Professor Shah by Zanoor Writes NovelR50559 Professor Shah (Episode 37)
Rate this Novel
Professor Shah (Episode 37)
Professor Shah by Zanoor Writes
شاہزیب نے سیڑھیاں اتر کر آتی افرحہ کو محبت بھری نظروں سے دیکھا تھا۔آج اس کی برتھ ڈے پارٹی تھی جسے حاتم شاہ کے اصرار پر شاہزیب نے گھر میں ارینج کروایا تھا ورنہ اس کا دل کہیں اور سیلبیریٹ کرنے کا تھا۔
وائٹ فراک جو اس کے پیروں کو چھو رہا تھا ساتھ ریڈ ہیلز اور میک اپ کے نام پر سرخ لپ اسٹک اور کھلے بال چھوڑے وہ شاہزیب کو ساکت کرگئی تھی۔ہر قدم اٹھاتی وہ مقابل کے دل پر بجلیاں گرا رہی تھی۔
شاہزیب نے آگے بڑھتے اس کا ہاتھ پکڑتے اسے کمر سے تھام کر اپنے ساتھ لگایا تھا۔
“دل کر رہا ہے تمھیں باہوں میں بھر کر سب سے چھپا لوں۔۔کوئی تمھیں اس روپ میں نہ دیکھ پائے۔۔”
وہ سب کی نظریں افرحہ پر محسوس کرتا گھمبیر آواز میں بولتا اس کی کمر پر گرفت مضبوط کر گیا تھا۔
شاہزیب کی باتوں اور اس کے پوزیسیو انداز نے اس کے رخسار سرخ کر دیے تھے۔اس نے زور سے چٹکی شاہزیب کے بازو پر کاٹی تھی۔جس پر شاہزیب صرف سرد آہ بھر کر رہ گیا تھا۔
“شرم کریں سب کی نظریں ہم پر ہی ہیں۔۔”
وہ آنکھیں دکھا کر بولتی شاہزیب کو بےحد کیوٹ لگی تھی۔ہیلز پہن کر وہ اس کے کندھے تک آرہی تھی۔
“تو میں کیا کروں؟ میری بیوی ہو میرا جو دل چاہے گا میں وہ ہی کروں گا۔۔”
وہ اس کی بالوں کی لٹ کو سنوارتا بولا تھا۔افرحہ نے خفگی سے اسے غصے سے گھورا تھا جس پر وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا مسکرا گیا تھا۔
“شاہزیب مت تنگ کرو میری بیٹی کو۔۔”
شاہزیب اپنے پیچھے سے حاتم شاہ کی بات سن کر خفیف سا مسکرا کر رہ گیا تھا۔جبکہ افرحہ شرمندگی سے سر جھکا گئی تھی۔
دور کھڑی فاطمہ بیگم کی نظروں نے حسد اور غصے سے انھیں دیکھا تھا۔میر شاہ مروتا سب سے مل رہے تھے۔نورے پارٹی میں آنے کی بجائے اپنے کمرے میں چھپ کر بیٹھی تھی۔
“آجاو کیک کرتے ہیں پہلے ہی بہت دیر ہوگئی ہے۔۔”
حاتم شاہ بولے تھے۔افرحہ نے مسکرا کر سر ہلا دیا تھا۔حاتم شاہ افرحہ کے کیک کٹنگ کے بعد شاہزیب کو کمپنی کا نیو اونر اناونس کرنے والے تھے جس سےسب بےخبر تھے۔
“ہیپی برتھ ڈے میری جان۔۔”
افرحہ کے کان کے قریب جھکتے شاہزیب نے مسکرا کر کہا تھا۔جس سے اس کے چہرے پر ایک حسین مسکراہٹ بکھف گئی تھی۔
افرحہ نے کیک کٹ کرتے پہلے شاہزیب کے منہ میں ڈالا تھا اور بعد میں حاتم شاہ کو کھلایا تھا۔جس پر انھوں نے مسکرا کر کھاتے اسے ایک اینولیپ پکرایا تھا۔
“اس کی کیا ضرورت تھی دادا جان ؟”
اس نے سنجیدگی سے پوچھا تھا۔
“اسے اوپن کرکے دیکھ۔”
حاتم شاہ کی بات پر افرحہ نے مسکرا کر وہ اوپن کیا تھا۔جسے دیکھتے افرحہ حیران رہ گئی تھی۔انھوں نے اسے ایک گھر گفٹ کیا تھا جو اس کے پیرنٹس گھر کے ساتھ تھا۔افرحہ نے نم آنکھوں سے انھیں دیکھا تھا۔
اس دن کے بعد سے اسکے پیرنٹس نے اس سے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا۔جس پر وہ مکمل طور پر مایوس ہوچکی تھی۔
“تھینک یو دادا جان۔۔”
وہ مسکرا کر بولی تھی جس پر حاتم شاہ نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔
“میرا گفٹ دیکھنے کے لیے تمھیں اپنی آنکھیں بند کرنی پڑیں گی۔۔”
شاہزیب کے کہنے پر افرحہ نے ائبرو اچکاتے اسے دیکھا تھا پھر دھیرے سے اپنی آنکھیں بند کرلی تھیں۔۔
“اب آنکھیں کھولو۔”
شاہزیب اسے دو قدم آگے لے کر بڑھتا بولا تھا۔
افرحہ نے دھیرے سے آنکھیں کھولی تھیں اور اس کی آنکھیں بےیقینی سے کھلی رہ گئی تھیں۔۔
سامنے ہی اس کے پیرنٹس اپنے چہروں پر پیار بھری مسکراہٹ سجائے کھڑے تھے۔
“بابا جانی۔۔۔ مما۔۔ م۔۔مجھے یقین نہیں آرہا۔۔”
وہ کانپتی آواز میں بولی تھی۔شاہزیب نے اسے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا تھا۔وہ مسکرا کر بھاگتی رحیم صاحب کے بازوں میں سما گئی تھی۔
“تھینک یو بابا جانی۔۔”
وہ نم آنکھوں سے بولی تھی۔رحیم صاحب نے مسکرا کر اسےدیکھا تھا۔
“آپ لوگ یہاں موجود ہیں مجھے یقین نہیں آرہا۔۔”
وہ ماجدہ بیگم کا ہاتھ تھام کر چومتی بولی تھیں۔
“یہ سب شاہزیب کی وجہ سے ہوا ہے۔۔وہ ہمارے گھر آیا تھا۔اس نے ایک موقع ہم سے مانگا تھا جس کے لیے ہم مان گئے۔۔”
رحیم صاحب نے جواب دیا تھا۔انھوں نے بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا تھا۔اپنی اکلوتی اولاد سےدور رہنا ان کو بھی کہاں منظور تھا۔۔
افرحہ نے نم پلکوں اور حسین مسکراہٹ سے شاہزیب کی طرف دیکھا تھا جو حاتم شاہ سے باتوں میں لگا تھا۔
“مجھے خوشی ہے آپ لوگ آئے۔۔”
وہ دونوں کے ہاتھ باری باری چوم کر آنکھوں سے لگاتی بولی تھی۔
اہنے پیرنٹس سے ایکسکیوز کرتی وہ شاہزیب سے بات کرنے جانے لگی تھی جب اس کا فون رنگ ہوا۔وہ بالکل ہال کے درمیان میں کھڑی تھی۔
اس نے فون پر ان ناوئن نمبر دیکھتے اسے واپس اپنے کلچ میں رکھنا چاہا تھا جب شاہزیب کی اونچی آواز اس کے کانوں میں پڑی تھی۔
“افرحہ۔۔۔۔”
شاہزیب کی پکار کے ساتھ ہی اسے شاہزیب تیزی سے اپنی طرف آتا دکھائی دیا تھا۔
چھت سے لگا قیمتی شیشے کا فانوس ٹوٹ کر افرحہ پر گرنے لگا تھا جب شاہزیب نے بروقت اسے دھکا دے کر وہاں سے دور کردیا تھا۔ لیکن وہ خود اس سے بچ نہ پایا تھا۔ کانچ کے ٹکڑے اڑتے اس کی جلد میں گھس گئے تھے۔ ہال میں ایک دم چیخیں بلند ہوئی تھیں۔۔
“شاہزیب۔۔۔”
افرحہ سیدھی ہوتی چیخ کر پکارتی شاہزیب کے پاس آئی تھی جس کی کمر پر اچھے خاصے کانچ کے ٹکڑے کھب گئے تھے۔۔
“دور رہو۔۔۔تمھیں کانچ لگ جائے گا۔۔”
اس نے سخت آواز میں افرحہ کو روکا تھا۔ جس کے منہ سے بے اختیار سسکاری نکل آئی تھی۔
“شاہزیب۔۔۔”
اس کے منہ سےسسکاری سنتا شاہزیب ہمت کرکے اٹھتا اس تک آیا تھا۔
“کوئی ڈاکٹر کو بلاو۔۔۔”
شاہزیب کو اپنے پیچھے سے حاتم شاہ کی آواز سنائی دی تھی۔
“تم ٹھیک ہو نہ ؟”
افرحہ کو زورسے خود میں بھینچتے شاہزیب نے بھاری آواز میں پوچھا تھا۔افرحہ کو کھو دینے کے خوف سے اس کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا۔
“شاہزیب آ۔۔آپ کو میری وجہ سے چوٹ لگ گئی ہے۔۔”
وہ روتے ہوئے بولی تھی۔وہ شاہزیب کی کمر کے گرد بازو پھیلانے سے اجتناب کر رہی تھی کہ کہیں کانچ کے ٹکڑے اسے چھب ہی نہ جائیں۔۔
“آئی ایم آلرائیٹ۔۔”
افرحہ کے ماتھے پر شدت سے بوسہ دیتا وہ اٹل لہجے میں بولا تھا۔
“اب تمھاری آنکھوں میں آیک آنسو بھی مجھے دکھائی نہیں دینا چاہیے فورا آنکھیں صاف کرو۔۔مجھے منظور نہیں میری وجہ سے ایک بھی آنسو تمھاری آنکھ میں آئے۔۔”
اس کی بات پر افرحہ کے رونے میں مزید شدت آگئی تھی۔
“اسے چپ کروائیں آنٹی۔۔”
افرحہ کے پیرنٹس کو دیکھتا وہ لب بھینچ کر بولا تھا۔
افرحہ کسی بھی حال میں چپ نہیں ہورہی تھی۔شاہزیب کی خون سے بھیگتی شرٹ دیکھ کر اس کے آنسو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔مہمان سارے گھر چلے گئے تھے۔ابھی صرف گھر والے ہی موجود تھے۔ڈاکٹر تھا کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔
شاہزیب کی اپنی بیٹی کے لیے محبت دیکھتے رحیم صاحب اور ماجدہ بیگم حیران رہ گئے تھے۔
“ایک منٹ دیں مجھے۔۔”
وہ سب کو بولتا افرحہ کو بازو سے پکڑ کر روم میں لے گیا تھا۔
اس کی گردن میں ہاتھ ڈالتے شاہزیب نے ایک جھٹکے میں اس کا چہرہ اوپر اٹھایا تھا۔
“اگر ایک منٹ سے پہلے رونا بند نہ کیا تو خود کو میں ایسی اذیت دوں گا تم بولنے کے بھی قابل نہیں رہو گی۔۔”
شاہزیب کی بات نے اس کے رونگھٹے کھڑے کر دیے تھے۔
“ش۔۔شاہزیب۔۔”
اسے روتے ہوئے سانس لینے میں دشواری ہورہی تھی۔شاہزیب نے اس کا سر اپنے سر سے جوڑتے اس کے آنسو نرمی سے صاف کیے تھے۔۔
“شش۔۔ سب کچھ ٹھیک ہے۔۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔اب ایک بھی آنسو تمھاری آنکھ سے نکلنا نہیں چاہیے ورنہ جس نے یہ سب کیا ہے اسے تمھارے سامنے کھڑا کرکے آگ لگا دوں گا۔۔”
اس کا رونا اسے اذیت دے رہا تھا تبھی وہ زخمی شیر کی طرح دھاڑا تھا۔
“م۔۔میں ڈ۔۔ڈر گگ۔۔گئی تھی۔۔”
وہ لب بھینچ کر بولی تھی۔شاہزیب نےشدت سے اس کی آنکھوں کوچوما تھا جن میں رونے کی وجہ سے سرخ ڈورے دکھائی دینے لگے تھے۔۔
“افرحہ ایک آنسو بھی مزید مت بہانہ یہی کانچ اپنی کمر سے نکال کر سینے میں گھسا لوں گا۔۔”
وہ شدت بھرے لہجے میں بولتا افرحہ کو ڈرا گیا تھا۔افرحہ نے زور سے اس کا کالر پکڑا تھا۔
“میں خود کو کچھ کرلوں گی شاہزیب۔۔”
وہ غصے سے اپنی گیلی پلکوں کی جھالر اٹھا کر اسے دیکھتی چیخی تھی۔شاہزیب نے اس کے گال پر بہتا آنسو اپنے انگوٹھے سے مضبوطی سے صاف کیا تھا۔
شاہزیب نے اس کے سرخ ہونٹوں کو نرمی سے چھوتے اس کی بولتی بند کروا دی تھی۔
“دوبارہ ایسا کبھی مت بولنا افرحہ شاہزیب شاہ۔۔ورنہ تمھیں اپنے ہاتھوں ختم کردوں گا۔۔”
اس کے لہجے میں شدت تھی۔افرحہ اپنے آنسو روکتی ایک دم چپ ہوگئی تھی۔
باہر سے حاتم شاہ کی آوازسن کر وہ باہر نکل آئے تھے۔ڈاکٹر آچکا تھا۔اور شاہزیب کی مرہم پٹی کرچکا تھا۔اس سارے عمل کے دوران شاہزیب تو البتہ چپ تھا مگر افرحہ کی بار بار سسکاری نکل رہی تھی۔
وہ بنا کسی کا لحاظ کیے افرحہ کو اپنے ساتھ لگا کر بیٹھا تھا۔سب لوگ ان کی کیفیت سمجھ کر خاموش تھے۔فاطمہ بیگم آرام سے روم میں جاچکی تھیں جبکہ میر شاہ خاموشی سے ایک سائیڈ پر کھڑے وہ کچھ بول تو نہیں رہے تھے البتہ ان کے چہرے سے پریشانی صاف دکھائی دے رہی تھی۔
افرحہ کے پیرنٹس شاہزیب کو اس کی بچوں کی طرف کئیر کرتے دیکھ کر حیران تھے۔اتنی کئیر وہ جانتے تھی زید بالکک بھی نہ کرپاتا۔۔۔وہ تو اسے شہزادیوں کی طرح ٹریٹ کر رہا تھا محبت سے اس کو ساتھ لگائے اس کے بال سہلا رہا تھا۔ہاں وہ شہزادی ہی تھی جو شاہزیب کے پتھر دل کو موم کرتی بڑی شان سے اس کے دل پر راج کرنے لگی تھی۔
ڈاکٹر کے جانے کے بعد افرحہ کے پیرنٹس بھی چلے گئے تھے۔میر شاہ بھی ایک نظر ڈال کر کمرے میں چلے گئے تھے۔حاتم شاہ انھیں ریسٹ کرنے کا بولتے خود بھی چلے گئے تھے۔رات کافی ہوگئی تھی۔باقی معاملہ وہ صبح دیکھنے کا سوچ رہے تھے۔
شاہزیب افرحہ کو اپنے حصار میں لیتا اپنے کمرے میں جانے لگا تھا جب اسے اپنے کمرے سے تھوڑی دور نورے کھڑی دکھائی دی تھی۔
وہ ساکت نگاہوں سےاسےدیکھ رہی تھی۔
“نورِ دل۔۔”
شاہزیب نے محبت سے اسے پکارا تھا۔وہ بچپن سے اسے یہ ہی پکارتا تھا۔
“مجھے دوبارہ اس نام سے مت پکاریے گا۔۔نورِ دل بہت پہلے مرچکی ہے۔۔اب صرف نورے ہے۔۔”
وہ سرد آواز میں بولتی مڑ گئی تھی۔جبکہ شاہزیب اپنی جگہ ساکت رہ گیا تھا۔افرحہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر حوصلہ دیتی اسے کمرے میں لے آئی تھی۔لیکن نورے کی باتوں نے شاہزیب کو پریشان کر دیا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
ہوسپٹل کی تیز چندھیاں دینے والی روشنی سے اس کی آنکھیں کھولی تھیں۔وہ پلکوں کو جھپکتا اپنے سر کے اوپر موجود سفید چھت کو گھورنے لگا تھا۔
ایک دم سب یاد آتے وہ اٹھ کر بیٹھنے لگا تھا جب کندھے میں اٹھتے شدید درد نے اسے روک دیا تھا۔
“ڈیم اٹ۔۔۔”
وہ زورسے چیخا تھا۔
اس کی آواز سنتے باہر موجود موجود نرس تیزی سے اندر آئی تھی اسے ہوش میں آتے دیکھ کر سب لوگوں کو جلدی سے انفارم کر دیا گیا تھا۔
“میری بیوی کہاں ہے ؟”
اس نے سب سے پہلے نرس سے یہ ہی سوال کیا تھا۔نرس خاموشی سے اپنا کام کر رہی تھی۔جب عادل اونچی آواز میں چیخا تھا۔
“میری بیوی کہاں ہے؟”
اس کی آواز سے باہر موجود روحان ، ڈینیل اور عادل کے چند کولیگز تیزی سے اندر آئے تھے۔
“بریرہ کہاں ہے روحان۔۔”
اس نے سب کو دیکھ کر بریرہ کی غیر موجودگی محسوس کرتے چیخ کر پوچھا تھا۔روحان کے سر پر بندھی پٹی اور سب لوگوں کی خاموشی نے اسےاس کا جواب دے دیا تھا۔
“کسی نے تمھارے گھر داخل ہوکر روحان پر حملہ کیا تھا اور بریرہ کو کڈنیپ کرلیا ہے۔۔ہمارا شک اس کے پیرنٹس پر ہے۔۔”
ڈینیل کی آواز کمرے کی گہری خاموشی میں گونجی تھی۔
“کتنی دیر سے وہ غائب ہے؟”
اس نے لب بھینچتے پوچھا۔
“چوبیس گھنٹوں سے۔۔”
ڈینیل کے جواب نے اسے مشتعل کردیا تھا۔غصے میں اس کے ہاتھ میں جو چیز آئی تھی اس نے وہ اٹھا کر دیوار پر دے ماری تھی۔
“سب لوگ یہاں سے چلیں جائیں مجھے ڈینیل اور روحان سے بات کرنی ہے۔۔”
عادل سرد لہجے میں بولا تھا۔
“ہمیں تمھارا بیان ریکارڈ کرنا ہے تمھارے اوپر ہوئے حملے کے متعلق۔۔”
اس کا کولیگ بولا تھا۔
“فورا نکلو یہاں سے مجھے کوئی بیان نہیں دینا۔۔”
اس کی حالت سمجھتے وہ لوگ خاموشی سے نکل گئے تھے۔
“مجھے ہر حال میں دو گھنٹے کے اندر اندر شہروز اور اس کی بیوی کی لوکیشن چاہیے۔۔مجھے نہیں ہتا تم یہ کیسے کرو گے۔۔لیکن جو کرنا ہے جلدی کرو اور اس کی لوکیشن پتا لگواو۔۔”
وہ غصے سے بولا تھا۔
“میرے لوگ اس پر کام کر رہے ہیں ٹیک اٹ ایزی ریسٹ کرو۔۔تمھارا کام ہوجائے گا۔۔”
ڈینیل نے تسلی بخش انداز میں کہا تھا جس پر عادل سر جھٹک کر رہ گیا تھا۔
“تم اپنی شکل لے کر گم ہوجاو ایک بریرہ کی حفاظت کے لیے کہا تھا وہ بھی نہیں کرسکے۔۔”
عادل غصےسےدانت پیس کر بولا تھا۔روحان شرمندہ ہوکر رہ گیاتھا۔تبھی عادل کی بات پر فورا باہر نکل گیا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
“میں اس کو مار دوں گی۔۔و۔۔۔وہ کیسے شاہزیب کے ساتھ رہ سکتی ہے میرے ہوتے ہوئے۔۔ اس کے ساتھ اور پاس صرف مجھے ہوبا چاہیے۔۔”
غصے کی شدت سے کانپتی وہ بڑبڑائی تھی۔شاہزیب سے افرحہ کو دور کرنے کے لیے اس نے ہی وہ فانوس گرا کر اسے مارنے کی پلاننگ کی تھی جو بےحد ناکام رہی تھی۔
“تمھارا دماغ خراب ہوگیا ہے؟؟ آہستہ آہستہ پاگل ہونے لگی ہو۔۔چھوڑ دو اسکا پیچھا اب شادی شدہ ہے وہ اور اپنی بیوی سے محبت کرتا ہے۔۔”
ارشد اونچی آواز میں چیخا تھا۔زباریہ نے ناگواریت اور غصے سے اسے گھورا تھا۔
“میرا سکون برباد کرکے میں انھیں بھی سکون سے نہیں رہنے دوں گی۔۔”
وہ اس سے بھی اونچی آواز میں چیخی تھی۔
“تم سے شادی کرنا میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔مجھے تو کسی شاہزیب جیسے خوبرو جوان شخص سے شادی کرنی چاہیے تھی۔۔”
وہ آج پہلی بار ایسی بات بولی تھی۔ارشد نے غصے سے اسے دیکھا تھا۔پیشمانی سے اپنا سر جھٹکتا وہ زباریہ سے اپنا پیچھا چھڑوانے کے بارے میں سوچنے لگا تھا۔
“مجھے تکلیف دی ہے نہ شاہزیب۔۔۔تمھیں اس سے دوگنی تکلیف دوں گی۔۔”
اس نے شیطانی مسکراہٹ سے بولتے اپنا موبائک نکالا تھا اور کسی کو کال ملائی تھی۔
“اس بار کام ہوجانا چاہیے کوئی بھی غلطی نہیں ہونی چاہیے۔۔”
وہ سخت لہجے میں بولتی فون بند کرگئی تھی۔ اس کے ہونٹوں پر ایک زہریلی سی مسکراہٹ تھی۔جس کے پیچھے بس تباہی ہی تھی۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
“آہہہ۔۔”
اپنے بال زور سے کھینچے جانے پر درد کی شدت سے اس کی آنکھ کھلی تھی۔مسز شہروز نے اس کے بال دبوچ کر اس کا چہرہ اوپر اٹھایا تھا۔
“ویلکم بیک سویٹ ہارٹ۔۔”
مسزشہروز نے ایک زور دار تھپڑ اسے مارتے ہوئے کہا تھا۔
بریرہ کو اپنا کان بند ہوتا محسوس ہوا تھا۔
“تمھیں کیا لگا تھا اس گھٹیا شخص کے ساتھ مل کر ہمیں برباد کردو گی ؟ “
بریرہ کے منہ کو زور سے دبوچ کر مسز شہروز پھنکاری تھی۔بریرہ نے حقارت سے انھیں گھور کر دیکھا تھا۔
“بالکل ایسی ہی تمھاری ماں تھی۔۔بالکل تمھاری جیسی شکل تھی اس کی۔۔۔مجھے سخت نفرت تھی اس سے ہر جگہ ، ہر کام میں وہ سب سے آگے رہتی تھی۔اپنے آپ کو مجھ سے بلند تر سمجھتی تھی۔اس کا میں نے ایسا حال کیا کہ وہ تڑپتی ہوئی مرگئی۔۔”
اس کی باتیں سن کر بریرہ کی آنکھیں پھیل گئی تھیں۔۔
“تمھاری ماں میری بہن تھی۔مجھے اس سے بےحد جلن محسوس ہوتی تھی وہ عیش و عشرت کی زندگی جی رہی تھی۔جب کہ میں شہروز کے ساتھ رل رہی تھی۔۔۔”
“میں نے ایک سکیم کھیلی۔۔اس پاگل سے معافی کر اسے اپنے جال میں پھنسایا۔۔میں جانتی تھی ان کے مرنے کے بعد ساری پروپرٹی تمھارے نام ہوجائے گی۔۔تبھی ہم نے پلان بنا کر پہلے تمھارے اڈپشن پیپرز پر سائن کروا لیے تھے تاکہ بعد میں کورٹ کوئی مسئلہ نہ کھڑا کرے۔۔اس کے بعد تمھارے ماں باپ کو مارنے میں مجھے جو مزا آیا تھا۔۔اس کا میں بتا نہیں سکتی۔۔”
“اس کی درد بھری چیخیں میرے کانوں میں سنگیت کی طرح گونجتی تھیں۔۔آہ۔ بہت مزے کے دن تھے وہ۔۔ تمھاری شکل دیکھتی تھی تو تمھاری ماں یاد آجاتی تھی۔تبھی تمھارے خوبصورت چہرے پر وقفےوقفے سے اپنی انگلیوں کے نشان چھوڑنا مجھے سکون دے دیتا تھا۔۔ تمھارے ماں باپ کے مرنے کے بعد ساری دولت ، شہرت اور عیش و عشرت والی زندگی میری ہوگئی تھی۔۔بس رکاوٹ یہ تھی ساری دولت تمھارے نام تھی مگر وہ بھی ہم تم سے سائن کروا کر بڑی چالاکی سے اپنے نام کرواچکے ہیں۔۔بےوقوف عورت کی بےوقوف بیٹی۔۔ “
وہ بولتی ہوئی پاگلوں کی طرح ہنسی تھی جبکہ بریرہ کی کانچ سی آنکھوں میں پانی بھر آیا تھا۔منہ میں تھوک جمع کرتے اس نے مسز شہروز کے چہرے پر پھینکا تھا۔
“کمینی۔۔ زلیل۔۔”
مسز شہروز چیخی تھی اور ساتھ ہی بریرہ کے چہرے پر پے در پے تھپڑ برسا گئی تھیں۔
“ایسی درد ناک موت دوں گی تمھاری روح تک کانپ جائے گی۔۔”
وہ ادھ موی بریرہ پر ایک حقارت بھری نگاہ ڈال کر وہاں سے چلی گئی تھی۔۔
بریرہ نے ببد ہوتی آنکھوں سے بس یہ دیکھا تھا کہ وہ ایک بند کمرے میں ہے جہاں روشنی کا نام و نشان بھی نہ تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
نیا دن شاہ پیلس پر قیامت بن کر ٹوٹا تھا۔شاہزیب جو افرحہ کے گرد حصار ڈالے سکون سے سویا ہوا تھا۔ملازنہ کے زور زور سے دروازہ کھٹکھٹانے پر اس کی اور افرحہ کی آنکھ کھلی تھی۔
“کیا ہوا صبح صبح دروازہ کیوں توڑ رہی ہو؟”
شاہزیب نے شرٹ پہن کر دروازہ کھولتے ملازمہ سے پوچھا تھا۔
“صاحب جی بٰے صاحب کی طبعت اچانک خراب ہوگئی ہے انھیں ہوسپٹل لے کر گئے ہیں ایمرجنسی میں۔۔انھیں دوبارہ ہرٹ اٹیک ہوا ہے۔۔”
ملازمہ کی بات نے شاہزیب کے پیروں تلے سے زمین کھینچ دی تھی۔
“میں ہوسپٹل جارہا ہوں افرحہ تم یہاں ہی رکو۔۔”
وہ گاڑی کی چابیاں اٹھاتا بولا تھا۔
“میں بھی آپ کے ساتھ آرہی ہوں۔۔ پانچ منٹ بس۔۔”
وہ جلدی سے ڈریس چینج کرتی شاہزیب کے ساتھ پوسپٹل کے لیے نکل گئی تھی۔
“کیا ہوا ہے دادا جان کو؟”
شاہزیب نے لب بھینچ کر میر شاہ سے پوچھا تھا جو آپریشن تھیٹر کے باہر بازو باندھے پریشان سےکھڑے تھے۔
“میں صبح آفس جانے سے پہلے ان سے ملنے گیا تھا۔ ہم لوگ بات کر رہے تھے جب اچانک سے ان کے دل میں درد اٹھنے لگا تھا۔۔اور ان کی طبیعت خراب ہوگئی تھی۔۔”
میر شاہ نظریں جھکائے بولے تھے۔
“انھیں کچھ نہیں ہوگا۔۔سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔إن شاء اللّٰه “
افرحہ نے شاہزیب کے بازو کو دبایا تھا۔
“ان کے بچنے کے چانسز بہت کم ہیں۔۔”
میر شاہ دھیمی آواز میں بڑبڑائے تھے۔ان کی یہ بات ان دونوں کے کانوں سے مخفی نہ تھیں۔۔
شاہزیب مٹھیاں بھینچ کر دیوار کے ساتھ کھڑا ہو گیا تھا جبکہ افرحہ اس کے ساتھ ہی کھڑی ہوتی دعائیں پڑھنے لگی تھی۔
ڈاکٹر کو باہر آتے دیکھ کر وہ سب ایک دم سیدھے ہوئے تھے۔۔
“آئی ایم سوری ہم انھیں بچا نہیں سکے۔۔”
ڈاکٹر کی بات نے سب کو ساکت کر دیا تھا۔
“جھوٹ بول رہے ہو تم۔۔ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔۔”
شاہزیب نے ڈاکٹر کو کالر سے تھام لیا تھا۔
ایک وہ ہی تھے جو س کی زندگی کے ہر قدم پر مدد کے لیے کھڑے ہوتے تھے۔۔
“شاہزیب لیو ہم۔۔۔”
میر شاہ نے بمشکل ڈاکٹر کا کالر شاہزیب سے چھڑوایا تھا۔وہ لڑکھڑاتے قدموں سے پیچھے ہٹتا اہنے زخموں کی پروا کیے بغیر دیوار سے ٹیک لگا گیا تھا۔
“ڈیم اٹ۔۔۔”
اس نے ایک زور دار مکہ دیوار میں مارا تھا۔جذبات کے طوفان اس کے اندر اٹھ رہے تھے جنھیں غصے کی صورت میں وہ واضح کر رہا تھا۔
“شاہزیب۔۔پلیز سنبھالیں خود کو۔۔۔”
افرحہ نے نم آنکھوں سے اس کی تڑپ کو دیکھ کر نرم آواز میں اس کا ہاتھ تھامتے کہا تھا۔
“مجھے ایسے لگ رہا ہے یہ خواب ہے میں اٹھوں گا اور وہ یہاں موجود ہوں گے۔۔لیکن حقیقت بہت تلخ ہے یہ میری روح کو اذیت دے رہی ہے۔۔”
وہ افرحہ کو تھامتا بولا تھا۔اس بات سے بےخبر کے میر شاہ بڑی مشکل سے خودکو سنبھالے کھڑے تھے۔
میر شاہ خود پر قابو پاتے تدفین اور جنازے وغیرہ کا انتظام کرنے لگے تھے۔۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
حاتم شاہ کی موت کو دو دن ہوچکے تھے اور یہ وقت ان کے لیے کتنا مشکل تھا یہ کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔
“افرحہ میرا یہاں رہنے کو من نہیں کرتا ہے۔۔ دل کرتا ہے واپس لوٹ جائیں۔۔”
شاہزیب افرحہ کی گود میں سر رکھ کر لیٹا تھا۔جبکہ افرحہ اس کے بالوں میں نرمی سے انگلیاں چلا رہی تھیں۔
“شاہزیب میرے ذہن میں ایک بات کل سے آرہی ہے۔۔آپ نے سوچا دادا جان کی طبیعت اچانک کیسے خراب ہوگئی جبکہ رات تک تووہ بالکل ٹھیک تھے۔”
افرحہ نے پرسوچ انداز میں کہا تھا۔
“انھیں اگین ہارٹ اٹیک ہوا تھا افرحہ اور یہ کبھی بھی ہوسکتا ہے۔۔”
شاہزیب نے لب بھینچ کر کہا تھا۔
“نہیں شاہزیب۔۔ڈاکٹرز نے کہا تھا اب وہ بالکل ٹھیک ہیں۔۔انھیں کوئی ٹینشن بھی نہیں تھی۔۔آپ نے بھی غصے میں ڈاکٹر سےپوچھا نہیں دادا جان کو ہوا کیا تھا۔۔”
افرحہ کی باتوں نے اسے سوچ میں ڈال دیا تھا۔
“تم کہنا کیا چاہتی ہو افرحہ ؟ کیا کسی نے دادا جان کو مارا ہے؟؟”
شاہزیب نے اٹھ کر بیٹھتے پوچھا تھا۔
“ہاں۔۔آپ کیسے بھول گئے ان کی ڈیتھ سے ایک رات پہلے ہی مجھ پر فانوس گرا تھا اور میرا نہیں خیال ایک مضبوط فانوس اچانک گر سکتا ہے۔۔۔”
افرحہ کی باتوں سے اسے سب سمجھ آگیا تھا یہ کس کا کام ہے مگر وہ خود کنفرم کرنا چاہتا تھا۔
“میں ڈاکٹر سے بات کرکے آتا ہوں۔۔”
شاہزیب فورا اٹھتا کپڑے چینج کرکے نکل گیا تھا۔
“شاہزیب مجھے مما بابا کے گھر کچھ دیر چھوڑ دیں۔۔”
افرحہ شاہزیب کے گاڑی سٹارٹ کرتے ہی اس کے ساتھ آکر بیٹض گئی تھی۔
شاہزیب اسے چھوڑتا ہوسپٹل چلا گیا تھا۔
افرحہ شاہزیب کے جاتے ہی اپنی مما سے بہانہ بناتی کیب کروا کر وہاں سے نکل گئی تھی۔
ایک بڑی سی بلڈنگ کے سامنے رکتے وہ تیزی سے رینٹ پے کرتی کمپنی کے اندر بڑھ گئی تھی۔
“ایکسکیوز می۔۔ میں مسٹر ارشد سے ملنا چاہتی ہوں۔۔”
افرحہ نے ریسپشنسٹ سے کہا تھا۔
“کیا آپ کی اپائنٹمنٹ ہے ؟”
“نو آپ ان سے کہیں شاہزیب کی وائف ان سے ملنے آئی ہیں۔۔”
افرحہ کے بولنے پر ریسپشنسٹ نے ارشد سے کال کر کے پوچھا تھا جس نے افرحہ کو آفس میں بھینجنے کی اجازت دے دی تھی۔
افرحہ ناک کرتی آفس میں داخل ہوئی تھی جہاں ایک ضعیف مگر گریس فل آدمی سوٹ میں ملبوس کرسی پر بیٹھا تھا۔
“شاہزیب کی بیوی مجھ سے ملنے آئی ہے حیرت ہے۔۔”
اس نے سب سے پہلی بات افرحہ کو دیکھتے یہ ہی کہی تھی۔
“مجھے ایک بات جاننی ہے۔۔”
افرحہ نے اس کے سامنے موجود کرسی پر بیٹھتے جوابا کہا تھا۔ارشد نے ائبرو اچکا کر سوالیہ پوچھا تھا۔
“آپ نے شاہزیب کا ساتھ دینے کی بجائے اپنہ حوس زدہ اور دھوکے باز بیوی کا ساتھ کیوں دیا۔۔؟”
افرحہ نے سنجیدگی سے پوچھا تھا۔
“محبت۔۔۔ہر کام کروا دیتی ہے۔۔ اس سے نئی نئی محبت کا جنون سر پر سوار تھا تو اندھوں کی طرح اس کی ہر بات مانتا گیا۔اس بات سے انجان وہ مجھے استعمال کررہی ہے۔۔”
ارشد زباریہ کا ذکر نفرت سے کر رہا تھا جسے افرحہ نے بغور نوٹ کیا تھا۔
“آپ نے اپنی جھوٹی اور مکار بیوی کی خاطر ایک معصوم لڑکے کی زندگی خراب کردی زرا بھی شرم نہیں آئی آپ کو۔۔”
افرحہ کھڑی ہوتی چیخی تھی۔۔
“میں شرمندہ ہوں۔۔”
ارشد منمنایا تھا۔
“آپ کی شرمندگی اس کی زندگی کے قیمتی لمحات لوٹا نہیں سکتی۔۔”
وہ میز پر ہاتھ مارتی شیرنی کی طرح دھاڑی تھی۔
“تم کیا چاہتی ہو؟”
ارشد نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے پوچھا تھا۔
“ثبوت۔۔۔”
“مجھے ثبوت چاہیے کہ شاہزیب معصوم تھا۔۔اور آپ ہر حال میں مجھے ثبوت دیں گے۔۔آپ کی پاگل بیوی کو میں مزید زندگیاں خراب کرنے نہیں دوں گی۔۔وہ مجھے مارنے کی کوشش کرچکی ہے۔۔اسکا پاگل پن اس حد تک بڑھ چکا ہے۔۔وہ آپ کو بھی مار دے گی۔۔”
افرحہ مضبوط لہجے میں بولی تھی۔ارشد نے بالوں میں ہاتھ پھیرا تھا۔
“میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔۔”
ارشد نظریں چراتا بولا تھا۔
“جھوٹ مت بولیں۔۔مجھے بتا دیں اگر آپ کے پاس ایسا کچھ ہے جو شاہزیب کی معصومیت ثابت کردے؟”
افرحہ کے اونچی آواز میں بولنے پر ارشد نے آنکھیں میچتے اپنے آفس کا لاکڈ ڈرا کھولتے ایک پیکٹ اس کی طرف پھینکا تھا۔
“یہ میں ایک عرصے سے اپنے پاس سنبھال کر رکھ رہا ہوں۔۔لیکن لگتا ہے ٹائم آگیا ہے سب کوسچ پتا چل جائے۔۔”
ارشد سرد آہ خارج کرتا بولا تھا۔ وہ بھی اب زباریہ اور اس کے ہاگل پن سے چھٹکارا چاہتا تھا۔
افرحہ خاموشی سے وہ پیکٹ اٹھا کر وہاں سے نکل گئی تھی۔
