Nasha by Aiman faisal NovelR50600 Last updated: 31 March 2026
Rate this Novel
Nasha (Episode 01)Nasha (Episode 02)Nasha (Episode 03)Nasha (Episode 04)Nasha (Episode 05)Nasha (Episode 06)Nasha (Episode 07,08)Nasha (Episode 09)Nasha (Episode 10)Nasha (Episode 11,12)Nasha (Episode 13)Nasha (Episode 14)Nasha (Episode 15)Nasha (Episode 16)Nasha (Episode 17)Nasha (Episode 18)Nasha (Episode 19,20)Nasha (Episode 21)Nasha (Episode 22)Nasha (Episode 23,24)Nasha (Episode 25)Nasha (Episode 26)Nasha (Episode 27)Nasha (Episode 28)Nasha (Last Episode)
Nasha by Aiman faisal
” ابا پلیز ! مان لیں نا میری بات یہ شوق ہے میرا مجھے پورا کرنے دیں نا….. “ زین نے نخریلے لہجے میں ضد کی۔
” ایسے کیسے مان لوں زین، آپ جانتے ہیں وہاں ایک مشقت بھری زندگی ہے اور میں آپ کو مشکلات میں نہیں دیکھ سکتا میں آسانیاں چاہتا ہوں آپ کے لیے اور ویسے بھی ہماری لائف میں کمی کس چیز کی ہے جو آپ وہاں جاکر خوار ہونا چاہتے ہیں؟؟؟؟ “ زین کے والد اس کی ضد کے سخت خلاف تھے۔
” یہی تو میں آپ کو سمجھا رہا ہوں بابا جان ! ہمارا تو لائف اسٹائل ہی اتنا شاندار ہے کہ میں گھر می پڑھوں یا ہاسٹل میں رہ کر مجھے کوئی مشکل پیش آہی نہیں سکتی آپ وہاں پر بھی سورسز استعمال کر کے مجھے بہترین ماحول دے ہی سکتے ہیں، پلیز ڈیڈ مان جائیں نا میرا بہت دل ہے یہ ایڈوینچر کرنے کا پلیز………. آپ…… آپ ایک کام کیجیئے گا مجھے نا کسی لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے اسٹوڈنٹس کے ساتھ سیٹ کروا دیجیے گا اس طرح میرا ان پر رعب رہے گا اور مجھے کوئی پریشانی بھی نہیں ہوگی وہاں……… “
زین کی خواہش تھی کہ وہ آگے تعلیم ہاسٹل میں رہ کر پوری کرے مگر اسکے ابو اس کی اس خواہش کے بالکل خلاف تھے وہ زین کو آرام میں رکھنا چاہتے تھے مگر زین ایک الگ مزاج لے کر پیدا ہوا تھا وہ جینا چاہتا تھا اسے پیسوں میں سکون نہیں ملتا تھا اور اپنے باپ کے پیسے میں تو بالکل نہیں جس نے اسے سب سے الگ کر دیا، اسے محبتوں میں، رشتوں میں سکون ملتا تھا اور اسی لیے وہ ہاسٹل جانا چاہتا تھا تا کہ وہاں کوئی اسے امیرزادے کی حیثیت سے جان کر لیے دیے والے معاملات نہ رکھے بلکہ اسے بھی اپنا سا سمجھ کر اس کے ساتھ کھل کر جیے اور اس بار اسنے گھر سے دور ہو کر ایک الگ دنیا بسانے کا فیصلہ کر لیا تھا اور اسی لیے وہ اپنے ابا کو منانے کی کوششیں کر رہا تھا۔
” ٹھیک ہے کرتا ہوں میں کچھ بندوبست لیکن تمھیں مجھ سے ایک وعدہ کرنا ہوگا، جس دن تمھیں لگے گا کہ تم غیر آرام دہ محسوس کر رہے ہو تو تم فوراً واپس چلے آؤ گے۔“
” جی ابو بہتر ! “
اور اس طرح مرتضیٰ حسن چاروناچار مان گئے اور پھر زین کا داخلہ ہاسٹل میں کرادیا گیا۔
