Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Professor Shah (Episode 25)

Professor Shah by Zanoor Writes

“حرام زادوں ایک کام بھی ڈھنگ سے نہیں کرپائے۔۔اتنی سکیورٹی کے باوجود بھی وہ گھر سے کیسے بھاگ گئی۔۔”

مسز شہروز غصے سے لال پیلی ہوکر سکیورٹی گارڈز پر چیخ رہی تھی۔زخمی گارڈ کو وہ پہلے ہی نوکری سے فارغ کرچکی تھیں۔۔

“کالم ڈاون۔۔وہ مل جائے گی۔۔”

شہروز صاحب نے اس کے کندھے کے گرد بازو پھیلاتے انھیں ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔۔

“آپ جانتے ہیں نہ یہ ڈیل کتنی ضروری ہے اگر اس کے غائب ہونے کی خبر باہر نکل گئی تو کتنا بڑا بلنڈر ہوجائے گا۔۔”

وہ شہروز صاحب کا بازو جھٹک کر پھٹ پڑی تھیں۔۔شہروز صاحب نے غصے سے مٹھیاں بھینچی تھیں۔

“دفع ہوجاو میری نظروں کے سامنے سے جب تک وہ بھگوڑی نہ ملی اپنی شکلیں دکھانے کی کوشش بھی مت کرنا۔۔”

مسز شہروز کے چیخنے پر گارڈز پل میں غائب ہوئے تھے۔۔

“وہ زیادہ دیر چھپ نہیں پائے گی نہ ہی اس کے پاس پیسے ہیں اور نہ ہی اس کا پاسپورٹ وہ یہاں کہیں چھپی ہوگی اپنی کسی دوست کے پاس یا پھر کسی ہوٹل میں۔۔”

شہروز صاحب پرسوچ انداز میں بولے تھے۔

“وہ کسی دوست کے ساتھ فلیٹ میں رہتی تھی نہ ضرور اپنی دوست کے پاس گئی ہوگی۔۔یا پھر اس کی دوست کو ضرور کچھ نہ کچھ پتا ہوگا۔”

مسز شہروز کا دماغ فل سپیڈ سے چل رہا تھا۔

“اس فلیٹ پر بھی کچھ گارڈز کو نظر رکھنے کے لیے بھیج دیں۔۔اور اس کی دوست کے بارے میں بھی پتا لگوایں۔۔”

وہ شہروز صاحب کی جانب دیکھتے پرسوچ انداز میں بولی تھی۔شہروز صاحب نے جواباً خاموشی سے سر ہلا دیا تھا۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

اس کے فائنل ایگزم سٹارٹ ہونے والے تھے تبھی شاہزیب کو اگنور کیے وہ لاونچ میں کارپٹڈ فلور پر بیٹھی اپنی کتابوں میں جھکی فوکس کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔

شاہزیب کیچن سے کافی کا کپ لے کر باہر نکلا تھا۔افرحہ کو دیکھتے وہ اس کے قریب آکر صوفے پر بیٹھ گیا تھا اسے نظروں کے حصار میں لیے وہ اس کی جھنجھلاہٹ بخوبی محسوس کر سکتا تھا۔

“آپ کو اور کوئی کام نہیں ہے؟”

بھنویں اچکاتی وہ اس کی نظروں سے نروس ہوتی تھوڑا غصے سے بولی تھی۔

“نہیں”

شاہزیب نے ایک لفظی جواب دے کر اسے مزید تپا دیا تھا۔افرحہ نے ایک کٹیلی نظر اس پر ڈالتے دوبارہ اپنا فوکس کتاب پر کیا تھا۔

شاہزیب اس کی جھنجھلاہٹ سے لطف اندوز ہوتا دھیمی آواز میں گنگنانے لگا تھا۔اسے کہاں منظور تھا مقابل اسے اگنور کرے۔۔

شاہزیب کو گنگناتے دیکھ کر اس کو خوش گوار حیرت ہوئی تھی۔اس نے چھپکے سے ایک نظر شاہزیب پر ڈالی تھی۔شاہزیب کی نظریں خود پر دیکھتے اس نے سر جھٹکا تھا۔اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کوئی ایسا شخص بھی اسے ملے گا جو پاگلوں کی طرح اسے چاہے گا۔

وہ سوچوں میں گم ایک ہی پیراگراف کو کئی بار دہرا چکی تھی۔زور سے کتاب کو پٹخ کر بند کرتی وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔

“آپ۔۔آپ مجھے پڑھنے نہیں دیں گے نہ۔۔”

وہ منہ پھولا کر جھنجھلا کر بول رہی تھی۔شاہزیب نے اپنی مسکراہٹ چھپائی تھی۔

“میں نے کیا کیا ہے؟”

اس نے بھنویں اچکاتے پوچھا۔افرحہ نے اس کی معصومیت پر آنکھیں گھمائی تھیں۔

“آپ کی اس معصومیت پر میں قربان جاوں۔”

وہ سینے پر بازو باندھتے اسے کافی کے گھونٹ بھرتے دیکھ کر طنزیہ بولی تھی۔

“تمھیں میرے کس انداز سے لگا میں معصوم ہوں؟”

کافی کا کپ سائیڈ پر رکھتے اس نے افرحہ کے روبرو کھڑے ہوتے سوال کیا تھا۔افرحہ نے اپنے لب چبائے تھے۔وہ کتنا شاطر انسان تھا وہ ابھی اس بات سے لاعلم تھی۔

“مجھے سکون سے پڑھنے دیں۔۔مجھے اور کچھ نہیں جاننا۔۔”

وہ خاصی جھنجھلا کر معصوم منہ بنائے بولتی شاہزیب کو اپنا اسیر کر گئی تھی۔

“مجھے پسند نہیں تم مجھے اگنور کرو۔۔سیٹرڈے کا دن ہم ساتھ گزارتے ہیں۔۔جو بھی پڑھنا ہے کل پڑھ لینا ابھی میرے ساتھ ٹائم سپینڈ کرو۔۔”

وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنے انتہائی قریب کرتا بول رہا تھا۔

“میں ایک دن میں سارا کام کیسے کروں گی۔۔پہلے ہی پاکستان جانے کی وجہ سے میرا کافی کام بھی پڑا ہوا ہے۔۔”

وہ شاہزیب کے سینے سے سر ٹکاتی پریشان لگ رہی تھی۔

“میرے ہوتے ہوئے تمھیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے میں کل ہیلپ کروا دوں گا۔۔”

وہ اس کے بالوں کی مہک خود میں اتارتا سنجیدگی سے بولا تھا۔

“پرامس؟”

افرحہ نے اس کے سینے سے سر ہٹاتے اپنا ایک ہاتھ اس کے آگے پھیلایا تھا۔شاہزیب نے دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ اس کا ہاتھ پکڑتے اپنے عنابی ہونٹوں سے لگایا تھا۔

“پرامس”

“نیکسٹ ویک اینڈ پر پھپھو گھر ہمارا ڈنر ہے۔۔تم تب تک پیپرز سے بھی فری ہوجاو گی اور آوٹنگ سے فریش فیل کرو گی۔۔”

شاہزیب نے سرسری انداز میں اسے خبر دی تھی۔

افرحہ کو اپنی گرفت میں لیتا وہ صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔افرحہ اس کے سینے پر سر رکھے سکون محسوس کررہی تھی تبھی اس کی بات ہر زیادہ دھیان نہ دے سکی۔

“بریرہ کا کچھ پتا چلا آپ کو؟ کیا وہ اپنے پیرنٹس کے ساتھ ہے؟”

بریرہ سے ملنے کے لیے وہ ایک بار فلیٹ پر گئی تھی جہاں سے اسے فلیٹ کے کافی دنوں سے خالی رہنے کا پتا چلا تھا۔وہ اسے کافی کالز بھی کرچکی تھی مگر اس کا نمبر بند جا رہا تھا۔وہ اس کے پیرنٹس سے پوچھنا چاہتی تھی لیکن ان کا کوئی کانٹیکٹ نمبر نہیں تھا اس کے پاس۔۔تبھی اس نے شاہزیب کو بریرہ کے بارے میں پتا کروانے کا کہا تھا۔

“میں نے عادل سے پوچھا تھا۔بریرہ اپنے پیرنٹس کے ساتھ وکیشنز پر ہے۔۔”

اس نے صفائی سے جھوٹ بولا تھا وہ افرحہ کو پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔

“اسے کم سے کم مجھے انفارم کرنا چاہیے تھا۔”

افرحہ نے منہ بگاڑتے ہوئے کہا۔

“میری معصوم جاناں تم کونسا یہاں تھی جو وہ تمھیں انفارم کرتی۔”

شاہزیب نے اس کی چھوٹی سی ناک دباتے ہوئے جواب دیا تھا۔

“افف۔۔میں بھول گئی تھی یہ بات۔۔”

وہ شاہزیب کی شرٹ سے اپنا ماتھا رگڑتی معصومیت سے بولی تھی۔شاہزیب کو بےساختہ اس پر پیار آیا تھا۔تبھی وہ مضبوطی سے اسے خود میں بھینچ گیا تھا۔

“اب آپ نے میری پڑھائی ڈسٹرب کردی ہے تو مجھے کہیں لے کر جائیں۔۔”

وہ شاہزیب کی طرف مسکرا کر دیکھتی بول رہی تھی۔

“کہاں جانا چاہتی ہو؟”

شاہزیب نے اس کے بالوں کو نرمی سے سہلاتے ہوئے پوچھا۔

“والک پر چلتے ہیں باہر سے ہی کچھ کھا پی لیں گے۔۔”

وہ چمکتی آنکھوں سے بولتی سیدھی ہوکر بیٹھ گئی تھی۔شاہزیب نے اسے کھینچ کر واپس اپنے سینے سے لگاتے اس کی گردن میں منہ چھپایا تھا۔

“میں فلحال تمھارے ساتھ ٹائم سپینڈ کرنا چاہتا ہوں شام کو باہر چلیں گے۔۔”

وہ سانس روکے بیٹھی ساکت سی افرحہ کی گردن پر نرمی سے اپنے ہونٹوں کا لمس چھوڑتا بول رہا تھا۔

“ش۔۔۔شاہزیب آ۔۔پ آپ کی داڑھی مجھے چھب رہی ہے۔۔”

افرحہ اس کی بڑھتی جسارتوں کو محسوس کرتی بڑبڑائی تھی۔ شاہزیب کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ نے اپنی چھب دکھلائی تھی۔

“اچھا۔۔”

وہ اس کی گردن پر اپنی داڑھی رگڑتا اسے تنگ کرنے لگا تھا۔افرحہ اس کی حرکت پر ایک دم چپ ہو گئی تھی۔

“آپ جیسا چالاک انسان میں نے زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔”

افرحہ منہ پھولا کر بولی تھی ساتھ ہی شاہزیب کے بالوں میں ہاتھ ڈال کر اس کے بالوں کو کھینچا تھا۔

“تم نے میرے بال کھینچے۔۔”

شاہزیب جھٹکے سے اس سے دور ہوتا سنجیدگی سے ماتھے پر تیوری ڈالے پوچھنے لگا۔افرحہ اس کی سنجیدہ صورت دیکھ کر ایک پل کو سہم گئی تھی۔

“ن۔۔نہیں میں بس آپ کو پیچھے کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔”

وہ اپنے لب تر کرتی آہستہ سے اس سے دور کھسکنے کی کوشش کرتی بھاگنے کی تیاری میں تھی۔

“مجھ سے جھوٹ بول رہی ہو۔۔”

اس کی کلائی پکڑتے شاہزیب نے اسے جھٹکے سے اپنے قریب کھینچا تھا۔

“مجھے بےوقوف بنا کر مجھ سے دور جانے کی کوشش کر رہی ہو۔۔”

شاہزیب ماتھے پر بل ڈالے اس کی کھلی زلفوں کو اپنے ہاتھوں میں لے چکا تھا۔

“س۔۔س۔۔سوری شاہزیب۔۔”

وہ آنکھیں پھیلا کر اسے دیکھتی کانپتی آواز میں بول رہی تھی۔

“اتنی آسانی سے معافی نہیں ملے گی۔۔”

وہ افرحہ کے بالوں کو ہلکا سا جھٹکا دیتا اس کا چہرہ اوپر اٹھاتا اپنے چہرے کے قریب لے آیا تھا۔

“میں نے کوئی جرم نہیں کیا جو آپ مجھے سزا دیں گے۔۔”

وہ شاہزیب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتی جھنجھلا کر بولی تھی۔شاہزیب کی گرم سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کرتی وہ بری طرح نروس ہو رہی تھی۔

“میرا دل چرانا بھی ایک جرم ہے۔۔”

وہ نرمی سے اس کے آدھ کھلے ہونٹوں کو چھوتا مدھم سرگوشی میں بولا تھا۔افرحہ نے لرزتی پلکوں کی جھالر فورا گرا لی تھی۔

حیا کی لالی افرحہ کی گالوں پر بکھرتے دیکھ کر شاہزیب مبہوت ہوا تھا۔

“میں آپ سے بات نہیں کروں گی آپ جان بوجھ کر مجھے تنگ کر رہے ہیں۔۔”

وہ منہ پھولاتی شاہزیب کی ڈھیلی گرفت سے خود کو چھڑواتی کمرے میں بھاگ گئی تھی۔

“آخر کہاں تک بھاگو گی ؟ لوٹ کر تو میرے پاس ہی آو گی۔۔”

اپنے پیچھے سے شاہزیب کی آواز سنتے ہی اس نے گھبراتے ہوئے اپنے ہونٹ دبائے تھے۔

شاہزیب نے مسکرا کر اسے جاتے دیکھ صوفے کی پشت سے ٹیک لگا لی تھی۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

عادل دو دن پہلے ہی بریرہ سے ملنے کے لیے اس کے گھر گیا تھا مگر اسے وہ وہاں نہیں ملی تھی۔ ایک گارڈ سے پوچھنے پر اسے پتا چلا تھا وہ گھر موجود نہیں ہے۔۔

اگلے دن نیوز پیپر میں بریرہ اور جسٹن کی وکیشنز پر جانے والی خبر پڑھتے ہی وہ جل اٹھا تھا۔تبھی غصے میں پہلی فلائٹ سے ہی پیرس روانہ ہوا تھا جہاں نیوز پیپر کے مطابق وہ لوگ گھومنے پھرنے گئے تھے۔

مگر اسے وہاں صرف زلالت کا سامنا ہوا تھا کیونکہ نہ تو وہاں جسٹن تھا اور نہ ہی بریرہ۔۔اس نے مطلوبہ ہوٹل سے بھی پوچھ لیا تھا جہاں سے اسے پتا چلا تھا کہ ان لوگوں نے صرف بکنگ کروائی تھی یہاں کوئی بھی نہیں آیا تھا۔

اسے اپنی جلد بازی پر غصہ آیا تھا۔ یقینا نیوز پیپر والی خبر جھوٹی تھی اور وہ اتنا سمجھ چکا تھا کہ یہ خبر حقیقت کو چھپانے کے لیے پھیلائی گئی ہے۔

وہ اگلی فلائٹ سے واپس کینیڈا آگیا تھا۔اس نے اپنے ایک ڈیٹیکٹیو دوست کو بریرہ کے بارے میں پتا لگانے کا کہا تھا۔

وہ سفر کی تھکاوٹ اور پیرس میں ہوئی خجل خواری کے بعد اب ریسٹ کر رہا تھا۔لیکن شاہزیب سے بات کرنے کا سوچتے وہ فریش ہوتا گھر سے نکلا تھا۔

شاہزیب بیل کی آواز سنتا دروازہ کھولنے گیا تھا عادل کو تھکا ہوا چہرہ دیکھ کر اس نے لب دباتے اسے اندر آنے کا رستہ دیا تھا۔

“پیرس کیسا لگا ؟”

شاہزیب نے طنزیہ انداز میں پوچھا تھا۔

“شٹ اپ میرا پہلے ہی دماغ گھوما ہوا ہے شاہزیب۔۔”

عادل جھنجھلا کر بولا تھا۔

“آہستہ بولو میری بیوی پڑھ رہی ہے۔۔”

وہ اسے اپنے سٹڈی روم کی طرف لے جاتا ہوا سنجیدگی سے بولا تھا۔ عادل نے اس کی بات پر منہ بگاڑا تھا۔

” تمھیں کیسے پتا چلا میں پیرس گیا تھا۔”

وہ سٹڈی روم میں موجود کاوچ پر بیٹھتے پوچھبے لگا تھا۔

“جیسے مجھے یہ پتا چلا تمھاری بیوی اس وقت ایک لوکل ہوٹل میں اپنے گھر والوں سے چھپ کر بیٹھی ہے۔۔”

شاہزیب سگریٹ سلگا کر لبوں میں دباتا اس کی جانب دیکھ کر بولا تھا۔

اس کی بات سنتے حیران سا عادل ایک دم سیدھا ہوا تھا۔

“وہ کس ہوٹل میں ہے ؟ اور اپنے گھر والوں سے کیوں چھپ رہی ہے ؟ اور تمھیں کیسے پتا چلا وہ کہاں ہے؟”

عادل نے ایک ساتھ کئی سوال پوچھ لیے تھے۔

“میں اپنی بیوی سے متعلق سب لوگوں کے بارے میں خبر رکھتا ہوں۔۔اور جہاں تک بات رہی کہاں ہے اور کیوں چھپ رہی ہے یہ تم اس سے خود پوچھ لینا اسے ڈھونڈنے کے بعد۔۔”

شاہزیب سگریٹ کے گہرے کش لیتا جوابا بولا تھا۔

“شاہزیب مجھے بتاو کہاں ہے وہ؟”

عادل نے کھڑے ہوتے اس سے پوچھا تھا۔اس کے چہرے پر تناو صاف دکھائی دے رہا تھا۔

“چچچ۔۔ افسوس ایک پولیس والا ہوکر بھی تم اپنی بیوی کے بارے میں مجھ سے پوچھ رہے ہو؟”

شاہزیب کی بات نے عادل کے تن بدن میں آگ لگا دی تھی۔اس کا چہرہ غصے سے سرخ پڑ گیا تھا۔

“شاہزیب مجھے غصہ دلانے کی کوشش مت کرو۔۔”

وہ گہرا سانس خارج کرتا بمشکل خود پر قابو کرتا گویا ہوا۔

“میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا۔”

وہ کندھے اچکاتا لاپرواہی سے بولتا عادل کو تپا گیا تھا۔

“تم مجھے بتا کیوں نہیں رہے کہاں ہے وہ؟”

عادل نے جھنجھلا کر پوچھا تھا۔

“میں کیوں بتاوں ؟ مجھے اس سے کیا فائدہ ہوگا؟”

شاہزیب سگریٹ کے کش لیتا سپاٹ انداز میں پوچھ رہا تھا عادل کی بےچینی محسوس کرکے اسے مزا آرہا تھا۔

“کیا چاہتے ہو تم ؟”

وہ غصے سے اپنے بال کھینچتا پوچھ رہا تھا۔۔

“کنٹرول یور سیلف۔۔۔تمھیں اڈریس تب مل جائے گا جب تم مجھے بریرہ کے گھر سے بھاگنے کی وجہ بتاو گے۔۔اب جاو اور کام پر لگ جاو۔۔میں اب اپنی بیوی کے ساتھ وقت گزارنا چاہتا ہوں۔۔”

وہ سگریٹ ایش ٹرے میں مسلتا سنجیدگی سے بولا تھا۔

“جب تمھیں میری ضرورت پڑے گی میں بھی ایسے ہی تڑپاوں گا۔۔”

عادل جھنجھلا کر بولتا اسے گھوری سے نوازتا لمبے لمبے ڈھگ بھرتا وہاں سے نکل گیا تھا۔اسے جاتے دیکھ کر شاہزیب کے ہونٹ ہلکے سے اوپر اٹھے تھے۔۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

بریرہ شہر سے کچھ دور ایک لوکل ہوٹل میں رہ رہی تھی۔ وہ اپنے فلیٹ پر جانے کا ارادہ رکھتی تھی تاکہ وہاں سے اپنے پیسے اور پاسپورٹ لے سکے۔۔لیکن وہ جانتی تھی وہاں جانا خطرہ سے خالی نہیں تھا۔

وہ ہوٹل کے کمرے میں موجود تھی جو سنگل بیڈ اور چھوٹے سے واشروم ہر مشتمل تھا۔

کمرے کے دروازے پر ناک ہونے کی وجہ سے وہ چوکنا ہوئی تھی۔بیڈ سے اٹھتے اس نے اپنے ہاتھ میں چاقو پکڑا تھا جو اس نے لوکل شاپ سے خریدا تھا۔

“کون ہے؟”

اس نے مضبوط آواز کرتے پوچھا۔

“روم سروس”

اس نے کسی کو نہیں بلایا تھا یقینا باہر موجود شخص اسے ڈھونڈنے کے لیے آیا تھا۔

وہ تیزی سے بیڈ کے قریب جاتی اپنے پیسے جیب میں ڈالتی کھڑکی کی جانب بھاگی تھی جو ہوٹل کے پچھلی سائیڈ پر کھلتی تھی۔

وہ کانپتے ہاتھوں سے تیزی سے کھڑکی کھولنے لگی تھی دروازے کو کوئی زور زور سے ٹکر مارتے اسے کھولنے کی کوشش کرنے لگا تھا۔

وہ تیزی سے کھڑکی کھولتے باہر کودی تھی کمرہ پہلی منزل پر ہونے کی وجہ سے نیچے گرنے پر اسے اچھی خاصی چوٹیں لگی تھیں۔۔

تیزی سے بھاگتے اس نے ایک بار بھی پیچھے مڑنے کی کوشش نہیں کی تھی۔وہ پیچھے مڑی ہی تھی جب پاوں کسی چیز میں لگنے سے وہ زور سے زمین پر گری تھی۔ایک درد بھری سسکی اس کے منہ سے نکلی تھی۔

“سٹاپ اٹ گرل۔۔مجھے تمھاری حفاظت کے لیے ہائیر کیا گیا ہے۔۔”

اس کے قریب آتے وہ شخص چیخا تھا۔۔اس کے بھاگنے کی وجہ سے وہ جھنجھلا گیا تھا۔

“کس نے بھیجا ہے تمھیں۔۔”

وہ سیدھا ہوتی حیرانی سے پوچھ رہی تھی۔

“سر شاہزیب نے۔۔”

اس نے تیزی سے جواب دیا تاکہ مقابل اس کا جواب سنے بغیر بھاگ نہ جائے۔

“وہ کون ہیں ؟”

اس نے اپنے دماغ پر زور ڈالنے کے بعد پوچھا۔

“یہ ہیں سر شاہزیب انھوں نے تمھیں دوسرے ہوٹل میں لےجانے کا کہا ہے جہاں تم بحفاظت رہو گی۔”

اس نے شاہزیب کی تصویر نکالتے اسے دکھایا تھا۔شاہزیب کو پہنچانتے اس نے سکھ کر سانس لیا تھا۔

“اب یہاں سے چلیں یا یہاں ہی رات گزارنے کا ارادہ ہے ؟ بائی دا وے آئی ایم روحان “

وہ بریرہ کو کھڑے ہونے میں مدد کرتا بولا تھا۔

“تمھاری وجہ سے مجھ اتنی چوٹیں لگی ہیں پہلے ہی یہ سب بتا دیتے۔۔”

بریرہ جھنجھلا کر غصے سے بولی تھی اس کے بازو اور ہاتھوں پر رگڑیں لگ گئی تھی۔

“یو آر آ کریزی گرل۔۔۔میں سکون سے ہی بتانے والا تھا لیکن تمھیں ہی بھاگنے کی جلدی تھی۔۔”

روحان اسے اپنی کار کی طرف لے جاتا بولا تھا۔بریرہ نے گھور کر اسے دیکھا تھا جواب روحان نے آنکھیں گھمائی تھیں۔۔اسے گاڑی میں بیٹھاتا وہ اسے شاہزیب کی بتائی گئی جگہ پر لے گیا تھا۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

“کوئی مووی دیکھیں پھر کل سے لگاتار پڑھائی کرنی پڑے گی اور انجوائےمنٹ کا موقع نہیں ملے گا۔۔”

رات کو ڈنر کرنے کے بعد افرحہ شاہزیب سے بولی تھی۔

“تم نے پیپر کی تیاری نہیں کرنی ؟”

شاہزیب نے ائبرو اچکاتے پوچھا۔

“میں ہالف سے زیادہ تیاری کرچکی ہوں باقی کل کر لوں گی اب پلیز چلیں کوئی مووی دیکھتے ہیں۔۔”

وہ شاہزیب کا بازو پکڑتی لاڈ سے بولی تھی۔شاہزیب نے دھیرے سے اس کی ناک دبائی تھی۔

“تم تھیٹر روم میں جاکر مووی سلیکٹ کرو تب تک میں سنیکس لے کر آتا ہوں۔۔”

اس کے بالوں کی مہک خود میں اتارتے شاہزیب نے اسے کہا تھا۔افرحہ مسکرا کر اس کے سینے پر لب رکھتی تیزی سے مووی سلیکٹ کرنے کے لیے بھاگ گئی تھی۔

شاہزیب نے دھیمی مسکراہٹ سے اسے جاتے دیکھا تھا۔

پاپ کارن اور دوسرے سنیکس لیتا وہ افرحہ کے پاس چلا آیا تھا جہاں وہ کوئی ڈیزنی پرنسسز مووی لگائے بیٹھی تھی۔

“یہ مووی دیکھنی ہے؟ “

شاہزیب نے ناک چڑھاتے پوچھا وہ سخت بدمزہ ہوا تھا۔

“جی میرا دل کر رہا ہے فروزن دیکھنے کو۔۔”

وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی۔شاہزیب کا چہرہ دیکھ کر اسے ہنسی آرہی تھی۔

“مجھے یہ مووی نہیں دیکھنی چینج کرو۔۔”۔

شاہزیب سنجیدگی سے بولتا اس کے پاس بیٹھ گیا تھا۔

“نہیں مجھے یہ ہی مووی دیکھنی ہے پلیز۔۔”

وہ ساتھ بیٹھے شاہزیب کے گال پر لب رکھتی معصومیت سے بولی تھی۔شاہزیب پل میں پگھلا تھا۔

افرحہ کو گھورتے وہ اس کے ساتھ مووی دیکھنے لگا تھا۔۔اسے بالکل بھی مزا نہیں آرہا تھا۔افرحہ اس کے سینے پر سر رکھے سنیکس سے لطف اندوز ہوتی مزے سے مووی دیکھ رہی تھی۔

شاہزیب بس آدھا گھنٹا ہی برداشت کر سکا تھا اس کے بعد اس کی برداشت جواب دے گئی تھی۔ تبھہ افرحہ کا چہرہ ٹھوڑی سے اٹھاتے اس کے ہونٹوں کو اپنے قبضے میں لیتے اس کی سانسیں بند کر دی تھیں۔

افرحہ اس افتاد کے لیے تیار نہ تھی تبھی اس کے ہاتھ میں موجود پارپ کارن چھوٹ کر گرگئے تھے۔

اس نے شاہزیب کی بڑھتی شدتیں محسوس کرتے اس کی شرٹ کو مضبوطی سے اپنی گرفت میں جکڑا تھا۔

“یہ مجھے زبردستی پرنسسز والی مووی دیکھانے کا انجام۔۔”

وہ ایک پل کو اس کے لب آزاد کرتا اسے سانس لینے کا موقع دیتا بولتا ساتھ ہی دوبارہ اس کے ہونٹوں کو چوم گیا تھا۔

افرحہ نے سانس بند ہوتا محسوس کرکے اس کے سینے پر ہاتھ مار کر اسے دور کرنے کی کوشش کی تھی۔افرحہ کی سانسوں کو بخشتا وہ اس کے بالوں کو دھیرے سے سہلانے لگا تھا۔

افرحہ اس کی حرکت پر سرخ سیب بن گئی تھی۔تبھی گہرے گہرے سانس لیتی وہ شاہزیب کے سینے میں منہ چھپا گئی تھی۔۔

شاہزیب نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ دوسرے ہاتھ سے اسکے گرد حصار باندھا تھا۔اس کی نازک اندام بیوی اس کی گرفت میں ہولے ہولے کانپ رہی تھی۔شاہزیب نے اسے کھینچ کر زور سے خود میں بھینچ لیا تھا۔

“آئیندہ کے بعد مجھے ایسی مووی مت دیکھانا ورنہ انجام کی ذمہ دار تم خود ہوگی۔۔”

شاہزیب مسکراتا ہوا وارن کرگیا تھا۔افرحہ نے اس کی بات پر منہ پھولایا تھا اس کا شاہزیب کو زچ کرنے کا پلان اس پر خود ہی بھاری پڑ گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *