Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Professor Shah (Episode 22)

Professor Shah by Zanoor Writes

بریرہ ساری رات روتی رہی تھی کچھ دیر پہلے ہی اس کی آنکھ لگی تھی۔وہ بیڈ پر اوندھے منہ لیٹی ہوئی تھی جب مسز شہروز کی چنگھارتی آواز نے اس کی نیند میں خلل پیدا کیا تھا۔۔

“یہ کیا بکواس ہے بریرہ ؟”

انھوں نے نیوز پیپر بریرہ کے منہ پر مارا تھا۔۔بریرہ نے مندی مندی آنکھیں کھول کر اپنی ماں کو دیکھا تھا۔

“آپ کس بارے میں بات کر رہی ہیں؟”

وہ نیند میں ڈوبی آواز میں بولی تھی۔مسز شہروز نے کھینچ کر اسے اٹھایا تھا اور زبردستی نیوز پیپر اس کی آنکھوں کے سامنے کیا تھا۔۔

نیوز پیپر کا فرنٹ پیج دیکھتے ہی بریرہ کی آنکھیں مکمل کھل گئی تھیں۔وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے نیوز پیپر پر اپنی نکاح کی تصویر دیکھ رہی تھی۔۔

“کیا یہ سچ ہے ؟”

مسز شہروز نےاس کے بال دبوچتے چیخ کر پوچھا تھا۔۔

“م۔۔موم یی۔۔یہ سچ ہے۔۔”

وہ اپنے سر میں اٹھتی درد کو محسوس کرتی لب دبا کر بول رہی تھی۔۔مسز شہروز کا ہاتھ اٹھا تھا اور بریرہ کے مومی گال پر اپنی چھاپ چھوڑ گیا تھا۔۔

اپنا کانپتا ہاتھ چہرے پر رکھتے بریرہ نے سسکی دبائی تھی۔اس کی آنکھوں کے کونے بھیگ چکے تھے لیکن ایک بھی آنسو اس کی آنکھ سے گرا نہیں تھا۔

“تم جیسی نالائق اولاد ہماری ہی قسمت میں لکھی تھی۔۔”

مسز شہروز اس کے بالوں کو دوبارہ اپنی گرفت میں لیتی دھاڑی تھیں۔۔

“تم کسی غلط فہمی میں مت رہنا تمھاری یہ حرکت ہمیں روک نہیں سکتی اسی ویک کے اندر اندر یہ نکاح ختم کرواوں گی۔۔شادی تمھاری صرف جسٹن سے ہی ہوگی۔۔یہ بات اپنے دماغ میں لکھ لو۔۔”

بریرہ کی سرخ آنکھوں میں دیکھتی وہ غصے سے بولتی اس کے بالوں کو مزید مضبوطی سے جکڑ گئی تھیں۔۔

“ایسا کبھی نہیں ہوگا۔۔میں اپنی جان لے لوں گی لیکن اس شخص سے علیحدگی کا خیال بھی ذہن میں نہیں لاوں گی۔۔آپ جو کرنا چاہتی ہیں کرلیں۔۔”

بریرہ ان کی نظروں سے نظریں ملاتی اونچی آواز میں چلائی تھی۔۔

اس کی بدلحاظی اور بدتمیزی نے مسز شہروز کا پارہ ہائی کیا تھا ایک بار پھر ان کا ہاتھ اٹھا تھا اور بریرہ کے پہلے سے سرخ گال کو مزید سرخ کر گیا تھا۔۔

“اس شخص کو مروانا ہمارے لیے مشکل نہیں ہے۔۔اگر اس کی سلامتی چاہتی ہوں نہ تو خاموشی سے ڈیوارس پیپرز پر سائن کردینا اور جسٹن سے شادی کر لینا۔۔”

مسز شہروز سرسراتے لہجے میں بریرہ کو وارننگ دے رہی تھیں۔۔

“بس یہ ہی آتا ہے آپ کو۔۔مجھے سخت نفرت ہے آپ دونوں سے۔۔”

