Professor Shah by Zanoor Writes NovelR50559 Professor Shah (Episode 30)
Rate this Novel
Professor Shah (Episode 30)
Professor Shah by Zanoor Writes
تیز چندھیا دینے والی روشنی سے اس کی آنکھ کھلی تھی۔بھاری سر اورسرخ آنکھوں سے اس نے ناسمجھ نظروں سے عادل کو دیکھا تھا۔جو چھوٹے سے صوفے پر آڑھا ترچھا لیٹا ہوا تھا۔
اپنا سر تھامتے وہ اٹھ بیٹھا تھا۔سائیڈ ٹیبل سے پانی کا گلاس اٹھاتے اس نے لبوں سے لگایا تھا۔اسے اپنے سر میں ہتھوڑے بجتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔ گلاس کو سائیڈ ٹیبل پر رکھتے اس کے ہاتھ سے گلاس چھوٹ کر زمین بوس ہو گیا تھا۔شاہزیب کی نظر بےساختہ عادل پر گئی تھی جو پھرتی سے اٹھ بیٹھا تھا۔
“اب کیا خودکشی کرنے کی کوشش کر رہے ہو؟”
عادل نے اسے دیکھتے طنزیہ کہا تھا۔شاہزیب نے اسے گھور کر سرد نظروں سے دیکھا تھا۔
وہ بنا عادل کو کچھ بولے کھڑا ہوتا فریش ہونے کے لیے واشروم میں چلا گیا تھا۔عادل نے اس کی خاموشی پر منہ بگاڑا تھا۔
بریرہ کا خیال ذہن میں آتے ہی عادل نے بالوں میں ہاتھ پھیرا تھا۔اہنا رات کا وعدہ یاد کرتے اس نے ایک ٹھنڈی آہ خارج کی تھی۔
“رات کو کیا جنون چڑھا تھا بتانا پسند کرو گے۔۔”
عادل شاہزیب کو فریش سا دیکھ کر بولا تھا۔
“شٹ اپ۔۔مجھے گھر ڈراپ کردو۔۔”
شاہزیب اپنا موبائل نکال کر چیک کرتا عادل سے سپاٹ لہجے میں بولا تھا۔اس کے سر میں ہلکی ہلکی درد کی لہریں اٹھ رہی تھیں۔اپنے موبائل پر افرحہ کی لاتعداد کالز اور میسجز دیکھ کر اس نے سختی سے لب بھینچ لیے تھے۔
“شاہزیب یہ بات یہاں ہی ختم نہیں ہوگی۔۔اب تمھاری بیوی ہے یار کم سے کم اس کا ہی لحاظ کرلو۔۔اور میری مانوں تو کیسے ڈاکٹر سے کنسلٹ کرو۔۔”
عادل شاہزیب کے پیچھے ہی روم سے نکلتا ہوا بولا تھا۔
“میرا باپ بننے کی ضرورت نہیں۔۔”
شاہزیب نے عادل کو کالر سے پکڑتے تلخ لہجے میں کہا تھا۔
“آئیندہ کے بعد میں مر بھی رہا ہوا نہ تو تجھے کوئی کال نہیں آئی گی اور تمھیں کیا میں پاگل لگتا ہوں جو مجھے ڈاکٹر کے پاس جانے کا بول رہے ہو۔۔؟؟ اپنی حد میں ہو رہو عادل۔۔”
جھٹکے سے عادل کا کالر چھوڑتا شاہزیب لمبے لمبے ڈھگ بھرتا نکل گیا تھا۔
وہ بنا عادل کا انتظار کیے ہوٹل سے نکل آیا تھا اور خود ہی کیب بک کرواتے گھر چلا گیا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
افرحہ ساری رات شاہزیب کی راہ تکتی رہی تھی اس کے بارے میں پریشان وہ صحیح سے آنکھ بھی نہ لگا پائی تھی نہ جانے کتنے مسجز اور کالز کرچکی تھی مگر اب تک کوئی میسج موصول نہ ہوا تھا۔
اب تو پریشانی سے اس کو پینک اٹیک محسوس ہونے لگا تھا۔۔ٹی وی لاونچ میں موجود صوفے پر بیٹھتے اس نے گہرے گہرے سانس لینا شروع کیے تھے۔
“ک۔۔کچھ نہیں ہوگا شاہزیب کو۔۔وہ بس آتے ہی ہوں گے۔۔”
وہ خود کو تسلی اور دلاسے دینے لگی تھی۔کانپتی ٹانگوں سے اٹھتی وہ انحیلر لینے روم میں گئی تھی۔
ایک کانپتی سانس خارج کرتے وہ شاہزیب کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہی تھی اس سے ناراضگی ایک طرف اور اس کا یوں ناراض ہو کر چلے جانا ایک طرف۔۔
پینٹ ہاوس کا دروازہ کھلتا محسوس کرتی وہ پھرتی سے باہر نکلی تھی۔
“شاہزیب۔۔؟”
شاہزیب کو دیکھتے اس نے سکون کا سانس لیا تھا۔
شاہزیب ایک نظر اس پر ڈالتا روم میں جانے لگا تھا جب افرحہ نے اس کو روکا تھا۔
“آپ اتنے لاپرواہ ہوں گے مجھے امید نہیں تھی۔میں ساری رات آپ کے لیے پریشان رہی۔۔کہ کہیں آپ غصے میں کچھ الٹا سیدھا نہ کردیں اور آپ ہیں کہ ایک میسج یا کال کا جواب دینا بھی ضروری نہیں سمجھا؟؟”
وہ غصے سے شاہزیب پر چیخی تھی شاہزیب نے اپنے جبڑے بھینچ لیے تھے۔
“تم جاننا چاہتی ہو میں رات کو کہا تھا۔۔؟”
وہ افرحہ کے قریب ہوا تھا جب افرحہ کو اس کے کپڑوں سے شراب کی ناگوار مہک اٹھتی محسوس ہوئی تھی۔
“میں کلب میں تھا ساری رات میں نے ڈرگز اور شراب پیتے گزاری۔۔پھر مجھے عادل وہاں سے ایک ہوٹل لے گیا۔۔بس یا اور کچھ بھی جاننا ہے۔۔”
اس کی باتیں سن کر افرحہ کو اس سے کراہت محسوس ہوئی تھی۔
“ش۔۔شراب؟”
اس نے بےیقینی سے شاہزیب کو دیکھا تھا۔
“اتنی حیران کیوں ہورہی ہو۔۔؟ شاید تم بھول گئی ہماری پہلی ملاقاتب کلب میں ہی ہوئی تھی۔۔”
افرحہ کے بازو کو مضبوطی سے تھام کر اپنی جانب کھینچتے شاہزیب سرد لہجے میں بولا تھا۔
“چ۔۔چھوڑیں مجھے۔۔ دوبارہ مجھے ہاتھ لگانے کی کوشش بھی مت کیجیے گا۔۔”
افرحہ اس کی گرفت سے مچل کر نکلتی غرائی تھی۔۔اسے شاہزیب اس وقت نہایت برا لگ رہا تھا۔اسے تو لگا تھا شاہزیب کب. سے شراب پینا چھوڑ چکا ہوگا۔۔
“شام کو تیار رہنا پھپھو کے گھر ڈنر ہے اور ہاں اپنی یہ ساری نخرے اور ناراضی گھر چھوڑ کر جانا۔۔”
شاہزیب اس کی بات پر مٹھیاں بھینچتا اس سے دور ہوکر بولتا کمرے میں چلا گیا تھا۔۔
افرحہ کافی دیر تک وہاں ساکت سی کھڑی رہی تھی۔مسز شہروز کی باتیں اس کے دل و دماغ پر اثر انداز ہونے لگی تھیں۔۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
“کہاں غائب ہو رات سے ؟ فرصت مل گئی گھر آنے کی ؟”
عادل گھر میں داخل ہوا ہی تھا جب بریرہ کی سریلی آواز نے اس کا استقبال کیا تھا۔
“تمھاری باتوں سے مجھے یہ گمان ہورہا ہے تم نے ساری رات مجھے بہت مس کیا ہوگا۔۔”
عادل اس کو چڑانے کے لیے لب دبا کر بولا تھا۔بریرہ نے آنکھیں گھما کر اسے گھورا تھا۔
“زیادہ تیز مت بنو اور یہ بتاو کہاں سے آوارہ گردی کرکے آرہے ہو؟”
وہ کمر پر ہاتھ ٹکا کر بولتی عادل کو اپنے دل کے قریب محسوس ہو رہی تھی۔
“فکر مت کرو کسی لڑکی کے ساتھ نہیں تھا۔۔”
وہ نڈھال سا لاونچ کے صوفے پر گرتا بولا تھا۔
“تمھاری ایسی شکل ہی نہیں کہ کوئی لڑکی تمھیں منہ لگائے اس لیے مجھے ایسی کوئی فکر نہیں تھی۔۔”
بریرہ مسکرا کر بولتی عادل کو تپا گئی تھی۔
“بہت ہنسی آئی اچھا مزاق تھا۔۔اب جاو اور میرے لیے پانی لے کر آو۔۔”
عادل اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا اسے گھوری سے نوازتا ہوا بولا تھا۔
“عادل۔۔؟”
بریرہ کے انتہائی میٹھے لہجے میں بلانے پر عادل نے ٹھٹھک کر اس کی طرف دیکھا تھا۔
“کیا تمھیں میں شکل سے کام والی ماسی لگتی ہوں؟ خود اٹھو اور پانی پیو دوبارہ مجھ پر حکم چلانے کی کوشش مت کرنا۔۔”
اس کی بات سنتا عادل خطرناک تیور لیے اٹھا تھا۔
دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا وہ بریرہ کی طرف جارہا تھا جو اسے اپنے پاس آتے دیکھ کر الٹے قدم اٹھانے لگ پڑی تھی۔
بریرہ پیچھے کو ہوتی دیوار سے جالگی تھی۔
“سچ بتاو تو شکل سے تم مجھے اپنی بیوی لگتی ہو اس لیے تمھیں کام کہتا ہوں۔۔اور تمھارا فرض ہے میرا خیال رکھنا جیسے میں تمھاری ضروریات کا خیال رکھتا ہوں۔۔”
اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں پکڑتے عادل دھیمے آنچ دار لہجے میں بولا تھا۔۔بریرہ کی سانسیں اس کی نزدیکی پر اتھل پتھل ہونے لگی تھیں۔
“ت۔۔تم۔۔ آہہہ۔۔”
بریرہ عادل کو جواب دینے ہی والی تھی جب اس کے ہونٹ اپنی گال پر محسوس کرتے وہ سن پڑ گئی تھی جبکہ اس کے دانت اچانک سے اپنے گال میں گڑھتے محسوس کرکے اس کے حلق سے ایک زوردار چیخ نکلی تھی۔
“کیا کر رہے ہو پاگل انسان۔۔جنگلی بلے۔۔”
وہ عادل کو دھکا دیتی چیخ کر بولی تھی۔ عادل نے مسکرا کر اسے آنکھ ماری تھی۔
“میرے لیے ناشتہ لگاو ڈیوٹی کے لیے لیٹ ہورہا ہوں تب تک میں جلدی سے فریش ہوکر آتا ہوں اور زیادہ ہوشیاری مت کرنا ورنہ سارا ناشتہ تمھیں ہی کھلاوں گا۔۔”
اس کے سفید گال پر اپنے دانتوں کے سرخ نشان دیکھتا وہ مسرور سا اسے وارن کرتا روم میں چلا گیا تھا۔۔
“کیڑے پڑے تمھیں منحوس انسان۔۔”
بریرہ تپی سی اپنے گال کو سہلاتی غرائی تھی۔۔اس کے دانتوں کے نشان وہ اپنی انگلیوں کی پوروں سے محسوس کرسکتی تھی۔۔
عادل کی دھمکی کا اثر نہ ہوتا تو وہ ضرور اسے ایسا ناشتہ کرواتی وہ ساری زندگی یاد رکھتا۔
اس کے لیے ٹوسٹ اور کافی تیار کرکے ٹیبل پر پٹھکتی وہ اپنے لیے پین کیکس بنانے لگی تھی۔اگر وہ افرحہ کے ساتھ نہ رہتی ہوتی تو اسے جو تھوڑی بہت کوکنگ آتی ہے وہ بھی نہیں آنی تھی۔
عادل اپنے یونیفارم میں ملبوس ٹیبل پر بیٹھ کر خاموشی سے ناشتپ کرتا ترچھی نظروں سے بریرہ کو پین کیکس کھاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔
“اپنا خیال رکھنا۔۔میں شام تک آجاوں گا۔۔”
وہ بریرہ کو نرمی سے بولتا چلا گیا تھا۔بریرہ کی نظروں نے دروازے تک اس کا تعاقب کیا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
افرحہ نے دوبارہ سارا دن شاہزیب سے بات نہیں کہ تھی بلکہ وہ دوسرے روم میں گھس کر اپنے موبائل پر نیٹ فلکیس دیکھتی اپنا ٹائم گزار رہی تھی۔وہ شاہزیب سے بالکل بھی بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔ وہ اس وقت شاہزیب سے بری طرح بدگمان ہوچکی تھی۔
“ڈنر پر جانے کے لیے وہ فریش ہوکر نکلی تھی جب اس کی نظر بیڈ پر پڑے ڈریس پر گئی تھی۔وہ براون کلر کا ویسٹرن سٹائل کا لونگ ڈریس تھا۔اسے اچھے سے یاد تھا یہ ڈریس اس نے زید کے ساتھ شاپنگ کرتے دیکھا تھا اور زید نے اسے لے کر دینے پر اصرار بھی کیا تھا جس پر وہ انکار کرگئی تھی کیونکہ ڈریس کی پرائز کافی زیادہ تھی۔
تو کیا وہ ڈریس اس دن شاہزیب نے افرحہ کے لیے خرید لی تھی ؟ اس ڈریس کے ساتھ میچنگ سٹالر اور جیکٹ بھی بیڈ پر موجود تھی۔۔افرحہ ایک پل ڈریس کو دیکھ کر حیران رہ گئی تھی۔جس پر جلدی سے اس نے اپنی حیرت پر قابو پالیا تھا چونکہ وہ شاہزیب کے جھانسے میں نہیں آنا چاہتی تھی۔اسے پتا چل گیا تھا شاہزیب جیسا دکھتا ہے ویسا ہے نہیں۔۔
ڈریس چینج کرتی وہ لائٹ سے میک اپ میں تیار ہوچکی تھی۔اہنا بیگ اور موبائل لیتی وہ روم سے باہر نکلی تھی جہاں لاونچ میں کھڑا شاہزیب سگریٹ پھونک رہا تھا۔افرحہ نے اس کے دیکھتے ہی نظریں پھیر لی تھیں۔
“میری طرف دیکھو۔۔”
سگریٹ پھینکتا شاہزیب افرحہ کے قریب آکر بولا تھا۔افرحہ ڈھیٹ بنی نظریں جھکا کر کھڑی رہی تھی۔
“اگر بات نہیں کرنی تو تمھاری مرضی لیکن جب میں کچھ بولوں یا کرنے کا کہوں تو مجھے رسپانس چاہیے۔۔”
افرحہ کی ٹھوڑی جکڑتا وہ اس کے ہونٹوں کو شدتسے چوم کر بولا تھا۔
افرحہ نے اس کا ہاتھ جھٹکتے اپنے لب رگڑ کر صاف کیے تھے۔شاہزیب کی غصے سے رگیں پھول گئیں تھیں۔بمشکل اس نے خود کو قابو کیا تھا ورنہ دل چاہ رہا تھا سامنے کھڑی لڑکی کو اچھا سبق سکھائے۔
وہ لوگ آدھے گھنٹے کا سفر طے کرتے پھپھو ماہین کے گھر پہنچے تھے۔
ماہین کی ایک ہی بیٹی تھی جس کی شادی وہ ایک سال پہلے ہی پاکستان میں کرچکی تھی۔اب وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہتی تھی اور آفس میں جاب کرتی تھی۔۔
ماہین نے ان کا پرتپاک استقبال کیا تھا۔افرحہ نے ماہین سے خوب باتیں کی تھیں مگر شاہزیب کی طرف دیکھنا گوارا بھی نہیں کیا تھا جو شاہزیب کو بری طرح کھل رہا تھا۔
شاہزیب ماہین کے شوہر شاہد سے باتیں کرتا افرحہ پر ہی نظریں ٹکائے بیٹھا رہا تھا۔ایک پرتپاک اور شاندار دعوت سے لطف اندوز ہوکر وہ لوگ واپس آگئے تھے۔مگر ان دونوں کے درمیان ٹینشن ہنوز قائم تھی۔
ایک دن ، دو دن اور پھر کئی دن اسی طرح گزر گئے تھے لیکن افرحہ شاہزیب سے بات نہیں کر رہی تھی۔ شاہزیب نے اسے کئی بار پیار ، غصے اور لاڈ سے اسے منانے کی کوشش کی تھی لیکن وہ بھی خاصی ڈھیٹ ٹھہری تھی۔
شاہزیب یونیورسٹی سے واپس آرہا تھا وہ مسلسل افرحہ کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ سامنے سے آتی ہوئی تیز رفتار کار کو بھی نہ دیکھ پایا تھا ایک زوردار تصادم اس کا کار سے ہوا تھا اس کے بعد وہ ہوش و حواس کھو گیا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
افرحہ ڈنر تیار کر رہی تھی جب اس کا کاونٹر پر رکھا موبائل رنگ ہوا تھا ان ناوئن نمبر دیکھتے اس نے اگنور کر دیا تھا پھر نا جانے کس خیال کے تحت اس نے کال اٹھا لی تھی۔
دوسری جانب سے شاہزیب کے بارے میں ملنے والی خبر نے اس کا سارا وجود ہلا دیا تھا۔وہ اگر بروقت کاونٹر کو نہ پکڑتی تو یقینا زمین بوس ہوجاتی۔
فون کٹ چکا تھا لیکن۔وہ سن پڑ گئی تھی۔اسے پینک اٹیک اٹھتا ہوا محسوس ہورہا تھا لیکن جلدی خود پر قابو پاتی وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
اپنا ضروری سامان لیتی وہ گھر سے نکل پڑی تھی۔آنسو لڑیوں کی صورت اس کے گال پر بہہ رہے تھے اسے پچھلے دنوں شاہزیب کے ساتھ کیا گیا اپنا رویہ یاد آرہا تھا جس پر رہ رہ کر اسے پچھتاوا ہو رہا تھا۔
ہوسپٹل پہنچتے ہی شاہزیب کے بارے میں پوچھتی وہ مطلوبہ روم میں پہنچی تھی جہاں سویوں میں جکڑا وہ لیٹا ہوا تھا اسے ڈاکٹر سے پتا چلا تھا کہ اس کے سر پر سٹیچیز لگے ہیں باقی وہ ٹھیک ہے بس معصولی سی چوٹیں ہیں ۔جس پر اس نے سکون کا سانس بھرتے الل تعالی کا شکریہ ادا کیا تھا۔
شاہزیب کو ایک گھنٹے بعد ہوش آگیا تھا تب تک وہ شاہزیب کے پاس بیٹھی آیات پڑھ کر اس پر پھونک رہی تھی۔شاہزیب کے ہوش میں آتے ہی وہ رونے لگ پڑی تھی۔شاہزیب نے لب بھینچ کر اس کی طرف دیکھا تھا جس کے آنسو دل پر تیزاب کی طرح گرتے چھید کر رہے تھے۔
“رو کیوں رہی ہو ؟ ابھی زندہ ہوں مرا نہیں ہوں۔”
شاہزیب نے افرحہ کی طرف دیکھتے پوچھا تھا جو اس کے قریب بیٹھی موٹے موٹے آنسو بہا رہی تھی۔
“اگر آپ کو کچھ ہوجاتا تو میں کیا کرتی؟”
اس نے شاہزیب کے کاٹ دار لہجے کو اگنور کرتے پوچھا۔
“تمھیں اس سے کونسا فرق پڑنا تھا۔۔جیسے اتنے دنوں سے مجھے نظر انداز کرتی آرہی ہو۔۔ویسے ہی سوچتی رہتی مر گیا ایک پاگل۔۔”
وہ سرد لہجے میں بولا تھا۔افرحہ کے حلق میں آنسووں کا پھندا سا اٹک گیا تھا۔۔
“شاہزیب۔۔۔”
وہ اس کی بات سنتی چیخی تھی لیکن شاہزیب کی گھوری نے اس کا منہ بند کردیا تھا۔
“آپ ایسے باتیں مت کریں پلیز۔۔”
وہ دھیرے سے منمنائی۔۔
“پھر کیسی باتیں کروں۔۔اب کیوں تڑپ رہی ہو جب پہلے فرق نہیں پڑ رہا تھا اب کیوں تمھیں فرق پڑ رہا ہے۔۔”
وہ آگے کو جھکتا افرحہ کی گردن کو اپنی مضبوط گرفت میں لیتا چبا چبا کر بولا تھا۔
اس کے آنسو بےشک دل پر بجلی بن کر گر رہے تھے لیکن اسے احساس دلانا بھی تو ضروری تھا۔
“آپ نے کبھی مجھے اپنے بارے میں کچھ نہیں بتایا پھر کیسے کرتی آپ پر اعتبار ؟”
وہ شکوہ کن نگاہوں سے شاہزیب کو دیکھتی منمنائی تھی۔
“تمھیں میرا ماضی جاننا ہے ؟ ٹھیک ہے یہاں سے ڈسچارج ہوکر گھر جاتے ہی میں تمھیں سب کچھ بتا دوں گا۔۔لیکن دوبارہ مجھے اگنور کرنے کی کوشش مت کرنا اس بار میں نے زیادہ زور زبردستی نہیں کی مگر تم نے دوبارہ ایسے سوچا بھی تو بہت برا انجام ہوگا۔۔”
افرحہ کی روئی روئی سی گلابی آنکھوں کو شدت سے چومتے شاہزیب نے سرد لہجے میں کہا تھا۔جس پر افرحہ اس کے سینے سے لگتی اپنا سر ہلا گئی تھی۔
شاہزیب نے اسے باہوں میں سماتے اس کے بالوں پر لب رکھ دیے تھے۔
جاری ہے۔
