Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Professor Shah (Episode 19)

Professor Shah by Zanoor Writes

وہ مہمانوں سے فارغ ہوتا اپنے دوستوں سے جان چھڑواتا بمشکل کمرے میں آیا تھا۔اسے بیڈ پر بیٹھے دیکھ کر عادل نے لب بھینچے تھے۔دروازے کو لاک کرتا وہ اپنا کورٹ اتار کر روم میں موجود کاوچ پر پھینک چکا تھا۔

“میرا انتظار کر رہی تھی۔۔؟”

دھیرے سے قدم اٹھاتا بریرہ کے پاس بیڈ کے قریب کھڑا ہوتا عادل سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا۔

“کسی خوش فہمی میں مت رہنا بس آنٹی کی وجہ سے بیٹھی تھی۔۔”

وہ بنا لحاظ کیے بیڈ سے اتر کر کھڑی ہوتی اپنی زبان کے جوہر دکھانے لگی تھی۔

“مجھے لگا تھا شاید تم جاننا چاہتی ہو مجھے تم کیسی لگ رہی ہو؟”

اس کی جانب ایک قدم بڑھاتا وہ بریرہ کے چہرے سے لٹ نرمی سے ہٹاتا بول رہا تھا۔بریرہ کے دل نے بےساختہ ایک بیٹ مس کی تھی۔

“میں کیسی لگ رہی ہوں؟”

وہ بےساختہ پوچھ بیٹھی۔

“زہرلگ رہی ہو۔۔”

عادل مسکراہٹ دباتا بولا تھا۔

“پھر مجھے کھا کر مر جاو۔۔”

وہ اسے گھورتی منہ بگاڑ کر بولی تھی۔مجال ہے جو مقابل اس کی ٹوٹے منہ سے ہی تعریف کردے۔۔بریرہ کا دل اس کا منہ نوچنے کو چاہا تھا۔جس نے اس کے ارمانوں پر پانی پھیر دیا تھا۔

“میرا ابھی اتنا گندا ٹیسٹ نہیں ہوا۔۔”

عادل گندہ سا منہ بنا کر بولا تھا۔بریرہ کو مرچی لگ گئی تھی۔۔

“تم بھی میرے سٹینڈرڈ لے نہیں ہو آئی سمجھ چھلے ہوئے آلو۔۔”

وہ بھی جوابا چیخ کر بولی تھی۔عادل نے آنکھیں گھماتے مقابل کو گھورا تھا۔۔

“آئیندہ کے بعد مجھ سے تمیز سے مخاطب ہونا شوہر ہوں تمھارا ملازم نہیں۔۔”

بریرہ کا جبڑا جکڑتے عادل اسے ڈرانے کے لیے سرسراتے لہجے میں بولا تھا۔۔بریرہ کی بیک بون میں سنسنی دوڑ گئی تھی۔

“میں تم سے ڈرتی نہیں ہوں۔۔مجھ پر اپنا روعب جمانے کی کوشش مت کرو۔۔”

بریرہ اس کے ہاتھ اپنے چہرے سے جھٹکتی ناگواریت سے بولی تھی۔اسے کہاں منظور تھا مقابل کا استحقاق بھرا لہجہ۔۔

“ہاہاہا۔۔۔اب ساری زندگی تم پر ہی روعب جھاڑوں گا۔۔اس لیے یہ بدتمیزی اور الٹے نام لینے سے پرہیز کرنا کیونکہ مجھے تمھیں روکنے کے بہت سے طریقے آتے ہیں۔۔”

عادل اس کے بالوں کو ہولے سے اپنی گرفت میں لے کر جھٹکا دیتا بولا تھا۔۔بریرہ نے زور سے عادل کا کندھا دبوچتے وہاں اپنے ناخن گاڑھے تھے۔عادل نے تکلیف سے بےساختہ لب بھینچ لیے تھے۔مقابل کے ناخن تیز چھری کی طرح اندر گھستے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔۔

“افف۔۔جنگلی بلی ہو پوری۔۔”

اپنے کندھے سے اس کا ہاتھ جھٹکتا وہ جھنجھلا کر بولا تھا۔۔

“دوبارہ مجھ پر اپنا زور مت چلانا ورنہ تمھارے کندھے کی بجائے اگلی باری تمھارا منہ ہو گا۔۔”

وہ اپنے ناخنوں پر پھونک مارتی ایک ادا سے بولتی ڈریسنگ ٹیبل کے پاس جاتی اپنا عکس دیکھنے لگی تھی۔عادل خاموشی سے اسےگھورتا ہوا فریش ہونے چلا گیا تھا۔

“مجھے گھر چھوڑ کر آو۔۔”

اس کے قریش ہونے کے بعد بریرہ اس سے بولی تھی۔۔

“آج رات یہاں ہی گزار لو کل چھوڑ آوں گا۔۔”

عادل کافی تھک چکا تھا تبھی انکار کر گیا تھا۔

“چچ۔۔پھر تو تمھیں زمین پر سونا پڑے گا۔۔”

بریرہ بیڈ پر تیزی سے چڑھ کر بیٹھتی بولی تھی۔عادل نے اچھنبے سے اسے دیکھا تھا۔۔

“میں کیوں زمین پر لیٹوں گا؟”

اس نے ائبرو اچکاتے پوچھا۔ساتھ ہی تیزی سے وہ بیڈ پر پھیل کر بیٹھ گیا تھا۔

“اگر اتنی ہی پروبلم ہے تمھیں تو تم خود زمین پر لیٹ جانا اب زیادہ بکواس مت کرنا پہلے ہی میرا سر درد سے پھٹ رہا ہے ورنہ ایسا نہ ہو میں تمھیں اٹھا مر باہر پھینک دوں اور اگر کپڑے چینج کرنے ہوئے تو میری الماری سے کوئی شرٹ اور ٹراوزر لے لینا۔۔”

عادل پھیل کر لیٹتا بولا تھا۔۔بریرہ نے بےزاریت سے اسے گھورا تھا۔منہ بنا کر اٹھتی وہ خاموشی سے چینج کرنے چلی گئی تھی۔عادل کی ترتیب سے موجود کپڑوں کو وہ اچھا خاص بگاڑ چکی تھی۔

سکون سے ہاتھ جھاڑتی وہ آرام سے بیڈ پر لیٹ کر عادل کے اوپر سے کمفرٹر کھینچ کر خود کو ڈھانپتی سو گئی تھی۔۔ساری رات ان دونوں نے ایک دوسرے سے کمفرٹر کھینچتے اور ٹانگیں اور بازو ایک دوسرے کو مار کر گزارے تھے اور دونوں ہی سکون سے سو نہیں پائے تھے۔۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

افرحہ پرسکون سی سو رہی تھی جب اچانک آوازیں سنتے اس کی آنکھ کھلی تھی۔۔شاہزیب جو اسے اپنے حصار میں لے کر لیٹا ہوا تھا وہ اسے اپنے حصار سے آزاد کرتا اونچی آواز سے کچھ بڑبڑا رہا تھا۔

“ج۔۔جھوٹ ہے س۔۔سب کچھ۔۔”

“ن۔۔نہیں مم۔۔میں”

ٹوٹے پھوٹے سے الفاظ اس کے منہ سے سر گوشی کی صورت نکل رہے تھے۔۔افرحہ اس کو پسینے میں ڈوبتے دیکھ کر گھبرا گئی تھی۔

اس نے فورا اٹھ کر شاہزیب کے کندھوں پر ہاتھ جماتے اسے اٹھانے کی کوشش کی تھی۔۔

“شاہزیب اٹھ جائیں۔۔”

“آپ برا خواب دیکھ رہے ہیں۔۔آپ بالکل ٹھ۔۔۔”

باقی الفاظ اس کے منہ میں ہی دب گئے تھے جب شاہزیب نے پٹ سے آنکھیں کھولتے اس کو گردن سے دبوچتے تکیے سے لگایا تھا۔وہ اس کے اوپر جھکا سرخ آنکھوں سے اسے گھورنے لگا تھا۔۔افرحہ کو اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہونے لگا تھا۔اس نے شاہزیب کا ہاتھ پکڑ کر ہٹانے کی کوشش کی تھی مگر وہ ناکام تھہری تھی۔۔

“ش۔۔شاہزیب۔۔می۔۔میری طرف د۔۔دیکھیں۔۔”

افرحہ نے اپنا کانپتا ہاتھ اس کے گال پر رکھا تھا۔۔وہ دھیرے سے شاہزیب کا گال سہلاتے ہوئے بول رہی تھی۔شاہزیب فورا ہوش کی دنیا میں لوٹا تھا۔۔

وہ تیزی سے افرحہ کا گلا چھوڑتا بیڈ پر دوسری سائیڈ پر گر گیا تھا افرحہ گہرے گہرے سانس لیتی خود کا تنفس درست کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔

“دوبارہ جب ایسا ہو میرے قریب مت آنا۔۔”

شاہزیب اس کی طرف رخ کرتا سنجیدگی سے بولتا اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا بیڈ سے اٹھ گیا تھا۔۔

سگریٹ کا پیکٹ اٹھاتا وہ کمرے میں موجود بالکونی میں آگیا تھا۔۔سگریٹ لبوں میں دباتے اس نے سلگائی تھی۔۔گہرے گہرے کش لیتا وہ خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔یہ خواب تو کافی عرصے سے اس کے ساتھی تھے لیکن کچھ عرصے سے اسے یہ خواب آنا بند ہوچکے تھے لیکن پاکستان واپس آکر ان کا ایک نیا سلسلہ جاری ہوچکا تھا۔۔

افرحہ اپنا سانس بحال کرتی شاہزیب کے لیے فکر مندی سے ننگے پاوں اٹھتی بالکونی میں گئی تھی جہاں اسے سگریٹ پیتے دیکھ کر افرحہ نے ناک چڑھائی تھی۔وہ جلد ہی شاہزیب کی ساری بری عادتیں چھڑوانے کا عہد کرچکی تھی۔۔

دھیرے سے قدم اٹھاتی وہ دھڑکتے دل سے شاہزیب کی پشت پر کھڑی ہوتی اپنے بازوں کا حصار اس کے گرد باندھ چکی تھی۔۔شاہزیب تو اس کی آہٹ سے ہی پہچان گیا تھا مگر خاموش رہا تھا۔۔

“یہاں کیا کر رہی ہو؟”

شاہزیب سنجیدگی سے ہوا میں دھواں چھوڑتا پوچھ رہا تھا۔۔

“آپ پریشان لگ رہے ہیں۔۔کوئی بات ہے تو آپ مجھ سے شئیر کرسکتے ہیں۔۔اس طرح آپ خود کو ہلکا محسوس کریں گے۔۔”

وہ سمجھداروں کی طرح اس کی پشت سے چہرہ ٹکاتی بول رہی تھی۔۔

“میں نے تم سے کچھ پوچھا تھا ؟ سوئی کیوں نہیں؟”

وہ اس کی بات کو نظر انداز کرکت پوچھنے لگا تھا۔۔افرحہ نے خفگی سے اسے دیکھا

“کھڑوس۔۔”

وہ زیرِ لب بڑبڑائی جو شاہزیب کی سماعتیں بھی سن چکی تھیں۔۔

شاہزیب سگریٹ زمین پر پھینکتے ہوئے افرحہ کی جانب مڑا تھا۔۔اس پر ایک بھرپور نظر ڈالتے شاہزیب کی نگاہ اس کے پاوں کی طرف گئی تھی۔۔

“تم پاگل ہو بنا چپل کے بالکونی میں کیوں آئی۔۔”

وہ اس کی لاپرواہی پر برہم ہوا تھا۔افرحہ کی کمر کے گرد بازو ڈالتے اس نے افرحہ کو اپنے پاوں پر کھڑا کیا تھا۔۔

اب صورتحال کچھ اس طرح تھی کہ افرحہ شاہزیب کے دونوں پاوں پر اپنے پیر جما کر کھڑی تھی شاہزیب نے افرحہ کی کمر کے گرد مضبوطی سے حصار باندھا ہوا تھا۔۔وہ اب بھی بمشکل اس کے کندھوں تک پہنچ رہی تھی۔شاہزیب سر جھکا کر اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔

“دوبارہ ایسی بےوقوفی مت کرنا۔۔”

شاہزیب کے سنجیدگی سے بولنے پر افرحہ نے منہ پھولایا تھا۔۔

“اوکے۔۔اب اندر چلیں مجھے ٹھنڈ لگ رہی ہے۔۔”

افرحہ ٹھنڈی ہوا محسوس کرتی بولی تھی۔۔شاہزیب نے اس کی کمر کے گرد بازو ڈالتے اسے باہوں میں بھرا تھا۔۔افرحہ نے فورا اپنا بازو اس کی گردن میں ڈالتے اس کے سینے پر سررکھا تھا۔۔

شاہزیب کی ٹھنڈی انگلیوں کا لمس اپنے وجود پر محسوس کرتے اسے سرسراہٹ محسوس ہو رہی تھی۔۔

شاہزیب نے نرمی سے اسے بیڈ پر لاکر لیٹایا تھا۔۔اس کی نظر افرحہ کی گردن پر موجود اپنی انگلیوں کے نشان پر گئی تھی۔وہ بےساختہ اپبے لب بھینچ گیا تھا۔۔

“اٹس اوکے شاہزیب۔۔”

اس کی نظروں کا زاویہ دیکھتے افرحہ نرمی سے بولی تھی۔۔شاہزیب نے ایک نظر اس کے چہرے پر ڈالتے بےساختہ جھکتے افرحہ کی گردن پر شدت سے اپنے لب رکھے تھے۔۔اس کی جسارت پر افرحہ کانپ اٹھی تھی۔۔

” A hero will kill you to save the world.”

“But a villain will destroy the world to save you.”

“And I am a villain for you “

شاہزیب اس کے کان کے پاس جھکے شدتِ جذبات سے بولا تھا۔۔افرحہ کی آنکھیں تحیر سے پھیل گئی تھی۔دل پسلیاں توڑ کر باہر انے کو کر رہا تھا۔۔وہ شاہزیب کی محبت کا اندازہ چاہ کر بھی نہیں خگا سکتی تھی۔۔

شاہزیب اس کے ماتھے پر اپنے تشنہ لب رکھتا اسے اپنے حصار میں لیتا دوبارہ لیٹ گیا تھا افرحہ کافی دیر اس کے الفاظوں کے سحر میں کھوئی رہی تھی۔۔۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

افرحہ شاہزیب سے پہلے اٹھ گئی تھی۔۔دھیرے سے خود کو اس کی گرفت سے آزاد کرواتی افرحہ فریش ہوکر باہر نکلی تھی جب روم کے دروازے پر ناک ہوا تھا وہ اوندھے منہ لیٹے شاہزیب پر نظر ڈالتی دروازے پر گئی تھی۔۔

“یہ سر نے آپ کے لیے کپڑے منگوائے تھے۔۔”

ملازمہ اپنے ہاتھ میں موجود کئی شاپنگ بیگز دکھاتی ہوئی بولی تھی۔۔

“یہاں رکھ دیں۔۔”

وہ بیگز روم میں رکھواتی ملازمہ کو ناشتہ تیار کرنے کا بولتی بھیج چکی تھی۔۔شاپنگ بیگ میں سے ایک خوبصورت سا برینڈڈ سی گرین کلر کا شارٹ فراک تنگ پاجامہ اور شفون کا دوپٹہ اٹھائے وہ شاور لینے چلی گئی تھی۔۔

اپنے بال سکھاتی وہ واشروم سے نکلتی ڈریسنگ ٹیبل پر بیٹھ گئی تھی۔۔اپنے بالوں کو کنگھی کرتے اس کی نظر بےساختہ آئینے سے بیڈ پر لیٹے شاہزیب پر گئی تھی۔۔

شاہزیب نیند سے اٹھ کر بیٹھ گیا تھا۔اس کی نظریں افرحہ پر ہی مرکوز تھیں۔۔

“ایسے کیا دیکھ رہے ہیں ؟ حوصلہ رکھیں آپ کے ہی ہیں۔۔”

وہ دلفریب مسکراہٹ کے ساتھ بولی تھی۔۔ایک ہلکی سی مسکان نے شاہزیب کے چہرے کا احاطہ کیا تھا۔۔

“یس یو آر مائن۔۔اونلی مائن۔۔”

وہ افرحہ کی من موہنی صورت کو نظروں کے حصار میں رکھے نیند سے بھاری آواز میں بولا تھا۔۔افرحہ کی دھڑکنیں اس کی آواز پر منتشر ہوئیں تھیں۔۔

وہ کتنا پوزیسیو تھا اس کے معاملے اسے ابھی اس بات کا اندازہ نہیں تھا۔۔

“آپ فریش ہوجائیں میں آپ کا ڈریس نکال دیتی ہوں۔۔”

وہ لرزتی پلکوں کو جھکاتی نرمی سے بولی تھی۔۔شاہزیب کے ہونٹ ہلکے سے اوپر اٹھے تھے۔۔

شاہزیب سر ہلاتا اٹھ کر فریش ہونے چلا گیا تھا۔۔افرحہ نے اٹھ کر اس کے لیے گرے رنگ سوٹ نکال دیا تھا۔

اپنے گلے میں دوپٹہ ڈالتی وہ بالوں کو کیچر میں مقید کیے کمرے سے نکل آئی تھی۔۔نظریں ادھر ادھر گھماتی وہ گھومتی ہوئی آکر کار کیچن میں پہنچ گئی تھی۔۔۔ملازمہ سے ناشتہ لگواتے افرحہ کو یہ بھی پتا چل گیا تھا کہ شاہزیب یہاں اکیلا ہی رہتا ہے اس کے گھروالے دوسرے گھر میں رہتے ہیں۔۔جسے سن کر افرحہ کا موڈ بگڑا تھا۔۔

اسے لگ رہا تھا شاہزیب شاید اسے اپنے گھر والوں سے ملوانا نہیں چاہتا تھا تبھی اسے چھپا کر یہاں رکھ رہا ہے۔۔

وہ ابھی انھیں سوچوں میں گم تھی۔جب بھاری مردانہ آواز سنتے وہ اچھل پڑی تھی۔۔

“اسلام علیکم!”

شاہانہ چال چلتے حاتم شاہ اپنی مخصوص بھاری مردانہ آواز میں بولے تھے۔۔افرحہ نے انھیں۔انجان نظروں سے دیکھا تھا۔

وہ دھیرے سے منہ میں ان کے سلام کا جواب دے چکی تھی۔۔حاتم شاہ نے ایک تنقیدی نگاہ افرحہ پر ڈالی تھی جس کے پیچھے ان کا پوتا پاگل ہوا پڑا تھا۔۔یہاں تک کہ وہ اپنا ہی وعدہ توڑ کر واپس پاکستان بھی آچکا تھا۔

“میں شاہزیب کا دادا ہوں۔۔”

حاتم شاہ نے اپنا تعارف کروایا۔۔افرحہ کی آنکھیں ایک پل کو پھیلی تھیں پھر اس کے چہرے پر ایک بڑی سی مسکراہٹ نمایا ہوئی تھی۔۔۔

“دادا جان آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا ؟ بیٹھیں میں آپ کے لیے کھانا لگواتی ہوں۔۔”

افرحہ خوشی سے چہکتے ہوئے بولی تھی اپنے دادا جان تو بچپن میں کھو چکی تھی تبھی انھیں دیکھتی وہ خوش تھی۔۔حاتم شاہ اس کی خوشی دیکھ کر حیران ہوئے تھے۔۔

افرحہ انھیں ٹیبل پر بیٹھاتی ان کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنے لگ پڑی تھیں۔۔

“آپ یہاں کیا کر رہے ہیں دادا؟”

اپنی کمر پر بازو باندھے وہ شان سے چلتا ڈائننگ روم میں داخل ہوا تھا ان کا یوں بنا بتائے آجانا شاہزیب کو ہضم نہیں ہوا تھا۔۔

“میں اپنی بہو سے ملنے آیا ہوں تمھیں تو فرصت نہ ملی ان بوڑھی آنکھوں کو اپنی بیوی دیکھانے کہ سو میں خود چلا آیا۔۔”

وہ چہرے پر بےچارگی سجائے جس انداز میں بولے تھے افرحہ فورا پگھل گئی تھی اس نے خشمگی نظروں سے شاہزیب کو گھورا تھا جو اس کی گھوری کو نظر انداز کرتا خود حاتم شاہ کو دیکھتا نفی میں سر ہلانے لگا تھا۔۔

“آپ ابھی جوان ہی دادا ان کی باتوں میں مت آئیں ان کی خود کی روح بہت ضعیف ہے۔۔”

افرحہ ان کا جی بہلانے کے لیے بولی تھی۔شاہزیب نے ائبرو اچکاتے اس ٹڈی کو گھورا تھا جو حاتم شاہ کے سامنے شیرنی بن رہی تھی۔۔

“یہ میں فرصت سے تمھیں بتاوں گا میری روح کتنی ضعیف ہے۔۔”

وہ ہر لفظ چباتا ہوا بولا تھا۔۔افرحہ کے گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی تھی۔۔

“مجھے ناشتہ سرو کرو۔۔”

شاہزیب اس کی ہوا نکلتی ہوئی دیکھ کر مسکراہٹ چھپاتا سنجیدگی سے بولا۔۔افرحہ اٹھ کر خاموشی سے اسے ناشتہ سرو کرتی شاہزیب کے ساتھ ہی بیٹھ گئی تھی۔۔

“میرے ساتھ ہی ناشتہ کھالو۔۔الگ کھانے کی ضرورت نہیں۔۔”

شاہزیب افرحہ کو الگ پلیٹ میں کھانے سے روکتا بولا تھا۔۔حاتم شاہ نے حیرت سے پوتے کو دیکھا تھا جو کبھی کسی کو اپنا جوٹا نہ کھانے دیتا تھا اور نہ ہی کسی کے ساتھ کھاتا تھا۔۔ضرور افرحہ میں ہی کچھ ایسا تھا کہ وہ ہر چیز اور حدسے گزرجاتا تھا۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *