Professor Shah by Zanoor Writes NovelR50559 Professor Shah (Episode 20)
Rate this Novel
Professor Shah (Episode 20)
Professor Shah by Zanoor Writes
“آپ کے یہاں آنے کا مقصد ؟”
وہ صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے حاتم شاہ کے روبرو بیٹھا پوچھ رہا تھا۔کچھ دیر پہلے ہی انھوں نے مل کر ناشتہ کیا تھا اب وہ حاتم شاہ کے ساتھ بیٹھا باتیں کر رہا تھا۔۔
“تم سے ملنے کودل چاہ رہا تھا تو چلا آیا۔۔”
حاتم شاہ سنجیدگی سے بولے تھے۔۔
“مجھے بچہ سمجھنے کی غلطی مت کیجیے گا۔۔میں جس کام کے لیے آیا تھا وہ ہوچکاہے اب کچھ ہی دنوں میں واپس لوٹ جاوں گا۔۔”
شاہزیب سگریٹ سلگاتا بولا تھا۔۔حاتم شاہ نے ایک ناپسندیدہ نگاہ اس کے ہاتھ میں موجود سگریٹ پر ڈالی تھی۔
“یہاں سب کچھ تمھارا ہی ہے اب ان چیزوں کو سنبھال لو واپس جانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔”
حاتم شاہ سنجیدگی سے گویا ہوئے شاہزیب نے سگریٹ کا دھواں ہوا میں چھوڑتے ان پر ایک نظر ڈالی تھی۔۔
“آپ کی یہ بات مان لیتے ہیں۔۔لیکن مجھ سے اچھے کی امید مت رکھیے گا۔۔”
وہ سگریٹ کا گہرا کش لیتا جس انداز میں بولا تھا وہ حاتم شاہ کو بھی پریشان کر گیا تھا۔۔سگریٹ ایش ٹرے میں مسلتا وہ اپنا ڈریس چینج کرنے کے لیے چلا گیا تھا۔۔
بلیک تھری پیس سوٹ میں بالوں کو نفاست سےسیٹ کیے وہ ٹائی باندھ رہا تھا جب افرحہ روم میں آئی تھی۔
“آپ کہیں جارہے ہیں ؟”
اس نے شاہزیب سے تھوڑے فاصلے پر کھڑے ہوکر پوچھا تھا۔اتنے بڑے گھر میں اکیلے رہنے کا سوچ کر ہی اسے گھبراہٹ ہو رہی تھی۔۔
“ہمم آفس جارہا ہوں تین چار گھنٹوں تک واپس آجاوں گا میری اجازت کے بغیر اس گھر سے باہر قدم مت نکالنا۔۔کچھ منگوانا ہوا تو ملازمہ کو بول دینا۔۔”
شاہزیب اپنی ٹائی باندھتا اس کی جانب مڑا تھا۔افرحہ نے اس کی بات پر منہ بگاڑا تھا۔۔
“ملازمہ سے کیوں بولوں گی ؟ کیا وہ میرا شوہر ہے ؟”
وہ خفگی سے بولی تھی شاہزیب نے ائبرو اچکاتے حیرت سے اسےدیکھا تھا جو چھوٹی سی بات پر ناراض دکھائی دے رہی تھی۔۔
“ناراض کیوں ہورہی ہو؟ مجھے کال کر دینا اور کوئی کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔تم پروپر ریسٹ کرنا۔۔”
شاہزیب اپنا موبائل اٹھا کر پاکٹ میں ڈالتا بولا تھا۔۔
“ریسٹ کرچکی ہوں اب سارا دن میں کیا کروں گی۔۔؟”
وہ منہ پھولاتی ہوئی پوچھ رہی تھی۔۔
“میں کونسا سارے دن کے لیے جا رہا ہوں ؟ جلدی آجاوں گا پھر دو دن تک ہم واپس چلے جائیں گے تم اپنی سٹڈیز اگین سٹارٹ کرنا۔۔”
شاہزیب اس کے قریب بڑھتا بولا تھا۔۔افرحہ نے آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔۔
“میں مما اور باباجانی سے صلح کیے بغیر واپس نہیں جاوں گی۔۔”
وہ سنجیدگی سے بولی تھی۔۔شاہزیب نے گہری نظروں سے اسے دیکھا تھا جس کی آنکھوں میں بےچینی صاف دکھائی دے رہی تھی۔
“اس بارے میں آکر بات کروں گا۔۔کوئی فضول حرکت یا شرارت کرنے کی کوشش نہ کرنا۔۔”
اس کا گال تھپتھپا کر شاہزیب نے اسے وارننگ دی تھی۔۔افرحہ ناراض نظروں سےاسے دیکھتی تیزی سے بنا کوئی جواب دیے کمرے سے نکل گئی تھی شاہزیب نے ناگواریت سے اسے جاتے دیکھا تھا۔۔
واپس آکر اس سے بات کرنے کا سوچتا وہ اپنی چیزیں اٹھاتا لمبے لمبے ڈھگ بھرتا نیچے اترا تھا جہاں سامنے ہی حاتم شاہ کھڑے اس کا انتظار کر رہے تھے۔۔
وہ ان پر ایک نظر ڈالتا باہر کی جانب بڑھ گیا تھا۔حاتم شاہ ایک گہرا سانس خارج کرتے اس کے پیچھے بڑھ گئے تھے۔۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
“آہہہ۔۔۔”
“کیا ہوا ؟ کیوں صبح صبح لڑکیوں کی طرح چیخ رپے ہو؟”
بریرہ جو مزے سے سو رہی تھی مقابل کی چیخ سنتی اپنے کانوں پر ہاتھ رکھے نیند سے ڈوبی آواز میں بولی تھی۔۔
عادل جس کی آنکھ کھلی ہی تھی بریرہ کو پھیل کر اپنے نہایت قریب لیٹے دیکھ کر اس کی بےساختہ چیخ نکلی تھی۔۔
“شٹ اپ جلدی سے اٹھو تمھیں گھر چھوڑ کر آوں پھر مجھء ڈیوٹی پر جانا ہے۔۔”
عادل اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا تیزی سے بیڈ سے اترتا ہوا بولا تھا۔۔
“میرا ابھی اٹھنے کو دل نہیں چپ کرکے چلے جاو۔۔”
بریرہ برہمی سے بولی تھی عادل نے کاٹ کھا جانے سالی نظروں سے سوئی ہوئی جنگلی بلی کو دیکھا تھا۔
اس کو مزا چکھانے کا سوچتا وہ سائیڈ ٹیبل سے جگ اٹھاتا واشروم میں گیا تھا ٹھنڈا پانی جگ میں بھرتے اپنی مسکراہٹ چھپاتا وہ باہر آیا تھا۔۔
ایک نظر سکون سے سوتی بریرپ کے چہرے پر ڈالتے اس نے فورا پانی کا جگ اسکے چہرے پر الٹ دیا تھا۔۔بریرہ ٹھنڈا پانی چہرے پر پڑتے ہی تڑپ کر اٹھ گئی تھی۔۔
“جاہل ، گوار ، آلو میں تمھارا منہ نوچ لوں گی۔۔”
اپنے دماغ کو سن پڑتا محسوس کرکے وہ چیخی تھی ٹھنڈے پانی نے اس کے حواس جھنجھوڑ دیے تھے۔۔
“تمیز نام کی کوئی چیز تم میں نہیں ہے اب اٹھ گئی ہو تو میرے فریش ہونے کے بعد چپ چاپ فریش ہوجانا۔۔”
عادل مسکراہٹ دبا کر اس کی حالت سے لطف اندوز ہوتا مڑا ہی تھا جب بریرہ نے اچھل کر اس پر چھلانگ لگائی تھی۔۔
عادل جو اس آفت کے لیے تیار نہیں تھا سیدھا منہ کے بل زمین پر گرا تھا۔۔اس کی تھوڑی زور سے کارپٹڈ فلور پر لگی تھی۔۔
“ہائے اللہ موٹی مجھے مارنے کا ارادہ ہے ؟”
بریرہ جو عادل کے بال پکڑ کر کھینچنے لگی اس کی دہائی سنتے وہ ہنسی تھی۔۔
“آئیندہ کے بعد ایسے گھٹیا طریقے سے مجھے اٹھانے کی کوشش مت کرنا ورنہ تمھیں گنجا کردوں گی۔۔”
وہ عادل کے بال ہولے سے کھینچتی اس کے اوپر سے اٹھ گئی تھی عادل نے دل میں اسےہزاروں صلوتیں سنائی تھی۔۔
“تم پوری موٹی بھینس ہو۔۔جنگلی بلی۔۔میرا منہ توڑدیا ہے۔۔”
وہ اپنی تھوڑی کو سہلاتا سیدھا ہوکر بیٹھا تھا۔۔بریرہ کے بال کھینچنے والی حرکت پر بمشکل اس نے کڑوا گھونٹ پیا تھا۔۔اب پنگا لیا تھا تو انجام بھی بھگتنا ہی پڑنا تھا۔۔
“تم ہوگے موٹے دوبارہ مجھےموٹا کہنے کی جرت بھی مت کرنا۔۔”
عادل کے قریب ایک قدم بڑھاتی وہ تپ کر غصے میں چیخ کر بولی تھی۔عادل ایک پل کو اس سے گھبرا گیا تھا۔۔اس کو ڈرتے دیکھ بریرہ اس کا کندھا تھپتھپاتی واشروم میں چلی گئی تھی۔۔
“بدتمیز۔۔۔زرا جو عقل ہو۔۔شوہر سے کیسے بات کی جاتی ہے۔۔۔”
وہ بریرہ کو برا بھلا بولتا بڑبڑاتا ہوا اپنی ٹھوڑی کو پکڑ کر بیڈ پر بیٹھ گیا تھا۔۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
حاتم شاہ کے ہمراہ چلتا وہ کروفر سے بلڈنگ میں داخل ہوا تھا سب ورکرز حیرت سے حاتم شاہ کے ساتھ چلتے شاہزیب کو دیکھ رہے تھے جس کے بارے میں سب نے بہت کچھ سن رکھا تھا مگر حقیقت میں اب تک کسی نے نہیں دیکھا تھا۔۔
کام کرتے ورکرز انھیں دیکھتے ہی سلام کرنے لگے تھے۔۔شاہزیب ببا کسی کی طرف سیدھا چلتا حاتم شاہ کے ساتھ لفٹ میں داخل ہوا تھا۔فورتھ فلور پرلفٹ رکتے ہی وہ باہرنکلا تھا۔یہ فلور خاص کر کمپنی کے اونر کے لیے ریزرو تھا۔۔
“یہ یہاں کیا کر رہا ہے بابا ؟”
میر شاہ جو میٹنگ کے لیے اپنے آفس سے نکلا تھا۔ شاہزیب کو یہاں دیکھ کرحیران ہوا تھا۔اس کے ساتھ موجود پی اے بھی شاہزیب کو دیکھ رہا تھا۔۔وہ خاموشی سے حاتم شاہ کے اشارے پر وہاں سے چلا گیا تھا۔۔
اب وہاں صرف وہ تینوں ہی موجود تھے۔۔حاتم شاہ میر شاہ کو جواب دینے ہی لگے تھے جب شاہزیب ان سے پہلے بول اٹھا تھا۔۔
“دادا آپ نے کیسے کیسے ملازم رکھے ہوئے ہیں جنھیں یہ تک نہیں پتا مالک سے سوال جواب نہیں کرتے۔۔”
اس کا انداز ہتک آمیز تھا۔۔میر شاہ غصے سے سرخ پڑ گئے تھے۔۔شاہزیب کو حیرت تھی کہ میر شاہ نے ساری پروپرٹی حاتم شاہ سے کیوں اس کے نام لگوائی جبکہ وہ نفرت اس سے اب بھی کرتے تھے یا تو پھر ماہین نے جھوٹ بولا تھا یا بات کچھ اور تھی۔۔
” بابا کس ناہنجار کو یہاں لے آئے ہیں اسے واپس بھیج دیں وہاں ہی یہ سڑتا پھرے اور ساتھ ہی وہ گھٹیا لڑکی بھی لے جائے جس کے پیچھے یہ ہماری عزت دوبارہ خاک میں ملانے کے لیے واپس لوٹ آیا ہے۔۔”
میر شاہ کا لہجہ زہر خند تھا۔۔شاہزیب نے اپنے ہاتھوں کی مٹھیاں بےساختہ بھینچ لی تھیں۔۔افرحہ کے بارے میں ان کے الفاظ سنتے وہ بےساختہ ان پر جھپٹا تھا۔۔
“ہمارے درمیان میری بیوی کو دوبارہ لانے کی جرت بھی مت کیجیے گا۔۔اس کے معاملے میں ، میں بہت پاگل ہوں ہر حدسے گزر جاوں گا۔۔”
شاہزیب ان کے چہرے پر دھاڑا تھا حاتم شاہ نے بمشکل شاہزیب کو میرشاہ سے دور کیا تھا۔۔
” تم دونوں پاگل ہوگئے مجھے مارنا چاہتے ہو تو صاف صاف بتا دو۔۔”
وہ شاہزیب اور میر شاہ کی طرف دیکھتے اپنا سینا سہلاتے تکلیف سے بولے تھے بیٹے اور پوتے کو آپس میں لڑتے ہوئے برداشت کرنا ان کے بس میں نہیں تھا۔۔
“بابا کیا ہوا آپ کی طبیعت ٹھیک ہے ؟”
میر شاہ پریشانی سے انھیں دیکھتا بولا تھا۔۔
“تم جہاں جارہے تھے جاو تم سے میں بعد میں بات کروں گا۔۔”
حاتم شاہ سنجیدگی سے بھاری لہجے میں بولے تھے۔۔میر شاہ لب بھینج کر ایک کٹیلی نظر شاہزیب پر ڈالتا خاموشی سے وہاں سے نکل گیا تھا۔۔
“آپ نے اپنی میڈسن لی تھی ؟”
شاہزیب نے ماتھے پر بل ڈال کر پوچھا تھا۔حاتم شاہ اس کی فکر پر مسکرائے تھے۔۔
“میں بالکل ٹھیک ہوں تم ٹینشن مت لو۔۔بس اپنے باپ سے لڑائی مت کیا کرو۔۔۔چلو تمھیں آفس دیکھاتا ہوں۔۔”
وہ شاہزیب کے تاثرات بدلتے دیکھ کر بات ہی تبدیل کرگئے تھے۔۔شاہزیب سرہلاتا ان کے پیچھے چل پڑا تھا۔۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
بریرہ کو کچھ دیر پہلے ہی عادل ڈیوٹی پر جانے سے پہلے فلیٹ پرچھوڑ کر گیا تھا۔مسز طلحہ نے اسے روکنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ بہانہ بناتی واپس آگئی تھی۔۔ابھی وہ عادل کےساتھ رہنے کے لیے تیار نہیں تھی ابھی تو اسے یہ رشتہ قبول کرنے کے لیے وقت درکار تھا۔۔
وہ اسے اچھا لگا تھا اس کے غصے کے باوجود بھی وہ کئی بار اسکی مدد کر چکا تھا۔۔وہ کمفرٹیبل کپڑوں میں مزے سے صوفے پر بیٹھی نیٹ فلیکس پر کوئی شو دیکھ رہی تھی ساتھ پی گود میں دھرے پاپ کورنز سے بھی لطف اندوز ہورہی تھی۔۔
دروازے پر اچانک بیل ہونے سے وہ بدمزہ ہوتی اٹھی تھی ماتھے پر تیوری چڑھائے دروازے کی طرف بڑھی تھی۔جھٹکے سے دروازہ کھولتے اسے شدید پچھتاوا ہوا تھا سامنے ہی اس کے پیرنٹس کے دو گارڈز موجود تھے۔۔کچھ دن بعد اسکی انگیجمنٹ تھی جسٹن سے جس کی وجہ سے وہ اپنا فون بھی بند کرچکی تھی۔۔
وہ تیزی سے دروازہ واپس بند کرنے والی تھی جب گارڈز نے دروازے کو زور سے جھٹکا دیا تھا۔۔بریرہ سیدھا زمین پر گری تھی۔اس کی کوہنیاں زمین پر رگڑی گئی تھیں۔۔تکلیف سے اس کے منہ سے سسکی نکلی تھی۔۔
“ہم آپ کو لینے آئے ہیں سر نے بھیجا ہے۔۔”
ان میں سے ایک گارڈ نے اپنے مخصوص سرد لہجے میں کہا تھا۔۔
“بھاڑ میں جاو کمینوں۔۔”
وہ منہ میں بڑبڑاتی تیزی سے اٹھی تھی اور ایک جانب پڑا شو پیس اٹھاتے ان کی طرف پھینکا تھا۔۔وہ سیدھا ایک گارڈ کے سر پر لگا تھا۔۔اس کے منہ سے بےساختہ گالی نکلی تھی۔۔
دوسرے نے بریرہ کو تیزی سے اندر کی جانب بھاگتے دیکھ کر دبوچا تھا جبکہ دوسرے نے اپنے سرسے نکلتا خون صاف کرتے اپنے سوٹ سے انجیکشن نکال کر زور سے بریرہ کے بازو پر لگایا تھا۔۔
بریرہ کو بری طرح مزحمت کرتی چیخ چلا رہی تھی وہ انجیکیشن میں موجود دوائی جسم میں جاتے ہی ایک دم ڈھیلی پڑتی چند ہی سیکنڈز میں بےہوش ہوگئی تھی۔۔وہ دونوں بریرہ کو اٹھاتے خاموشی سے وہاں سے نکل گئے تھے۔۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
وہ کچھ دیر پہلے ہی گھر واپس آیا تھا۔۔افرحہ کو کہیں نہ پاکر شاہزیب سارا گھر چھان مار چکا تھا اسے افرحہ کہیں بھی نہیں مل رہا تھا اس کا دل عجیب انداز میں دھڑک رہا تھا اسے اپنے سامنے نہ پاکر اس کا دل گھبرا رہا تھا۔۔
“افرحہ کہاں ہے؟”
ملازمہ کو بلاتے وہ اونچی آواز میں دھاڑتے ہوئے پوچھنے لگا تھا۔ملازمہ ڈر کر کانپنے لگی تھی مقابل کے غصے دے کون واقف نہ تھا۔
“سر میم بیک سائیڈ پر موجود گارڈن میں گئی ہیں۔۔”
ملازمہ کے کانپتی آواز میں بتانے پر وہ لمبے لمبے ڈھگ بھرتا بیک سائیڈ پر جانے لگا تھا جہاں پر بڑا سا گارڈن اور ایک چھوٹا سا پول موجود تھا۔افرحہ پول میں ٹانگیں لٹکا کر بیٹھی ہوئی تھی۔
ٹانگوں کو جھلاتی وہ ہاتھ سے پانی کو بھی اوپر اچھال رہی تھی۔۔اس کے چہرے پر پڑتی دھوپ اس کے رنگ کے ساتھ ایک عجیب سا متنازعہ پیدا کر رہا تھا۔افرحہ کے ہونٹوں پر ایک میٹھی سی مسکان تھی۔
شاہزیب اسے دیکھتا ٹھٹھک کر روک گیا تھا۔وہ اکیلی بیٹھی کتنی پرسکون لگ رہی تھی۔وہ معصوم تھی زندگی سے بھرپور شاہزیب کے بالکل برعکس تھی۔۔
اسے دیکھتے ہی شاہزیب کو سکون ملا تھا۔۔لمبے لمبے ڈھگ بھرتا وہ افرحہ کی جانب بڑھا تھا۔افرحہ نے قدموں کی چاپ سنتے سر اٹھایا تھا جب اچانک شاہزیب کے کچھ زیادہ ہی قریب آنے پر وہ کھسکتی ہوئی دور ہٹنے کی کوشش میں سیدھا پانی میں گری تھی۔۔
شاہزیب اسے پانی میں گرتا دیکھ کر فورا گھبراتا ہوا اپنا کورٹ اتار کر سائیڈ پر پھینکتا پول میں چھلانگ لگا چکا تھا۔۔
“تم پاگل ہو۔۔۔دوبارہ یہاں ایسے بیٹھنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔”
وہ اس کا ڈوبکیاں کھاتا وجودکمر سے تھام کر اپنے سینے سے لگاتا اس کے چہرے پر غصے سے اونچی آواز میں بولا تھا۔افرحہ جو پانی ناک اور منہ میں جانے سے کھانس رہی تھی۔شاہزیب کے اس طرح ڈانٹنے پر اس کی آنکھیں پانی سے بھرنے لگی تھی۔۔
“آ۔۔آپ بالکل بھی اچھے نہیں ہیں۔۔”
وہ اس کے کندھے پر مکے جڑتی خشمگی سے پانیوں سے بھری اپنی دھندلاتی نظروں سے اسے دیکھتی ہوئی بول رہی تھی۔۔
“مجھے ویسے بھی کوئی اچھا نہیں سمجھتا۔۔تمھارے معاملے میں ویسے بھی میرا دماغ کام نہیں کرتا۔۔”
وہ افرحہ کی کمر پر گرفت مضبوط کرتا سرسراتے لہجے میں بولا تھا۔۔افرحہ کا دل زوروں سے دھڑکا تھا۔۔یہ شخص اس کے معاملے میں واقعی پاگل تھا۔۔
“یہاں کیا کرنے آئی تھی سویمنگ تمھیں آتی نہیں ہے اس لیے دوبارہ اس طرف مت آنا۔۔”
اسے پول سے باہر بیٹھاتے وہ بھی نکلتا اس کے ساتھ بیٹھتا بولا تھا۔۔افرحہ نے بےساختہ منہ پھولایا تھا۔۔
“میرا دل کررہا تھا یہاں آنے کا۔۔آپ اگر نہ ڈراتے تو میں کبھی بھی پانی میں نہ گرتی۔۔”
وہ خفگی سے اپنے گیلے کپڑوں کو دیکھتی بولی تھی۔۔شاہزیب کی نظر بےساختہ اس کی نظروں کے ساتھ افرحہ کے گیلے کپڑوں پر گئی تھی۔۔۔
گیلے کپڑے اس کے وجود سے چپکے اس لے نشیب و فراز ابھار رہے تھے۔۔شاہزیب کی نظریں محسوس کرتے افرحہ نے تیزی سے اپنے گرد بازو باندھے تھے۔۔اسے شاہزیب سے ڈھیروں شرم محسوس ہونے لگی تھی۔۔
“مم۔۔میں کپڑے چینج ک۔۔”
وہ جو پھرتی سی اٹھنے لگی تھی شاہزہیب کے ہاتھ پکڑ کر کھینچنے پرسیدھا اس کے سینے سے آٹکرائی تھی۔۔افرحہ کی نظریں اس کی نظروں سے ملی تھی۔۔جن کی تپش محسوس کرتی وہ اپنی نظریں جھکا گئی تھی۔۔
شاہزیب نے نرمی سے گیلے بال اس کے چہرے سے ہٹائے تھے۔۔اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے شاہزیب نے اوپر کی جانب اٹھاتے اس کی جانب جھکتے محبت سے اس کی چھوٹی سی ناک پر اپنے لب رکھے تھے۔۔
افرحہ نے اس کی گیلی شرٹ سے جھانکتے سینے پر نظریں پڑتے ہی آنکھیں میچ لی تھی۔۔شاہزیب نے اس کے بالوں کو ہلکا سا جھٹکا دیا تھا۔۔افرحہ نے فورا اپنی آنکھیں کھولی تھیں۔۔عین اسی لمحے شاہزیب نے اس کے چہرے پر مزید جھکتے اس کے ہونٹوں پر شریر سی جسارت کی تھی۔۔
افرحہ شاہزیب کی ڈھیلی گرفت محسوس کرتی تیزی سے اسے دھکا دیتی اندر کی جانب بھاگ گئی تھی۔۔شاہزیب لب زورسے بھینچتے اسے خود سے دور جاتے دیکھا تھا۔۔
خود پر قابو پاتے وہ اٹھا تھا اپنا کورٹ اٹھا کر اندر جانے لگا تھا جب ملازمہ ہاتھ میں پارسل پکڑے اس کے قریب آئی تھی۔
“سر یہ پارسل آیا ہے۔۔”
ملازمہ کے بتانے پر اس نے حیرت سے پارسل کو دیکھتے اسے ملازمہ سے لیتے کھولا تھا۔۔پارسل پر کسی کا نام نہیں لکھا تھا۔۔
پارسل کے اندر موجود چیزیں دیکھتے ہی شاہزیب کا چپرہ غصے کی شدت سے سرخ پڑا تھا۔۔اس میں افرحہ اور اس کی نکاح کے ٹائم کی تصویر موجود تھیں جس پر بڑا سا کٹ لگا ہوا تھا۔۔ساتھ ہی ایک تصویر پر لال مارکر سے چند حروف لکھے گئے تھے۔۔
“Welcome Back!”
شاہزیب نے غصے سےوہ پارسل زمین پر پھینکا تھا۔۔
“اسے آگ لگا دو اور اب دوبارہ کوئی پارسل بھی ائے باہر پھینک دینا۔۔”
شاہزیب ملازمہ پر برستا اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا اپنے کمرے میں چلا گیا تھا۔۔اس وقت سگریٹ کہ طلب شدت سے ہوئی تھی۔تبھی فورا کمرے میں جاتے اس نے سگریٹ سلگا لی تھی۔۔یہ کس نے بھیجا تھا وہ خوب جانتا تھا اسی وجہ سے وہ واپس پاکستان نہیں آنا چاہتا تھا۔۔
جاری ہے۔۔
