Professor Shah by Zanoor Writes NovelR50559 Professor Shah (Episode 21)
Rate this Novel
Professor Shah (Episode 21)
Professor Shah by Zanoor Writes
عادل دو دن سے کسی کیس میں بری طرح مصروف تھا۔ بریرہ کی جانب خاموشی سے وہ تھوڑا ٹھٹھکا تھا تبھی آج سیدھا پولیس اسٹیشن سے بریرہ کے فلیٹ پر گیا تھا۔۔
فلیٹ پر کئی بار بیل بجانے کے بعد بھی اسے کوئی جواب نہیں ملا تھا۔
“ضرور کہیں آوارہ گردی کرنے کے لیے نکلی ہوگی۔۔”
وہ تلخی سے سوچنے لگا ہونٹوں کو سختی سے بھینچے ایک زوردار ٹانگ اس نے فلیٹ کے دروازے پر ماری تھی۔۔
آج اس کے پیرنٹس کے فرینڈ کے بیٹے کی انگیجمنٹ تھی وہ وہاں بریرہ کو لے کر جانے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن بند دروازہ اور اس کی غیر موجودگی اسے شدید طیش دلا گئی تھی۔
اگر وہ اس کی بیوی نہ ہوتی توبات الگ تھی وہ جہاں مرضی جاتی اسے فرق نہیں پڑنا تھا لیکن اب وہ اس کے نکاح میں تھی کیسے برداشت کر لیتا وہ کسی کلب میں غیر مردوں کے درمیان جھول رہی ہو۔۔
غصے سے اس کی رگیں تن گئی تھی ایک کٹیلی نظر بند دروازے پر ڈالتے وہ لمبے لمبے ڈھگ بھرتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔
اپنے گھر جاکر وہ شاور لیتا اپنا غصہ ٹھنڈا کر چکا تھا گرے تھری پیس سوٹ میں بالوں کو جیل سے سیٹ کیے وہ انتہائی پرکشش لگ رہا تھا۔اس کے چہرے پر چھائی سنجیدگی اس کی پرسنیلٹی کو مزید ابھار رہی تھی۔۔
وہ مکمل تیار ہوتا اپنی چیزیں لیتا گاڑی میں بیٹھ گیا تھا اس کے پیرنٹس واپس پاکستان جاچکے تھے وہاں اس کی دادی کی طبیعت کچھ ناساز تھی جس کے باعث وہ اچانک ہی واپس لوٹ گئے تھے۔۔
انگیجمنٹ پارٹی کا انتظام بڑے پیمانے پر اوپن ائیر میں کیا گیا تھا۔تازو پھولوں کی خوشبو فضا میں پھیلی ہوئی تھی۔۔سجاوٹ حدسے زیادہ کی گئی تھی جس سے ان کی دولت کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔۔
عادل وہاں لوگوں سے ملتا بات چیت کرنے لگا تھا ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی۔۔جب اس کے پیرنٹس کے فرینڈز ڈیوڈ اور سوزی سے اس کی ملاقات ہوئی اپنے پیرنٹس کی طرف سے ایکسکیوز وہ کر چکا تھا۔۔
انگیجمنٹ سٹارٹ ہونے والی تھی عادل بور سا ایک سائیڈ پر کھڑا تھا سب لوگ لڑکی کے آنے کا انتظار کر رہے تھے۔۔
عادل نے جوس کا گلاس ہاتھ میں تھاما ہوا تھا لڑکی کی اینٹری پر اس کی نظریں بےساختہ اٹھی تھیں اور پلٹنا بھول گئی تھیں۔۔حلق میں کانٹے سے چھبتے ہوئے محسوس ہونے لگے تھے ماتھے کی رگیں ضبط کی شدت سے پھول گئی تھیں۔۔
سامنے ہی پیچ کلر کے ویسٹرن سٹائل کے لانگ گاون میں تیار سی بریرہ کو سٹیج کی طرف بڑھتے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں مرچیں چبھنے لگی تھیں۔۔
مقابل کو دیکھتے ہی اس کا گلا دبانے کا بےساختہ دل چاہا تھا۔۔اس کی نظریں بریرہ کے ساتھ سٹیج تک گئی تھیں وہ ساکت سا کھڑا تھا ہوش تو اسے تب آیا تھا جب بریرہ کے ہاتھوں میں جسٹن کے رنگ پہنانے پر ہر طرف تالیوں کا شور گونج اٹھا تھا۔۔
بریرہ نے مردہ دل سے کانپتے ہاتھوں سے جسٹن کی ہاتھوں میں رنگ پہنائی تھی۔اس نے مقابل کی طرف دیکھنے سے گریز کیا تھا اس کی آنکھیں سامنے کی طرف اٹھی تھیں عادل کو دیکھتے ہی ایک خوشی کی لہر اس کے وجود میں اتری تھی لیکن اس کی آنکھوں میں نفرت اور حقارت دیکھتے ہی وہ منجمند ہوگئی تھی۔۔اس کا سانس سینے میں اٹک گیا تھا۔۔
“وہ اعتبار نہیں کرے گا۔۔”
اس کے ذہن میں بے اختیار خیال آیا تھا اور واقعی یہ حقیقت تھی۔۔اس کے پیرنٹس نے جس طریقے سے اسے فورس کرکے یہ سب کروایا تھا وہ کسی کو بتا بھی نہیں سکتی تھی۔۔
جسٹن کا لمس اپنے گال پر محسوس کرتے اس کو اپنے وجودسے نفرت محسوس ہوئی تھی وہ بے ساختہ قدم اٹھاتی پیچھے ہٹ گئی تھی عادل کا ضبط یہی تک تھا وہ بےساختہ الٹے قدم اٹھاتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔
بریرہ نے نم آنکھوں سے اسے دور جاتے دیکھا تھا اس کو لگ رہا تھا شاید وہ اس کے قریب آکر سوال کرے گا اس سے پوچھے گا لیکن وہ تو خاموشی سے اسے اس حال میں چھوڑ کر چلا گیا تھا۔۔بریرہ نے تکلیف کی شدت سے آنکھیں میچ لی تھی۔۔وہ حقیقت کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
“اس عورت کو میرے یہاں آنے کی اطلاع کس نے دی ہے۔۔”
وہ تقریبا چیخنے کی انداز میں دھاڑا تھا۔جب سے اسے وہ اینولیپ ملا تھا اس کا خون جل رہا تھا تبھی پہلی فرصت ملتے ہی وہ شاہ پیلس چلا آیا تھا۔سب لوگ بیٹھے چائے پی رہے تھے جب وہ بنا لحاظ کیے چلایا تھا۔
“کس کی بات کر رہے ہو شاہزیب؟”
حاتم شاہ نے چائے کا کپ میز پر رکھتے پوچھا تھا۔۔
“آپ جانتے ہیں میں کس کے بارے میں بات کر رہا ہوں۔۔اور تم کمرے میں جاو۔۔”
وہ ایک ناگوار نظر فاطمہ بیگم پر ڈالنے کے بعد خاموش بیٹھی نورے سے بولا تھا جو فورا کپ میز پر ٹکاتی اپنے کمرے میں بھاگ گئی تھی۔۔
“میری بیٹی پر روعب جھاڑنے کی کوئی ضرورت نہیں اپنی حد میں رہو۔۔”
فاطمہ بیگم غصے سے بولی تھیں۔۔
“وہ آپ کی بیٹی بعد میں اور میری بہن پہلے ہے یہ بات بھولنے کی کوشش مت کیجیے گا۔۔”
وہ انگلی اٹھا کر سخت لہجے میں بولا تھا اس کی بات نے فاطمہ بیگم کو شدید تکلیف پہنچائی تھی۔۔
“آپ نے ہی اس عورت کو میرے بارے میں بتایا ہے نہ ؟ “
وہ فاطمہ بیگم کی طرف بڑھتا مزید بولا تھا۔۔فاطمہ بیگم کے ماتھے پر تیوری چڑھی تھی۔میر شاہ اور حاتم شاہ خاموشی سے ماتھے پر بل ڈالے شاہزیب کو برستا دیکھ رہے تھے۔۔
“تمیز سے بات کرو شاہزیب تمھاری ماں ہے فاطمہ۔۔”
میر شاہ فاطمہ بیگم کی نم آنکھیں دیکھتے فورا بول اٹھے تھے۔۔
“میری ایک ہی ماں تھیں جو برسوں پہلے مرچکی ہیں۔۔اس عورت کو میری ماں مت کہیے گا۔”
وہ سرد ترین لہجے میں بولا تھا۔
فاطمہ بیگم نے تکلیف سے آنکھیں میچیں تھیں۔اس کی بات نے ان کا کلیجہ چیڑ دیا تھا۔
“اگر اس عورت نے میری بیوی کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کی تو میں بھول جاوں گا وہ عورت آپ کی بیوی کی بہن ہے۔۔”
شاہزیب فاطمہ بیگم کی نظروں سے نظریں ملاتا پھر ایک نظر حاتم شاہ پر ڈالتا کاٹ دار لہجے میں بولا تھا۔۔
“میری بہن معصوم ہے صرف تم ہی جانور ہو۔۔بابا اس سے کہیں یہاں سے نکل جائے ورنہ میں گھر چھوڑ کر چلی جاوں گی۔۔”
فاطمہ بیگم اپنی بہن کے بارے میں سنتی سانپ کی طرح پھنکاری تھیں۔۔ساتھ ہی حاتم شاہ کی طرف مڑتے وہ دھمکی دینے لگی تھیں۔۔
“مجھے یہاں سے نکالنے کی دھمکی مت دیں یہ میرا گھر ہے میں جب تک چاہوں گا یہاں رہوں گا آپ کے لیے گھر کے دروازے کھلے ہیں جب چاہیں جاسکتی ہیں۔۔”
وہ اپنی مٹھیاں بھینچتا غصے کی شدت سے اونچی آواز میں دھاڑا تھا۔۔
“تمھیں جیل میں سڑنا چاہیے تھا بہت جلد تم اپنے گناہوں کی سزا پاوں گے۔۔تمھاری بیوی بھہ تمھارے جیسی ہی ہوگی گھٹیا۔۔”
فاطمہ بیگم کی باتوں نے اسے آگ لگا دی تھی۔۔
“یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کون جیل کی ہوا کھائے گا۔۔اور دوبارہ میری بیوی کو بیچ میں مت لائیے گا ورنہ جو تھوڑا بہت لحاظ کرتا ہوں یہ بھی بھول جاوں گا۔۔”
شاہزیب تیز آواز میں دھاڑا تھا۔۔حاتم شاہ معاملہ بگڑتا دیکھ کر فورا اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔۔
“فاطمہ خاموش ہو جائیں اور فورا اپنے کمرے میں چلے جائیں۔۔میر جاو فاطمہ کو یہاں سے لے جاو۔۔”
حاتم شاہ کی گرج دار آواز سنتے میر شاہ اپنی غصے سے بھری بیگم کو زبردستی تھام کر کمرے میں لے گئے تھے۔۔
“شاہزیب۔۔”
حاتم شاہ بولنے لگے تھے جب شاہزیب نے ان کی بات کاٹی تھی۔۔
“آپ نے یہ جائیداد میرے نام کس کے کہنے پر کی تھی؟”
شاہزیب نے اپنے ذہن میں مچلتا سوال پوچھا۔
“یہ میرا ذاتی فیصلہ تھا۔۔کسی نے مجھے کچھ نہیں کہا تھا۔۔”
حاتم شاہ نے سنجیدگی سے جواب دیا تھا۔۔شاہزیب نے دھیرے سےسر ہلایا تھا۔
“مجھے پھپھو نے کہا تھا آپ کو آپ کے بیٹے نے بھی کہا تھا۔۔”
وہ میر شاہ کا ذکر کرتا بولا تھا۔۔
“نہیں اس نے مجھے کچھ نہیں کہا تھا۔۔اور یہ کیا معاملہ ہے اتنے پریشان کیوں ہو؟”
حاتم شاہ نے پوچھا۔۔شاہزیب گہری سانس خارج کرتا سنجیدگی سے انھیں اینولیپ کے بارے میں بتا چکا تھا۔۔
“میں دیکھتا ہوں اس معاملے کو تم فکر مت کرو۔۔”
حاتم شاہ نے تسلی دی تھی شاہزیب نے دھیرے سے سر ہلایا تھا۔۔وہ خود اب یہ معاملہ سنبھالنے کا سوچ رہا تھا۔۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
بریرہ بد دل سی اپنے کمرے میں لیٹی ہوئی تھی۔۔کافی رات ہوگئی تھی نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔
عادل کا خیال بار بار اس کے ذہن میں آرہا تھا لیکن وہ یہاں بری طرح پھنسی ہوئی تھی۔۔اس کے پیرنٹس نے گھر کی سکیورٹی سخت کی ہوئی تھی جس کے باعث وہ کمرے سے باہر بھی قدم مشکل سے ہی نکال پاتی تھی۔۔
اس کے ذہن میں اچانک ہی خود کو ختم کرنے کا خیال آیا تھا جسے وہ فورا جھٹک گئی تھی۔۔بیڈ پر لیٹی اس کی نظریں ساکت سی چھت کو گھور رہی تھیں۔۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر بھی اس نے اپنی نظریں ہٹائی نہیں تھیں۔۔یہ معمول تھا رات کو اکثر اسے چیک کرنے کے لیے گارڈ ایک دفع ضرور آتا تھا۔۔
وہ ساکت سی لیٹی تھی جب کمرے میں موجود شخص نے آگے بڑھتے بیڈ پر لیٹی بریرہ کو گردن سے دبوچا تھا۔۔بریرہ اس اچانک افتاد پر بری طرح بوکھلا تھی۔۔اس کی نظریں بےساختہ مقابل کے ماسک میں چھپے چہرے کی طرف گئی تھی۔۔
“تم نے سوچ بھی کیسے لیا میرے نکاح میں ہوتے ہوئے کسی اور سے انگیجمنٹ کرنے کا۔۔؟ تم تو میری سوچ سے بھی زیادہ گھٹیا نکلی۔۔”
مقابل کی آواز تو وہ لاکھوں میں بھی پہچان سکتی تھی۔۔عادل کے الفاظ انتہائی زہریلے تھے۔۔بریرہ کی آنکھیں نم ہوئی تھیں۔۔
عادل نے اس کے گلے پر گرفت مضبوط کی تھی جس سے اسےسانس لینے میں انتہائی دشواری ہورہی تھی۔۔
“ع۔۔عادل پل۔۔پلیز مم۔۔مجھے سا۔۔سانس نہیں آرہا۔۔”
وہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ بول رہی تھی۔۔مقابل نے نفرت سے اسے دیکھتے تھوڑی سی گرفت ہلکی کی تھی۔۔
“پتا نہیں تم میرے کن گناہوں کی سزا ہو ؟ میں نے ایک نیک سیرت بیوی مانگی تھی اگر مجھے پتا ہوتا تم جیسی آوارہ میری بیوی بنے گی میں کبھی بھہ شادی کے بارے میں سوچتا بھی نہ۔۔”
وہ زہریلے لہجے میں اس کے کان کے قریب جھکا پھنکارا تھا مقابل نے بےساختہ آنکھیں میچ لی تھیں۔۔عادل کے الفاظ اسے تکلیف سے چھلنی کر رہے تھے۔۔
“جیسا تم سوچ رہے ہو ویسا نہیں ہے۔۔”
وہ گہرے سانس لیتی نم آواز میں بولی تھی۔۔
نمکین پانیوں سے بھری صاف آنکھیں مقابل کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔۔اس کی نم آنکھیں دیکھ کر عادل کے دل کو کچھ ہوا تھا۔
ایک کے بعد کئی آنسو اس کی آنکھوں سے نکلتے تکیے کو بھگونے لگے تھے۔
وہ تو اسے ہمیشہ لڑتے جھگڑتے ہی دیکھتا آیا تھا وہ یوں تو کبھی نہ روئی تھی۔۔اس کی گردن کو اپنے شکنجے سے آزاد کرتے عادل نے نرمی سے اس کے بھیگے گال صاف کیے تھے۔۔
اچانک جسٹن کا بریرہ کے چہرے پر لمس چھوڑنے کا یاد آتے ہی اس نے سختی سے بریرہ کا چہرہ دبوچا تھا۔۔
“اس شخص کے قریب جانے کی کوشش بھی کیسے کی تم نے۔۔میرے نکاح میں ہوتے ہوئے دوسرے مردوں کے ساتھ عیاشیاں کر رہی ہو اور مجھ سے امید لگا رہی ہو میں تمھارے ان جھوٹے آنسووں پر اعتبار کروں۔۔”
وہ سنجیدگی سے اس کے چہرے پر پھنکارا تھا۔۔آنسو بھل بھل کر اس کی آنکھوں سے نکل رہے تھے۔۔بریرہ ایک دم خاموش ہوگئی تھی۔۔
بھیگی پلکوں کو اوپر اٹھاتے اس نے عادل کو دیکھا تھا جس کا چہرہ غصے کی شدت سے سرخ دکھائی دے رہا تھا اس کا ہاتھ بےساختہ اٹھا تھا اور عادل کے چہرے پر چھاپ چھوڑ گیا تھا۔۔
“دفع ہو جاوں یہاں سے مجھے تمھاری شکل بھی نہیں دیکھنی۔۔”
وہ کپکپاتی آواز میں عادل کو دیکھتی پھنکاری تھی۔۔عادل نے سرخ آنکھوں سے غصے کی شدت سے اسے گھورا تھا۔۔
بےساختہ بریرہ کے چہرے پر جھکتے اس نے بری طرح بریرہ کے ہونٹوں کو نشانہ بنایا تھا۔بریرہ نے کانپتے ہاتھوں سے اسے مارنا چاہا تھا عادل اس کے دونوں ہاتھوں کو دبوچتا بیڈ سے لگا چکا تھا۔۔
“آئی ہیٹ یو۔۔”
وہ عادل کے پیچھے ہٹنے پر اپنے ہونٹوں پر جلن محسوس کرتی روتے ہوئے بولی تھی۔مقابل سے اتنی بےرحمی کی امید نہیں تھی۔۔اسے روتا چھوڑتا عادل فورا اس سے دور ہٹتا تیزی سے قدم اٹھاتا روم سے نکل گیا تھا۔۔
عادل کے جانے کے بعد تکیے میں منہ دیے وہ اونچی آواز میں رونے لگی تھی۔۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
شاہزیب صبح سے ہی باہر نکلا ہوا تھا وہ اسے کل سے دو بار پیکنگ کا بول چکا تھا لیکن حاتم شاہ نے افرحہ کو ابھی فلحال پاکستان رکنے کا بولا تھا جس سے وہ جھٹ مان گئی تھی کیونکہ ابھی وہ اپنے پیرنٹس سے بھی صلح کرنا چاہتی تھی ان کو یاد کرتے افرحہ کی آنکھیں بھیگی تھیں وہ ان کے پاس ہوکر بھی بہت دور تھی۔۔
“تم جاو یہاں سے آج لنچ میں بناوں گی۔۔”
افرحہ نے کیچن میں داخل ہوتے ملازمہ سے کہا تھا جو اس کی بات پر زرد پڑ گئی تھی۔۔
“میم سر نے ہمیں آپ کو کسی بھی کام کو ہاتھ لگانے سے منع کیا ہے۔۔سر ہمیں جوب سے نکال دیں گے۔۔”
ملازمہ التجائیہ بولی تھی
“کچھ نہیں کہیں گے شاہزیب اب جاو۔۔”
افرحہ تھوڑا سختی سے بولی تھی ملازمہ مرتی کیا نہ کرتی کے مصداق وہاں سے چلی گئی تھی کھانا اس کی والدہ نے اسے میٹرک میں ہی بنانا سیکھا دیا تھا اسی لیے اسے کینیڈا میں بھی اپنا کھانا بنانے میں کبھی مشکل نہیں ہوتی تھی۔۔
فریزر سے گوشت نکالتے اس نے بھگو دیا تھا تاکہ گوشت کھل سکے۔۔۔وہ کورمہ بنانے کا سوچتی مصالحہ بنانے لگی تھی۔۔
تیزی سے ہاتھ چلاتے اس نے کورمے کو دم پر رکھ دیا تھا آتا ڈھونڈ کر ایک کیبن سے نکالتے وہ گوندھنے کا سوچ رہی تھی۔۔ابھی آٹے میں ہاتھ ڈالتے ہی اسنے تھوڑا سا پانی ڈالا تھا جب پیچھے سے اپنے کان کے قریب کسی کی گرم سانسیں محسوس کرکے وہ بری طرح ڈری تھی۔۔
بےساختہ اچھلتے ہوئے وہ جھٹکے سے پیچھے مڑی تھی۔شاہزیب کو اپنے بے حد نزدیک کھڑے دیکھ کر اس نے اپنا آٹے سے بھرا ہاتھ بےدھیانی میں مقابل کے سینے پر رکھا تھا۔۔
“آپ نے مجھے ڈرا دیا تھا۔۔کوئی ایسا بھی کرتا پے کیا ؟”
وہ برہمی سے بولی تھی جبکہ شاہزیب کی نگاہیں اس کے آٹے سے بھرے ہاتھ پر تھی جو اس کی نیلی شرٹ پر دھرا ہوا تھا۔۔
“اوپس سوری۔۔”
افرحہ کی نظریں شاہزیب کی نظروں کے تعاقب میں اپنے ہاتھ پر گئیں تھیں وہ فورا ہاتھ اٹھاتی معصومیت سے آنکھیں جھپکاتی بولی تھی۔۔
شاہزیب اس کی طرف جھکا تھا افرحہ پیچھے ہٹتی شلف سے لگ گئی تھی۔۔شاہزیب نے اس کے دونوں طرف ہاتھ شلف پر ٹکاتے اسے اپنے حصار میں قید کیا تھا۔۔
“میں نے منع کیا تھا نہ کسی بھی کام کو ہاتھ لگانے سے۔۔”
اس کے چہرے پر جھکا شاہزیب انتہائی سنجیدگی سے بول رہا تھا افرحہ کی سانس سینے میں اٹک گئی تھی۔۔
“م۔۔میرا دل کر رہا تھا آپ کے لیے کھانا بنانے کو۔۔اور مما کہتی ہیں اچھی بیویاں اپنے شوہر کے لیے خود کھانا بناتی ہیں۔۔اور میں اچھی بیوی بننا چاہتی ہوں۔۔”
اس کے منہ میں جو آیا وہ بنا سوچے سمجھے بولتی گئی تھی۔۔شاہزیب نے ائبرو اچکاتے اس کے چہرے کو گہری نظروں سے دیکھا تھا جس نروس سے نظریں اٹھاتی اور پھر جھکاتی اسے اپنے دل کے بے حد قریب محسوس ہو رہی تھی۔۔
“مجھے تو تم پہلے سے ہی اچھی لگتی ہو پھر اس سب کا کیا فائدہ ؟”
وہ اس کی آنکھوں پر آئی لٹ کو نرمی سے کان کے پیچھے اڑستا پوچھنے لگا تھا۔۔افرحہ نے منہ پھولایا تھا۔۔
“اب آپ میرے کاموں پر بھی پابندی لگائیں گے ؟ “
وہ برہم ہوئی۔۔
“میرا بس چلے تمھاری سانسیں بھی قید کرلوں۔”
وہ خمار زدہ آواز میں اس کے کان کے قریب جھکا سرگوشی میں بولا تھا۔اس کی نزدیکی سے افرحہ کے پسینے چھوٹ پڑے تھے۔۔
“اچھا ٹھیک ہے آئیندہ سے کچھ نہیں کروں گی اب پیچھے ہٹیں۔۔”
وہ شاہزیب کی نظروں کا ارتکاز اپنے چہرے پر محسوس کرتی بولی تھی۔۔
شاہزیب نے اس کے چہرے پر جھکتے اس کے گال پر ہولے سے لب رکھے تھے۔۔افرحہ کی آنکھیں پھیلی تھی۔۔
“گڈ گرل۔۔”
شاہزیب دھیرے سے پیچھے ہٹتا بولا تھا اس کی گھمبیر آواز نے افرحہ کے دل کے تاڑوں کو چھیڑا تھا۔۔شاہزیب کے دور ہٹتے ہی وہ سرخ گالوں کو اس کی نظروں سے چھپاتی چولہا بند کرتی وہاں سے بھاگ گئی تھی۔۔
جاری ہے۔۔
