Professor Shah by Zanoor Writes NovelR50559 Professor Shah (Episode 36)
Rate this Novel
Professor Shah (Episode 36)
Professor Shah by Zanoor Writes
“تمھیں اپنی بیوی کے پاس اس کی حفاظت کے لیے چھوڑ رہا ہوں۔۔میری مجبوری نہ ہوتی تو تمھیں کبھی نہ بلاتا۔۔۔”
عادل نے دانت کچکچاتے ہوئے روحان سے کہا تھا۔
“واٹ ایور وہسے بھی بریرہ مجھے پسند کرتی ہے میرے علاوہ وہ کسی کو برداشت نہیں کرے گی۔۔”
اس نے بھی آگ لگانے کی کثر نہیں چھوڑی تھی۔عادل نے گھور کر اسے دیکھا تھا۔جو بےشرموں کی طرح ہنسنے لگا تھا۔
“کیا ہوا ؟ جیلیس ہورہے ہو ؟”
روحان نے سٹی بجاتے ہوئے اسے مزید سلگایا تھا۔
“میری بیوی کے ساتھ فلرٹ کرنے کی کوشش بھی مت کرنا۔۔”
عادل نے اسے کالر سے دبوچتے اپنی گن نکالی تھی۔
“ورنہ یہ ساری گولیاں تمھارے اندر اتارنے میں مجھے بالکل بھی دیر نہیں ہوگی۔۔”
اس کی دھمکی پر وہ ڈرنے کی بجائے کھل کر مسکرایا تھا۔
“کیا تمھیں اپنی بیوی پر یقین نہیں؟”
اس نے تپا دینے والی مسکراہٹ سے پوچھا تھا۔
“شٹ اپ نکلو یہاں سے مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے تمھاری۔۔”
اسے دروازے کی طرف دھکا دیتا وہ غصے سے بولا تھا۔
“اوکے چل بڈی۔۔۔میں مزاق کر رہا تھا۔۔”
روحان نے ہاتھ اٹھاتے سرنڈر کیا تھا۔بدلے میں عادل اسے گھور کر رہ گیا تھا۔۔وہ مجبور نہ ہوتا تو اسے کبھی نہ بلاتا لیکن مسٹر اور مسز شہروز کی غیر موجودگی اس کے لیے خطرے کا الارم بجا رہے تھے۔۔اور بریرہ کو وہ ہرگز اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔
“دوبارہ ایسا گھٹیا مزاق مت کرنا روحان۔۔اس کے معاملے میں ، میں بہت پوزیسیو ہوں تمھارا منہ توڑنے سے ہچکچاوں گا نہیں۔۔”
اس نے عادل کا کندھا تھام کر اس پر زور ڈالا تھا۔روحان معاملے کی سنجیدگی سمجھتا آنکھیں گھما کر سر ہلا گیا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
“تم ہمارے ساتھ اندر نہیں چل رہے ؟”
حاتم شاہ جو ہوسپٹل سے ڈسچارج ہوئے تھے انھوں نے شاہزیب سے پوچھا تھا جو انھیں گھر کے اندر اتار کر خود نہیں نکلا تھا۔
“میں اپنے گھر میں رکوں گا دادا جان۔۔”
اس نے حاتم شاہ کو سہارا دیے کھڑے میر شاہ پر ایک ڈال کر نظریں موڑ لی تھیں۔۔اس کے ساتھ بیٹھی افرحہ بالکل خاموش تھی۔وہ اس معاملے میں کچھ نہیں بولنا چاہتی تھی۔
“ایسا مت کرو شاہزیب۔۔میری زندگی کے چند دن ہیں جو میں تم سب لوگوں کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں۔۔”
حاتم شاہ کی کانپتی آواز پر وہ بےبس ہوا تھا۔
اس نے بےبس نظروں سے افرحہ کو دیکھا تھا جس نے دھیرے سے سر ہلا دیا تھا۔
“اوکے آپ پریشان مت ہوں۔۔ہم کل تک یہاں شفٹ ہوجائیں گے۔۔”
شاہزیب نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے کہا تھا۔
“سامان کوئی ملازم لے آئے گا تم آج یہاں ہی رکو گے باہر نکلو گاڑی سے اور مجھے میرے روم میں لے کر جاو۔۔”
ان کے ضدی انداز پر گہرا سانس بھرتے شاہزیب گاڑی سے باہر نکل آیا تھا۔افرحہ بھی اس کی پیروی کرتی باہر نکل آئی تھی۔
شاہزیب کے آگے آنے پر میر شاہ دور ہٹ گئے تھے۔شاہزیب نے انھیں نظر انداز کرتے حاتم شاہ کے کندھوں کے گرد بازو پھیلائے تھے۔۔
“دادا جان آگئے آپ ؟”
نورے انھیں گھر میں آتے دیکھ کر ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ بولی تھی۔شاہزیب کے چہرے پر نظر پڑتے ہی اس کی مسکراہٹ سمٹ گئی تھی۔جسے افرحہ اور شاہزیب نے فورا نوٹ کیا تھا۔
“یہ ہمارے گھر کیا کر رہے ہیں۔۔؟”
اس نے شاہزیب کی طرف دیکھتے نظریں پھیرتے غصے سے پوچھا تھا۔
“نورے بڑا بھائی ہے تمھارا شاہزیب۔۔دوبارہ اس سے ایسے بات مت کرنا۔۔”
حاتم شاہ شاہزیب کے سپاٹ چہرے پر نظر ڈالتے نورے کو جھڑک گئے تھے۔فاطمہ بیگم ابھی روم میں تھیں ورنہ ناجانے وہ کومسا تماشا شروع کردیتی۔۔
“میرا کوئی بھائی نہیں ہے۔۔”
وہ غصے سے چیخی تھی۔
“نورے اپنے کمرے میں جاو۔۔بابا کو پریشان مت کرو۔۔”
حاتم شاہ کو پریشان دیکھ کر میر شاہ سنجیدگی سے بولے تھے۔نورے ایک کٹیلی نظر شاہزیب پر ڈالتی اپنے کمرے میں بھاگ گئی تھی۔نورے کے رویے سے اسے ٹھیس پہنچی تھی جس پر شاہزیب صرف جبڑے بھینچ کر رہ گیا تھا۔
شاہزیب حاتم شاہ کو کمرے میں لیٹاتا انھیں میڈسن دیتا افرحہ کو لے کر اپنے کمرے میں آگیا تھا۔
کمرے کا دروازہ کھولنے سے انھیں احساس ہوا تھا کہ کمرے کو باقاعدگی سے صاف کیا جاتا رہا تھا۔شاہزیب اپنی ساری چیزوں کو ان کی جگہ پر دیکھ کر جذباتوں کے ایک طوفان سے گزرا تھا۔۔
“شاہزیب آر یو آلرائیٹ۔۔”
افرحہ نے اس کے بازو پر ہاتھ رکھتے پوچھا تھا۔شاہزیب نے لب بھینچ کر دھیرے سے سر ہلا دیا تھا۔وہ اسے کیا بتاتا اب یہ ساری چیزیں اسے صرف تکلیف دیتی ہیں۔۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
تین دن ہوچکے تھے انھیں یہاں رہتے ہوئے جس پر فاطمہ بیگم خاصا غصہ تھیں۔۔ان کا بس نہیں چل رہا تھا وہ شاہزیب اور افرحہ کو اٹھا کر باہر پھینک دیں۔۔مگر حاتم شاہ کی وجہ سے وہ خاموش ہوگئی تھیں۔۔نورے بھی شاہزیب سے کوئی بات نہیں کرتی تھی بس سارا دن اپنے روم میں رہتی تھی۔
“مجھے اپنے پیرنٹس سے ملنے جانا ہے۔۔”
افرحہ نے آج صبح اٹھتے ہی شاہزیب سے بول دیا تھا۔اسے اپنے پیرنٹس کی شدت سے یاد آرہی تھی اور وہ ان سے ملنا چاہتی تھی۔
“اوکے میں دادا جان کو میڈسن دے دوں تم تیار ہوکر نیچے آجانا پھر چلتے ہیں۔۔”
شاہزیب اس کے ماتھے پر بوسہ دیتا باہر نکل گیا تھا۔افرحہ مسکراتی ہوئی تیار ہونے لگی تھی۔
رحیم صاحب اور ماجدہ بیگم کے بارے میں سوچتے ہی اس کا دل عجیب انداز میں دھڑکنے لگا تھا۔شادی کے بعد وہ پہلی بار ان سے ملنے جارہی تھی اور اسے کافی ڈر لگ رہا تھا۔
“افرحہ ڈونٹ وری تمھارے پیرنٹس تمھیں کچھ نہیں کہیں گے۔۔”
شاہزیب نے افرحہ کا ہاتھ تھامتے نرم لہجے میں کہا تھا جس پر وہ مسکرا دی تھی۔شاہزیب نے اس کے پیرنٹس کے گھر کے باہر گاڑی رکی تھی۔
“شاہزیب میں پہلے خود اپنے پیرنٹس سے بات کرنا چاہتی ہوں۔۔”
افرحہ نے اس کا ہاتھ تھامتے نرمی سے کہا تھا۔شاہزیب اس کی سچوئیشن سمجھتا سر ہلا گیا تھا۔
افرحہ نے گاڑی سے نکلتے بیل بجائی تھی۔تھوڑی دیر بعد ہی دروازہ ملازمہ نے کھول دیا تھا۔
“مما اور بابا جانی کہاں ہیں ؟”
افرحہ نے ملازمہ کو دیکھتے نروس ہوتے پوچھا تھا۔
“لاونچ میں بیٹھے ہیں بی بی جی۔۔”
ملازمہ کے بتانے پر وہ تیزی سے لاونچ میں بھاگی تھی۔
“بابا جانی۔۔؟”
اس نے لاونچ میں داخل ہوتے رحیم صاحب کو پکارا تھا جو نیوز سننے میں مگن تھے۔۔افرحہ کی آواز سنتے وہ جھٹکے سے مڑتے کھڑے ہوئے تھے۔ماجدہ بیگم بھی اتنی دیر بعد اپنی بیٹی کو دیکھتی اپنے آنسو روکتی کھڑی ہوگئی تھیں۔۔
“افرحہ۔۔”
انھوں نے بےیقینی سے افرحہ کو دیکھا تھا جو بھاگ کر ان کےسینے سے آلگی تھی۔
“میں نے آپ کو بہت یاد کیا۔۔”
وہ نم آواز میں بولی تھی۔رحیم صاحب نے اس کے سر پر شفقت سے بوسہ دیا تھا۔
“میرا بچہ۔۔”
ماجدہ بیگم نے افرحہ کے ہاتھ کو تھامتے ہونٹوں سے لگایا تھا۔
“تم ٹھیک ہو۔۔اس لڑکے نے کچھ کیا تو نہیں۔۔؟”
رحیم صاحب نے اسے بیٹھاتے پریشانی سے پوچھا تھا۔
“نہیں بابا جانی وہ میرا بہت زیادہ خیال رکھتے ہیں۔۔”
افرحہ نے نرمی سے جواب دیا تھا۔
“وہ لڑکا ٹھیک نہیں ہے افرحہ اس پر الزام لگا ہوا ہے۔۔تم نہیں جانتی۔۔وہ بہت شاطر ہے۔۔اسے چھوڑ دو اور واپس لوٹ آو۔۔”
ان کی شاہزیب کے متعلق بدگمانی جان کر افرحہ نے لب بھینچ لیے تھے۔۔
“بابا میں شاہزیب کو کبھی نہیں چھوڑوں گی۔۔اور نہ ہی اس بارے میں مجھے آپ سے کوئی بات کرنی ہے۔۔شاہزیب کے مضبوط کردار کی گواہ میں خود ہوں۔۔میں اس کے ساتھ بہت خوش ہوں اور چاہتی ہوں آپ لوگ اسے ایک موقع دیں۔۔”
افرحہ رحیم صاحب کی بات سنتی نرمی سے بولی تھی۔اس کے لہجے میں چھپی التجا رحیم صاحب اور ماجدہ بیگم سے مخفی نہیں تھی۔
“بالکل نہیں اس گنڈے اور بدتمیز شخص کو میں کبھی اپنا داماد نہیں مانوں گا۔۔اور اس نے جو زید کے ساتھ کیا وہ بھی ناقابلِ معافی ہے۔۔ہم اسے کبھی قبول نہیں کریں گے۔۔”
رحیم صاحب کی بات سنتی وہ ہتھے سے اکھڑ گئی تھی۔۔
“آپ اپنی انا اور ضد کی وجہ سے اپنی بیٹی کو خود سے دور کر رہے ہیں بابا۔۔ اور رہی بات زید کی میں اسے شروع سے ہی پسند نہیں کرتی تھی اگر آپ لوگ مجھ پر دباو نہ ڈالتے تو میں مر کر بھی اس شخص سے شادی نہ کرتی جو ناجانے کتنی لڑکیوں کو گرلفرینڈز بنا کر شادی کے لارے لگا چکا ہے۔۔”
افرحہ غصے سے بولی تھی۔
“جھوٹ مت بولو زید ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔۔”
ماجدہ بیگم بھی اس بار بول پڑی تھیں۔افرحہ نے ان کی طرف دیکھ کر نفی میں سر ہلایا تھا۔
“آپ لوگ شاہزیب کو ایک موقع بھی نہیں دیں گے؟”
اس نے اٹل لہجے میں پوچھا تھا۔
“تمھیں شاہزیب یا ہم میں سے ایک کو چننا پڑے گا افرحہ۔۔”
رحیم صاحب کی بات نے اسے ساکت کردیا تھا۔
“آپ لوگ بہت غلط کر رہے ہیں۔۔ میں کبھی شاہزیب کو نہیں چھوڑوں گی۔۔یہ بات جتنی جلدی مان لیں آپ دونوں کے لیے اچھا ہے۔۔ خدا حافظ!”
وہ بولتی ایک آخری نظر ان پر ڈال کر مڑ گئی تھی۔اس بات سے بےخبر کے شاہزیب اس کی ساری باتیں سن چکا تھا۔
شاہزیب کو گیراج میں دیکھ کر اس نے نفی میں سر ہلایا تھا جبکہ چند آنسو اس کی آنکھوں سے نکلتے گال پر بہہ گئے تھے۔اپنے ماں باپ کو چھوڑنا کتنا مشکل تھا کوئی اس سے پوچھتا اسے اپنا دل پھٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔شاہزیب نے اسے تھامتے نرمی سے اس کی آنسو صاف کیے تھے۔۔اس کے کندھے کے گرد بازو پھیلاتا وہ اسے وہاں سے لے گیا تھا۔اس کا بس نہیں چلتا تھا ورنہ وہ افرحہ کی ساری تکلیفیں دور کردیتا۔۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
“عادل میرا دل گھبرا رہا ہے مجھے ایسا لگ رہا ہے کچھ غلط ہونے والا ہے۔۔”
بریرہ اسے ڈیوٹی پر جانے کے لیے تیار ہوتا دیکھ نر نروس سی بولی تھی۔عادل نے اپنے بال بناتے اس کی طرف دیکھا تھا جو صبح سے ہی بےحد پریشان لگ رہی تھی۔
مسٹر اور مسز شہروز کا بھی کچھ پتا نہیں چل پا رہا تھا جس کی وجہ سے وہ لوگ کچھ زیادہ ہی پریشان تھے۔
“کچھ نہیں ہوتا میر جان ویسے ہی تمھیں محسوس ہو رہا ہے۔۔”
عادل نے اس کے قریب آتے نرمی سے اس کے بال سہلائے تھے۔
“عادل تم کب ان دونوں کو ڈھونڈو گے۔۔؟ وہ لوگ بہت خطرناک ہیں۔۔مجھے ڈر ہے کہ وہ تمھیں کچھ کر نہ دیں۔۔”
بریرہ آنکھیں میچ کر ڈر کر بولی تھی۔عادل کو کچھ ہوجانے کا سوچ کر ہی اس کی روح تک کانپ اٹھی تھی۔۔
“میری جان مجھے کچھ نہیں ہوگا۔تم آرام سے اپنا دن روحان کے ساتھ گزارنا۔۔وہ اگر تنگ کرے تو اسے مارنے سے ہچکچانا مت۔۔اور زیادہ مت سوچو سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔جلد ہم سکوم کی زندگی گزاریں گے۔۔”
وہ بریرہ کے گال کو چومتا پیچھے ہٹا تھا۔بریرہ نے ایک گہری سانس خارج کی تھی۔وہ عادل کو روکنا چاہتی تھی مگر روک نہیں پائی تھی۔
“یہ منہ کیوں لٹکایا ہوا ہے بریرہ ؟”
روحان نے عادل کے جانے کے بعد بریرہ کے سامنے بیٹھتے پوچھا تھا۔
“مجھے عادل کی فکر ہورہی ہے۔۔”
وہ اپنے ہونٹ کاٹتی بولی تھی۔
“تم فکر نہ کرو اسے کچھ نہیں ہوگا۔”
روحان نے ہاتھ ہلاتے کہا تھا جس پر بریرہ صرف سر ہلا کر رہ گئی تھی۔ورنہ اندر تو اسے عجیب محسوس ہو رہا تھا۔
عادل گاڑی میں بیٹھا پولیس اسٹیشن جا رہا تھا۔ساتھ ہی وہ فون پر ڈینیل سے بات کر رہا تھا۔
“ڈینیل فار گوڈ سیک فائینڈ دیم۔۔”
وہ جھنجھلا کر بولا تھا۔مسٹر اور مسزشہروز کے غائب ہونے سے وہ شدید پریشان تھا۔
“میں کوشش کر رہا ہوں ایک سراغ ملا ہے اب دیکھتے ہیں وہ وہاں ہیں یا نہیں۔۔”
ڈینیل نے سنجیدگی سے جواب دیا تھا۔
“پلیز جو بھی کرنا ہے جلد۔۔۔”
ابھی عادل بول ہی رہا تھا جب اچانک اس کی گاڑی پر فائرنگ سٹارٹ ہوئی تھی۔
“اوہ۔۔ شٹ۔۔”
وہ اپنی گن نکالتا فورا جھک گیا تھا مگر ایک گولی اس کے کندھے میں لگ چکی تھی۔۔وہ تکلءف کی شدت سے لب زور سے بھینچ گیا تھا۔
عادل نے گاڑی کی سپیڈ تیز کردی تھی۔۔وہ ایک ہاتھ سے گاڑی چلا رہا تھا جبکہ دوسرے کندھے میں گولی لگنے کے باعث وہ گن فائر کرنے سے قاصر تھا۔
“عادل کیا ہو رہا ہے ؟”
ڈینیل نے اونچی آواز میں پوچھا۔
“آئی نیڈ بیک اپ۔۔سم ون اٹیکڈ می۔۔”
عادل تکلیف دہ لہجے میں بولا تھا۔
“سینڈ می یور لوکیشن۔۔”
ڈینیل نے تیزی سے کہا تھا۔
“اس کی ضرورت نہیں میں پولیس اسٹیشن کے باہر پہنچ چکا ہوں۔۔تم میرے گھر کچھ گارڈز بھیج دو فورا۔۔”
خون کی کمی سے اس کی آواز ہلکی ہونے لگی تھی۔اس نے کاپنتے ہاتھ سے کال کاٹتے گاڑی کی ہارن پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔اس کے بعد وہ جلد ہی ہوشو حواس سے بیگانہ ہوگیا تھا اس بات سے بےخبر کہ بریرہ پر کیا قیامت ٹوٹنے والی تھی۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
شاہزیب افرحہ کو لے کر واپس گھر لوٹ آیا تھا۔گھر میں داخل ہوتے ہی جانے پہنچانے قہقہے نے اسے ساکت کردیا تھا۔لاونچ میں بیٹھی زباریہ کو دیکھتا شاہزیب ساکت ہوا تھا۔
“اس عورت کی ہمت کیسے ہوئی اس گھر میں قدم رکھنے کی۔۔”
وہ پوری قوت سے چیخا تھا۔افرحہ اس کے چیخنے پر بری طرح ڈر گئی تھی۔اس کی نظر شاہزیب کی نظروں کے تعاقب میں زباریہ پر گئی تھی۔اور اسے سیکنڈز میں ساری بات سمجھ آگئی تھی۔
“یہ تمھارا گھر نہیں ہے اس لیے چیخنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔”
فاطمہ بیگم اس کے ایسے بولنے پر غصےسے کھڑی ہوتی پھنکاری تھیں۔۔زباریہ نے حسرت بھری نگاہوں سے شاہزیب کو دیکھا تھا۔افرحہ پر نظر پڑتے ہی اس کی آنکھوں میں چنگاریاں سی آگئی تھیں۔
“چچ۔۔ کس غلط فہمی میں ہیں آپ ؟ یہ ساری پروپرٹی میری ہے۔۔اس سے پہلے میں اس گھٹیا عورت کو دھکے دے کر باہر سڑک پر پھینکواوں خود شرافت سے اسے یہاں سے نکال دیں۔۔”
شاہزیب زہر خند لہجے میں چیخا تھا۔میر شاہ جو حاتم شاہ کے ساتھ بیٹھے بزنس کے بارے میں بات کر رہے تھے۔۔وہ بھی حاتم شاہ سمیت باہر نکل آئے تھے۔
“زبان سنبھال کر بات کرو۔۔ میری بہن یہاں سے کہیں نہیں جائے گی۔۔تمھیں مسئلہ ہے تو نکل جاو یہاں سے۔۔”
فاطمہ بیگم بھہ چیخی تھیں۔۔
“اٹس اوکے میں چلی جاتی ہوں فاطمہ۔۔ تم میری خاطر اپنا گھر تباہ مت کرو۔۔”
زباریہ مسکراہٹ چھپاتی معصومیت سے بولتی افرحہ کو ناگن لگ رہی تھی۔
“تم کہیں نہیں جاو گی چپ کرکے بیٹھی رہو۔۔”
فاطمہ بیگم سخت لہجے میں بولی تھیں۔۔جب آگے بڑھتے شاہزیب نے غصے میں لاونچ میں پڑے شیشے کے نفیس اور مہنگے شوپیس اٹھا کر زمین پر مارے تھے۔۔
“دفع ہوجاو یہاں سے اس سے پہلے میں اپنے ہاتھوں سے تمھارا قتل کردوں۔۔”
وہ غصے میں اس قدر اونچا چیخا تھا کہ نورے بھی اپنے کمرے سے نکل آئی تھی۔
“فاطمہ زباریہ کو کہو یہاں سے چلی جائے اور دوبارہ یہاں کبھی مت آئے۔۔”
حاتم شاہ اونچی آواز میں بولے تھے۔فاطمہ بیگم غصے سےسرخ پڑ گئی تھیں۔۔
“آپ ایسا نہیں کرسکتے بابا۔۔ پہلے اس بدکردار کو آپ نے گھر میں رکھا میں نے کچھ نہ کہا اب آپ میری بہن کو یہاں سے نکل جانے کا کہہ رہے ہیں میں بالکل برداشت نہیں کروں گی۔۔”
فاطمہ بیگم کی فضول باتوں پر سب لوگوں کو ہی غصہ آنے لگا تھا۔۔میر شاہ کے ماتھے پر بھی بل پڑ گئے تھے۔۔
“شاہزیب کے کردار تک پہنچنے کی ضرورت نہیں پہلے آپ اپنی حوس زدہ بہن کے گریبان میں جھانک کر دیکھیں جو اپنے سے کئی سال چھوٹے معصوم مردوں پر زبردستی ڈورے ڈالتی پھررہی ہے۔۔”
افرحہ کی بات نے فاطمہ سمیت زباریہ کو بھی آگ لگا دی تھی۔
“اپنی زبان کو سنبھالو لڑکی۔۔ ورنہ گدی سے کھینچ لوں گی۔۔”
زباریہ اونچی آواز میں پھنکاری تھی۔معاملہ مزید بگڑنے لگا تھا۔
“شٹ اپ میری بیوی کو کچھ کہنے کی کوشش بھی مت کرنا۔۔”
شاہزیب اس سے بھی اونچی آواز میں دھاڑا تھا۔زباریہ غصے سے سلگ اٹھی تھی۔
“زباریہ یہاں سے چلی جاو پلیز۔۔ “
میر شاہ نے اسے ٹوکتے کہا تھا۔۔فاطمہ نے میر شاہ کے لہجے میں چھپی تنبیہ محسوس کرتے زباریہ کو بازو سے پکڑ کر خاموش کروایا تھا۔
“تم جاو یہاں سے ہم بعد میں ملیں گے۔”
فاطمہ بیگم نے زباریہ کو جانے کا کہا تھا جس پر وہ غصے سے بلبلاتی اپنا بیگ اٹھا کر نکل گئی تھیں۔وہ جاتے ہوئے افرحہ کو نظروں ہی نظروں میں قتل کرتے ہوئے گزری تھی۔
“اگر اس عورت نے دوبارہ اس گھر میں قدم بھی رکھنے کا سوچا میں یہاں سے چلا جاوں گا اور کبھی لوٹ کر نہیں آوں گا اس لیے بہتر ہے اپنی بہو کو سمجھا لیں۔۔”
شاہزیب حاتم شاہ کو وارن کرتا لمبے لمبے ڈھگ بھرتا اپنے کمرے میں چلا گیا تھا۔زباریہ کو دیکھتے ہی جیسے اسے اپنی بےبسی اور سارےزخم یاد آگئے تھے۔
اپنے غصے میں وہ سارے کمرے کی چیزیں توڑ چکا تھا۔پھر بھی اس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہو رہا تھا۔افرحہ جوحاتم شاہ سے بات کرتی روم میں آئی تھی کمرے کی حالت دیکھتی ساکت ہوگئی تھی۔
شاہزیب بیڈ سے ٹیک لگا کر سگریٹ سلگا رہا تھا۔افرحہ ٹوٹی چیزوں سے بچتی اس کے قریب پہنچی تھی۔
افرحہ کی موجودگی اور اس کے نرم ہاتھ کا لمس اپنے بالوں میں محسوس کرتا شاہزیب سگریٹ کو مسل گیا تھا۔۔
“وہ عورت پاگل ہے افرحہ۔۔ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔۔”
شاہزیب لب بھینچ کر بڑبڑایا تھا۔۔
“آپ کو اس کے خلاف کچھ کرنا چاہیے شاہزیب۔۔”
افرحہ نے نرمی سےکہا تھا۔
“اس عورت کو میں سبق سکھا کر ہی رہوں گا۔۔تاکہ دوبارہ کسی کے ساتھ ایسا کرنے کا سوچے بھی نہ۔۔”
شاہزیب افرحہ کے کندھے پر سر رکھتا جوابا بولا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
“تم ریسٹ کرلو کچھ دیر مائینڈ فریش ہوجائے گا تمھارا۔۔”
روحان بریرہ سے بولا تھا۔جس پر وہ سرد آہ خارج کرکے رہ گئی تھی۔
“اوکے میں کچھ دیر کے لیے سونے لگی ہوں۔۔”
بریرہ اسے بولتی اپنے روم میں چلی گئی تھی۔روحان نے ابھی ٹی وی اون ہی کیا تھا جب گیٹ پر بیل ہوئی تھی۔
وہ ماتھے پر بل ڈالے اپنی گن اٹھاتا دروازے تک گیا تھا۔اسنے کی ہول سے باہر دیکھا تھا جہاں کوئی نہیں تھا وہ چوکنا ہوتا بریرہ کو اٹھانے جانے لگا تھا جب اچانک سے اس کے سر پر کسی نے گن تانی تھی۔وہ پیچھے مڑا ہی تھا جب مقابل نے زور سےاس کے سر پر گن مار کر اسے بےہوش کردیا تھا۔
بریرہ جو آنکھیں بند کرکے لیٹی تھی۔کمرے میں کسی کے موجود ہونے کے احساس سے اس نے آنکھیں کھولی ہی تھی جب اپنے کمرے میں موجود کسء شخص کو دیکھ کر ایک کان پھاڑ دینے والی چیخ اس کے حلق سے نکلی تھی۔
“روحان۔۔۔”
اس نے اونچی آواز میں عادل کو پکارا تھا۔بلیک سوٹ میں ملبوس شخص نے بریرہ کی جانب قدم بڑھائے ہی تھے جب وہ بیڈ کی دوسری طرف سے نیچے اتر گئی تھی۔
“عادل۔۔۔”
وہ ایک بار پھر چیخی تھی۔
“کوئی فائدہ نہیں ہم پہلے ہی اس کا کام تمام کرچکے ہیں۔۔”
وی آدمی ابھی بولا ہی تھا جب پیچھے سے بریرہ کو کسی نے دبوچ کر اس کے بازو میں ڈرگز انجیکٹ کر دیے تھے۔۔
آنکھیں بند ہونے سے پہلے اس کی آنکھوں کے پردوں پر عادل کے ساتھ گزارے حسین لمحات آئے تھے۔۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
شاہزیب جانتا تھا افرحہ اپنے پیرنٹس کس بہت یاد کرتی ہے اور ان کی وجہ سے کافی پریشان بھی ہے۔۔وہ اپنی نہ سہی اس کی ساری پریشانیاں دور کردینا چاہتا تھا۔
زباریہ کو دیکھے دو دن گزر چکے تھے۔ان دنوں میں افرحہ ہر پل اس کے ساتھ تھی اب وہ بھی اس کے لیے کچھ کرنا چاہتا تھا۔تبھی آج اس کے سونے پر وہ اس کے ماتھے پر اپنا شدت بھرا لمس چھوڑتا اس کے پیرنٹس کے گھر گیا تھا۔
ان کے گھر بیل دیتے وقت وہ بےچین تھا اسے ڈر تھا کہ وہ اس پر یقین نہیں کریں گے۔۔اس بات پر وہ ہنس پڑا تھا اس کے گھر والوں نے اس پر یقین نہ کیا تو وہ افرحہ کے پیرنٹس سے کیا امیدرکھتا ہے۔۔
وہ ناامید ہوکر مڑنے والا تھا جب رحیم صاحب نے دروازہ کھولا تھا۔رحیم صاحب اسے دیکھ کر حیران ہوئے تھے ساتھ ہی ان کے چہرے پر چٹانوں سی سختی آگئی تھی۔
“ہماری بیٹی کو ہم سے دور کرکے اب یہاں کیا کرنے آئے ہو؟؟”
وہ غصےسے بولے تھے۔
“مجھے آپ سے بات کرنی ہے انکل۔۔”
وہ لب بھینچ کر نرمی سے بولا تھا۔رحیم صاحب نے کچھ سوچتے اسے گھر کے اندر آنے دیا تھا۔
“کون آیا ہے رحیم؟”
ماجدہ بیگم بولتی ہوئی کمرے سے نکلی ہی تھیں شاہزیب پر نظر پڑتے ہی وہ خاموش ہوگئی تھیں۔۔
“میں جانتا ہوں آپ لوگ مجھے اچھا نہیں سمجھتے۔۔اور جیسے میں نے افرحہ سے نکاح کیا اس نے آپ کو مزید مجھ سے بدگمان کردیا ہے۔۔”
وہ گلا کھنگارتا بات شروع کرچکا تھا۔
“آپ لوگوں کو لگتا ہے میرا کردار ٹھیک نہیں ہے۔۔ میرے گھر والوں کے لیے میں ایک ریپسٹ ہوں۔۔ دنیا کو لگتا ہے میں سخت دل ہوں۔۔ صرف افرحہ تھی جس نے مجھے جانا تھا۔۔اسے کیسے چھوڑ دیتا۔۔؟”
وہ زمین پر نظریں ٹکائے بول رہا تھا۔رحیم صاحب اور ماجدہ بیگم خاموشی سے اسے سن رہے تھے۔
“لوگ سمجھتے ہیں ہمیشہ قصور لڑکے کا ہی ہوتا ہے۔۔میں آپ کو اپنا پاسٹ بتانا چاہتا ہوں اس کے بعد آپ فیصلہ کیجیے گا میں کیسا ہوں۔۔”
شاہزیب نے لب بھینچتے انھیں سب کچھ بتا دیا تھا۔
“افرحہ میری زندگی کی واحد خوشی ہے۔۔اسے اپنی وجہ سے دکھ یا تکلیف میں نہیں دیکھنا چاہتا۔۔اگر آپ لوگ چاہتے ہیں میں آپ سے معافی مانگنے کے لیے بھی تیار ہوں افرحہ کو میری وجہ سے خود سے دور مت کیجیے گا۔۔۔اور مجھے ایک موقع دے کر دیکھیں میری نیت یا کردار میں آپ کو کوئی بھی کھوٹ دکھا پھر کہیے گا۔۔”
وہ اپنا ماضی بتاتا مضبوط لہجے میں بول رہا تھا۔
“مجھے یقین ہے آپ لوگ میری باتوں پر یقین نہیں کریں گے۔۔جس کے گھر والوں نے اس کی باتوں پر یقین نہ کیا تو پھر آپ لوگ تو انجان ہیں آپ کیسے یقین کرسکتے ہیں۔۔؟ میں صرف اتنا کہوں گا میری وجہ سے افرحہ کو تکلیف نہ دیں”
وہ اذیت سے مسکرا کر بولا تھا۔ماجدہ بیگم اور رحیم صاحب اس کی باتیں سن کر حیران تھے انھیں یقین نہیں آرہا تھا دنیا میں زباریہ جیسے بھی لوگ ہوتے ہیں۔۔
“افرحہ کے بارے میں ضرور سوچیے گا۔۔جلد آپ سے ملاقات ہوگی۔۔اب چلتا ہوں۔۔”
وہ کھڑا ہوتا ایک نظر خاموش بیٹھے رحیم صاحب اور ماجدہ بیگم پر ڈال کر چلا گیا تھا۔
جاری ہے۔۔
