڈنیپ کر لیا ہے اور میں اس وقت تمھاری کوئی فضول بکواس سننے کے موڈ میں نہیں ہوں۔۔”
شاہزیب سرد برفیلے لہجے میں غرایا تھا۔ڈینیل کا منہ ایک دم بند ہوا تھا۔
“اوہ سو لیڈی شاہ کی وجہ سے اتنی بےچینی ہے ؟ ڈونٹ وری بڈی میں پتا لگواتا ہوں۔۔”
ڈینیل کی بات پر اس نے جوابا ہنکار بھرا تھا۔
“مجھے ایک بندے پر شک ہے۔۔”
شاہزیب لب دبا کر بولا تھا۔
“کس پر شک ہے ؟ بتاو میں اس کے بارے میں بھی ساری انفارمیشن نکلواتا ہوں۔۔”
ڈینیل سنجیدگی سے بول رہا تھا۔
“نو نیڈ جتنا کہا ہے اتنا کرو باقی میں خود دیکھ لوں گا۔۔”
وہ اپنی شرٹ کے اوپر بٹن کھولتا اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا تھا اس کا رخ ہوٹل کی جانب تھا وہ سب سے پہلے بریرہ سے بات کرنا چاہتا تھا۔
وہ باہر سے جتنا پرسکون انداز سے سب ہینڈ کر رہا تھا ویسے ہی اس کے اندر شدید ہل چل مچی ہوئی تھی۔افرحہ کو کھونے کا خیال ہی سوہانے روح تھا اس کی گرفت سٹئیرینگ ویل پر بےساختہ مضبوط ہوئی تھی۔
وہ جتنی تیزی سے ڈرائیونگ کرکے پہنچا تھا یہ بس وہ ہی جانتا تھا نہ جانے راستے میں کتنی سپیڈ لمیٹس اور ریڈ سگنل کراس کر چکا تھا۔
روحان سے میسج پر راستے میں ہی وہ روم نمبر پہنچ چکا تھا تبھی سیدھا لفٹ کی جانب بڑھتا وہ مطلوبہ فلور پر پہنچا تھا۔بلیک شرٹ کے کف فلوڈ کیے کالر کے پہلے بٹن کھولے وہ رف ٹف سے حولیے میں بھی انتہائی پرکشش لگ رہا تھا۔
مطلوبہ روم کے باہر پہنچ کر اس نے زور سے ناک کیا تھا۔۔روحان نے فورا دروازہ کھولا تھا شاہزیب کو سامنے دیکھ کر اس کا رنگ فق ہوا تھا۔۔
“بریرہ کہاں ہے ؟ مجھے اس سے بات کرنی ہے۔۔”
شاہزیب اسے مشکوک نظروں سے دیکھتا سرف لہجے میں پوچھ رہا تھا۔
“و۔۔وہ یہاں نہیں ہے عادل اسے رات کو ہی اپنے ساتھ لے گیا تھا۔۔”
اس کے جواب سے شاہزیب کے جسم میں طیش کی شدید لہر دوڑ گئی تھی۔مقابل کو جھپٹ کر اس نے گلے سے پکڑتے دیوار سے زور سے لگایا تھا۔روحان کے منہ سے تکلیف دہ سسکی نکلی تھی۔
“تمھاری جرت کیسے ہوئی مجھ سے یہ بات چھپانے کی ؟ اور کس سے پوچھ کر تم نے اسے جانے دیا ؟”
“تمھاری اس لاپرواہی کی وجہ سے میرا کتنا قیمتی وقت ضائع ہوا اس کا کچھ اندازہ بھی نہیں ہے تمھیں۔۔”
شاہزیب اس کی گردن پر دباو بڑھاتا بولا تھا۔۔روحان کا سانس روکنے لگا تھا جبکہ چہرہ سرخ پڑھنے لگا تھا۔۔
“مجھے نہیں پتا تھا عادل اسے لے جائے گا۔۔”
وہ تکلیف سے ٹھہر ٹھہر کر بولا تھا۔۔شاہزیب نے اس کا گلا چھوڑتے اس کے کندھے پر اچانک دباو ڈالا تھا جس سے اس کے منہ سے سسکی نکلی تھی۔
شاہزیب نے اسے آنکھیں چھوٹی کرکے گھورتے دوبارہ اس کے کندھے پر زور ڈالا تھا اب کی بار روحان کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکلی تھی جبکہ کندھے سے اس کی سکن شرٹ بھی سرخ پڑھنے لگی تھی۔۔
“تمھیں گولی لگی ہے۔۔”
شاہزیب دانت کچکچاتا سرد و سپاٹ لہجے میں غرایا تھا۔
“بریرہ نے مجھے مجبور کیا تھا۔۔”
روحان اپنے کندھے کو تھامتا بڑبڑایا تھا۔۔
“تمھیؑ گولی کیسے لگی ؟”
شاہزیب نے ایک دم اس کا کندھا دوبارہ دبوچا تھا اور اس پر زور دیتے سپاٹ انداز میں پوچھا تھا۔۔
“م۔۔میں بتاتا ہوں۔۔پلیز میرا کندھا چھوڑ دیں سر۔۔”
روحان تکلیف سے بڑبڑایا تھا۔۔شاہزیب نے لب بھینچ کر اپنے ہاتھ کمر پر باندھ لیے تھے۔۔
“بریرہ نے مجھے اس کے فلیٹ سح پاسپورٹ اور پیسے لانے کا کہا تھا۔وہ خود جانا چاہتی تھی لیکن میں نے منع کر دیا۔۔اس کے التجائیہ بولنے پر میں منع نہیں کرسکا مجھے لگا آسان سا کام ہے فلیٹ پر جاوں گا اور چیزیں لے کر واپس آجاوں گا۔۔”
“لیکن جیسا میں نے سوچا تھا ویسا نہیں ہوا۔۔وہاں کچھ لوگ موجود تھے میں جب فلیٹ میں داخل ہوا سب ٹھیک تھا۔فلیٹ میں اندھیرا تھا مجھے پتا نہیں چلا کب ایک آدمی نے مجھ پر پیچھے سے حملہ کیا تھا۔میں اس سے بچ گیا تھا جب ایک اور آدمی نے لائٹ اون کرتے مجھ پر حملہ کیا تھا میں وہاں سے تیزی سے نکل گیا تھا لیکن ان میں سے ایک نے پیچھے سے مجھ پر گولی چلا دی تھی جومیرے کندھے پر لگی تھی۔جب میں ہوٹل پہنچا میں اتنے ہوش میں نہیں تھا بریرہ کو چیک کرتا یا آپ کو بتاتا۔۔مجھے خود کچھ دیر پہلے پتا چلا کہ عادل بریرہ کو اپنے ساتھ لے گیا ہے۔۔”
روحان نے اسے ساری بات بتاتے گہرا سانس لیا تھا۔۔
“اگر میری بیوی کو کھروچ بھی آئی نہ روحان میں تمھاری جان لے لوں گا۔۔تمھاری ایک بےوقوفی کی وجہ سے میری بیوی کی جان خطرے میں ہے۔۔”
وہ سرد ترین لہجے میں دھاڑا تھا۔۔
ایک غصیلی نظر روحان پر ڈالتا وہ باہر نکل گیا تھا۔۔وہ اتنا جان چکا تھا کہ اس میں ہاتھ بریرہ کے ماں باپ کا ہے۔۔وہ شاید اسے کچا کھلاڑی سمجھ بیٹھے تھے۔۔لیکن انھیں خبر نہیں تھی شاہزیب ڈرنے والوں میں سے نہیں اور اپنی بیوی کو ہاتھ لگانے والوں کو چھوڑنے والا تو بالکل بھی نہیں۔۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
افرحہ کی جب آنکھ کھلی تب اس نے خود کو ایک کمرے میں پایا تھا وہ بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔۔اس کا سر اس وقت شدید بھاری لگ رہا تھا شاید یہ اس دوائی کا اثر تھا جو ان لوگوں نے اسے وین میں کھینچنے کے بعد رومال کے ذریعے سونگھائی تھی۔
اسے نہیں معلوم تھا وہ کہاں ہے ؟ لیکن وہ یہاں سے نکلنا چاہتی تھی اور شاہزیب سے ملنا چاہتی تھی۔خود کو سنبھالتی وہ بیڈ سے اٹھ کر دروازے کی جانب بڑھی تھی جو باہر سے بند کیا گیا تھا۔اس نے زور سے دروازہ بجایا تھا۔۔
“کوئی ہے ؟ پلیز مجھے یہاں سے نکالیں۔۔میں معصوم ہوں میں نے آج تک ایک چیونٹی تک کو تنگ نہیں کیا (سوائے شاہزیب کے)۔۔مجھے پلیز جانے دیں۔۔”
وہ شاہزیب کے بارے میں سوچتی معصومیت سے نروس انداز میں بول رہی تھی۔۔کافی دیر کھڑے رہنے کے باوجود بھی جب کوئی جواب نہ ملا تو وہ آرام سے بیڈ پر ٹانگیں سمیٹ کر بیٹھتی آیت الکرسی پڑھنے لگی تھی ساتھ ہی اللہ پاک سے دعا کرنے لگی تھی کہ کسی طرح سے کوئی اسے یہاں سے بچا لے۔۔
گھبراہٹ سے وہ کمرے کا جائزہ لینے لگی تھی جو کریمی کلر کا تھا جس میں صرف ایک بیڈ ہی پڑا تھا۔۔
دروازہ کھٹکنے کی آواز سنتی وہ سیدھی ہوئی تھی جب دروازہ ایک دم کھلنے پر خوف سے اس کی دھڑکن بڑھ گئی تھیں جبکہ ایک دم اسے پینک اٹیک محسوس ہونے لگا تھا لیکن جانے پہچانے چہرے کو دیکھتے گہرے گہرے سانس لیتی وہ خود کو پرسکون کرگئی تھی۔۔
“آنٹی کیا آپ نے مجھے کڈنیپ کروایا ہے ؟”
مسز شہروز کو دیکھتے اس نے بے یقینی سے پوچھا تھا۔
“شٹ اپ مجھے سیدھی طرح بتا دو بریرہ کہاں ہے ورنہ چمڑی ادھیڑ دوں گی تمھاری۔۔”
افرحہ نے ناسمجھ نظروں سے انھیں دیکھا تھا۔۔
“آپ کیا بول رہی ہیں آنٹی ؟ مجھے کیسے پتا ہوگا بریرہ کہاں ہے ؟ وہ تو آپ کے ساتھ وکیشنز پر نہیں گئی ہوئی ؟
افرحہ نے کنفیوز ہوتے بھنویں اچکا کر مسز شہروز سے پوچھا۔۔
“اوہ تو تمھارے شوہر نے تم سے جھوٹ بولا ہے۔۔ہاہا بہت بےوقوف ہو تم۔۔ میں بھی سوچوں اسے تم جیسی لڑکی کیسے پسند آگئی ضرور تمھاری بےوقوفی اور یہ معصومیت پسند آئی ہوگی۔۔”
مسز شہروز طنزیہ انداز میں ہنستے ہوئے گویا ہوئی۔افرحہ ناسمجھ نظروں سے انھیں دیکھ رہی تھیں۔۔
“آنٹی میں آپ کا بہت لحاظ کرتی ہوں لیکن شاہزیب کے بارے میں ، میں کچھ غلط سننا برداشت نہیں کروں گی۔۔”
افرحہ غصے سے بولی تھی۔۔
“ہاہاہا اوہ بےبی غصہ کرنے کی ضرورت نہیں تمھیں شاہزیب کی حقیقت میں بتاتی ہوں۔۔یہ سچ ہے شاہزیب نے بریرہ کو چھپا کر رکھا ہوا ہے اور اس نے ایسا کیوں کیا ہے یہ تم خود اس سے پوچھنا۔۔فلحال میں تمھیں اس کے وہ راز بتاتی ہوں جن سے تم بےخبر ہو۔۔”
مسز شہروز مزے سے بیڈ پر اس کے قریب بیٹھ گئی تھیں۔انھیں رات کو روحان کے بارے میں پتا چلا تھا جس سے انھوں نے صبح تک ساری انفارمیشن نکال لی تھی جس سے انھیں پتا چلا تھا شاہزیب کے لیے روحان کام کرتا ہے اور شاہزیب افرحہ کا شوہر ہے۔۔انھوں نے ایک طرح سے شاہزیب کی کمزوری کو قید کرکے اس سے بریرہ کو حاصل کرنے کا سوچا تھا۔
لیکن اب افرحہ کو اس کی حقیقت بتا کر وہ شاہزیب کو اپنے راستے میں آنے کا سبق سکھانا چاہتی تھیں۔
“تمھیں یہ تو پتا ہوگا تمھارا شوہر شرابی ، ڈرگز اڈیکٹ ہے اور نہ جانے کتنی لڑکیوں کے ساتھ راتیں گزار چکا ہے۔۔”
مسز شہروز افرحہ کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی تھیں جہاں ان کی اخری بات پر افرحہ کی آنکھوں میں بےیقینی امڈ آئی تھی۔۔
“آپ جھوٹ بول رہی ہیں شاہزیب کبھی کسی لڑکی کے قریب نہیں گئے۔۔”
افرحہ مضبوط لہجے میں بولی تھی۔۔
“ہنہ۔۔تم جتنا معصوم اپنے شوہر کو سمجھ رہی ہو وہ ویسا نہیں ہے اس کے ہاتھوں پر معصوم لوگوں کا خون ہے۔۔ہاں وہ خونی بھی ہے ایک گینگ کے ساتھ کام کرچکا ہے۔۔معصوم لوگوں کی بےدردی سے جان لیتا رہا ہے۔۔اور اس کا ثبوت یہ ہے۔۔”
مسز شہروز استہزایہ لہجے میں بولتی اپنے موبائل سے چند تصویریں نکال کر افرحہ کو دیکھانے لگی تھی جس میں شاہزیب ایک نوجوان لڑکے پر گن تانے کھڑا تھا۔۔جبکہ وہ لڑکا زخموں سے چور تھا۔۔
“وہ پروفیسر کے روپ میں چھپا شاطر انسان ہے۔۔جس نے تمھیں باآسانی اپنے جال میں پھنسا لیا۔۔اگر تم جانتی ہو بریرہ کہاں ہے تو بتا دو ورنہ یہ شخص میری معصوم بیٹی کو بھی نقصان پہنچا دے گا۔۔”
مسز شہروز افرحہ کا برین واش کرتی آخر میں معصومیت سے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولی تھیں۔۔افرحہ تو صدمے میں ہی چلی گئی تھی اس نے جوابا دھیرے سے نفی میں سر ہلا دیا تھا۔۔اسے نہیں سمجھ آرہا تھا یہ کیا ہو رہا ہے ؟
تو کیا شاہزیب ایسا شخص تھا ؟ معصوم لوگوں کی جان لینے والا ، شرابی ، ڈرگز اڈیکٹ اور۔۔۔زانی ؟
ایک ساتھ کئی سوچوں نے اس کے دماغ پر ڈیرے ڈال لیے تھے۔۔سر میں درد کی شدید لہریں اٹھنے لگی تھی۔۔وہ اپنے سر کو پکڑتی تکیے میں منہ دے کر لیٹ گئی تھی۔وہ حقیقت کو تسلیم نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔
اس کی نظروں میں تو شاہزیب ایک اچھا انسان تھا جس نے اس کی عزت بچائی تھی اس کی ہر مشکل وقت میں مدد کی تھی۔تو کیا وہ سب صرف ایک دکھاوا تھا؟؟؟
جاری ہے۔۔
