Professor Shah by Zanoor Writes NovelR50559 Professor Shah (Episode 26)
Rate this Novel
Professor Shah (Episode 26)
Professor Shah by Zanoor Writes
روحان اسے شہر کے مہنگے ترین ہوٹل میں لایا تھا جہاں کسی کا شک بھی نہیں جانا تھا اس نے اپنے نام پر دو رومز کی بکنگ کروائی تھی۔
“ہم کچھ دنوں کے لیے یہاں ہی رہیں گے۔”
بریرہ کو روم کے باہر چھوڑتا روحان بولا تھا وہ آتے ہوئے اس کا چیک اپ بھی کروا چکا تھا۔
“اگر کسی چیز کی ضرورت پڑھے تو مجھے بتا دینا میں ساتھ والے روم میں موجود ہوں گا اور میرے بغیر کہیں بھی ڈھونڈنے جانے کی کوشش مت کرنا۔۔”
روحان سنجیدگی سے اس کی آنکھوں میں دیکھتا اسے سمجھا کر پیچھے ہٹ گیا تھا۔بریرہ نے آنکھیں چھوٹی کرکے اسے گھور کر دیکھا تھا۔
“مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں بس مجھے تنگ مت کرنا۔۔”
وہ منہ بگاڑ کر بولتی روم میں داخل ہوتی زور سے دروازہ بند کرچکی تھی۔
روحان نے آنکھیں گھمائیں تھی وہ بھی خاموشی سے اپنے روم میں بند ہوگیا تھا۔شاہزیب نے اسے سختی سے بریرہ کی حفاظت کرنے کا کہا تھا ورنہ وہ کبھی بھی اس نک چڑھی اور پاگل لڑکی کی حفاظت نہ کرتا۔۔
تین دن اس کے سکون سے گزر گئے تھے بریرہ اپنے روم میں ہی رہتی تھی اور اسے تنگ بھی نہیں کر رہی تھی۔
وہ فریش ہوکر نکلا تھا جب اپنے روم کے دروازے پر زور دار دستک سن کر اس کے ماتھے پر تیوری چڑھی تھی۔
“اوپن دا ڈور روحان۔۔”
بریرہ کی آواز سنتے اس نے ماتھے پر بل ڈالے دروازہ کھولا تھا جہاں وہ فریش سی گرے ڈریس میں کھڑی تھی۔یہ ڈریسز اس نے ہی شاہزیب کے بولنے پر منگوا کر دیے تھے۔۔
“یہاں کیا کر رہی ہو؟”
اسے روم میں کھینچتے روحان نے غصے سے پوچھا تھا۔
“مجھے اپنے فلیٹ پر جانا ہے۔۔”
وہ اس کی غصے کو اگنور کرتی ہاتھ چھڑواتی منہ بگاڑ کر بولی تھی۔
“میڈم کو وہاں کیا کام ہے بتانا پسند کریں گی ؟”
وہ سینے پر بازو باندھتے ہوئے دانت کچکچاتا ہوا پوچھ رہا تھا۔
“وہاں میرا پاسپورٹ اور کچھ چیزیں ہیں مجھے وہ سب چاہیے۔۔”
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی مضبوط لہجے میں گویا ہوئی۔وہ فیصلہ کرچکی تھی کہ اب اس ملک کو چھوڑ دے گی۔بس اب اسے اپنا پاسپورٹ اور پیسے چاہیے تھے جو اس کے فلیٹ میں تھے۔۔
“چپ کرکے واپس اپنے کمرے میں لوٹ جاو میرا دماغ گھومانے کی کوشش مت کرو۔۔”
روحان اس کی بات سنتا جھنجھلا کر سرد لہجے میں بولا تھا شاہزیب نے اسے کہیں بھی باہر لے جانے سے منع کیا تھا۔
“پلیز۔۔بس ایک بار میری ہیلپ کردو۔۔”
بریرہ لب بھینچ کر نظریں جھکا کر نرم لہجے میں بولی تھی۔روحان اس کے انداز پر فورا ڈھیلا پڑا تھا۔
“اچھا ٹھیک ہے لیکن میں اکیلا جاوں گا تم یہ بتاو تمھاری چیزیں کہاں اور کس جگہ پڑی ہیں۔۔”
روحان کے ہامی بھرنے پر بریرہ نے اسے تشکرانہ نظروں سے دیکھا تھا۔
“تھینک یو روحان۔۔”
وہ مسکرا کر بولی تھی۔روحان نے جوابا دھیرے سے سر ہلایا تھا۔
روحان کو ساری انفارمیشن دیتی وہ روم میں آگئی تھی۔لیکن اسے کیا خبر اس کی وجہ سے کس کس کو نقصان اٹھانا پڑنا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
افرحہ کے چار پیپر ہوچکے تھے وہ پیپر دے کر شاہزیب سے ملنے کا سوچ رہی تھی جب اسے کچھ دور کھڑے کسی سے باتیں کرتے دیکھ کر اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی۔ انھیں دیکھتی وہ رخ پھیر کر وہ وہاں سے چلی گئی تھی۔
کچھ دیر بعد وہ اپنا غصہ دباتی شاہزیب کے آفس میں دھڑلے سے داخل ہوئی تھی۔شاہزیب نے اسے دیکھتے ائبرو اچکائی تھیں وہ جانتا تھا افرحہ نے اسے بات کرتے دیکھ لیا تھا۔
“مجھے زہر لگتی ہے ہر وہ لڑکی جو آپ سے بات کرتی ہے۔۔میرا دل کرتا ہے ان کے بال کھینچ کر چہرہ نوچ لوں۔۔”
افرحہ غصہ سے سرخ ہوئی منہ پھولا کر بولتی انتہائی کیوٹ لگ رہی تھی۔ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی اس نے شاہزیب کو ایک فی میل ٹیچر سے بات کرتے دیکھ لیا تھا۔ تبھی سے اس کا موڈ بنا ہوا تھا۔
“شی از جسٹ مائی کولیگ۔۔”
شاہزیب نے ائبرو اچکا کر اس کی جانب دیکھتے جواب دیا۔
“اور میں آپ کی بیوی ہوں۔۔وہ گوری پکوڑی نہیں۔۔”
وہ آنکھیں نکال کر شاہزیب کو دیکھ کر چیخی تھی جو پرسکون سا کرسی پر بیٹھا اسے غصہ کرتے دیکھ رہا تھا۔
“اس میں جیلس ہونے والی کوئی بات نہیں ہے افرحہ۔۔”
شاہزیب نے گلا کھنگارتے نرمی سے کہا تھا۔لیکن افرحہ کا تو دماغ گھوم گیا تھا اسے پرسکون دیکھتے۔۔
“صحیح۔۔۔پھر میں بھی اپنے کسی میل کلاس فیلو سے جاکر باتیں کرتی ہوں۔۔اور خبردار جو آپ جیلس ہوئے۔۔”
وہ سرخ چہرہ لیے تیز تیز بولتی واپس جانے کے لیے مڑی ہی تھی جب شاہزیب نے اسے بازو سے پکڑ کر واپس کھینچا تھا۔
“کیا کرنے جارہی تھی مجھے زرا دوبارہ بتانا مس افرحہ شاہزیب میر حاتم۔۔”
وہ ہر لفظ پر زور دیتا اپنا غصہ بمشکل کنٹرول میں رکھے ہوئے تھے۔۔
وہ دونوں ہی پاگل تھے ایک دوسرے کے لیے حد سے زیادہ پوزیسیو ہونے لگے تھے جن کی انھیں خبر بھی نہیں ہورہی تھی۔۔
“میں جو مرضی کرو اس سے آپ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔”
وہ ابھی بھی غصے سے تمتما سرخ چہرہ لیے چیخ رہی تھی۔شاہزیب نے اس کی اونچی آواز پر ناگواریت سے لب بھینچ لیے تھے۔۔
“دھیمے لہجے میں بات کرو ہم اس وقت آفس میں ہیں گھر میں نہیں۔۔”
وہ ناگواریت سے ٹوکتا بولا تھا۔افرحہ نے ٹھوڑی اوپر کرتے اسے گھوری سے نوازا تھا۔۔
“میں ایسے ہی بات کروں گی کیا کرلیں گے آپ بتائیں؟”
وہ غصے سے بنا اس کی بات سمجھے دوبارہ چیخی تھی۔شاہزیب نے گہرا سانس خارج کرتے اس کے چہرے کو تھامتے اس کے ماتھے پر پڑی تیوری پر نرمی سے انگوٹھا پھیرا تھا۔
“شش۔۔کالم ڈاون۔۔فکر مت کرو میں صرف تمھارا ہی ہوں۔۔”
شاہزیب کے نرمی سے بولنے اور پرسکون لمس سے وہ پل میں ٹھنڈی پڑ گئی تھی۔سارا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا تھا۔
“پتا نہیں مجھے کیا ہوگیا تھا۔۔میں آپ کو کسی اور لڑکی کے ساتھ دیکھ کر برداشت نہیں کرپائی۔۔میرا دل کر رہا تھا پہلے آپ کو شوٹ کردوں پھر اس لڑکی کو جو آپ کے ساتھ تھی۔”
شاہزیب کی گہری سیاہ آنکھوں میں دیکھتے وہ دھیمے لہجے میں بڑبڑائی تھی۔اس کی آخری بات پر شاہزیب کے ہونٹوں پر ایک دلکش مسکراہٹ نے اپنی چھب دکھلائی تھی۔
شاہزیب نے اس کے چہرے پر گرفت مضبوط کرتے اس کے ماتھے پر لب رکھے تھے۔افرحہ نے آنکھیں بےساختہ جھکا لی تھیں۔
“پیپر کیسا ہوا جاناں؟”
شاہزیب نے اس کا دھیان ہٹانے کے لیے بات کا رخ پھیر دیا تھا۔
“بس ٹھیک ہوا ہے۔۔گھر کب جائیں گے؟”
وہ ناک چڑھا کر جواب دیتی پوچھنے لگی تھی۔وہ کچھ دیر سونا چاہتی تھی پھر کل کے پیپر کی تیاری کرنا چاہتی تھی۔کل اس کا آخری پیپر تھا جس پر وہ خاصی خوش تھی۔پھر کچھ دیر کے لیے وہ فری تھی۔
“پانچ منٹ ویٹ کرو۔۔ میں نے ایک فائل ای میل کرنی ہے پھر نکلتے ہیں۔۔”
شاہزیب اپنی کلائی پر بندھی گھڑی پر ٹائم دیکھتے ہوئے بولا تھا۔اس کے بال سہلاتے شاہزیب کرسی پر بیٹھ کر فائل سینڈ کرنے لگا تھا افرحہ اس کے آفس میں موجود چیزیں دیکھنے لگی تھی۔پانچ منٹ سے زیادہ وقت گزر چکا تھا لیکن شاہزیب کے اٹھنے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے تھے۔وہ جھنجھلا کر اس کی کرسی کے بالکل قریب جاکر کھڑی ہوگئی تھی۔
“کیا ہوا ؟”
شاہزیب نے ماتھا مسلتے اس کی جانب دیکھا تھا۔افرحہ اسے خشمگی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔شاہزیب نے ٹائم دیکھتے لب بھینچے تھے ابھی اسے کچھ دیر مزید کام کرنا تھا۔
“بس کچھ دیر مزید انتظار کرلو میں یہ کام مکمل کرلوں پھر باہر سے ہی لنچ کرلے چلیں گے۔۔”
وہ افرحہ کو کھینچ کر اپنی گود میں بیٹھا چکا تھا۔اس کا سر اپنے سینے سے ٹکاتا وہ سنجیدہ لہجے میں بولا تھا۔افرحہ اس کی گردن کے گرد بازو پھیلاتی نرمی سے اس کے کندھے سہلاتی اس کی گردن میں منہ چھپا گئی تھی۔شاہزیب کے کلون کی مہک خود میں اتارتے وہ آنکھیں موند گئی تھی۔
شاہزیب نے اس کے کندھے سہلانے پر ایک پرسکون آہ خارج کی تھی۔کرسی میز کے قریب کرتا وہ دوبارہ لیپ ٹاپ پر ٹائیپنگ کرنے لگا تھا۔افرحہ کی سانسیں اپنی گردن پر محسوس کرتا وہ سختی سے لب بھینچ کر اپنے جاگتے ارمانوں کو کچل رہا تھا۔افرحہ کی دھیمی سانسیں اس کے نیند میں ہونے کی خبر دے رہی تھی۔۔
شاہزیب نے تیزی سے ہاتھ چلاتے کام مکمل کرکے لیپ ٹاپ زور سے بندھ کیا تھا۔جس سے افرحہ کی آنکھ کھل گئی تھی۔
“اٹھ جاو افرحہ گھر چلیں۔۔”
شاہزیب اس کی کمر سہلاتا بولا تھا۔افرحہ اپنی آنکھیں مسلتی اٹھ گئی تھی۔ اپنا بیگ اٹھاتی وہ شاہزیب سے پہلے آفس سے نکل گئی تھی۔شاہزیب بھی اپنی چیزیں اٹھاتا اس کے پیچھے ہی نکل گیا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
عادل شاہزیب کے کہنے پر بریرہ کے بارے میں پتا لگوا رہا تھا اسے انفارمیشن ملی تھی کہ بریرہ کو اس کے پیرنٹس فورس کر رہے تھے۔جسے جان کر اسے شدید پیشمانی ہوئی تھی۔
وہ اسے غلط سمجھ رہا تھا اور غصے میں نہ جانے کیا کیا بول گیا تھا۔اسے اس سب کے درمیان اس کے پیرنٹس کے بارے میں کچھ مشکوک خبر ملی تھی۔
وہ بریرہ سے ملنا چاہتا تھا لیکن ہمت نہیں کر پا رہا تھا اس نے آخر کار ہمت کرتے شاہزیب سے اس کی لوکیشن کا پوچھ لیا تھا۔
شاہزیب نے اسے بریرہ کی لوکیشن بتا دی تھی اور اسے سختی سے بریرہ پر کسی بھی قسم کی زور زبردستی کرنے سے سختی سے منع کر دیا تھا۔
وہ ڈیوٹی سے لوٹتا اپنا یونیفارم چینج کرتا شاہزیب کے سینڈ کیے گئے ہوٹل کے اڈریس پر روانہ ہو گیا تھا۔
شاہزیب اسے روحان کے بارے میں بھی بتا چکا تھا جسے سن کر پہلے تو عادل بھڑک اٹھا تھا لیکن شاہزیب کے معاملے کی سنگینی کے بارے میں بتانے وہ ٹھنڈا پڑ گیا تھا۔
وہ روحان کو جانتا تھا تب بھی خاموش ہو گیا تھا۔روم کے باہر پہنچ کر اس نے دھیرے سے دروازہ ناک کیا تھا۔جب ساتھ ہی فورا دوسرے روم سے روحان باہر نکل آیا تھا۔ عادل کو دیکھتے اس نے اپنے دوسرے ہاتھ میں پکڑی گن ویسٹ میں رکھ لی تھی۔
“وہ ایسے دروازہ نہیں کھولے گی عادل۔۔”
روحان اسے زچ کرنے کے لیے دانت دکھاتا ہوا دروازے سے ٹیک لگا کر بولا تھا۔ وہ فلیٹ پر بریرہ کی چیزیں لے جانے والا تھا بس عادل کے آنے کا ہی انتظار کر رہا تھا۔
“شٹ اپ۔۔”
عادل غصے سے بولا تھا۔
“پیچھے ہٹو۔۔بریرہ اٹس می روحان اوپن دا ڈور۔۔”
اسے پیچھے ہٹاتے روحان نے دروازہ زور سے ناک کرتے کہا تھا۔۔اس کی آواز سنتے ہی بریرہ نے دروازہ کھول دیا تھا۔
“یہ یہاں کیا کر رہا ہے ؟”
عادل کو دیکھتی وہ شاکڈ ہوئی تھی پھر ایک دم اس سے نظریں پھیرتی وہ روحان کی جانب مڑتی منہ بگاڑ کر پوچھنے لگی۔۔
“مجھے تمھارے کام سے جانا ہے میرے آنے تک یہ یہیں رہے گا ڈونٹ وری تمھیں یہاں سے کوئی نہیں لے جائے گا میں کچھ دیر میں لوٹ آوں گا۔۔”
روحان سنجیدگی سے جواب دیتا ایک نظر عادل پر ڈالتا روم میں اپنی چیزیں لینے چلا گیا تھا۔
“اب اندر آنے دو گی؟ یا ساری رات یہی کھڑے رکھنا ہے ؟”
عادل کے سپاٹ انداز میں بولنے پر بریرہ نے آنکھیں گھماتے اسے اندر آنے کا راستہ دیا تھا۔
عادل کو بریرہ اور روحان کا یوں بےتکلف انداز میں ایک دوسرے سے بات کرنا ایک آنکھ نہیں بھایا تھا۔
“میرا بس چلے تمھیں اپنے روم سے دھکا دے کر نکال دوں مگر کیا کروں مجبور ہوں۔۔”
بریرہ طنزیہ انداز میں جواب دیتی بیڈ پر بیٹھ گئی تھی۔
“تم نے مجھ سے حقیقت چھپائی۔۔”
وہ اس کی بات کے جواب میں اپنا غصہ کنٹرول کرتا سرد لہجے میں بولا۔۔
“تم اس قابل ہی نہ تھے تمھیں کچھ بتایا جاتا۔۔”
وہ زہر خند لہجے میں پھنکاری تھی۔
“میں جس قابل ہوں تم جاننا پسند نہیں کروگی۔۔”
وہ ایک دم اٹھتا اس کی جانب بڑھتا سرد لہجے میں بولا تھا وہ تو گھر سے بریرہ سے معافی مانگنے کا ارادہ کرکے آیا تھا لیکن یہاں آکر بریرہ کی باتیں اسے شدید طیش دلا رہی تھیں۔۔
“مجھے شوق بھی نہیں ہے اب چپ چاپ واپس کاوچ پر بیٹھ جاو۔۔”
وہ جھنجھلا کر اسے اپنی جانب آتا دیکھ کر بولی تھی۔
“آئی ایم سوری۔۔مجھے تمھارے ساتھ غلط نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔”
وہ اس کے سامنے کھڑا ہوتا اس کی بات کو اگنور کیے خود کو پرسکون کرتا بولا تھا۔
“مجھے تمھاری یہ دو نمبر سوری نہیں چاہیے۔۔بلکہ مجھے طلاق چاہیے۔۔وہ بھی ابھی اور اسی وقت۔۔تم جیسے مرد کے ساتھ میں ایک پل مزید نہیں گزار سکتی۔۔”
بریرہ اس کی بات پر بھڑکتی ہوئی بولی تھی۔ اس کی بات نے عادل کا پارہ ایک دم ہائی کر دیا تھا۔
“چچ۔۔ افسوس لیکن اب تمھیں مجھ سے کبھی آزادی نہیں ملے گی۔۔بہت غلط کیا تم نے یہ سب بول کر۔۔”
وہ بریرہ کے بال اپنی گرفت میں لیتا اس کا چہرہ اوپر اٹھا کر غرایا تھا۔۔
بریرہ نے اس کے ہاتھ میں اپنے ناخن زور سے چبھوئے تھے۔۔ عادل بنا کوئی ریکشن دیے سپاٹ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا جو غصے میں اس پر چیخ رہی تھی۔
“مجھ پر روعب جھاڑنے کی کوشش مت کرو۔۔تمھارا منہ توڑ دوں گی میں۔۔چھوڑو میرے بال ذلیل انسان۔۔”
” گڈ نائیٹ وائفی۔۔”
عادل اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش کرواتا اس کی گردن کے قریب نس کو دباتا اسے بےہوش کر گیا تھا۔
وہ بریرہ کو اچھے سے کور کرتا وہاں سے اٹھا کر لے گیا تھا اسے ہوٹل سے جانے میں مشکل نہیں ہوئی تھی کیونکہ اس کے پاس اپنا پولیس والا بیچ موجود تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
“شکر ہے پیپرز ختم ہوئے۔۔”
افرحہ آخری پیپر دے کر نکلتی پرجوش انداز میں بولی تھی۔اس کے سارے کلاس فیلوز پیپر کے بعد لنچ کرنے یونیورسٹی کے سامنے موجود کیفے میں جا رہے تھے۔۔
وہ بھی شاہزیب سے اجازت لے کر ان کے ساتھ انجوائے کرنے کا سوچ رہی تھی۔اس نے شاہزیب کو کال ملاتے فون کان سے لگایا تھا۔
“شاہزیب۔۔”
“ہمم۔۔کیا ہوا؟”
شاہزیب اس کی دھیمی آواز سنتا چوکنا ہوا تھا۔
“آپ سے پیار ہوا ہے۔۔”
وہ لب دباتی کھکھلا کر ہنس پڑی تھی۔شاہزیب اس کی ہنسی سنتا دھیرے سے مسکرایا تھا۔
“وہ تو تمھیں پہلے سے ہی تھا۔۔اب یہ بتاو اصل بات کیا ہے۔۔؟”
شاہزیب کے پوچھنے پر وہ نچلا لب دانتوں تلے دبانے لگی تھی۔
“مجھے آپ سے پرمیشن لینی تھی۔۔”
وہ دھیمی آواز میں بڑبڑائی۔۔
“کیسی پرمیشن ؟”
شاہزیب نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے پوچھا۔
“ہماری ساری کلاس سامنے والے کیفے میں لنچ کرنے جا رہی ہے کیا میں بھی چلی جاوں۔۔؟”
اس کے آس بھرے لہجے میں پوچھنے پر شاہزیب اسے چاہ کر بھی منع نہیں کر پایا تھا۔ اور اس کا یوں اجازت لینے کا انداز شاہزیب کے دل کو چھو گیا تھا۔
“اوکے اپنا خیال رکھنا اور ٹائم سے واپس آجانا۔۔”
شاہزیب کا جواب سنتی وہ خوشی سے اچھلی تھی۔
“تھینک یو سو مچ شاہزیب۔۔”
وہ پرجوش انداز میں بولتی اپنے کلاس فلیوز کے ساتھ چلی گئی تھی۔۔
اس نے اپنے کلاس فلیوز کے ساتھ بہت انجوائے کیا تھا۔یاد گار لمحات گزارتے سب لوگ اپنی اپنی منزل پر لوٹ گئی تھی۔
وہ بھی واپس یونیورسٹی لوٹ رہی تھی جب شاہزیب کی کال آئی تھی۔۔
“ابھی تک تم واپس کیوں نہیں افرحہ؟”
فون اٹھاتے ہی شاہزیب کی سرد آواز اس کے کانوں میں پڑی تھی باتوں کے درمیان اسے وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلا تھا۔اب شاہزیب کا غصہ محسوس کرکے اس نے بے ساختہ منہ پھولایا تھا۔
“سوری شاہزیب میں واپس آرہی ہوں۔۔روڈ کراس کرنے لگی ہوں۔۔اور پلیز ناراض نہ ہوں میں آپ کو آج رات سپیشل اپنے ہاتھوں سے کھانا بنا کر ڈنر کرواوں گی۔۔”
وہ شاہزیب کو جواب دیتی روڈ کراس کرنے لگی تھی جب ایک بلیک وین اس کے قریب آکر تیزی سے رکی تھی۔
“یا اللہ۔۔”
اس کے منہ سے بےساختہ نکلا تھا۔۔شاہزیب جو بولنے لگا تھا۔افرحہ کی کانپتی آواز سن کر وہ ایک دم اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا۔
“افرحہ کیا ہوا ہے؟؟”
شاہزیب نے باہر کی جانب بھاگتے ہوئے پوچھا تھا۔۔جواباً اسے بس افرحہ کی زور دار چیخ سنائی دی تھی۔ جس سے اس کی دھڑکن ایک پل کو تھم گئی تھی۔
“افرحہ۔۔افرحہ؟؟”
کئی بار پکارنے پر بھی کوئی جواب نہ ملنے پر وہ فون بند کرتا باہر نکلا تھا روڈ تیزی سے کراس کرتا وہ دوسری جانب گیا تھا جہاں افرحہ کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔ بس اس کا فون زمین پر گرا پڑا تھا جس پر اس کی کال چل رہی تھی۔جسے دیکھتے ہی شاہزیب کا دل خوف سے کافی عرصے بعد پہلی بار اتنی زور سے دھڑکنے لگا تھا۔
اپنی محبت کو کھونے کا سوچتے ہی اس کا دماغ بھک سے اڑ گیا تھا۔ اسے کچھ کچھ اندازہ تھا یہ کس کا کام ہوسکتا ہے۔۔وہ افرحہ کا موبائل اٹھاتا خاموشی سے جیب میں ڈال چکا تھا۔
“بہت بڑی غلطی کردی میری بیوی کو ہاتھ لگانے کی۔۔”
وہ دھیمے لہجے میں بڑبڑایا تھا۔اس کی آنکھوں میں سب کو ختم کردینے والے شعولے بھڑکنے لگے تھے۔۔
جاری ہے۔۔
