Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Professor Shah (Episode 28)

Professor Shah by Zanoor Writes

شاہزیب اپنا غصہ قابو کرتا گاڑی پارک کرتا بے لمبے ڈھگ بھرتا بلڈنگ میں داخل ہوا تھا۔اسے ڈینیل نے بتایا تھا کہ وین کا نمبر غلط تھا۔جس سے وہ گاڑی ٹریس نہیں کرپا رہے لیکن اسے فرق نہیں پڑتا تھا کیونکہ اسے پتا چل گیا تھا افرحہ کہاں اور کس کے پاس ہے۔۔

وہ دھڑلے سے بنا ریسپشنسٹ کی سنے سیدھا لفٹ میں داخل ہو چکا تھا۔آٹھواں فلور کا بٹن دباتا وہ منجمد سا کھڑا تھا۔وہ ہمیشہ سوچ سمجھ کر قدم اٹھاتا تھا اور کچھ سوچ کر ہی یہاں آیا تھا۔

“شہروز کہاں ہے؟”

اس نے سرد ترین لہجے میں وہاں موجود سیکرٹری سے پوچھا تھا۔

“وہ اس وقت میٹنگ روم میں ہیں سر کیا آپ کی اپائنٹمنٹ ہے ؟”

سیکرٹری نے بھنویں اچکاتے پوچھا۔

“میٹنگ روم کس طرف ہے ؟ “

شاہزیب دھیمی آواز میں غرایا تھا مقابل کھڑی لڑکی ڈر گئی تھی۔

“سر آپ اس طرح زبردستی اندر نہیں آسکتے۔۔مجھے سکیورٹی کو بلانا پڑے گا۔۔”

سیکرٹری نے ہمت کرتے اونچی آواز میں کہا۔وہ حجاب میں ملبوس کوئی مسلمان لڑکی ہی لگ رہی تھی۔

“ڈو یو نیڈ ہیلپ بڈی ؟”

اپنے پیچھے سے جانی پہچانی آواز سن کر شاہزیب جھٹکے سے پیچھے مڑا تھا۔

ڈینیل مارٹین کو دیکھتے شاہزیب نے لب بھینچے تھے۔

“سیدھا جاکر دائیں طرف میٹنگ روم ہے تم جاو تب تک میں اسے سنبھالتا ہوں۔۔”

ڈینیل حجاب میں ملبوس لڑکی کو دیکھتا بولا تھا شاہزیب سر ہلاتا لمبے لمبے ڈھگ بھر کر اس طرف چلا گیا تھا۔

“یہ آپ کیا کر رہے ہیں روکیں۔۔”

اس لڑکی نے چیخ کر کہا تھا۔

“شٹ اپ۔۔دوبارہ منہ کھولا تو بھیجا اڑا دوں گا۔۔”

اپنی ویسٹ سے گن نکال کر ڈینیل نے اس کے سامنے میز پر رکھ دی تھی۔مقابل کے رنگ فق ہوگئے تھے اس کے بعد اس کے منہ سے ایک بھی الفاظ نہیں نکلا تھا۔

شہروز صاحب اس وقت ضروری میٹنگ میں مصروف تھے۔جب دھڑلے سے دروازہ کھولتے شاہزیب اندر داخل ہوا تھا۔

میٹنگ میں موجود سب لوگ شاہزیب کی جانب متوجہ ہوگئے تھے۔جس نے شہروز صاحب کو دیکھتے ہی ویسٹ سے گن نکالی تھی۔

“میٹنگ ختم ایک منٹ کے اندر اندر سب باہر نکل جائیں۔۔”

شاہزیب کے گن دکھا کر بولنے سے سب لوگ تیزی سے اٹھ کر باہر نکل گئے تھے۔۔

“تمھاری ہی خدمت کرنے آیا ہوں چپ کرکے بیٹھ جاو۔۔”

شہروز صاحب کو کرسی سے اٹھتے دیکھ کر شاہزیب ایک ہی جست میں اس کے قریب پہنچ گیا تھا۔انھیں کرسی پر دھکا دیتے اس نے گن ان کی گردن پر رکھ دی تھی۔

“میں نے تمھارا کیا بگاڑا ہے ؟”

شاہزیب صاحب نے فق چہرے کے ساتھ اس سے پوچھا تھا۔جس نے شاکی نظروں سے اسے گھورا تھا۔۔

سب کے نکل جانے کے بعد شاہزیب نے آگے بڑھ کر دروازے کو لاک لگا دیا تھا۔۔شہروز صاحب نے موقعے کا فائدہ اٹھاتے میز پر پڑا لیپ ٹاپ اٹھا کر شاہزیب کے زور سے مارا تھا۔۔شاہزیب باآسانی سے سائیڈ پر ہٹتا ان کی کوشش ناکام کرچکا تھا۔۔

شہروز صاحب کی دائیں ٹانگ کا نشانہ لیتے اس نے انھیں شوٹ کردیا تھا۔۔ایک درد ناک چیخ ان لے حلق سے نکلی تھی۔

“مجھے ہلکا سمجھنے کی کوشش بھی مت کرنا۔۔تم لوگوں نے میری بیوی کو اٹھوا کر بہت بڑی غلطی کردی۔۔اس وقت میرا دماغ گھوما ہوا ہے کوئی پتا نہیں کب میرے دماغ کا فیوز اڑے اور میں تمھیں تمھاری بیوی سمیت اوپر کا سفر کروا دوں۔۔اس لیے جو پوچھ رہا ہوں تیزی سے جواب دیتے جاو۔۔”

شاہزیب کرسی گھسیٹ کر شہروز صاحب کے سامنے بیٹھتا سرد لہجے میں بول رہا تھا۔

“تم پاگل انسان ہو۔۔۔میں نہیں جانتا تم کون ہو ؟ اور کونسی بیوی کی بات کر رہے ہو؟”

شہروز صاحب کی لاعلمی اس کا غصہ مزید بڑھا رہی تھی۔

شاہزیب صاحب کی طرف جھکتے اس نے ان کی ٹانگ کے زخم پر دباو ڈالا تھا۔جس سے وہ بلبلا اٹھے تھے۔۔

“میری بیوی کہاں ہے ؟”

شاہزیب نے سخت گیر لہجے میں پوچھا تھا۔۔شہروز صاحب تکلیف سے تڑپ رہے تھے۔

“م۔۔میں ب۔۔بتاتا ہوں۔۔”

کانپتی آواز میں ان کے منہ سے سرگوشی نکلی تھی۔

“صرف پانچ سیکنڈ ہے تمھارے پاس جلدی سے بتاو کہاں ہے میری بیوی؟”

شاہزیب خون والا ہاتھ ان کے کوٹ سے صاف کرتا پوچھ رہا تھا۔

“و۔۔وہ ہمارے گھر ہے۔۔ اب پلیز کسی ڈاکٹر کو بلا دو ورنہ میں مرجاوں گا۔۔”

اڈریس بتاتے انھوں نے اپنا تیزی سے بہتا خون دیکھتے التجا کی تھی۔

“اس بار چھوڑ رہا ہوں دوبارہ میری بیوی کے ارد گرد بھی تم لوگوں میں سے کوئی بھٹکا نہ تو زندہ زمین میں گاڑھ دوں گا۔۔اور اگر تمھاری خبر جھوٹی ہوئی تو تمھیں مارنے سے مجھے کوئی روک نہیں پائے گا۔۔”

شاہزیب کھڑا ہوتا بولا تھا۔شہروز صاحب اس کی دھمکی سن کر مزید زرد پڑ گئے تھے۔

“اور ہاں میرے خلاف رپورٹ کرنے کی کوشش بھی مت کرنا ورنہ نقصان صرف تم لوگوں گا ہوگا۔۔ اب میں چلتا ہوں اپنی بیوی کو لینے۔۔”

شاہزیب اسے وارن کرتا باہر نکلا تھا۔۔ڈینیل کو سیکرٹری کے پاس کھڑا دیکھ کر اوع اس لڑکی کو ڈرا ہوا دیکھ کر شاہزیب نے آنکھیں گھمائی تھیں۔۔

“میں جارہا ہوں تم زرا اندر والے میس کو دیکھ لینا اور سب کو خبردار کردو یہاں سے کوئی خبر باہر نہ نکلے۔۔سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی ساری ڈیلیٹ کردو۔۔”

شاہزیب ڈینیل کو سمجھاتا بنا اس کا جواب سنے وہاں سے نکل گیا تھا۔۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

مسز شہروز لاونچ میں سکون سے بیٹھی تھیں۔ ایک میڈ نرمی سے ان کے کندھے دبا رہی تھی جبکہ وہ اپنے موبائل میں اون لائن نیوز پیپر پر سرسری نظر ڈال رہی تھیں۔

موبائل سائیڈ پر رکھتی وہ آنکھیں موند گئی تھیں۔جب اچانک سے اٹھنے والے شور کی وجہ سے جھپاک سے ان کی آنکھیں کھل گئی تھیں۔

” یہ کیسا شور ہے ؟ “

مسز شہروز نے بھنویں اچکاتے ہوئے ناگواریت سے پوچھا۔

“کچھ لوگ زبردستی اندر آنے کی کوشش کر رہے ہیں میم۔۔”

ایک گارڈ نے اندر آتے مسز شہروز کو خبر دی ہی تھی جب پیچھے سے آتے چند لوگوں نے اسے پکڑ لیا تھا۔

مسز شہروز پریشان سی کھڑی ہونے لگی تھیں جب شاہزیب کی آواز نے انھیں منجمد کر دیا تھا۔

“اٹھنے کا تکلف کرنے کی کوشش مت کرو۔۔”

گن سے اپنا ماتھا مسلتا شاہزیب بھنویں بھینچتا سرسراتے لہجے میں بولا تھا۔اس کے ہاتھ میں گن دیکھتے ہی مسز شہروز کی ہوائیں اڑ گئی تھیں۔

“میری بیوی کہاں ہے ؟”

شاہزیب نے سکون سے ان کے بالکل سامنے والے صوفے پر بیٹھتے پوچھا۔

“م۔۔میں نہیں جانتی تمھاری بیوی کون ہے ؟”

مسز شہروز نے اپنے لب تر کرتے ایک دم سیدھے ہوتے کانفڈینس سے کہا تھا۔

“مجھے تم جیسی عورتوں سے پہلے ہی بہت نفرت ہے تمھاری یہ جھوٹیں باتیں بس میرے گن کے اندر موجود گولی کا ڈوز تمھیں دینے پر مجبور کر رہی ہیں۔۔پہلے ہی تمھارے اس ڈرپوک شوہر نے میرا بہت ٹائم ویسٹ کیا ہے۔۔۔”

“یہ خون دیکھ رہی ہو۔۔”

شاہزیب نے اپنے ہاتھ پر لگا خشک خون اسے دیکھایا تھا۔۔مسز شہروز نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے خون کو دیکھا تھا۔

“یہ تمھارے شوہر کا ہے۔۔مجھ سے شاہزیب میر حاتم سے چالاکی کر رہا تھا۔۔”

وہ استہزایہ لہجے میں گن سے اپنا ماتھا مسلتا بالکل پاگل انسان لگ رہا تھا۔

“میں صرف ایک منٹ تک انتظار کروں گا اگر میری بیوی مجھے میرے سامنے صحیح سلامت نہ ملی تو بھول جانا اس گھر سے زندہ کوئی باہر نکلے گا۔۔”

شاہزیب نے گن ایک سائیڈ پر رکھتے سگریٹ نکال کر سلگائی تھی۔اس کے ساتھ ڈینیل کے آدمی تھے جو اس کی بھرپور مدد کر رہے تھے۔

“میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو ؟ جاو اس لڑکی کو لے کر آو۔۔”

مسز شہروز گھبراتی ہوئی میڈ سے بولی تھیں جو تیزی سے افرحہ کو لینے بھاگ گئی تھی۔۔

“تم یوں دھڑلے سے میرے گھر میں آکر اچھا نہیں کر رہے ہم تمھارے خلاف کمپلین کریں گے۔۔”

مسز شہروز لب بھینچ کر بولی تھیں۔۔

“پولیس کو میں اپنے جوتوں کے نیچے رکھتا ہوں کسی کی جرت نہیں مجھے ہاتھ لگا جائے۔۔اور تم جیسے کیڑے مکوڑوں سے چھٹکارا حاصل کرنا میرے لیے مشکل نہیں ہے۔۔”

وہ سگریٹ کا گہرا کش ہوا میں چھوڑتا سپاٹ انداز میں بولا تھا۔

“لو آگئی تمھاری بیوی دیکھ لو صحیح سلامت ہے اب اسے لو اور ہمیں ہماری بیٹی واپس کردو۔۔”

مسز شہروز افرحہ کو آتے ہوئے دیکھ کر تیز لہجے میں بولی تھیں۔

“میرے نہیں خیال ابھی تم اس پوزیشن میں ہو کہ مجھ سے کوئی ڈیل کرسکو۔۔اور میں بھی دیکھتا ہو تم کیسے بریرہ کو ڈھونڈتی ہو۔۔”

وہ افرحہ کو دیکھتا اپنی شرٹ پر نہ دکھنے والی گرد کو جھاڑتا گن اٹھا کر کھڑا ہو گیا تھا۔سگریٹ وہ زمین پر پھینک کر مسل چکا تھا۔

بنا کسی کا لحاظ کیے وہ ایک ہی جست میں افرحہ کے قریب پہنچ کر اسے اپنے سینے سے لگا چکا تھا۔۔

افرحہ نے اس کی حرکت پر مزاحمت کی تھی جسے شاہزیب اگنور کر گیا تھا اسے اپنے حصار سے نکالتے شاہزیب نے گہری نظروں سے اس کا اوپر سے لے کر نیچے تک گہری نظروں سے جائزہ لیا تھا۔اسے صحیح سلامت دیکھتے اس نے سکون کی آہ خارج کی تھی۔افرحہ کی موجودگی سے اس کے سلگتے دل پر ٹھنڈی پھوار برس پڑی تھی۔

افرحہ آنکھیں پھیلائے بس اس کے ہاتھوں پر لگا خون دیکھ رہی تھی۔شاہزیب نے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تھا۔

“یہ میرا خون ہے۔۔”

اس نے شرٹ اوپر کرتے اسے کٹ دکھایا تھا۔جو گھر کے اندر داخل ہوتے ہوئے اسے لگا تھا۔

“ہائے اللہ یہ تو کافی گہرا زخم لگ رہا ہے۔۔”

وہ اس کے پیٹ کو دیکھتے آنکھیں پھیلا کر بولی تھی۔ جہاں کٹ لگا ہوا تھا جو زیادہ گہرا نہیں تھا۔شرٹ کا رنگ گہرا ہونے کی وجہ سے اس کا خون رستا ہوا بھی نہیں دکھ رہا تھا تبھی مسز شہروز بھی اس کا زخم نہیں دیکھ پائی تھیں۔۔

“کچھ نہیں ہوا یہ معمولی سا کٹ ہے۔۔”

شاہزیب نے سپاٹ انداز سے اس کا گال سہلاتے ہوئے جواب دیا تھا۔

“تمھیں تمھاری بیوی مل گئی ہے تو اب اپنے ان گنڈوں کو لے کر میرے گھر سے نکل جاو۔۔”

مسز شہروز کی اونچی آواز سن کر شاہزیب نے آنکھیں گھماتے گن اپنی ویسٹ میں رکھتے سب کو باہر جانے کا اشارہ کیا تھا۔

افرحہ کو اپنے ساتھ مضبوطی سے تھامتا وہ وہاں سے نکل گیا تھا۔افرحہ کو اپنے پاس واپس پاکر اس کو سکون مل گیا تھا۔اب رات ہوگئی تھی اس نے سارا دن افرحہ کو ڈھونڈنے پر لگا دیا تھا اور بالآخر اس کی کوشش رنگ لائی تھی جبھی وہ اس کے پاس واپس موجود تھی۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

عادل تھکا ہارا شام کو گھر لوٹا تھا آج کل وہ ایک کیس پر کام کر رہا تھا۔جس سے وہ خاصا مصروف تھا۔گھر میں داخل ہوتے اونچے میوزک نے اس کا استقبال کیا تھا۔

عادل جس کے سر میں پہلے ہی درد ہو رہا تھا میوزک کی بیٹ سے اس کے سر میں باقاعدہ درد لہریں اٹھنے لگی تھیں۔۔

وہ تیز تیز قدم اٹھاتا لاونچ میں داخل ہوا تھا جہاں روحان کو بریرہ کے ساتھ ڈانس کرتے دیکھ کر اس کی رگیں ابھر آئیں تھیں۔۔

ان لوگوں نے شاید عادل کو نوٹ نہیں کیا تھا تبھی موج مستی میں لگے ہوئے تھے۔۔عادل نے آگے بھرتے میوزک بند کر دیا تھا جس سے روحان اور بریرہ دونوں ساکت ہوگئے تھے۔۔عادل کو دیکھتے بریرہ نے ناک چڑھائی تھی۔جبکہ روحان نے میوزک بند ہوجانے پر منہ بگاڑا تھا۔

“تم میرے گھر میں کیا کر رہے ہو؟”

عادل نے دانت کچکچاتے ہوئے روحان سے پوچھا تھا۔

“میرا دل کر رہا تھا اپنی گرل۔۔۔۔فرینڈ سے ملنے کو سو میں چلا آیا۔۔”

وہ گرل فرینڈ کو کھینچ کر بولتا عادل کو غصے سے سرخ کر گیا تھا۔جبکہ بریرہ عادل کی حالت دیکھ کر اپنی ہنسی دبا رہی تھی۔

“بکواس بند کرو اپنی اور فورا میرے گھر سے نکل جاو۔۔”

عادل نے آگے بڑھتے اس کے کالر کو دبوچا تھا۔

“ٹیک اٹ ایزی برو۔۔تم بھی تو رات کو مجھے بتائے بنا میری گ۔۔آہہ۔۔میرا مطلب میری فرینڈ کو اٹھا لائے تھے اب میرا دل کیا تو میں ملنے چلا آیا۔اب زیادہ جلنے کی ضرورت نہیں۔۔”

روحان جو دوبارہ بریرہ کو گرل فرینڈ بولنے لگا تھا عادل کے غصے کو دیکھتا سیدھا لائن پر آتا لاپرواہی سے گویا ہوا۔

“تمھاری جتنی بکواس تھی میں سن چکا ہوں۔۔یہ لڑکی میری بیوی ہے دوبارہ کبھی اس کے ارد گرد بھٹکنے کی کوشش بھی مت کرنا ورنہ اٹھا کر سڑنے کے لیے جیل میں ڈال دوں گا اور تمھیں مجھ سے شاہزیب بھی نہیں بچا پائے گا۔۔”

اسے باہر کی دروازے کی جانب دھکا دیتا عادل سرد لہجے میں بولا تھا۔روحان اس کے غصے کو دیکھتے خامسش ہو گیا تھا ورنہ ابھہ اسے کھڑی کھڑی سنا دیتا۔۔

“بائے بائے مائی لو۔۔۔”

عادل کو زچ کرنے کے لیے روحان جاتا ہوا خاموش کھڑی بریرہ کی جانب مڑتا اسے آنکھ مارتا تیزی سے باہر نکل گیا تھا ورنہ کوئی شک نہ تھا عادل غصے میں اس کی آنکھ ہی پھوڑ دیتا۔۔

“تمھیں مزا آرہا ہے نہ مجھے تنگ کرکے۔۔”

عادل روحان کے جانے کے بعد بریرہ کی جانب مڑا تھا جو روحان کی حرکت پر سر جھٹک کر ہلکا سا مسکرا رہی تھی۔

بریرہ نے دھیرے سے آنکھیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تھا۔عادل کا سرخ چہرہ اس کے ٹیمپر کا بتا رہا تھا۔

“میں نے اور روحان نے باہر سے کھانا آرڈر کیا تھا وہ پڑا ہوا ہے گرم کرکے کھا لینا۔۔”

بریرہ اسے جواب دیتی مڑنے لگی تھی۔جب عادل نے اس کے بالوں کو دبوچتے اسے اپنے بےحد قریب کر لیا تھا۔

“میں تمھیں دوبارہ کسی دوسرے مرد کے ساتھ نہیں دیکھنا چاہتا۔۔میری خاموشی کو کمزوری نہ سمجھو۔۔دوبارہ میں نے کسی دوسرے مرد کو تمھارے ارد گرد دیکھا تو اسے قتل کرنے کے بعد اپنے ہاتھوں سے تمھارا بھی گلا دبا دوں گا۔۔”

وہ بریرہ کے چہرے پر جھکا اس کی آنکھوں میں دیکھ کر غرایا تھا۔

“اوہ۔۔غیرت کے نام پر میرا قتل کرو گے؟”

بریرہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتی اس کی باتوں کے جواب میں لاپرواہی سے بولی تھی۔

“میں اب اتنا بھی پاگل نہیں ہوں۔۔”

وہ اس کے بالوں پر گرفت ڈھیلی کرتا بھنویں بھینچ کر بولا تھا اسے مقابل کی بات زرا بھی پسند نہیں آئی تھی۔وہ غصہ میں چاہے جو مرضی بول دے مگر ہوش و حواس میں کبھی بھی بریرہ کو نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا۔

“شکل سے تو مینٹل کیس لگتے ہو۔۔”

بریرہ منہ بگاڑتی ہوئی بولی تھی۔اس کی بات پر ہلکی سی مسکراہٹ بریرہ کے ہونٹوں کو چھوئی تھی۔

“جیسے تم شکل سے چڑیل لگتی ہو۔”

عادل نے دوبدو جواب دیا تھا۔بریرہ نے اسے گھور کر دیکھا تھا۔۔

“ہٹو پیچھے میں تھک گئی ہوں۔۔”

وہ اسے پیچھے ہٹاتی روم میں چلی گئی تھی۔

“افف ایک بیوی ہے اس نے بھی دماغ گھما کر رکھا ہوا ہے۔۔”

عادل منہ میں بڑبڑایا تھا اسے جاتے دیکھ کر وہ سر جھٹک کر کیچن میں چلا گیا تھا تاکہ کچھ کھا سکے۔۔بریرہ نے اس کے لیے کھانا رکھ لیا تھا اس کے لیے یہ ہی بہت بڑا احسان تھا۔اسے اور کیا چاہیے تھا۔

جاری یے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *