Professor Shah by Zanoor Writes NovelR50559 Professor Shah (Episode 23)
Rate this Novel
Professor Shah (Episode 23)
Professor Shah by Zanoor Writes
عادل جو بریرہ سے ملنے کے بعد شدید تپا ہوا تھا اس نے بنا سوچے سمجھے اپنی اور بریرہ کی نکاح کی تصویریں پریس میں بھجوا دیں تھیں جس کا خمیازہ صرف بریرہ کو بھگتنا پڑا تھا۔۔
اس نے پولیس اسٹیشن سے ایک ہفتے کی لیو لے لی تھی چونکہ پریس والے اس کی تاک میں بیٹھے تھے۔وہ اس سچوئشن سے خود بھی سخت جھنجھلا گیا تھا۔
گھر میں وہ فارغ رہنے کی بجائے کوئی کیس سٹڈی کرنے لگا تھا یہ دوسرا دن تھا جب صبح صبح اسے بائے میل ڈیوارس کے پیپرز ملے تھے۔۔
پیپر پر بریرہ کے سائن دیکھتے اسکے ماتھے کی رگیں تن گئیں تھیں۔غصےسے سرخ پڑتے اس نے کاغذات کو پھاڑ کر کوڑے میں پھینک دیا تھا۔۔
“مجھ سے تمھیں اتنی آسانی سےرہائی نہیں ملے گی۔۔میری زندگی میں تم اپنی مرضی سے آئی تھی لیکن میری مرضی کے بغیر اب کچھ نہیں ہوگا۔۔”
وہ تخیل میں بریرہ کو سوچتا بڑبڑایا تھا۔۔
رات کو بریرہ سے ملنے کا سوچتا عادل کا غصہ تھوڑا ٹھنڈا ہوا تھا۔۔بارہ بجے کے قریب وہ بریرہ سے ملنے کے لیے نکلا تھا منہ پر ماسک چڑھائے وہ گارڈز کا ہی حصہ لگ رہا تھا۔
اس نے ان میں سے ایک گارڈ کو پیسے دے رکھےتھے۔جس کی وجہ سے وہ باآسانی اسے اندر جانے دیتا تھا ورنہ گھر کے اندر اور باہر جتنی سختی تھی کوئی پرندہ بھی پر نہیں مارسکتا تھا۔۔
بریرہ کے کمرے کے باہر فلحال کوئی گارڈ نہیں تھا جس پر سکون کا سانس بھرتا وہ کمرے میں آسانی سے داخل ہوتا اسے لاک لگا گیا تھا۔
کمرے کا دروازہ بند ہونے پر بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھی بریرہ نے پٹ سے آنکھیں کھولی تھیں کمرے میں موجود نائٹ بلب کی ہلکی سی روشنی میں بھی وہ باآسانی مقابل کو دیکھ سکتی تھی۔۔
عادل کو صحیح سلامت دیکھتے اسے خود میں سکون اترتا ہوا محسوس ہوا تھا۔۔
اس کی حالت پر غور کیے بنا عادل لمبے لمبے ڈھگ بھرتا اس کے قریب گیا تھا۔۔
“بہت بڑی غلطی کردی تم نے۔۔۔تمھیں کیا لگا تھا مجھے ڈیوارس پیپرز بھیج دو گی تو میں ہنستے ہنستے سائن کردوں گا۔تم بہت بڑی خوش فہمی میں مبتلا ہو۔۔مجھ سے چھٹکارا اتنی آسانی سے نہیں ملے گا۔۔”
ایک گھٹنہ بیڈ پر ٹکاتے اس کے چہرے کو مضبوطی سے اپنی گرفت میں لیتا وہ زہر خند لہجے میں پھنکارا تھا۔بریرہ نے ناسمجھ نظروں سے اسے دیکھا تھا پہلے ہی مسلسل کمرے میں بند رہ کر اس کا دماغ سن پڑا ہوا تھا اوپر سے عادل کی باتیں اسے مزید الجھا رہی تھیں۔۔
اس دن کے بعد وہ کمرے میں ہی بند تھی۔اسے نہیں معلوم تھا مسز شہروز نے اچانک سے خاموشی کیوں اختیار کرلی تھی۔
“تم کیا بول رہے ہو؟ مجھے سمجھ نہیں آرہا۔۔”
وہ دھیمی آواز میں پوچھنے لگی تھی۔۔عادل نے اس کی بات پر ہنکار بھرا تھا۔۔
“مجھے پاگل بنانے کی کوشش مت کرو میں تمھاری رگ رگ سے واقف ہوں۔۔”
عادل اونچی آواز میں پھنکارا تھا۔بریرہ اس کی اپنے چہرے پر سخت گرفت محسوس کرتی تکلیف سے بلبلا اٹھی تھی۔مسز شہروز کے تھپڑوں سے اس کا چہرہ پہلے ہی درد کر رہا تھا اور پھر عادل کی گرفت اسے شدید تکلیف دے رہی تھی۔۔
“دور ہٹو مجھ سے۔۔میں نے کہا مجھ سے دور ہٹو۔۔”
وہ سسکی دباتی عادل پر چلائی تھی اس کی بےعتنائی اور بےرخی اسے شدید اذیت میں مبتلا کررہی تھی۔۔
“نہیں ہٹوں گا کیا کروں گی۔۔؟؟”
وہ اسکا چہرہ اوپر اٹھاتا اپنے چہرے کے قریب کرتا سخت لہجے میں پوچھنے لگا تھا۔
“آئی ہیٹ یو۔۔تم سے ملنا میری سب سے بڑی غلطی تھی۔۔”
وہ بےبس سی اس کے سینے پر مکے مارتی پھنکاری تھی۔۔
“نوڈارلنگ۔۔یہ غلطی نہیں ہماری خراب قسمت تھی لیکن اب کیا کرسکتے ہیں مجھے اپنی اسی پھوٹی قسمت کے ساتھ گزارا کرنا پڑے گا۔۔”
وہ اچانک دھیما لہجا کرتا دانت کچکچاتا غرایا تھا۔۔بریرہ کو اس کی باتوں سے اپنا دماغ گھومتا ہوا محسوس ہوا تھا۔۔
“کل تیار رہنا اپنی رخصتی کے لیے بہت رہ لیا مائیکے اب اپنے شوہر کی خدمت کرنے کے لیے تیار ہوجاو۔۔”
اس کا چہرہ جھٹکے سے آزاد کرتا عادل دور ہٹتا سنجیدگی سے بولا تھا۔۔افرحہ نے پریشانی سے اسے دیکھا تھا وہ اپنے ماں باپ کی پہنچ سے واقف تھی تبھی جھٹ سے بول اٹھی تھی۔۔
“مجھے کہیں نہیں جانا اب جاو یہاں سے۔۔”
بریرہ کے چلا کر بولنے سے عادل نے اپنی مٹھیاں زورسے بھینچ لی تھیں۔۔
“اب تو میں یہاں سے تمھارے بغیر کہیں نہیں جاوں گا جو کرنا ہے کرلو۔۔”
وہ بریرہ کی وجہ سے ضد میں آتا بیڈ پر اس کے ساتھ پھیل کر بیٹھ گیا تھا۔۔بریرہ نے حیرانی و پریشانی سے عادل کو دیکھا تھا۔
“پلیز جاوں یہاں سے اگر کسی نے تمھیں یہاں دیکھ لیا تو اچھا نہیں ہوگا۔۔”
وہ پریشانی سے ماتھے پر بل ڈالے بولی تھی۔وہ اپنے لیے نہیں بلکہ عادل کے لیے پریشان ہو رہی تھی۔۔۔
عادل نے اس کی باتوں پر کان دھرے بغیر اپنے سر کے پیچھے بازو ٹکا کر آنکھیں موند لی تھیں۔ن
بریرہ نے گہری نظروں سے اس کا جائزہ لیا تھا جو قریب لیٹا اسے اپنے دل کے پاس محسوس ہوا تھا۔۔
“تم یہاں سے جا کیوں نہیں رہے؟”
“کہیں مجھ سے محبت تو نہیں ہوگئی ؟”
بریرہ اسے زچ کرنے کے لیے بولی تھی۔عادل نے جھٹ سےآنکھیں کھولتے بریرہ کی طرف دیکھا تھا۔
“ہاہاہا بہت بڑی خوش فہمی میں مبتلا ہو۔۔”
“یہ محبت نہیں ہے بلکہ میری غیرت گوارا نہیں کرتی تمھاری طرف نامحرم مردوں سے چپکتا پھروں یا پھر حرام چیزوں کو لبوں سے لگاوں۔۔”
وہ زہر خند لہجے میں بولا تھا بریرہ کے دل میں کسک اٹھی تھی۔۔اس نے بے یقین نظروں سے اسے دیکھا تھا کیا اس کی نظروں میں وہ اتنی بری تھی۔۔
“اور مجھے کوئی شوق نہیں ہے تمھارے پاس رہنے کا میں جارہا ہوں لیکن کل ضرور لینے آوں گا۔۔”
وہ اٹل لہجے میں بولتا گنگ بیٹھی بریرہ پر نظر ڈالے بغیر لمبے لمبے ڈھگ بھرتا نکل گیا تھا۔۔بریرہ کی آنکھوں سے چند آنسو نکلتے بےمول ہو گئے تھے۔۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
شاہزیب بنا کسی سے ملے واپس کینیڈا آگیا تھا۔اگر زید والا معاملہ نہ ہوتا تو افرحہ کبھی بھی اپنے پیرنٹس سے ملے بغیر کینیڈا واپس نہیں آتی شاہزیب اسے لے کر اپنے پینٹ ہاوس میں آیا تھا جو رینوویٹ ہو رہا تھا۔جس کی وجہ سے وہ کچھ عرصے کے لیے افرحہ کے ساتھ والے فلیٹ میں شفٹ ہوا تھا۔۔
یہ پینٹ ہاوس کافی کھلا اور بڑا تھا جس میں کافی زیادہ رومز تھے اس کے ساتھ پینٹ ہاوس سے سارے شہر کا منظر دیکھنے لائق ہوتا تھا۔پینٹ ہاوس میں چار رومز ایک کھلا ٹی وی لاونچ ، جم اور ساتھ مووی روم بھی تھا۔
افرحہ تو تھکی ہونے کی وجہ سے بنا کچھ دیکھے ہی سو گئی تھی شاہزیب نے اس سےساری فلائٹ کے دوران بات نہیں کی تھی جس کی وجہ سے وہ اس کی ناراضگی سمجھ گئی تھی۔
ابھی کچھ دیر پہلے ہی وہ نیند سے بیدار ہوئی تھی۔۔اس نے اشتیاق سے ماسٹر بیڈ روم کا جائزہ لیا تھا جو گرے اور بلیک رنگ سے مزین تھا۔وہ اپنی جمائی روکتی فریش ہونے چلی گئی تھی۔
اپنے رات والے نائٹ سوٹ میں ملبوس وہ روم سے باہر نکل آئی تھی۔اشتیاق سے سب چیزوں کا جائزہ لیتی کھانے کی خوشگوار مہک محسوس کرتے پیٹ میں ہلچل ہوتی محسوس کرکے وہ کیچن کی طرف بڑھ گئی تھی۔۔
سٹوو کے سامنے کھڑے شاہزیب کو دیکھ کر حیرت سے اس کی آنکھیں پھیلی تھیں۔۔شاہزیب فرائیڈ رائس برتن میں نکال کر ایک نظر افرحہ پر ڈالتا ٹیبل پررکھ چکا تھا۔
“کیا سارا دن یہاں ہی کھڑے رہنے کا ارادہ ہے؟”
وہ اس کے ایک جگہ جم کر کھڑے رہنے پر چوٹ کرتا بولا تھا افرحہ نے منہ پھولایا تھا۔
“کھڑوس۔۔”
وہ منہ میں بڑبڑاتی اس کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی تھی۔شاہزیب نے افرحہ کے لیے اور اپنے لیے ایک پلیٹ میں کھانا ڈال چکا تھا۔
“کھانا شروع کرو۔۔”
ایک چمچ اس کو تھماتا دوسرا خود تھام کر وہ اس کے ساتھ ہی ایک پلیٹ میں کھانے لگا تھا۔
افرحہ اس پر وقفے وقفےسے نظر ڈالتی کھانا کھانے لگی تھی۔
شاہزیب اس کی نظروں کا ارتکاز محسوس کرکے خاموش ہی رہا تھا۔
“ابھی تک ناراض ہیں مجھ سے ؟”
وہ بے چین سی پوچھ بیٹھی۔
“نہیں۔۔”
ایک حرفی جواب ملا۔
“پھر مجھ سے بات کیوں نہیں کر رہے ؟”
جھنجھلا کر پوچھا گیا۔
“میری مرضی۔۔”
کندھے اچکا کر لاپرواہی سےجواب دیا گیا۔
“مجھے جان بوجھ کر تنگ کررہے ہیں۔۔”
وہ آنکھوں میں نمی لاتے پوچھنے لگی تھی۔
شاہزیب نے کھانا چھوڑتے اس پر نظریں ٹکائی تھیں جو پنک رنگ کے سلیپنگ سوٹ میں آنکھوں میں نمی لائے معصوم گڑیا لگ رہی تھی۔
“اب رو کیوں رہی ہو؟ کہا تو ہے نہیں ہوں ناراض۔۔”
شاہزیب نے اس کے کرسی کھینچ کر اپنے قریب کی تھی۔اس کی حرکت پر افرحہ ہل کررہ گئی تھی۔
“آپ بالکل بھی اچھے نہیں ہے مجھے جان بوجھ کر تنگ کر رہے ہیں۔۔”
وہ منہ پھولا کر شاہزیب کی گہری سیاہ مقناطیسی آنکھوں میں دیکھتی خفگی سے بولی تھی۔
“کیا مجھے تنگ کرنے کا حق نہیں ؟ “
وہ اس کی چھوٹی سی ناک دبا کر پوچھنے لگا تھا۔افرحہ نے اس کی حرکت پر ناک چڑھائی تھی۔
“نہیں۔۔”
“آپ بڑے ہیں سمجھدار ہیں میں ابھی بچی ہوں آپ کو تنگ کرنا مجھ پر فرض ہے۔۔”
وہ سر ہلا کر سمجھ داروں کی طرف بولی تھی۔اسکی باتوں سے شاہزیب کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نے اپنی چھب دکھلائی تھی۔
“تم کہنا کیا چاہتی ہو ؟ میں بوڑھا ہو گیا ہوں ؟”
شاہزیب کے ماتھے پر بل ڈال کر پوچھنے پر افرحہ بری طرح گڑبڑائی تھی۔
“ن۔۔نہیں ن۔۔نہیں میرا یہ مطلب نہیں تھا۔۔”
افرحہ گردن نفی میں ہلاتی جھٹ سے بول اٹھی تھی۔
“اچھا۔۔۔”
شاہزیب نے ائبرو اچکا کر کہا تھا۔افرحہ منہ بسور کر چہرہ موڑ گئی تھی۔
شاہزیب افرحہ کے کھانے کے بعد برتن سمیٹ کر سنک میں رکھ رہا تھا جب افرحہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کے قریب آئی تھی۔پیچھے سے افرحہ نے شاہزیب کی کمر پر حصار باندھا تھا۔
“میرے پیارے ہبی مجھ معصوم کی معافی قبول کیجیے۔۔اب میں ایسی کوئی نادانی اور غلطی نہیں کروں گی۔۔”
افرحہ اس کی کمر سے سر ٹکاتی مسکراہٹ دبا کر بولی تھی۔
اس کے انداز پر شاہزیب کو ٹوٹ کر پیار آیا تھا۔اس کا حصار توڑتے شاہزیب نے رخ پھیرا تھا۔
“یہ آخری بار تھا افرحہ۔۔اس کے بعد میں تمھاری کوئی غلطی معاف نہیں کروں گا۔۔تمھارے معاملے میں میں بہت ہوزیسیو ہوں کسی کو بھی تمھارے قریب محسوس کرتا ہوں تو میرے سینے میں آگ سی لگ جاتی ہے۔۔”
وہ افرحہ کو کمر سے تھام کر اپنے سینے سے لگاتا گویا ہوا تھا۔اس کے انداز سے افرحہ نے بےساختہ جھرجھری لی تھی۔۔
“اب ایسی غلطی نہیں ہوگی آئی پرامس۔۔”
افرحہ کے جواب پر دھیرے سے مسکراتے شاہزیب نے اس کی روشن پیشانی کو چومتے اسے زور سے اپنے سینے میں بھینچ لیا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
“یہاں کیا کررہی ہو بریرہ ؟ “
مسز شہروز نے اسے کمرے سے باہر دیکھ کر ناگواریت سے پوچھا تھا بریرہ کودیکھتے ہی انھیں تپ چڑھ گئی تھی۔
“مجھے بھوک لگی تھی کچھ کھانے آئی تھی۔”
وہ نڈھال آواز میں بولی تھی۔مسز شہروز نے آنکھیں گھمائی تھی۔ انھیں بریرہ کا یوں بےدھڑک باہر پھرنا پسند نہیں آیا تھا۔
“آج کل جتنا تم کھا رہی ہو مجھے لگتا ہے شادی کا ڈریس بھی تم پر فٹ نہیں ہوگا۔۔”
اس کے سراپے پر نظر ڈالتے مسز شہروز بولی تھیں۔۔بریرہ نے ناک چڑھائی تھی۔وہ موٹی تو نہیں تھی۔اس کا متناسب سراپا تھا۔
“میری شادی ہوچکی ہے اب مجھے پرواہ نہیں ڈریس فٹ ہوتا ہے یا نہیں۔۔اس لیے مجھے ایسے فضول کے مشورے دینا بند کردیں۔۔”
وہ آنکھیں گھماتی بےزاریت سے بولی مسز شہروز کی باتوں نے اس کی بھوک مار دی تھی۔
“شٹ اپ شہروز کو آنے دو تمھاری ساری اکڑ نکلواتی ہوں۔۔ویسے بھی ہم ڈیوارس پیپرز تمھارے اس شوہر کو بھجوا چکے ہیں جسٹن پہلے ہی بہت غصے میں ہے اسے اپنی حرکتوں سے مزید غصہ مت دلانا شام کو تیار رہنا وہ تمھیں شاپنگ پر لے جانے کے لیے آئے گا۔۔”
مسز شہروز سخت لہجے میں بریرہ سے بولی تھیں۔
“بس یا کچھ اور ؟؟ آپ کو میری ایک بات سمجھ کیوں نہیں آتی میں جسٹن سے شادی نہیں کروں گی تو مطلب نہیں کروں گی۔۔اور جتنے مرضی پیپرز بھجوا دیں میرے شوہر کو وہ کبھی بھی سائن نہین کرے گا۔۔”
وہ ان سے نظریں ملاتی سپاٹ انداز میں بولی تھی۔مسز شہروزنے طیش میں آتے بریرہ کے گال پر مزید ایک تھپڑ مارا تھا۔۔
“تمھاری شادی تو ہم جسٹن سے ہی کروائیں گے جتنی مزاحمت کرنی ہے شوق سےکرو۔۔”
“اور سینڈی اسے کمرے میں بند کردو دوبارہ مجھے یہ باہر گھومتی نظر نہ آئے۔۔ورنہ تمھیں جوب سے نکالنے میں مجھے کوئی پریشانی ہوگی۔”
بریرہ پر ایک حقارت بھری نظر ڈال کر وہ میڈ پر چلائی تھیں جو جادو کے جن کی طرح ایک پل میں حاضر ہوئی تھی۔
“آپ ماں کے نام پر دھبہ ہیں۔۔”
سینڈی کے کھینچنے پروہ چلانے لگی تھی۔مسز شہروز اس کی باتوں پر کان لپیٹے چلی گئی تھی۔جبکہ میڈ بریرہ کو کمرے میں بند کرچکی تھی۔
افرحہ غصے میں کافی دیر چیختی چلاتی رہی تھی لیکن اسے سننے والا کوئی نہیں تھا۔
