Professor Shah by Zanoor Writes NovelR50559 Professor Shah (Episode 32)
Rate this Novel
Professor Shah (Episode 32)
Professor Shah by Zanoor Writes
شاہزیب کے فرسٹ ائیر کے پیپرزہو رہے تھے جب حاتم شاہ کے گاوں میں موجود رشتے داروں کے گھر شادی تھی۔شاہزیب تو جانے سے قاصر تھا اور باقی سب لوگوں کا شادی پر بھی جانا ضروری تھا کیونکہ وہ قریبی رشتے دار تھے شاہزیب کا مسئلہ تھا۔
“ایسا کرتے ہیں ہم شاہزیب کو زباریہ کے پاس چھوڑ جاتے ہیں پیپرز بھی آرام سے دے لے گا اور ہمیں اس کے کھانے پینے کی فکر بھی نہیں ہوگی۔۔”
فاطمہ بیگم نے یہ سجیشن دی تھی۔جس پر شاہزیب کو کوئی اعتراض نہ تھا کیونکہ زباریہ سے تو اسکی کافی گہری دوستی تھی۔
“مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔۔”
شاہزیب نے کندھے اچکاتے جواب دیا تھا۔حاتم شاہ کا دل تو نہیں مان رہا تھا مگر مجبوری کی وجہ سے وہ مان گئے تھے۔
“ہم دو دنوں میں واپس آجائیں گے تم اپنا خیال رکھنا میرے شہزادے۔۔”
حاتم شاہ نے پیار سے شاہزیب کے کندھے پر ہاتھ رکھتے کہا تھا۔ جس پر وہ مسکراتا ہوا انھیں گلے لگا گیا تھا۔
“اچھے سے پیپرز دینا مجھے اچھا رزلٹ چاہیے۔۔”
میر شاہ نے اسے گلے سے لگاتے کہا تھا۔شاہزیب نے سر ہلاتے انھیں زور سے گلے لگایا تھا اس بات سے بےخبر کے وہ پھر دوبارہ کبھی اپنے باپ کی خوشبو بھی محسوس کرنے کے لیے ترس جائے گا۔۔
“زباریہ میرے بیٹے کا اچھے سے خیال رکھنا۔۔”
فاطمہ نے شاہزیب کی طرف دیکھتے زباریہ سے کہا تھا جس پر وہ سر ہلا گئی تھی۔
“تم فکر مت کرو میں شاہزیب کا خاص خیال رکھوں گی۔۔”
وی ذومعنی لہجے میں لبوں کو دانتوں تلے دباتی بولی تھی۔
“ارشد بھائی کو کوئی مسئلہ تو نہیں شاہزیب کے یہاں رکنے پر؟”
فاطمہ نے پریشانی سے پوچھا تھا۔
“نہیں اسے کیا مسئلہ ہوگا۔۔”
زباریہ نے اپنے شوہر کے ذکر پردانت کچکچائے تھے۔
شاہزیب کو زباریہ کے گھر چھوڑتے باقی سب لوگ خوشی خوشی روانہ ہوگئے تھے۔۔
پہلا دن تو باآسانی گزر گیا تھا شاہزیب نے پڑھتے ہوئے گزار دیا تھا اگلے دن اسے چھوٹی تھی۔اور زباریہ کے شوہر نے شہر سے باہر جانا تھا۔
“شاہزیب تم فری ہو نہ آج رات کو؟؟”
زباریہ نے کمرے میں داخل ہوتے شاہزیب سے پوچھا تھا جو بیڈ پر لیٹا موبائہ چلا رہا تھا۔
“نہیں میں دوستوں کے ساتھ باہر جانے کا پلان بنا رہا ہوں ؟”
شاہزیب نے اٹھ کر بیٹھتے جواب دیا تھا۔
“تم اپنا پلان کینسل کردو ارشد شہر سے باہر جارہے ہیں اور میں اکیلی ڈنر نہیں کرنا چاہتی تم آج میرے ساتھ ڈنر کرو گے اور میں کوئی بہانہ نہیں سنوں گی۔۔”
زباریہ ایک ادا سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتی بولی تھی۔
“اوکے ملکہِ عالیہ اور کوئی حکم اس غلام کے لیے۔۔”
شاہزیب ہنس کر بولا تھا۔ زباریہ اسے دیکھتی ذومعنی انداز میں مسکرا اٹھی تھی۔
“نہیں تم اب ریسٹ کرو تمھیں ریسٹ کی ضرورت ہے۔۔”
وہ شاہزیب کے قریب آتی اس کے بالوں میں نرمی سے ہاتھ پھیر کر بولی تھی۔۔شاہزیب نے ائبرو اچکاتے اس کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھا تھا جس پر وہ ہنستی اسے فلائنگ کس پاس کرتی دوف ہوگئی تھی۔۔شاہزیب کو اس کی حرکت پر عجیب سا محسوس ہوا تھا جسے وہ سر جھٹک کر اگنور کر چکا تھا۔
“شاہزیب پندرہ منٹ بعد ڈنر کے لیے آجانا میں زرا فریش ہوجاوں۔۔”
زباریہ نے اس کے کمرے میں جھانکتے کہا تھا۔
“اوکے۔”
شاہزیب کے جواب پر وہ تیزی سے اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔
شاہزیب ٹراوزر شرٹ پہنے روم سے باہر نکلا تھا۔وہ ڈائنینگ روم میں داخل ہوتا ٹیبل پر بیٹھ گیا تھا۔وہ اپنا موبائل استعمال کر رہا تھا جب ہیل کی ٹک ٹک سنتا اپنے موبائل سے سر اٹھاتا سامنے دیکھنے لگا تھا۔
زباریہ کو دیکھ کر اس کی آنکھیں پھیل گئی تھیں۔
ریڈ سلیولیس نائٹ گاون جو اس کے ٹخنوں سے بس تھوڑی اوپر آتا تھا ساتھ ریڈ لپ اسٹک اور بلیک ہیلز پہنے وہ اپنے گولڈن بال کھولے کسی بھی مرد کا ایمان ڈگمگا سکتی تھی۔
شاہزیب نے گلا کھنگار کر شرمندہ ہوتے اپنی نظریں پھیر لی تھیں۔اسے نہیں پتا تھا کہ زباریہ اتنی بولڈ ڈریسنگ بھی کرسکتی ہے۔۔زباریہ کا تو پتا نہیں لیکن وہ بےحد شرمندہ ہو رہا تھا۔
“تمھیں کوئی پروبلم تو نہیں میری ایسی ڈریسنگ کرنے سے؟ ایکچولی مجھے اب کافی ایزی فیل ہو رہا ہے ورنہ پہلے گھٹن محسوس ہو رہی تھی۔۔”
اس نے شاہزیب کے سامنے کھڑے ہوتے کمر پر ہاتھ ٹکا کر پوچھا تھا۔
“امم۔۔نہیں ڈنر کب تک ملے گا۔۔”
وہ بالکل بھی کمفرٹیبل فیل نہیں کر رہا تھا تبھی نظریں چراتا بولا تھا۔
“یس میں ابھی سرو کرتی ہوں۔۔”
زباریہ کے جاتے ہی شاہزیب نے سکون کا سانس لیا تھا۔
“تم تب تک یہ جوس پیو۔۔ کھانا ٹھنڈا ہوگیا تھا میں ہیٹ اپ نر رہی ہوں۔۔”
ّوہ شاہزیب کو جوس پکڑاتی بولی تھی۔
شاہزیب نے ان کمفرٹیبل ہوتے اس کے ہاتھ سے جوس پکڑتے لبوں سے لگا لیا تھا اورایک ہی سانس میں سارا جوس پی گیا تھا۔
“مجھے پتا تھا تمھیں یہ جوس بہت پسند آئے گا۔۔”
وہ ذومعنی انداز میں مسکرا کر بولی تھی شاہزیب بھی جواب میں ہلکا سا مسکرا دیا تھا۔
“مجھے ٹھیک محسوس نہیں ہو رہا۔۔”
شاہزیب اپنی شرٹ کا بٹن کھولتا بولا تھا۔۔اس کو اچانک شدید گھبراہٹ ہونے لگی تھی اور گرمی لگنے لگی تھی۔
“اوہ آو میں تمھیں روم میں لےجاوں کچھ دیر کے لیے ریسٹ کرلو۔۔”
زباریہ نے مسکراہٹ چھپاتے اس کو پکڑ کر اٹھایا تھا اور اپنے کمرے کی جانب لے گئی تھی۔
“یہ۔۔ی۔۔یہ م۔۔میرا روم نہیں ہے۔۔”
شاہزیب سے اپنے قدموں پر کھڑا بھی نہیں ہوا جارہا تھا تبھی وہ اپنے قدموں پر ڈگمگاتا بولا تھا۔بدلے میں زباریہ بس مسکرا کر رہ گئی تھی۔۔اسے پکڑ کر بیڈ کے قریب لے جاتے اس نے شاہزیب کو بیڈ پردھکا دے دیا تھا۔
شاہزیب لڑکھڑاتا بیڈ پر چت سے گرگیا تھا۔۔
“مج۔۔مجھے کیا ہو رہا ہے؟؟”
شاہزیب کو اپنا سارا جسم پرالائز ہوتا محسوس ہو رہا تھا اسے اپنا جسم بےجان سا لگنے لگا تھا۔۔
“کچھ نہیں بےبی بس ڈرگز کا اثر ہے۔۔۔”
وہ بیڈ پر چڑھتی شاہزیب کی شرٹ کے بٹن آہستہ آہستہ کھولتی جھک کر سیڈیکٹیو انداز میں بولی تھی۔
“تم ایسا کیوں کر رہی ہو؟ ؟”
شاہزیب اس کے ہاتھ اپنے برہنہ سینے پر محسوس کرتا بےبسی سے بولا تھا۔۔اسے زباریہ کے لمس سے کراہت محسوس ہورہی تھی۔
“مجھے تم پہلی ہی نظر میں پسند آگئے تھے۔۔اور جو چیز زباریہ کو پسند آجائے وہ اسے اپنا بنا کر چھوڑتی ہے۔۔۔اب بس تمھیں بھی مکمل طور پر اپنا بنانا چاہتی ہوں۔۔۔”
“ارشد سے شادی تو میں نے پیسے کے لیے کی تھی ورنہ اس بڈھے سے مجھے بالکل بھی پیار نہ تھا۔۔۔لیکن تم سے مجھے بہت محبت ہے۔۔۔یہ دولت سٹیٹس یہ تو نشہ ہے جو مجھے ارشد سے مل رہا ہے ورنہ وہ کسی کام کا نہیں ہے۔۔”
شاہزیب کی گردن میں منہ دیتی اس کی مہک خود میں اتارتی وہ مسکرا کر بولی تھی۔ شاہزیب کو اس سےسخت نفرت و کراہت محسوس ہورہی تھی۔ جبکہ خود کو وہ بےبسی کی انتہا پر محسوس کر رہا تھا۔
زباریہ نے ابھی اپنے ہونٹ شاہزیب کے سینے پر رکھے ہی تھے کہ دھاڑ کی آواز سے دروازہ کھولا تھا اور ارشد روم میں داخل ہوتا ٹھٹھک کر اپنی جگہ رک گیا تھا۔۔
“ارشد تم جیسا سوچ رہے ہو ویسا کچھ نہیں ی۔۔یہ میرے ساتض زبردستی کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔”
زباریہ ارشدکو دیکھتی فورا اپنے ارد گرد بازو باندھ کر اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
شاہزیب نے ارشد کو دیکھ کر شکر ادا کیا تھا مگر زباریہ کی بات نے اسے ہلا دیا تھا۔
“ہ۔۔ہیلپ می۔۔”
شاہزیب کمزور آواز میں بولا تھا اسے اپنے جسم سےساری انرجی ختم ہوتی محسوس ہورہی تھی۔
ارشد کو ساری بات سمجھ آگئی تھی۔۔لیکن وہ خاموش کھڑا رہا تھا۔
“جان اس کے گھر والوں کو فون کرکے بتائیں اس نے میرے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی ہے۔۔”
زباریہ ارشد کے قریب آتی اپنا نائٹ گاون پھاڑتی اور اپنا چہرہ بگاڑتی ہوئی بول رہی تھی۔
“تم تو مجھ سے بہت محبت کرتے ہو اپنی بیوی کے ساتھ ایسا ہوتے کیسے دیکھ سکتے ہو ؟ اس لیے جلدی سے انھیں کال ملاو۔۔”
ارشد ک چہرہ ہاتھ میں تھامتے وہ جس انداز میں بولی تھی وہ مجبور ہوکر رہ گیا تھا۔
اس نے کال ملائی تھی اور میر شاہ پر قیامت برپا کردی تھی اپنے سپوت کی کرتوتوں پر پہلے تو انھیں یقین نہیں آرہا تھا۔حاتم شاہ کو ساری بات بتاتے وہ لوگ فورا وہاں سے نکل آئے تھے۔
انھیں پہنچتے ہوئے پانچ گھنٹے لگ گئے تھے۔تب تک شاہزیب اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ ہوچکا تھا۔۔
“یہ دیکھو تمھارے بیٹے کی کرتوت۔۔”
سب لوگوں کے گھر پہنچتے ہی ارشد نے ڈرامہ کرتی روتی بلکتی صوفے پر بیٹھی زباریہ کی طرف اشارہ کیا تھا جس کے اب اچانک سے چہرے اور بازوں پر نشان پڑ گئے تھے۔۔
“آپ کا سپوت نشہ کرکے بےہوش پڑا ہے ہمارے کمرے میں اسے اٹھائیں اور یہاں سے نکل جائیں۔۔اور ہم اس کے خلاف کل پولیس رپورٹ درج کروائیں گے۔۔”
ارشد پھنکارا تھا۔
“جھوٹ بول رہے ہو تم میرا پوتا ایسا نہیں کرسکتا۔۔”
حاتم شاہ دھاڑے تھے۔جبکہ فاطمہ اپنی بہن کے پاس بھاگی تھی۔اس کی حالت دیکھتے ان کو بھی یقین نہیں آرہا تھا۔
“شاہ صاحب ثبوت آپ کے سامنے ہے دیکھ لیں میری بیوی کی حالت میں تو شہر سے باہر جارہا تھا مگر میری فلائٹ کینسل ہوگئی اپنی بیوی کوسرپرائز دینے آیا تو آپ کے سپوت کو۔۔۔۔آگے میں سوچنا بھی نہیں چاہتا اسے لے کر نکل جائیں اس سے پہلے میں پولیس کو بلا لوں۔۔”
ارشد کی بات پر میر شاہ نے حاتم شاہ کی طرف دیکھتے سر ہلا دیا تھا وہ لوگ ہوش و حواس سے بیگانہ شاہزیب اور غمگین سی فاطمہ سمیت واپس آگئے تھے جبکہ شکر تھا اس دوران نورے گاڑی میں سو رہی تھی۔
صبح شاہزیب کے اٹھتے ہی اس پر قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔
“شکر ہے آپ لوگ مجھے وہاں سے لے آئے وہ عورت پاگل ہے۔۔اس نے میرے ساتھ ز۔۔زبردستی کرنے کی کوشش کی۔۔اور مجھے ڈرگز دے کر پرالائز کردیا تھا۔۔”
شاہزیب سب کو دیکھتا تیزی سے بول گیا تھا ادے اپنے جسم میں سویاں چبھتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔
“بکواس مت کرو۔۔ہمیں سب سچائی پتا چل گئی ہے تم نے کیا کیا ہے۔۔تمھیں زرا شرم نہیں آئی اپنی خالہ ساتھ زبردستی کرتے ہوئے۔۔تمھاری غیرت کہاں مرگئی تھی۔۔؟”
میر شاہ اس کی بات سنتے دھاڑے تھے۔
“بابا میرا یقین کریں میں نے ایسا کچھ نہیں کیا وہ جھوٹ بول رہی ہے “
“وہ مکار جھوٹی عورت نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے۔۔۔وہ جھوٹی ہے۔۔”
شاہزیب نے میر شاہ کا ہاتھ پکڑنا چاہا تھا جب وہ خاموشی سے دو قدم پیچھے ہٹ گئے تھے۔شاہزیب نے بےیقینی سے انھیں دیکھا جن کی آنکھوں میں نفرت ، مایوسی ، حقارت اور نہ جانے کیا کچھ تھا۔
“تم انتہائی گھٹیا انسان ہو میری بہن پر الزام لگا رہے ہو۔۔”
فاطمہ نے آگے بڑھتے ایک زوردار تھپڑ شاہزیب کو مارا تھا۔جس پر وہ سن سا اپنے چہرے پر ہاتھ رکھ گیا تھا۔اس کے اندر چھن سے کچھ ٹوٹ گیا تھا۔
“دادا آپ تو میرا یقین کریں۔۔میں ایسا کچھ نہیں کرسکتا۔۔”
شاہزیب نے ایک آخری آس سے حاتم شاہ کی طرف دیکھا تھا مگر وہ بھی نظریں موڑ گئے تھے۔
“تم جیسا نالائق بیٹا ہونے سے بہتر تھا میرا کوئی بیٹا ہی نہ ہوتا۔۔”
میر شاہ نے آگے بڑھ کر شاہزیب کو کالر سے پکڑ کر ایک زوردار تھپڑ دوبارہ لگایا تھا۔شاہزیب کی آنکھیں بھیگ گئی تھی اپنے باپ کے الفاظ سن کر جبکہ ان کے تھپڑ نے اس کے دل سے رہی سہی ان کی عزت بھی ختم کردی تھی۔وہ ان کا بیٹا تھا کیا انھیں اس پر زرا بھی یقین نہ تھا۔۔؟ اگر وہ اس سے کبھی معافی مانگ بھی لیتے تو وہ اب انھیں کبھی معاف نہیں کرنے والا تھا۔
“ہم تمھارے جیسے بےغیرت انسان کو اپنے گھر نہیں رکھ سکتے اپنا سامان اٹھاو اور نکل جاو یہاں سے۔۔”
میر شاہ سخت لہجے میں بولے تھے۔۔
“میں تمھاری دوبارہ کبھی صورت بھی نہیں دیکھنا چاہتا شکر کرو ہم نے زباریہ کو تمھارے خلاف کیس کرنے سے روک لیا ورنہ اس وقت جیل میں سڑ رہے ہوتے۔۔”
میر شاہ آخری بار اس پر نظر ڈالتے فاطمہ کو لے کر اس کے کمرے سے چلے گئے تھے۔
“کیا آپ کو بھی مجھ پر یقین نہیں ہے۔۔؟”
شاہزیب نے ہارے ہوئے انداز میں بیڈ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا تھا اسے اپنی ٹانگوں سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔اس کی ہنستی بستی زندگی ایسا موڑ بھی لے سکتی ہے وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
“مجھے نہیں پتا شاہزیب سچائی کیا ہے۔۔ابھی حالات ایسے نہیں کے سچائی جان سکیں۔۔میں نے ماہین کو کال کردی ہے۔۔تم رات کی فلائٹ سے کینیڈا جارہے ہو۔۔وہاں تم محفوظ رہو گے اور نئے سرے سے زندگی گزار سکوگے۔۔لیکن یہاں فلحال واپس آنے کا نہ سوچنا۔۔”
وہ شاہزیب کی طرف پیٹھ کرتے بولے تھے اس بات سے بےخبر کے ان کے آخری کے الفاظ انھیں اپنے پوتے کا دیدار کرنے کے لیے بھی ترسا دیں گے۔۔
اگر اس مشکل وقت میں کوئی اس کا سہارا بنا تھا وہ ماہین تھی۔۔وہواحد عورت تھی جس نے اس پر یقین کیا تھا۔۔مگر وہ بھیا سے تباہی کی طرف جانے سے روک نہیں پائی تھی۔۔
اس نے کالج کمپلیٹ کرنے کے بعد یونیورسٹی جوائن کرلی تھی اور وہیں یونی کے قریب فلیٹ میں رہنے لگ پڑا تھا۔اس کی ملاقات کالج میں عادل سےہوئی تھی۔لیکن ان دونوں نے آگے جاکر الگ فیلڈز جوائن کرلی تھیں۔لیکن عادل نے کبھی شاہزیب کو اکیلا نہیں چھوڑا تھا۔یہی وجہ تھی وہ دونوں ایک ہی فلیٹ میں رہتے تھے اوراسے شاہزیب کے پاسٹ کا بھی پتا تھا۔کیونکہ شاہزیب کواکثر اس بارے میں نائٹ مئیرز آتے رہتے تھے۔ شاہزیب کو حاتم شاہ منتھلی پیسے بھیجتے تھے لیکن اس نے کبھی انھیں استعمال نہ کیا تھا۔
یونیورسٹی کے پہلے سال اس کی ملاقات ڈینیل سے ہوئی تھی۔وہ اسے اچانک ہی ملا تھا جب شاہزیب نے اس کی مدد کی تھی۔عادل اس دوران ٹرینگ پر گیا ہوا تھا اور ان کی ملاقات بھی زیادہ نہ ہوتی تھی۔
ڈینیل لوگوں کو لون دیتا تھا جبکہ اس کے مافیہ سے کافی تعلق تھے۔شاہزیب کی ڈینیل سے کافی اچھی دوستی ہوگئی تھی۔ وہ اپنے اندر چھپا سالوں کا غصہ اور درد لوگوں پر نکالنے لگا تھا۔جو لوگ ڈینیل کو ٹائم سے پیسے نہ دیتے تھے انھیں مار کر وارن کرنے کا کام شاہزیب کرنے لگا تھا۔ڈینیل نے ہی اسے شراب اورڈرگز سے متعارف کروایا تھا جس کے بعد وہ ان دونوں چیزوں میں سکون حاصل کرنے لگا تھا جبکہ سگریٹ تو وہ پہلے ہی کافی عرصے سے پیتا آرہا تھا۔
عادل جب واپس آیا تھا تو شاہزیب کو مار دھاڑ ، نشہ اور شراب پیتے دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔وہ ڈینیل کے خلاف کچھ نہیں کرسکتا تھا چونکہ اس کے بڑے تعلقات تھے اور نہ ہی وہ شاہزیب کوروک پایا تھا۔
“شاہزیب تم پاگل ہوگئے ہو؟ کیا کرکے آرہے ہو؟؟اور کیوں کر رہے ہو یہ سب؟؟”
عادل نے جھنجھلا کر پوچھا تھا۔وہ زخمی ہاتھ لے کر بکھری حالت میں واپس آیا تھا۔
“کچھ نہیں۔۔کام کرکے آیا ہوں۔۔تم یہاں کیا کر رہے ہو؟؟ ڈیوٹی پر نہیں جانا تھا ؟؟”
شاہزیب نے سگریٹ سلگاتے صوفے پر گرتے پوچھا تھا۔۔
“شاہزیب چھوڑ دو یہ سب ابھی بھی وقت ہے۔۔”
عادل نے اسےسمجھانا چاہا تھا جس پر وہ بھڑک اٹھا تھا۔
“میرا باپ مت بنو۔۔۔میرا جو دل کرے گا میں کروں گا۔۔مجھے اس سب سے سکون ملتا ہے اور میں یہ سب کروں گا اب دفع ہوجاو یہاں سے۔۔”
شاہزیب کے بولنے پر وہ وہاں سے چلا گیا تھا۔
ڈینیل کے لیے کام کرکے شاہزیب چند سالوں بعد اس زندگی سے تھک گیا تھا اس لیے اس نے یہ کام چھوڑدیا تھا اور کوئی جوب وغیرہ کرنے کا سوچا تھا۔ڈینیل اسے اپنے لیے کام کرنے کی موٹی رقم دیتا تھا جس سےاسے پیسوں کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ڈینیل نے اسکے کام چھوڑنے پر اسے ہینٹ ہاوس گفٹ کیا تھا۔جس میں وہ شفٹ ہوگیا تھا۔
اس دوران حاتم شاہ نے اس سے بات کرنے کی بہت کوشش کی مگر ناکام رہے۔۔ماہین کی بیٹی کی شادی پر بھی وہ نہ گیا تھااور نہ ہی اس نے اپنی شکل دوبارہ کسی کو دکھائی تھی۔
چند سال یوں ہی گزر گئے تھے وقت سارے زخم بھر دیتا ہے لیکن اسکے معاملے میں وقت نے اس کے زخم گہرے کردیے تھے۔ عادل ڈیوٹی کرنے لگ گیا تھا جبکہ وہ پروفیسر بن گیا تھا۔ڈینیل نے اسکا سارا ریکارڈ کلئیر کروا دیا تھا اس لیے اسے جوب لینے میں مشکل نہ ہوئی تھی۔
پینٹ ہاوس کو دوبارہ مکمل طور پر رینویٹ کروانے کے لیے وہ کچھ دیر کے لیے دوسری جگہ شفٹ ہوگیا تھا جہاں اس کی ملاقات افرحہ سے ہوئی تھی اور اسکی بےرنگ سی زندگی میں رنگ بھرنے لگ پڑے تھے۔۔
جاری ہے۔۔