وہ حلق کے بل چلائی تھی۔ان کی باتوں سے سخت اذیت محسوس ہوئی تھی۔

“شٹ اپ ہمارے پیسوں پر ہی ساری زندگی عیش کی ہے اب تمھیں جسٹن سے شادی کرنے کے لیے کہا ہے تو موت پڑ رہی ہے۔۔اپنا مائینڈ جلدی سیٹ کرلو بہتر ہوگا ورنہ میں جس طریقے سے کروں گی وہ تمھیں پسند نہیں آئے گا۔۔”

اس کا گال زورسے تھپتھپاتے ہوئے بولتی وہ کمرے سے چلی گئی تھیں۔۔بریرہ نے نفرت سے انھیں جاتے دیکھا تھا۔زندگی بہت مشکل لگنے لگی تھی اب تو سانس لینا بھی دشوار لگنے لگا تھا۔۔

اپنی سسکی دباتی وہ عادل کی خیریت کے لیے پہلی بار اللہ سے دعا کرنے لگی تھی۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

شاہزیب حاتم شاہ کے بلانے پر آفس گیا تھا۔۔افرحہ فارغ روم میں بیٹھی تھی جب اس کے موبائل پر زید کی کال آئی تھی۔ماتھے پر بل ڈالتے پہلے اس نے کال کو اگنور کرنے کا سوچا تھا لیکن مسلسل آتی کالز سے تنگ آکر اس نے مجبورا کال اٹھا لی تھی۔۔

“اسلام علیکم ! زید بھائی کیسے ہیں آپ ؟”

وہ سنجیدگی سے گویا ہوئی تھی دوسری جانب موجود زید اس کے منہ سے بھائی لفظ سن کر مزید طیش میں آگیا تھا اپنی مٹھیاں بھینچتے اس نے بمشکل اپنا غصہ کنٹرول کیا تھا۔۔

“وعلیکم اسلام! وہ شخص کیسا ہوسکتا ہے جس کی محبت اس سےچھین لی جائے؟”

وہ گہری سانس بھرتا خود کو پرسکون کرتا پوچھنے لگا تھا۔۔

“اگر آپ نے ایسی فضول باتیں کرنی ہیں تو میں کال کاٹ دوں گی۔۔”

وہ ماتھے پر بل ڈالے تھوڑا غصے سے بولی تھی۔۔

“اب تم میرے ساتھ ایسا سلوک کرو گی ؟”

زید لب بھینچ کر پوچھنے لگا تھا۔مقابل کا تکلف بھرا انداز اسے غصہ دلا رہا تھا۔۔

“زید بھائی میں آپ کی بہت ریسپکیٹ کرتی ہوں۔۔اور میں نہیں چاہتی میری نظروں میں آپ کی امیج خراب ہو سو پلیز کنٹرول یور سیلف۔۔اینڈ ٹرائے ٹو موو اون۔۔”

افرحہ سنجیدگی سے بولی تھی۔وہ زید سے مزید رابطہ نہیں رکھنا چاہتی تھی کیونکہ شاہزیب کے غصے سے وہ خوب واقف تھی۔

“اوکے میں تمھاری بات مان لوں گا لیکن تمھیں مجھ سے ایک بار ملنا ہوگا۔۔”

زید پرسوچ انداز میں بولا تھا۔

“ایسا ممکن نہیں۔۔”

وہ جھٹ سے جوابا بولی تھی۔

“ٹھیک ہے پھر میں تمھارے گھر آرہا ہوں تم سے ملنے کیونکہ تم سے تو میں ہر حال میں مل کر رہوں گا۔۔”

زید سنجیدگی سے بولا تھا۔۔افرحہ اس کی بات پر فورا گھبرا گئی تھی۔

“گھر آنے کی ضرورت نہیں ہم کسی کیفے میں مل لیتے ہیں۔۔”

افرحہ لب بھینچ کر تیزی سے بولی تھی۔زیدکے چہرے پر ہلکی سی مسکان ابھری تھی۔

“میں تمھیں اڈریس سینڈکر دیتا ہوں ایک گھنٹے تک ملاقات ہوگی۔۔ٹائم سے پہنچ جانا۔۔”

زید کی بات سنتی وہ جھنجھلا کر فون بند کر گئی تھی۔

افرحہ شاہزیب کو بنا بتائے ڈریس چینج کرتی اپنا موبائل لیتی نیچے آئی تھی ملازمہ کو کسی ضروری کام سے جانے کا بولتے وہ آرام سے باہر نکلی تھی اونلائن کیب منگواتے وہ مطلوبہ اڈریس پر پہنچی تھی۔

“مجھے امید تھی تم ضرور آو گی۔۔”

زید اسے دیکھتا خوشی سے کرسی سے اٹھتا ہوا بولا تھا افرحہ نے ہلکی سی مسکان کے ساتھ مارے باندھے سر ہلایا تھا۔۔

“ارے کھڑی کیوں ہو بیٹھو۔۔”

زید نے اٹھ کر اس کے لیے کرسی نکالی تھی۔افرحہ خاموشی سے بیٹھ گئی تھی۔

“ہم پہلے آرڈر کرلیتے ہیں پھر سکون سے بات کریں گے۔۔”

زید مسکراتا ہوا بولا تھا افرحہ نے اس کی بات درشتگی سے کاٹی تھی۔

“زید بھائی آپ کو جو بات کرنی ہے جلدی کریں میرے پاس ٹائم نہیں ہے۔۔۔”

وہ سنجیدگی سے بولی تھی۔۔

“تم شاہزیب کو چھوڑ دو افرحہ۔۔میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔۔ایک عرصہ ہوگیا ہے میں تمھاری محبت میں مبتلا ہوں۔۔”

وہ میز پر پڑے افرحہ کے ہاتھ کو تھامتے بولا تھا۔۔

“آپ کا دماغ ٹھکانے پر ہے کیا بول رہے ہیں ؟ میں شاہزیب کو کبھی نہیں چھوڑوں گی۔۔”

وہ بھڑک اٹھی تھی زیدکی باتیں مرچی کی طرح لگی تھیں۔۔

“تم اس کریکٹر لیس انسان کے لیے میری محبت کا ٹھکراو گی ؟”

زید نے لب بھینچتے پوچھا تھا۔افرحہ کے ہاتھ ابھی بھی اس کی گرفت میں تھے۔۔

“وہ میرے شوہر ہیں اب ان کے علاوہ مجھے کسی کی محبت سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔۔اب آپ بھی میرے بارے میں ہر طرح کا خیال اپنے ذہن سے نکال لیں۔۔”

افرحہ سنجیدگی سے بولی تھی زید کی باتیں اسے طیش دلا رہی تھیں۔۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

شاہزیب آفس میں حاتم شاہ کے ساتھ میٹنگ اٹینڈ کررہا تھا جب اسے افرحہ کے مطلق ایک ان ناوئن نمبر سے میسج آیا تھا۔وہ ایکسکیوز کرتا فورا میٹنگ سے نکلا تھا اور افرحہ کو کال ملائی تھی۔جب کئی بار کال کرنے پر بھی اس نے کال نہ اٹھائی تو مجبورا شاہزیب نے گھر ملازمہ کو کال کی تھی جس سے اسے افرحہ کے گھر سے جانے کی خبر ملی تھی۔

ان ناوئن نمبر سے آیا میسج کھولتے شاہزیب نے اس میں موجود اڈریس دیکھا تھا۔عنابی ہونٹوں کو بھینچے وہ لمبے لمبے ڈھگ بھرتا مطلوبہ اڈریس پر چلا گیا تھا۔

سامنے کا منظر دیکھ کراس کی رگیں تن گئی تھی۔۔غصےسے چہرہ دھواں دھواں ہو گیا تھا۔اس کی آنکھوں کا مرکز بس افرحہ تھی اوراسکےساتھ موجود زید تھا۔

جو افرحہ کے دونوں ہاتھ تھامے ناجانے کونسی باتیں بتا رہا تھا۔۔افرحہ دو تین بار اس کی بات سنتے اپنے ہاتھ کھینچ چکی تھی لیکن مقابل چھوڑنے کے لیےتیار نہ تھا۔۔

شاہزیب لمبے لمبے ڈھگ بھرتا ان کے قریب گیا تھا۔۔شاہزیب کودیکھتے افرحہ کی آنکھیں حیرت سے پھیلی تھیں۔۔شاہزیب نے زید کو کالر سے دبوچتےاسے کرسی سے کھینچ کر اٹھایا تھا۔۔

“تمھاری ہمت کیسے ہوئی میری بیوی کو چھونے کی۔۔”

اس کے منہ پر پے در پے مکے مارتے شاہزیب غرایا تھا۔۔زید اس حملے کے لیے تیار نہ تھا اور نہ ہی وہ شاہزیب جتنی طاقت رکھتا تھا تبھی اپنے دفاع کےلیے اس نے فورا اپنے منہ پر بازو رکھ لیے تھے۔۔

“تمھاری بیوی بننے سے پہلے یہ میری محبت ہے میرا جو دل چاہے گا میں وہ ہی کروں گا۔۔”

زید زور سے شاہزیب کو پیچھے دھکا دیتا چلایا تھا۔۔افرحہ پریشان سی دونوں کو دیکھ رہی تھی۔۔

زید کی باتوں نے اس کے غصے کو مزید ہوا دے دی تھی۔۔وہ فورا اس پر جھپٹا تھا۔۔

“شاہزیب پلیز رک جائیں۔۔”

افرحہ شاہزیب کو زید کو بری طرح مارتے دیکھ کر اونچی آواز میں چیخی تھی۔۔وہ شاہزیب کے قریب آکر اسےروکنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔

“شٹ اپ مجھ سے دور ہوکر کھڑی ہوجاو۔۔اب مجھے روکنے کی کوشش مت کرنا۔۔”

وہ جس انداز میں چیخا تھا افرحہ ڈر کر فورا پیچھے ہٹ گئی تھی۔۔

“تمھیں کیا لگا تھا میری بیوی کو الٹی سیدھی پٹیاں پڑھاو گے اور مجھے یہاں بلاو گے تو میں اسے چھوڑ دوں گا۔۔”

وہ زید کو کالر سے دبوچ کر سیدھا کرتا دھاڑا تھا۔۔

“یہ لڑکی بیوی ہے میری۔۔اسے میری موت کے علاوہ مجھ سے کوئی الگ نہیں کرسکتا۔۔”

زید کے منہ پر مکہ جڑتا شاہزیب سرسراتے لہجے میں بولا تھا۔سیاہ آنکھیں غصے سے سرخ دکھائی دے رہی تھیں۔۔افرحہ تو ڈر کر ایک سائیڈ پر کھڑی ہوگئی تھی۔

“دیکھا افرحہ یہ شخص پاگل ہے۔۔پہلے ذانی تھا اب مجھے مار کر قاتل بھی بننا چاہتا ہے۔۔”

زید اپنے منہ سے خون تھوکتا استہزایہ لہجے میں چلایا تھا افرحہ نے بےساختہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھا تھا۔جبکہ شاہزیب کا غصہ سوا نیزے پر پہنچ گیا تھا۔۔

“ہاں میں پاگل ہو لیکن صرف افرحہ کے معاملے میں۔۔اور مجھے فرق نہیں پڑتا تم میرے بارے میں کیا سوچتے ہو۔۔”

اس کا سر ٹیبل سے لگاتے شاہزیب سپاٹ لہجے میں بولا تھا۔۔

“شش۔۔شاہزیب پلی۔۔پلیز زید بھائی کو چھوڑ دیں۔۔”

افرحہ زید کے منہ سے نکلتا خون دیکھ کر گھبرا گئی تھی تبھی ہمت کرتی بولی تھی شاہزیب نے سرخ آنکھوں سےافرحہ کی طرف دیکھا تھا۔۔

“شش۔۔اب مجھے دوبارہ تمھاری آواز نہ آئے۔۔”

شاہزیب سرد لہجے میں بولا تھا افرحہ کی دھڑکنیں خوف سے شدید بڑھ گئی تھیں۔

زید نے شاہزیب کی بےدھیانی کا فائدہ اٹھاتے اس کے گال پر زوردار مکہ مارا تھا جس سے شاہزیب کا ہونٹ پھٹ گیا تھا اس کے بعد افرحہ کی آنکھوں کے سامنے دیکھتے ہی دیکھتے شاہزیب نے زید کا برا حال کر دیا تھا لوگوں نے بمشکل شاہزیب کو قابو کرتے زید سے دور ہٹایا تھا۔۔

شاہزیب لوگوں سے خود کو چھڑاتا خوفو گھبراہٹ سے کانپتی افرحہ کے پاس آیا تھا بنا کسی کا لحاظ کیے وہ افرحہ کو کندھوں سے تھام کر اپنے سینے میں چھپاتا ساتھ لے گیا تھا۔۔افرحہ اپنے حال کا سوچتی بری طرح گھبرانے لگی تھی۔شاہزیب کی خاموشی اسے وحشت زدہ کر رہی تھی۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

گھر تک سارے سفر کے دوران شاہزیب ایک لفظ بھی افرحہ سے نہیں بولا تھا۔شاہزیب خاموشی سے کار سے نکلتا افرحہ کی طرف دیکھے بنا اندر چلا گیا تھا۔

افرحہ چھوٹےچھوٹے قدم اٹھاتی اسکے پیچھے ہی گھر میں داخل ہوئی تھی۔اسے شاہزیب کی خاموشی سے ڈر لگ رہا تھا۔

اچانک شاہزیب کے زخمی ہاتھوں اور زخمی لب کے بارے میں سوچتی وہ اس کے پیچھے کمرے میں گئی تھی۔

شاہزیب صوفے پر ٹانگیں پھیلا کر بیٹھا سگریٹ سلگا کر اپنا غصہ کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔افرحہ نے اسے سگریٹ پیتے دیکھ کر ناک سکیڑی تھی۔۔

وہ خاموشی سے فرسٹ ایڈ باکس لینے واشروم چلی گئی تھی۔فرسٹ ایڈ باکس لیتی وہ خاموشی سے شاہزیب کے قریب بیٹھ گئی تھی حالانکہ سگریٹ کے دھواں سے اسے سانس لینے میں دشواری ہونے لگتی تھی لیکن وہ یہ بات نظر انداز کرتی شاہزیب کا دائیں ہاتھ نرمی سے پکڑنے لگی تھی۔۔

شاہزیب نے خاموشی سے اپنا ہاتھ جھٹک کر اس کی گرفت سے آزاد کروایا تھا افرحہ نے دوبارہ اسکا ہاتھ پکڑا تھا افرحہ نے کھانستے ہوئے دوبارہ اسکا ہاتھ مضبوطی سے اپنی گرفت میں لیا تھا۔۔

شاہزیب نے سگریٹ ایش ٹرے میں مسلتے افرحہ پر نظریں جما لی تھیں جو خاموشی سے اسکا ہاتھ تھامے اس کے زخم صاف کر رہی تھی۔۔

شاہزیب کے ہاتھ پر پھونک مارتے وہ زخم صاف کرتی شاہزیب کی نظروں سے باخوبی واقف تھی۔۔

شاہزیب نے اس کے چہرے پر نظریں ٹکاتے اپنا بائیں ہاتھ اٹھاتے افرحہ کے گال کو نرمی سے سہلایا تھا۔۔افرحہ کے ہاتھوں کی حرکت ایک پل کو رکی تھی پھر دوبارہ وہ اپنے کام میں مصروف ہوگئی تھی۔

دونوں کے درمیان گہری خاموشی چھاگئی تھی۔۔جس کو شاہزیب کی بھاری آواز نے توڑا تھا۔۔

“میری اجازت کے بغیر تم نے گھر سے باہر قدم بھی کیسے نکالا ؟”

افرحہ کی تھوڑی کو پکڑتے شاہزیب نے اس کا چہرہ اوپر اٹھایا تھا افرحہ کا سانس پل میں خشک ہوا تھا۔۔

“کیا مجھے باہر جانے کی اجازت نہیں؟”

وہ اپنا حلق تر کرتی پوچھنے لگی تھی۔۔

“بالکل نہیں۔۔اور سونے پر سہاگا زید سے ملنے کے لیے تمھارا بنا اجازت جانا یہاں آگ لگا گیا ہے۔۔”

وہ افرحہ کا ہاتھ پکڑتا اپنے دل کے مقام پررکھ چکا تھا۔۔افرحہ نے لب کاٹتے اس کی طرف دیکھا تھا جو مزید گویا ہوا تھا۔

“اگر آج لوگ بیچ میں نہ آتے تو میں اس کا حشر بگاڑ دیتا۔”

“شاہزیب میر حاتم اپنی محبت پر کسی کی بری نظر بھی برداشت نہیں کرے گا۔۔”

وہ افرحہ کا چہرہ اپنے چہرے کے قریب کرتا شدتِ جذبات سے بولا تھا افرحہ اس کی سیاہ آنکھوں کے پیچھے چھپے بےلگام جذبات کو دیکھتی بری طرح گھبرائی تھی۔۔

شاہزیب کی سانسیں اسے اپنے چہرے پر محسوس ہورہی تھیں جس سے اس کی پلکیں لرزنے لگی تھیں۔۔

“آپ کی محبت مجھے ڈرا رہی ہے۔۔مجھے خوف محسوس ہونے لگا کہیں آپ کی یہ محبت ہمیں نقصان نہ پہنچا دے۔۔”

وہ کپکپاتی آواز میں بول اٹھی تھی شاہزیب کے ہونٹ دھیرے سے اوپر اٹھے تھے۔۔

“میری محبت ایسی ہی ہے۔۔اور میرے ہوتے ہوئے تمھیں ڈرنے کی ضرورت نہیں کوئی تمھیں ہاتھ بھی نہیں لگا سکے گا۔۔”

شاہزیب سنجیدگی سے اس کی آنکھوں میں دیکھتا بولا تھا۔

“تمھیں سب کچھ برداشت کرنا پڑے گا میری محبت ، شدت اور غصہ۔۔”

وہ افرحہ کے کانپتے ہونٹوں کو اپنی گرفت میں لیتا اس کی بچی ہوئی سانسیں بھی خود میں قید کر گیا تھا۔افرحہ نے اس کی شدت محسوس کرتے سختی سے اس کی شرٹ کو اپنی مٹھیوں میں بھینچ لیا تھا۔۔

“اس سے پہلے میں خود پر کنٹرول کھو دوں جلدی سے جاکر پیکنگ سٹارٹ کردو ہم رات کی فلائٹ سے واپس کینیڈا جارہے ہیں۔۔”

وہ افرحہ کے بھیگے ہونٹوں کو انگوٹھے سے صاف کرتا بولا تھا افرحہ جو گہرے سانس لے کر اپنا سانس بحال کر رہی تھی اسکی بات سنتی بنا کوئی اعتراض کیے تیزی سے وہاں سے غائب ہوگئی تھی۔

شاہزیب افرحہ کے اٹھتے ہی نئی سگریٹ سلگاتا دوبارہ صوفے کی پشت سے ٹیک لگا چکا تھا۔

جاری ہے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *