Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Professor Shah (Episode 24)

Professor Shah by Zanoor Writes

شاہزیب نے اپنی جوب دوبارہ سٹارٹ کردی تھی جبکہ افرحہ بھی اپنی سٹڈیز کنٹینو کرچکی تھی شاہزیب نے افرحہ کو یونیورسٹی میں کسی کو بھی اپنے ریلیشن شیپ کے بارے میں بتانے سے صاف منع کردیا تھا جس پر پہلے تو وہ خاصی خفاہوگئی تھی لیکن شاہزیب کے سمجھانے پر سمجھ گئی تھی۔

“میں عادل سے ملنے جا رہا ہوں۔۔دیر سے واپسی ہوگی میرا انتظار مت کرنا۔۔”

شاہزیب کافی دنوں سے عادل سے ملنا چاہتا تھا لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے مل نہیں پا رہا تھا۔

افرحہ جو بیڈ پر کتابیں پھیلائے بیٹھی اپنی یونیورسٹی کا کام کررہی تھی شاہزیب کو تیار دیکھ کر اس نے گہری نظروں سے مقابل کا جائزہ لیا تھا۔جو گرے سویٹ شرٹ کے ساتھ بلیک لونگ کورٹ اور بلیک ہی جینز میں بے انتہا پرکشش لگ رہا تھا۔

“یہ اتنا تیار ہونے کی کیا ضرورت ہے ؟ عادل بھائی سے ملنے ہی جا رہے ہیں ؟”

افرحہ نے اسے خود پرفیوم چھیڑکتے دیکھ کر آنکھیں چھوٹی کرکے گھورا تھا۔۔

“مجھ پر شک کررہی ہو؟”

شاہزیب نے اس کی جانب رخ کرتے پوچھا۔

“بالکل بھی نہیں۔۔”

وہ دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ منہ پھولا کر بولی تھی۔

“بس جلدی آجائیے گا۔۔مجھے آپ کے بغیر نیند نہیں آئے گی۔۔”

وہ بیڈ سے اٹھتی شاہزیب کی جانب قدم بڑھاتی بولی تھی۔

“میں جلدی لوٹ آوں گا۔۔تمھیں ڈرنے کی ضرورت نہیں۔۔”

شاہزیب نے اسکی روشن پیشانی کو نرمی سے چومتے جواب دیا تھا۔

“اوکے اپنا خیال رکھیے گا۔۔”

وہ شاہزیب کے پیچھے پیچھے چلتی باہر آگئی تھی۔

“ٹھیک ہے اب مجھے کار تک چھوڑ کر آنے کا ارادہ ہے؟”

وہ لفٹ کے قریب پہنچتا افرحہ کو دیکھتا پوچھنے لگا تھا۔افرحہ نے منہ پھولایا تھا۔

“نہیں آپ جائیں اور انجوائے کریں۔۔”

افرحہ رخ پھیرتی واپس جانے لگی تھی۔

“جاناں ڈرنے کی ضرورت نہیں میں جلدی واپس آجاوں گا اگر ضروری نہ ہوتا تو میں کبھی بھی تمھیں اکیلا چھوڑ کر نہ جاتا۔۔”

شاہزیب نے اسے بازو سے پکڑتے اپنے قریب کرکے محبت سے کہا تھا افرحہ اس کے منہ سے پیار بھرے الفاظ سن کر سرخ پڑی تھی۔ایک پرکشش مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر ابھری تھی۔

“میں انتظار کروں گی۔۔”

افرحہ کے بولنے پر وہ اسے ہلکی مسکراہٹ پاس کرتا تیزی سے لفٹ کی جانب بڑھ گیا تھا اگر وہ مزید کچھ دیر وہاں رکتا تو خود پر قابو نہ رکھ پاتا تبھی وہ تیزی سے نکل گیا تھا۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

بریرہ کمرے میں ببد رہ کر تھک گئی تھی وہ یہاں سے نکلنے کا پلان بنا رہی تھی عادل اس دن کے بعد واپس نہیں آیا تھا جس پر وہ خاصا مایوس تھی مگر اس کے آنے کا بھی بریرہ کو کوئی فائدہ نہیں تھا۔

رات ہوتے ہی وہ اپنی الماری سے بلیک پینٹ شرٹ اسر جیکٹ نکال کر تیار ہوگئی تھی۔بالوں کو جوڑے میں باندھے وہ الماری سے کیپ کے زریعے انھیں چھپا چکی تھی۔

بلیک مفلر سے اپنا چہرہ ڈھانپ کر وہ اپنی الماری میں موجود چند پیسے نکال کر اپنی پاکٹس میں رکھ چکی تھی۔فون وہ ساتھ لے کر جانا نہیں چاہتی تھی ورنہ وہ باآسانی اسے ڈھونڈ لیتے۔۔تبھی وہ فون بیڈ پر ہی رکھ چکی تھی۔

ہاتھ میں لیمپ پکڑ کر وہ دروازے کے پیچھے کھڑی ہوگئی تھی گارڈ کے چیک کرنے کا ٹائم ہوگیا تھا۔۔درواہ کھلنے پر وہ سانس روک گئی تھی۔

اس گارڈ کے اندر آتے ہی اس نے پورے زور سے لیمپ گارڈ کے سر پر مارا تھا جس سے وہ چند ہی سیکنڈز میں زمین پر ڈھیر ہوچکا تھا بریرہ نے دروازہ بند کرتے کانپتے ہاتھوں سے تیزی سے مقابل کی تلاشی لی تھی۔

اسے کچھ چابیاں ملی تھی اور پیسے بھی جنھیں لیتی وہ خاموشی سے کمرے سے نکلتی گھر کی بیک سائیڈ کی طرف جانے لگی تھی۔

اپنے ماں باپ کے کمرے کے پاس پہنچ کر اس نے سانس روک لیا تھا۔۔ان کے کمرے کا دروازہ کھلتے محسوس کرکے وہ منہ پر ہاتھ رکھتی پلر کے پیچھے چھپ گئی تھی۔

ان کے کمرے سے انجان شخص کو شرٹ کے بٹن بند کرتے نکل دیکھ کر اسے حیرت نہ ہوئی تھی۔یہ تو اس کے بچپن سے چل آرہا تھا۔منہ پر ہاتھ رکھتے اس نے حقارت سے ان کے کمرے کی طرف دیکھا تھا۔

ان کے کمرے کا دروازہ بند ہوتے ہی وہ تیزی سے وہاں سے گزر گئی تھی۔گھر کی بیک سائیڈ پر بمشکل ہی چند گارڈز تھے رات کا وقت تھا شاید اس وجہ سے زیادہ سکیورٹی نہیں تھی۔

رات کے اندھیرے میں کالے کپڑوں میں وہ نمایاں نہیں ہو رہی تھی۔اس نے بیک گیٹ کے پاس موجود درخت کی طرف دیکھا تھا تیزی سے اس جانب بڑھتے وہ سانس بحال کرتی مہارت سے اس پر چڑھنے لگی تھی بچپن میں وہ کافی بار اس راستے سے باہر جاچکی تھی تبھی اسے مشکل نہیں ہورہی تھی۔درخت پر چڑھتے چند ایک خراش اسے آگئی تھیں جنھیں اگنور کرتی وہ درخت کے ذریعے دیوار پر چڑھی تھی اور پھرتی سے دوسری جانب چھلانگ لگا چکی تھی۔

اندر سے کتے بھونکنے کی آواز سنتی بریرہ تیزی سے بھاگتی ایک ٹیکسی روک کر اس میں بیٹھ چکی تھی۔خود کو گھر سے دور جاتا دیکھ کر اس نے سکون کا سانس لیا تھا۔

وہ کچھ ہی دور ٹیکسی سے اتر چکی تھی۔اس کا ارادہ فلحال کسی لوکل ہوٹل میں روکنے کا تھا ابھی وہ واپس فلیٹ پر جانا نہیں چاہتی تھی کیونکہ پکڑے جانے کا خطرہ زیادہ تھا اور اس کے پاس پیسے اتنے نہیں تھے کہ وہ کسی بڑے ہوٹل میں سٹے کرسکتی۔وہ بس کسی بھی طرح اس شہر اور ملک سے چلے جانا چاہتی تھی۔لیکن اس کے لیے اسے اپنے فلیٹ پر جانا پڑنا تھا جو ابھی فلحال ناممکن تھا۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

“اچانک مجھ سے ملنے کیسے آنا ہوا؟”

عادل جو ڈیوٹی سے لوٹا تھا اور فریش ہوکر ڈنر کرنے لگا تھا شاہزیب کے یوں آجانے پر خاصا حیران ہوا تھا۔تبھی اس سے گلے ملتا اپنی حیرت لفظوں سے ظاہر کر گیا تھا۔۔

“تمھیں تو فرصت ملی نہیں سوچا میں ہی مل لوں۔۔”

شاہزیب اس کے گھر میں داخل ہوتا بولا تھا کوٹ اتار کر وہ ہینگ کرچکا تھا۔

“ہاں بس تھوڑا بزی تھا۔۔”

عادل اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا شاہزیب کو تھکا ہوا لگا تھا معمول کے برخلاف اس نے شیو بھی نہیں کی ہوئی تھی۔

“تم ٹھیک ہو؟”

شاہزیب نے اس کے ساتھ ڈائنیگ ٹیبل پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔

“ہاں مجھے کیا ہونا ہے بس ایک کیس کی وجہ سے تھوڑا سڑیسڈ ہوں۔۔”

وہ ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ بولا تھا۔

“تم ڈنر کروں گے؟”

اپنے لیے ڈنر ٹیبل پر رکھتے اس نے شاہزیب سے پوچھا جو دھیرے سے گردن نفی میں ہلا گیا تھا۔

“میں افرحہ سے نکاح کرچکا ہوں۔۔”

وہ سگریٹ سلگاتا عادل کو بتانے لگا۔

“کانگریچولیشنز۔۔۔مجھے یقین تھا تم اس سے نکاح کرہی لو گے۔۔”

عادل پرجوش انداز میں بولنے کی ناکام کوشش کرتا گویا ہوا تھا۔

“افرحہ بریرہ کے بارے میں پوچھ رہی تھی تمھیں کچھ پتا ہے کہاں ہے ؟”

شاہزیب شگریٹ کا گہرا کش لیتا سپاٹ نظروں سے اس کے تاثرات کا جائزہ لیتا پوچھنے لگا۔

“مجھے کیا پتا وہ کہاں ہے۔۔”

عادل کھانے سے ایک پل کو ہاتھ روکتا بولا تھا۔

“اوہ مجھے لگا تمھیں کم سے کم اپنی بیوی کی خبر تو ہوگی۔۔”

شاہزیب اپنا موبائل نکال کر اس کے سامنے پھینکتا ہوا طنزیہ انداز میں بولا تھا۔

موبائل پر اپنی اور بریرہ کی شادی کی نیوز دیکھ کر اسے بری طرح پھندا لگ گیا تھا۔شاہزیب نے اس کی طرف پانی بڑھایا تھا جسے وہ فورا پی گیا تھا۔

“مجھے اس بارے میں بات نہیں کرنی شاہزیب۔۔”

عادل سنجیدگی سے بولا تھا۔وہ اس وقت بریرہ کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتا۔۔

“میں تو اسی بارے میں بات کروں گا۔۔”

“تمھاری بیوی کی انگیجمنٹ ہوچکی ہے اور تم خاموش بیٹھے ہو مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی۔۔”

وہ سگریٹ کا گہرا کش لیتا عادل کو سلگا رہا تھا۔۔عادل نے زور سے اپنی مٹھیاں بھینچ لی تھیں۔۔

“تمھیں کچھ بھی نہیں پتا شاہزیب۔۔یہ لڑکی بہت بڑی چالباز ہے پہلے مجھے میرے ہی ماں باپ کی نظروں میں گرا کر مجھ سے زبردستی نکاح کیا اور اب کسی اور سے نکاح کرکے میری رہی سہی عزت کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔۔”

وہ سرد ترین لہجے میں بنا شاہزیب کی طرف دیکھے بولا تھا۔

“بعض اوقات آنکھوں دیکھا سچ نہیں ہوتا عادل۔۔اس کی سب سے بڑی مثال تمھارے سامنے ہے تم جانتے ہوں نہ میرے ساتھ کیا ہوا تھا۔لیکن وہ سچ نہیں تھا کیونکہ لوگ آنکھوں دیکھے کو سچ مان لیتے ہیں اس کے پیچھے چھپی حقیقت جاننے کی کوشش نہیں کرتے۔۔”

شاہزیب سپاٹ انداز میں سگریٹ ایش ٹرت میں مسلتا بولا تھا۔عادل اس کی باتوں پر گہری سوچ میں ڈوپ گیا تھا۔

“تمھاری سچوئیشن الگ تھی شاہزیب۔۔”

عادل آنکھیں موندتا کرسی سے ٹیک لگ کر گویا ہوا تھا۔

“کیا تم نے ایک بار بھی اس سے پوچھا اس نے ایسا کیوں کیا؟”

شاہزیب نے دوسری سگریٹ سلگاتے پوچھا۔

“تمھارے خیال میں کیا وجہ ہوگی۔۔”

سینے پر بازو باندھتے عادل نے شاہزیب سے پوچھا تھا۔

“بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں جیسے کہ اس کی کوئی مجبوری ہوسکتی ہے۔۔یا پھر اس کے پیرنٹس نے اسے فورس کیا ہو۔۔”

شاہزیب نے کندھے اچکاتے جواب دیا۔۔

“ہمم۔۔میں دیکھتا ہوں اس معاملے کو۔۔تم بتاو میرے گھر میں ہی ساری سگریٹوں کو پھوکنے کا ارادہ ہے ؟”

عادل نے آنکھیں گھوماتے پوچھا تھا۔

“ہمم۔۔بس تم سے بات کرنے آیا تھا کسی اور ٹائم بات ہوگی میری بیوی میرا انتظار کر رہی ہوگی۔۔”

شاہزیب سگریٹ ختم کرتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔

“دو منٹ بھی تمھارا اپنی بیوی کے بغیر گزارہ نہیں ہوتا۔۔”

عادل اٹھ کر اس کے پیچھے آتا ہوا بولنے لگا۔

“روح کے بغیر بھی جسم کا گزارہ ہوسکتا ہے؟”

وہ اپنا کوٹ پہنتا دھیمی مسکان سے بولا تھا۔

عادل ٹھٹھک کر روکا تھا اسے امید نہیں تھی شاہزیب جیسے انسان کو محبت بھی ہوسکتی ہے اور وہ بھی اتنی شدید جس کی شاید کوئی انتہا نہ ہو۔۔

شاہزیب ساکت کھڑے عادل کی طرف ایک نظر دیکھتا سر جھٹک کر چلا گیا تھا۔۔ابھی تو زندگی حسین لگنا شروع ہوئی تھی۔۔اور وہ ان لمحوں کو بھرپور طریقے سے جینا چاہتا تھا۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

ابھی وہ کار میں بیٹھا ہی تھا جب اس کے موبائل پر افرحہ کی کال آئی تھی۔اس کے ہونٹ اوپر کو اٹھے تھے۔

“کب تک واپس آئیں گے ؟ آپ شاید بھول گئے ہیں آپ کی ایک عدد بیوی بھی ہے۔۔”

فون بلیوٹتھ سے کنیکٹ کرتے ہی اس کے کان میں افرحہ کی آواز گونجی تھی۔

“مجھے اچھے سے یاد ہے جاناں۔۔اتنا غصہ کیوں کر رہی ہو؟”

شاہزیب ڈرائیونگ کرتا اس سے پوچھنے لگا۔۔

“مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔”

وہ کپکپاتی آواز میں بولتی شاہزیب کی سانسیں روک گئی تھی۔

“کیا ہوا ہے ؟ تم ٹھیک ہو؟”

وہ گاڑی کی سپیڈ بڑھاتا بےچینی سے پوچھبے لگا۔۔

“ب۔۔بلڈنگ کی پاور کٹ ہوگئی ہیں یہاں شدید اندھیرا ہے م۔۔مجھے گھبراہٹ ہورہی ہے شاہزیب۔۔”

وہ خاصی ڈری ہوئی لگ رہی تھی۔

“آپ بالکل بھی اچھے نہیں ہیں نہ ہی آپ کو میری کوئی فکر ہے۔۔”

وہ کانپتی آواز میں بولتی شاہزیب سے ناراضگی کا اظہار بھی کرگئی تھی۔۔

“شش۔۔ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے میں بس پانچ منٹ میں پہنچ رہا ہوں۔۔تم روم میں رہوں باہر مت نکلنا۔۔”

وہ افرحہ کو نرمی سے اپنی بات سمجھانے لگا۔

“میں روم میں ہی ہوں آپ جلدی آجائیں ورنہ اگلے ایک ہفتے تک گھر آنے کا سوچیے گا بھی مت۔۔”

وہ اس کی باتوں سے پرسکون ہوتی شاہزیب کو دھمکانے لگی تھی۔

شاہزیب نے اپنی ٹڈی بیوی کی بات سن کر مسکراہٹ دبائی تھی۔اس کی بچوں والی دھمکی سے وہ خاصا لطف اندوز ہوا تھا۔

“ٹھیک ہے پھر میں اگلے ہفتے گھر آوں گا۔۔”

وہ گاڑی پارک کرتا باہر نکل تھا افرحہ کو تنگ کرنے کا الگ ہی مزا تھا۔

“شاہزیب۔۔۔”

وہ ڈر و غصے کے ملے جلے تاثرات سے چیخی تھی۔

“میں آپ کو بتا رہی ہوں میں بات نہیں کروں گی پلیز جلدی واپس آجائیں۔۔”

وہ التجائیہ انداز میں بولی تھی۔بجلی نہ ہونے کی وجہ سے شاہزیب کو سڑھیوں کے ذریعے اوپر جانا پڑا تھا تیزی سے سڑھیاں پھلانگتا وہ ساتھ ساتھ افرحہ سے بات بھی کر رہا تھا۔

“جلدی گھر آنے کا مجھے کیا انعام ملے گا۔۔”

وہ افرحہ کو زچ کرنے کے لیے پوچھنے لگا۔۔

“جو آپ مانگیں گے میں وہ دے دوں گی آپ بس جلدی آجائیں۔۔”

اس کے جواب پر شاہزیب کی آنکھیں چمک اٹھی تھیں۔

“میری جاناں نے کہا اور میں چلا آیا۔۔باہر آجاو میں آگیا ہوں۔”

شاہزیب گہرے گہرے سانس لیتا گھر میں داخل ہوا تھا۔اپنا کوٹ اتار کر ہاتھ میں پکڑتا وہ موبائل کی ٹارچ لائٹ اون کرتا ابھی کمرے کی جانب بڑھ ہی رہا تھا جب کمرے سے فل سپیڈ سے نکلتی افرحہ شاہزیب کے سینے سے چپکی تھی۔

شاہزیب کے ہاتھ سے کوٹ چھوٹ کر نیچے گرگیا تھا۔افرحہ کی تیز دھڑکن سنتے اس کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔۔

“میں آگیا ہوں اب ڈرنے کی ضرورت نہیں۔۔”

شاہزیب نے اس کے گرد مضبوط حصار باندھتے جواب دیا تھا۔۔

“میں بہت زیادہ ڈر گئی تھی اب مجھے دوبارہ ایسے اکیلے چھوڑ کر مت جائیے گا۔۔”

وہ معصومیت سے چہرہ اٹھا کر شاہزیب کی طرف دیکھتی بولی تھی۔

شاہزیب کو اپنا دل اس کی آنکھوں میں ڈوبتا محسوس ہوا تھا۔۔اچانک ہی لائٹ واپس آگئی تھی۔۔

افرحہ کا چہرہ پل میں سرخ پڑا تھا۔۔۔وہ لب کاٹتی فورا شاہزیب کی گرفت سے نکلنے کے لیے پرتولنے لگی تھی۔

“اتنی بھی کیا جلدی ہے مجھے پہلے میرا انعام دوں۔۔”

شاہزیب سنجیدگی سے اس کے چہرے کو اپنی نظروں کے حصار میں لیتا گویا ہوا تھا۔

“کیا چاہیے آپ کو؟”

وہ منہ پھولاتی پوچھبے لگی۔۔اب اپنی بات بھی تو پوری کرنی تھی۔

“مجھے ایک کس چاہیے۔۔وہ بھی یہاں۔۔”

شاہزیب اپنی گال کی طرف اشارہ کرتا بولا تھا۔۔افرحہ نے گھور کر اسے دیکھا تھا۔

“آپ بہت تیز ہیں مجھے جانے دیں نیند آرہی ہے۔۔”

وہ شاہزیب کی مضبوط گرفت سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی تھی۔۔

“جب تک میری ڈیمانڈ پوری نہیں کرو گی میں یہاں سے ہلنے بھی نہیں دوں گا۔۔”

شاہزیب کے سنجیدگی سے بولنے پر اس کا منہ غبارہ کی طرح پھول گیا تھا۔

“اچھا ٹھیک ہے آنکھیں بند کریں اور نیچے جھکیں۔۔”

شاہزیب کو ہدایت دیتی وہ ایڑھی کے بل اوپر اٹھی تھی۔شاہزیب کے چہرہ جھکانے پر اس نے جھجھکتے اور شرماتے ہوئے اپنے نرم و نازک لب اس کی تھوڑی پر رکھے تھے۔۔

شاہزیب نے ابھی اس کا لمس صحیح سے محسوس بھی نہ کیا تھا جب وہ فورا پیچھے ہٹتی اس کی گرفت ڈھیلی ہونے کی وجہ سے روم میں بھاگ گئی تھی۔

شاہزیب نے اس کو جاتے دیکھ کر مسکرا کر اپنی تھوڑی پر ہاتھ رکھا تھا۔

“یہ لڑکی مجھے پاگل کردے گی۔۔”

وہ سر جھٹکتا ہلکی مسکان نے ساتھ بڑبڑاتا اس کے پیچھے ہی روم میں چلا گیا تھا۔۔اسے کمفرٹر میں دبکے دیکھ کر شاہزیب مسکراہٹ دباتا چینج کرنے چلا گیا تھا۔

افرحہ کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا وہ سینے پر ہاتھ رکھے اپنی دھڑکنوں کا ارتعاش محسوس کرتی شاہزیب سے بچ جانے پر کافی خوشی محسوس کر رہی تھی۔۔

شاہزیب کے کمرے میں موجودگی محسوس کرکے وہ سختی سے آنکھیں میچ گئی تھی۔۔شاہزیب کے واشروم جاتے ہی وہ سونے کی بھرپور کوشش کرنے لگی تھی جس میں وہ جلد ہی کامیاب ہوگئی تھی۔۔

جاری ہے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *