Professor Shah by Zanoor Writes

افرحہ اسائمنٹ مکمل نہ کرنے کی وجہ سے ایک بار پھر شاہزیب کے سامنے آفس میں موجود تھی۔منہ بگاڑتی وہ ہاتھوں کو بے چینی سے مسل رہی تھی۔۔
"مس افرحہ آجائیں آپ کا ہی انتظار ہو رہا تھا۔۔"
اسے دیکھتا شاہزیب طنزیہ بولا تھا۔۔
افرحہ اپنا حلق تر کرتی اسے بس گھور کر رہ گئی تھی۔
"پہلے میرے موبائل کی پیمنٹ کریں۔۔"
شاہزیب کے پیسے مانگنے پر اس نے منہ بگاڑا تھا۔
"غلطی آپ کی بھی تھی۔۔"
وہ منہ بنا کر بولی تھی۔
"ابھی اور اسی وقت میرے پاس شرافت سے یہاں رکھ دو۔۔ورنہ تم جانتی نہیں میں بہت خطرناک بندہ ہوں۔۔"
شاہزیب اپنا کورٹ اتار کر کرسی پر لٹکا چکا تھا اب وہ اپنے بازو کے کف فولڈ کرتا خطرناک انداز میں بولتا افرحہ کا خون خشک کر گیا تھا۔
"میں بس اتنے ہی پیسے دے سکتے ہوں۔۔"
چند سکے اور ایک نوٹ اپنے بیگ سے نکالتی وہ میز پر رکھ چکی تھی۔
"تم سے اتنے پیسوں کی ہی امید تھی۔۔۔اب اسائمنٹ کی بات کرتے ہیں۔۔کل تین بار وہ ہی اسائمنٹ کرکے لانا ورنہ کلاس میں آنے کی ضرورت نہیں۔۔"
شاہزیب پیسے اپنی جانب کھینچتا بولا تھا۔
"اللہ معاف کرے آپ جیسا (سڑیل) شخص میں نے زندگی میں نہیں دیکھا۔۔آپ کو شرم نہیں آئی مجھ معصوم کے پیسے لیتے ہوئے۔"
اپنے پیسے چلے جانے کے غم میں دہائی دیتے ہوئے بولی تھی۔
"ایک منٹ میں یہاں سے چلی جاو۔۔نہیں تو باقی پیسے بھی لے لوں گا۔۔"
شاہزیب آنکھیں گھماتا بولا تھا۔۔یہ لڑکی اسے سخت زہر لگ رہی تھی۔
"اللہ پوچھے آپ سے۔۔"
وہ دہائی دیتی پیر پٹھکتی چلی گئی تھی۔شاہزیب نے اس کے جاتے ہی سکون کا سانس لیا تھا۔
رات کا وقت بریرہ کلب سے نکلتی گاڑی میں بیٹھی فلیٹ پر جارہی تھی۔جب گاڑی خراب ہونے کی صورت میں وہ گاڑی سے نکلتی لفٹ مانگنے لگی تھی۔۔
ایک گاڑی بمشکل اس کے پاس رکی تھی بریرہ نے شکر کا سانس لیا تھا۔
"مجھے لفٹ چاہیے۔۔"
بریرہ نے گاڑی سے جھانکتے شخص کی طرف دیکھتے کہا تھا۔۔
"کہاں جانا ہے۔۔"
عادل نے اس لڑکی کا حلیہ دیکھتے منہ پھیر لیا تھا۔ شارٹ بلیو شرٹ اور ٹائٹ جینز میں وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی۔۔بریرہ کے اڈریس بتانے پر وہ لفٹ دینے کے لیے راضی ہو گیا تھا۔وہ بھی اسی طرف جارہا تھا شاہزیب سے ملنے کے لیے۔
بریرہ کے قریب سے آتی شراب کی سمیل سے عادل نے منہ بگاڑا تھا۔۔
"شرم نہیں آتی اس وقت کلب میں جاتے ہوئے۔۔"
"تمھارے پیرنٹس وغیرہ نہیں روکتے۔۔"
عادل ناگواریت سے بولا۔
"میرے پیرنٹس تک پہنچنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔اپنی حد میں رہو۔۔ صرف لیفٹ مانگی سر پر چڑھ کر ناچنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔"
بریرہ اس کی بات پر بھڑک اٹھی تھی۔
"نکلو۔۔پہلی فرصت میں نکلو تمھاری جیسی آوارہ لڑکیوں کو میں منہ نہیں لگاتا بس ترس کھا کر لفٹ دی تھی۔۔"
ایک جگہ گاڑی روکتے اس نے بنا لحاظ کیے بریرہ سے کہا تھا۔۔
"چٹاخ۔۔آوارہ تم ہوگے۔۔بغیرت انسان۔۔"
بریرہ غصے میں تھپڑ مارتی اسے ساکت چھوڑ کر گاڑی سے نکل گئی تھی۔۔عادل نے غصے سے اس کو جاتے دیکھا تھا۔۔اپنی تربیت کا لحاظ نہ ہوتا تو وہ بھی اس کو دو چار تھپڑ لگا دیتا۔۔
"جاہل۔۔بدتمیز۔۔بھاڑ میں جائیں سب۔۔ میرا جو دل کرے گا میں وہ ہی کروں گی۔۔"
وہ سگریٹ نکالتی سلگانے لگی تھی۔۔سگریٹ بھی جب اسے پرسکون نہ کرسکی تو اسے بجھاتے وہ چلتے ہوئے گھر جانے لگی تھی۔

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *