Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Professor Shah (Episode 17)

Professor Shah by Zanoor Writes

افرحہ بریرہ سے ملتی شام کی فلائٹ سے واپس پاکستان آگئی تھی۔اس کے گھر میں نکاح کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھی۔۔اسے گھر کا ماحول دیکھتے وحشت سی ہورہی تھی۔

“بابا جانی۔۔”

وہ رحیم صاحب کے کمرے میں جاتی ان کے پاوں کے قریب بیٹھ گئی تھی۔رحیم صاحب نے فورا اپنے پاوں اکٹھے کیے تھے۔۔

“بابا جانی مجھ پر اتنا بڑا ظلم نہ کریں۔۔”

وہ سرخ آنکھوں سے نظریں جھکائے دھیمی آواز میں بولی تھی۔

“ہم تمھارے لیے بہتر فیصلہ ہی کر رہے ہیں افرحہ۔۔”

کمرے میں داخل ہوتی ماجدہ بیگم نرم آواز میں بولی تھی۔بیٹی کی اجڑی حالت دیکھتے ان کے دل کو کچھ ہوا تھا۔

“م۔۔میں اتنی جلدی شادی نہیں کر پاوں گی۔۔مم۔۔مجھے کچھ وقت دیں۔۔”

وہ نم آنکھوں سے رحیم صاحب کی طرف دیکھتی التجائیہ بول رہی تھی۔۔

“نکاح کے بعد تمھارے پاس ٹائم ہی ٹائم ہوگا۔تم فکر مت کرو جکدی سنبھل جاوں گی۔۔”

رحیم صاحب کٹھور بنے اس سے نظریں پھیر کر بولے تھے۔اس کی پسند کی حقیقت جان کر پہلے ہی وہ اس سے شدید ناراض تھے۔۔

“میں مرجاوں گی۔۔”

وہ اپنی سسکی روکتی ہوئی بولی تھی۔اکلوتی اولاد تھی ہمیشہ ماں باپ نے ہر ضد پوری کی تھی۔اب زندگی کے اتنے بڑے فیصلے میں ان کی زور زبردستی اس کا دم گھونٹ رہی تھی۔

“افرحہ کیا الٹا سیدھا بول رہی ہو۔۔جو اللہ کو منظور وہ ہی ہوگا۔اب جاو جاکر ریسٹ کرو صبح تمھارا نکاح ہے۔۔”

ماجدہ بیگم بیٹی کی بات پر تڑپ کر بولی تھیں۔وہ بھی افرحہ کی اتنی جلدی شادی نہیں کرنا چاہتی تھیں لیکن وقت اور حالات کا تقاضہ تھا انھیں ڈر تھا کہ افرحہ جذبات میں کوئی غلط قدم نہ اٹھالیں تبھی اتنی جلدی سب کچھ ہوا تھا۔

“آپ لوگ میرے ساتھ اچھا نہیں کر رہے۔۔”

وہ شکوہ کن نگاہوں سے انھیں دیکھتی اپنے روم میں بھاگ گئی تھی۔۔روم میں بند ہوتی دروازے سے ٹیک لگاتے وہ زمین پر بیٹھتی چلی گئی تھی۔کمرے کی خاموش فضا میں اس کی ہچکیاں سنائی دے رہی تھیں۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

رات کا وقت تھا شاہ پیلس میں سب لوگ ڈنر کے ٹیبل پر موجود کھانا کھانے میں مصروف تھے۔ حاتم شاہ سر براہی کرسی پر برجمان تھے ان کے دائیں جانب کی کرسی ہمیشہ کی طرح خالی تھی۔بائیں جانب ان کا بیٹا میر شاہ اپنی بیگم فاطمہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ان کے ساتھ ہی ان کی بیٹی نورے بیٹھی ہوئی تھی۔

“مجھے لگا تھا آپ سب لوگ میرے آنے کی خوشی میں جشن کا انتظام کریں گے۔۔”

کالی شرٹ اور جینز پہنے بازوں کے کف موڑے ایک بازو پر کوٹ لٹکائے شاہزیب کئی سالوں بعد اس گھر میں داخل میں داخل ہوا تھا جہاں صرف ماضی کی تلخ یادیں بستی تھیں۔

اس کی آواز سنتے ہی حاتم شاہ کی بےقرار آنکھوں کو سکون مل گیا تھا۔اس کو اپنے سامنے دیکھ کر ان کی بوڑھی روح کو سرور مل گیا تھا۔جبکہ دوسری جانب میر اور ان کی بیگم فاطمہ کے چہرے پر ناگواریت چھائی تھی۔

“آپ لوگوں نے شیر کی کچھار میں ہاتھ ڈالا ہے واپسی تو ہونی ہی تھی۔۔”

وہ طنزیہ مسکراہٹ سے بولتا حاتم شاہ کے بالکل سامنے موجود سربراہی کرسی پر شان سے اکڑ کر بیٹھ گیا تھا۔۔

“شاہزیب۔۔میرے شہزادے “

حاتم شاہ اس کی باتوں کو نظر انداز کرتے اٹھ کر ان کے قریب آنے لگے تھے جب اس نے ہاتھ کے اشارے سے انھیں روک دیا تھا۔

“آپ کو ایک کام دیا تھا آپ وہ بھی نہیں کر پائے۔۔”

وہ ادب کے دائرے میں رہتا سرد لہجے میں گویا ہوا۔حاتم شاہ کے دل کو کچھ ہوا تھا۔وہ تو رشتہ کر بھی آئے تھے افرحہ کے گھر والے ان کے گھر آنا چاہتے تھے لیکن سارا کام فاطمہ بیگم اور میر شاہ نے خراب کیا تھا۔وہ چاہ کر بھی افرحہ کے پیرنٹس کو رشتے کے لیے راضی نہیں کر پائے تھے۔

“یہ یہاں کیا کر رہا ہے بابا۔۔ فورا نکالیں اسے یہاں سے”

فاطمہ بیگم برہمی سے کرسی سے اٹھتی بولی تھیں شاہزیب نے اپنی ناگوار نظروں سے انھیں دیکھا تھا۔

“میرے گھر میں کھڑے ہو کر مجھے ہی باہر نکالنے کا بول رہی ہیں۔۔واٹ آ جوک۔۔”

وہ زہر خند لہجے میں انھیں دیکھتا پھنکارا تھا۔فاطمہ بیگم کا رنگ فق ہوا تھا انھوں نے بےیقینی سے حاتم شاہ کی طرف دیکھا تھا۔

“یہ کیا بول رہا ہے بابا ؟”

“دادا ساری پروپرٹی میرے نام کرچکے ہیں۔۔اور یہ جو آپ نے میری محبت کو مجھ سے دور کرنے کی کوشش کی ہے اس کا خمیازہ بھگتنے کے لیے تیار ہوجائیں سب لوگوں کے برے دن شروع ہونے والے ہیں۔۔”

وہ سفاکیت سے ان پر نظر ڈالتا بولا تھا۔اس کا لہجہ کسی بھی احساس سے عاری تھا۔

“آپ ایسا کیسے کرسکتے ہیں بابا ؟ اس بدذات کے نام ساری پروپرٹی کیوں کی آپ نے ؟”

فاطمہ بیگم چیخی تھیں۔

“زبان سنبھال کر بات کریں فاطمہ میں اپنے پوتے کے خلاف کوئی بات نہیں سنوں گا۔”

حاتم شاہ سنجیدگی سے فاطمہ بیگم کی طرف دیکھے بنا بولے تھے۔

“چچ۔۔چچ۔۔ افسوس یہاں رہنے کے باوجود بھی آپ اتنی بے خبر ہیں۔۔”

وہ طنزیہ بولا تھا۔فاطمہ بیگم کے چہرے پر صدمے بھرے تاثرات دیکھتے اسے لطف ملا تھا۔

“شاہزیب میرے ساتھ آو مجھے تم سے بات کرنی ہے اکیلے میں۔۔”

حاتم شاہ نے ہاتھ کے اشارے سے شاہزیب کو اپنے کمرے میں آنے کا کہا تھا۔شاہزیب ایک استہزایہ نظر سب پر ڈالتا ان کے پیچھے چل پڑا تھا۔

فاطمہ بیگم غصے سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔میر شاہ بھی ان کے پیچھے کمرے میں چلے گئے۔۔نورے بھی خاموشی سے اپنا ڈنر کرتی اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔

“آپ نے مجھے کہا تھا لوٹ آوں۔۔ میں واپس آگیا ہوں۔۔لیکن اپنے ساتھ میں صرف تباہی لایا ہوں۔۔”

وہ ان کے پیچھے کمرے میں داخل ہوتا سرد ترین لہجے میں بولا تھا۔

“تم غلط کر رہے ہو۔۔میں نے پروپرٹی تمھارے نام اس لیے نہیں کی کہ تم سب کو یہاں سے نکالنے کی دھمکیاں دیتے پھیروں۔۔”

حاتم شاہ ماتھے پر بل ڈالے بولے تھے انھیں یہ بات پسند نہیں آئی تھی۔۔

“آپ ہی مجھے واپس بلا رہے تھے اب خود ہی اتنی جلدی پچھتانے لگے ہیں۔۔”

وہ ان کے رو برو کھڑا سپاٹ لہجے میں گویا ہوا تھا۔

“اب کیا چاہتے ہوں تم؟”

حاتم شاہ نے جھکے کندھوں سے گہرا سانس خارج کرتے ہوئے پوچھا۔

“آپ جانتے ہیں میں کیا چاہتا ہوں۔۔”

وہ ان کے قریب آتا ان کے ڈھلے کندھوں پر بازو پھیلاتا ہوا بولا تھا۔حاتم شاہ اس کے چھوٹے سے اشارے پر ہی خوش ہوگئے تھے۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

“ماشااللہ میری بیٹی کتنی خوبصورت لگ رہی ہے۔۔چشم بدور۔۔”

ماجدہ بیگم سکن گولڈن جوڑے میں ملبوس تیار بیٹھی افرحہ پر نظر ڈالتے رشک سی بولی تھیں۔افرحہ ساکت نظروں سے زمین کو گھور رہی تھی۔اس نے ایک بار بھی نظر بھر کر خود کو آئینے میں نہیں دیکھا تھا۔

جیسے جیسے نکاح کا وقت قریب آتا جا رہا تھا اس کے اندر گھٹن کا احساس بڑھتا جا رہا تھا۔ماجدہ بیگم کی بات سن کر بھی اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔

“ابھی تم ہم سے ناراض ہو لیکن ہمارا یہ فیصلہ تمھاری زندگی سنوار دے گا۔۔”

ماجدہ بیگم کی بات سنتے اس نے سختی سے لب بھینچ لیے تھے۔۔وہ انھیں کیا بتاتی اس کی زندگی تو کہیں دور کینیڈا میں ہی رہ گئی ہے۔۔

“مما۔۔ ابھی بھی وقت ہے پلیز یہ نکاح روک دیں۔۔”

وہ ان کا ہاتھ تھامتی نم آنکھوں سے بولی تھی۔۔

“شش چپ کر جاو افرحہ۔۔”

انھوں نے فورا ڈپٹ کر اسے چپ کروایا تھا باہر مہمانوں میں سے کوئی سن لیتا تو ان کی کیا عزت رہ جاتی۔۔

افرحہ کو چھوڑتی وہ باہر چلی گئی تھی۔۔وہ ساکت سی نظریں جھکا گئی تھی۔اپنے ماں باپ سے اسی سختی کی امید نہیں تھی۔

ماجدہ بیگم باہر نکلتی مہمانوں سے ملنے لگی تھی۔زید کے پیرنٹس شہزاد اور فوزیہ دونوں ان کے گھر آچکے تھے۔

“زید کہاں ہے بھائی صاحب ؟”

ماجدہ بیگم نے مسکراتے ہوئے پوچھا تھا۔

“وہ الگ گاڑی میں اپنے دوست کے ساتھ آرہا ہے پہنچتا ہی ہوگا۔۔”

فوزیہ نے خوش اسلوبی سے جواب دیا تھا۔

ایک گھنٹہ گزر گیا تھا لیکن زید کا کوئی اتا پتا نہیں تھا۔شہزاد صاحب اسے کافی بار کال کر چکے تھے لیکن اس کا فون آف جا رہا تھا اب تو سب ہی پریشان ہو گئے تھے۔مہمانوں میں بھی باتیں ہونا شروع ہوگئیں تھیں۔۔

“کس کا انتظار کر رہے ہیں سب؟”

کالی شلوار قمیض میں کندھوں پر چادر ڈالے شاہزیب مضبوط قدم اٹھاتا ان کے گھر میں داخل ہوا تھا۔سب اس کی جانب متوجہ ہوگئے تھے۔

رحیم صاحب اور ماجدہ بیگم اسے فورا پہچان گئے تھے کیونکہ افرحہ نے انھیں شاہزیب کی تصویر جو بھیجی ہوئی تھی۔

“تم یہاں کیا کر رہے ہو؟”

شاہزیب کو دیکھتے رحیم صاحب اپنا غصہ قابو کرتے اس کی جانب بڑھے تھے جو ان کو اگنور کرتا وہاں موجودصوفے پر بیٹھتا ٹانگ پر ٹانگ جمائے صوفے کی پشت پر بازو پھیلائے بیٹھ گیا تھا۔اس کے ساتھ دو گارڈز موجود تھے جبکہ حاتم شاہ کو وہ خود ساتھ نہیں لایا تھا۔

“سنا ہے آپ کا بھتیجا غائب ہے۔۔”

وہ طنزیہ مسکراہٹ سے بولا تھا۔سب کی توجہ اس پر مرکوز ہوگئی تھی۔۔

“چچ۔۔چچ۔۔پتا نہیں اس وقت وہ کہاں موجود ہوگا۔۔شاید اس کا ایکسیڈینٹ نہ ہوگیا ہو یا پھر کسی نے کیڈنیپ کر لیا ہو۔۔کچھ بھی ہوسکتا ہے۔۔”

وہ ٹھوڑی پر ہاتھ پھیرتا پرسوچ انداز میں بولتا زید کے والدین کو شدید پریشان کر گیا تھا۔

“ہمارا بیٹا کہاں ہے ؟ شرافت سے بتا دو ورنہ پولیس کو بلوا کر تمھیں حوالات کی سیر کروانے میں ہمیں کوئی مشکل نہیں ہوگی۔”

شہزاد صاحب نے اسے دھمکایا تھا۔شاہزیب ان کی بات سنتا سر پیچھے کی طرف پھینکتا زورسے ہنسا تھا جسے کسی بچے نے اسے جوک سنایا ہو۔۔

“یہ کرنے کا سوچیے گا بھی نہیں۔۔ورنہ دوبارہ اپنے بیٹے کو دیکھنے کے لیے ترس جائیں گے۔۔”

وہ آگے کی طرف جھکتا ان سے نظریں ملاتا سفاکیت سے بولا تھا۔

“یہ کون ہے رحیم اور اسے کیا چاہیے ؟ اس نے ہمارے بیٹے کو کیوں کیڈنیپ کیا ہے؟”

شہزاد صاحب رحیم صاحب کی طرف مڑتے سخت پریشان سے پوچھنے لگے تھے۔رحیم صاحب اس کی بات پر خاموش سے ہوگئے تھے انھوں نے دھیرے سے انھیں شاہزیب کا بتایا تھا۔

“اس میں میرے بیٹے کی کیا غلطی ہے؟”

شہزاد صاحب برہمی سے بولے تھے۔

“اس کی سب سے بڑی غلطی میری محبت پر نظر رکھنے کی تھی اور آپ لوگوں نے سوچ بھی کیسے لیا میں اتنی آسانی سے اپنی محبت سے دستبردار ہو جاوں گا۔۔میں شاہزیب میر حاتم ہوں مجھے اپنا حق چھیننا بخوبی آتا ہے۔”

وہ شہزاد صاحب کی طرف دیکھتا ٹھنڈے ٹھار لہجے میں بولا تھا۔

“تمھیں کیا چاہیے؟”

رحیم صاحب جھنجھلا کر غصے میں پوچھنے لگے تھے۔

“افرحہ سے نکاح کرنا چاہتا ہوں ابھی اور اسی وقت۔۔”

وہ سرد لہجے میں بولا تھا۔۔

“ایسا ہرگز نہیں ہوگا میں تم جیسے شخص کو اپنی بیٹی کبھی نہیں دوں گا۔۔”

شاہزیب کی بات پر وہ بھڑک اٹھے تھے۔

“پندرہ منٹ ہے سوچ لیں اس کے بعد زید کی زندگی میری ایک کال کی منتظر ہوگی۔۔اس کی سلامتی چاہتے ہیں تو چپ چاپ میرا نکاح اپنی رضا مندی سے کروا دیں۔۔”

وہ سرد ترین لہجے میں بولا تھا۔رحیم صاحب نے غصے سے مٹھیاں بھینچ لی تھی شہزاد صاحب سخت پریشان ہوگئے تھے۔۔

“یہ پاگل انسان جو کہتا ہے وہ کردو رحیم میں اپنے بیٹے کو تمھاری بیٹی کی وجہ سے کھونا نہیں چاہتا۔۔وہ ہماری اکلوتی اولاد ہے۔۔”

شہزاد صاحب رحیم صاحب کی طرف مڑتے التجائیہ بولے تھے۔فوزیہ بیگم بھی بیٹے کے بارے میں سنتی رونے لگی تھیں۔ماجدہ بیگم پریشان سی انھیں چپ کروانے لگی تھیں۔۔

وہ لوگ بری طرح پھنسے تھے۔ان کے پاس کوئی چارا نہیں تھا سوائے افرحہ کا شاہزیب کے ساتھ نکاح کروانے کے۔۔۔شہزاد صاحب کے ہاتھ جوڑنے پر رحیم صاحب نے کڑوا گھونٹ بھرتے ماجدہ بیگم کو اشارہ کیا تھا وہ لوگ شدید بےبس ہوچکے تھے۔۔

شاہزیب کے چہرے پر فاتح مسکراہٹ تھی۔رحیم صاحب کے اشارے پر مولوی صاحب کو بلایا گیا تھا۔ماجدہ بیگم اپنے آنسو روکتی افرحہ کو باہر لینے گئی تھی۔

“مبارک ہو پہنچ گیا تمھارا شاہزیب۔۔اس نے ہمیں کسی کے سامنے منہ دکھانے کے لائق نہیں چھوڑا۔۔”

ماجدہ بیگم افرحہ کو کھڑا کرتی تیز لہجے میں بولی تھیں۔۔افرحہ نے ناسمجھی سے انھیں دیکھا۔۔

“م۔۔مما ؟”

ماجدہ بیگم نے اس کی پکار ان سنی کی تھی اسے زبردستی لیتی باہر نکلی تھیں۔۔افرحہ ان کی ساری بات سمجھ گئی تھی جب اس کی نظر سامنے صوفے پر کروفر سے بیٹھے شاہزیب پر پڑی تھی۔اس کی آنکھیں تحیر سے پھیل گئی تھیں۔۔

وہ کچھ بولنا چاہتی تھی لیکن اس کے پاس بولنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔اس نے لب کھولے تھے اورپھر بند کرلیے تھے۔

شاہزیب نے ایک نظر اس پر ڈال کر اپنے چہرے کا رخ موڑ لیا تھا۔کچھ ہی دیر میں نکاح کے ایجاب و مراحل مکمل ہوگئے تھے۔۔افرحہ ابھی تک بےیقین سی بیٹھی ہوئی تھی۔اسے یقین ہی نہیں ہو رہا تھا اس کا نکاح شاہزیب سے ہوچکا تھا۔

“تمھارا نکاح ہوگیا ہے اب میرے بیٹے کو چھوڑ دو۔۔”

شہزاد صاحب فورا شاہزیب کی طرف بڑھے تھے۔۔شاہزیب نے اپنی مسکراہٹ دبائی تھی۔

“آپ کا بیٹا میرے پاس نہیں ہے۔۔”

وہ کندھے اچکا کر بولا تھا۔۔

“کیا بکواس کر رہے ہو؟”

اس کی بات سنتے شہزاد صاحب طیش کے عالم میں آگئے تھے۔

“ڈیڈ۔۔”

زید کو گھر کے اندر صحیح سلامت داخل ہوتے سب حیران ہوئے تھے۔۔

“آئی ایم سوری ہماری گاڑی خراب ہوگئی تھی اور لفٹ کے دوران ہمارے موبائل چوری ہوگئے تھے۔۔”

زید بالوں میں ہاتھ پھیرتا بولا تھا۔سب کے چہروں پر حیرت زدہ تاثرات نمایا ہوئے تھے۔افرحہ جو خاموش بیٹھی تھی۔اسے کچھ کچھ بات سمجھ آگئی تھی۔۔

“چلیں اب آپ کو آپ کا بیٹا مل گیا ہے اب میری بیوی کو میرے ساتھ رخصت کردیں۔۔”

شاہزیب صوفے سے اٹھتا اپنی قمیض صحیح کرتا بےزاریت سے بولا تھا۔زید کی نظریں بےساختہ شاہزیب پر گئی تھیں جسے وہ پہلے دیکھ نہیں سکا تھا۔

“یہ یہاں کیا کر رہا ہے اور کیا بول رہا ہے کونسی بیوی ؟”

زید اونچی آواز میں بولا تھا۔

“شٹ اپ دوبارہ اونچی آواز میں بولے تو زبان گدی سے کھینچ لوں گا۔”

شاہزیب ناگواریت سے سرد لہجے میں بولا تھا۔وہ سب کو نظر انداز کرتا لمبے لمبے ڈھگ بھرتا افرحہ کے پاس پہنچا تھا اس کا ہاتھ نرمی سے تھامتے شاہزیب نے اسے کھڑا کیا تھا۔۔زید منہ کھولے بےیقینی سے سب کچھ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔

“چلیں سسر جی اور ساسو ماں اپنی بیٹی کو دعائیں دیں۔۔”

شاہزیب رحیم صاحب اور ماجدہ بیگم سے بولا تھا جو افرحہ کی طرف نظر بھر کر بھی نہیں دیکھ رہے تھے۔۔

“بابا جانی۔۔”

افرحہ نے نرمی سے انھیں پکارا تھا۔مگر وہ اس کی آواز پر رخ ہھیر گئے تھے۔۔افرحہ کے دل میں ٹیس سی اٹھی تھیں۔۔آنکھوں کے گوشے بھیگنے لگے تھے۔۔

“لگتا ہے دونوں ناراض ہوگئے ہیں ہم بعد میں منائیں گے۔۔فلحال اب ہم یہاں سے چلتے ہیں۔۔”

شاہزیب سنجیدہ سا بولا تھا۔۔

“م۔مما۔۔مجھے کہیں نہیں جانا۔۔ بابا جانی۔۔”

وہ ان دونوں کو منہ موڑے دیکھ کر تڑپ اٹھی تھی۔۔شاہزیب کی گرفت اس کے ہاتھ پر بے ساختہ سخت ہوئی تھی۔

افرحہ کے کندھے کے گرد سختی سے بازو پھیلاتے وہ اسے اپنے ساتھ لگاتے اس کی باتوں کو نظر انداز کرتا اسے کھینچ کر اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

ماجدہ بیگم نم آنکھوں سے اپنے بیٹے کو جاتے دیکھ کر رحیم صاحب پر نظر ڈالتے خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔مہمان سارے رخصت ہونے لگے تھے۔زید ایک الگ ہی ہنگامہ ڈال کر کھڑا ہوگیا تھا۔۔منزل کے اتنے قریب پہنچ کر بھی وہ کامیاب نہیں ہو پایا تھا۔اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ کیسے شاہزیب نے یہ سب کر دیا تھا۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

شاہزیب اسے لے کر اپنے الگ گھر میں جارہا تھا۔۔افرحہ سارے راستے میں روتی ہوئی آئی تھی۔شاہزیب اس کا رونا سن سن کر جھنجھنلاہٹ کا شکار ہونے لگا تھا۔

“ایک سیکنڈ میں چپ ہوجاو ورنہ میرا دماغ گھوم گیا تو بہت پچھتاو گی۔۔”

شاہزیب سنجیدگی سے بولا تھا۔مقابل کے گھائل کردینے والے روپ سے بمشکل وہ نظریں چرائے بیٹھا تھا۔

“یہ سب آپ کی وجہ سے ہو رہا ہے۔۔”

وہ اس کے سخت لہجے میں بولنے پر غصے سے بولی تھی۔اپنے ماں باپ کا رویہ یاد کرتے خود بخود اس کے آنسو بہہ رہے تھے۔

“آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ مجھے میرے ہی گھر والوں سے دور کردیا۔۔”

وہ غمگین سی گویا ہوئی تھی۔

“میں نے تم سے کہا تھا جہاں تک بھاگ سکتی ہو بھاگ لو لیکن بیوی تم صرف شاہزیب میر حاتم کی ہی بنو گی۔۔”

وہ اس کے سجے سنورے روپ پر ایک گہری نظر ڈالتا بولا تھا۔اس کی نظریں محسوس کرتے افرحہ خود میں سمٹی تھی۔

“آپ کی محبت میرے لیے سزا بن گئی ہے۔۔”

وہ کپکپاتی آواز میں بولی تھی۔

“تم نے مجھے اپنے پیچھے پاگل کیا تھا۔۔اب میری محبت برداشت کرنا بھی تم پر فرض ہے۔۔ابھی تو ابتدا ہے اتنی جلدی ہار مان رہی ہو۔۔میری شدتوں کو کیسے برداشت کرو گی۔۔”

اس کا کانپتا ہاتھ تھامتے وہ دھیرے سے اپنے لبوں کے قریب لایا تھا۔۔

اس کا پرحدت لمس اپنے ہاتھ پر محسوس کرتے افرحہ کانپ اٹھی تھی۔

“آپ بہت برے ہیں۔۔م۔۔مجھے اس وقت پر پچھتاوا ہو رہا ہے جب میں آپ سے ملی تھی۔۔”

وہ اپنا ہاتھ چھڑواتی غصے سے چیخی تھی۔۔شاہزیب کو اس کیے ہاتھ چھڑوانے والی حرکت سخت ناگوار گزری تھی اوپر سے اس کا چیخنا سونے پر سوہگا کر گیا تھا۔۔

گاڑی کو روکتے شاہزیب نے اس کو ہاتھ سے تھام کر جھٹکے سے اپنی جانب کھینچا تھا۔۔افرحہ کی زبان فورا بند ہوئی تھی۔

“دوبارہ یہ حرکت مت کرنا۔۔تم اب میری بیوی ہو جتنی جلدی ممکن ہو تسلیم کرلو جہاں تک تمھارے ماں باپ کی بات ہے وہ بھی جلد ہی تم سے بولنے لگیں گے۔۔اب میں تمھارے منہ سے کوئی فضولیات نہیں سننا چاہتا۔۔ورنہ تمھارا منہ بند کرنے کے میرے ہاس بہت سے طریقے ہیں۔۔”

افرحہ کے چہرے پر جھکے وہ اس کے ہونٹوں کے قریب اپنے لب شدت سے رکھتا بولا تھا۔افرحہ اس کے لمس سے گھبرا گئی تھی۔

اس کا چہرہ بےساختہ تپ اٹھا تھا۔شاہزیب کی بےباکی سے وہ ایک پل کو شاکڈ رہ گئی تھی۔مقابل سے ایسی امید نہ تھی۔

افرحہ کو چھوڑتے وہ سیدھا ہوتا گاڑی سٹارٹ کر چکا تھا۔افرحہ اس کے بعد سارے راستے خاموشی سے لب بھینچ کر بیٹھی رہی تھی۔

جاری ہے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *