Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbatein (Last Episode)Part 2

Muhabbatein Season 3 by Rimsha Hussain

آئرہ اپنے گھر آگئ تھی اُس نے گھر میں سب کو مختصر یہ بات بتائی تھی کے زوہا کی شادی ہے اِس وجہ سے وہ یہاں رہنے آئی ہے شادی کے بعد واپس چلی جائے گی تھپڑ والی بات وہ سب سے چُھپاگئ تھی۔

تم اتنی خاموش کیوں ہو آئرہ؟زوہا جب سے شاپنگ سے آئی تھی آئرہ کو خاموش ہی دیکھا تبھی اُس نے استفسار کیا۔

سر میں درد ہے۔آئرہ نے بہانا بنایا

اب تم مجھ سے جھوٹ بولو گی سچ سچ سب بات ہے کیا صبح جب میری تم سے بات ہوئی اُس وقت تو تم نے مجھے یہاں آنے کا نہیں بتایا تھا پھر۔زوہا مشکوک نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولی

تب نہیں تھا اِرادہ اب کیا میں یہاں رہنے نہیں آسکتی کیا جو سب بار بار یہاں آنے وجہ پوچھ رہے ہو۔آئرہ تلخ ہوئی۔

رلیکس یار میں نے تو بس ایک بات پوچھی نہیں بتانا چاہتی تو نہ بتاؤ جب دل کریں تو میرے کمرے میں آجانا۔زوہا سنجیدگی سے کہتی اُس کے کمرے سے باہر چلی گئ۔

میں تمہیں ناسمجھ سمجھتا تھا بے وقوف نالائق بھی مگر مجھے یہ نہیں تھا پتا تم مجھ سے بدلا لینے کے لیے اتنا گِر سکتی ہو میں نے کل تمہیں ڈرامہ کیا دیکھنے نہیں دیا تم تو چیپ حرکتوں پہ اُتر آئی۔

زوہا کے جانے کے بعد اُس کو سکندر کی غصے میں کہی باتیں یاد آنے لگی تو بلک بلک رو پڑی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

سکندر اپنا سر ہاتھوں میں گرائے بیٹھا تھا جب اُس کے فون پہ کال آنے لگی اُس اسکرین پہ دیکھا تھا پولیس اسٹیشن سے کال کی۔سکندر بے دلی سے کال اٹینڈ کرتا کجھ کہنے والا تھا جب دوسری طرف کہی جانے والی بات نے اُس کے چودہ طبق روشن کردیئے۔

ہیلو سر میں نے جو کل آپ کو فائل دی تھی وہ دراصل میری فائل سے ایکسچینج ہوگئ تھی آپ واپس آجائے کیونکہ مطلوبہ فائل یہاں میرے پاس ہے۔سکندر نے جب یہ بات سنی تو اُس کا دل چاہا فون کے اندر گُھس کر اُس شخص کا حشر نشر کردے۔اُس سے پہلے وہ کوئی غلط بات کرجاتا سکندر نے کال کاٹ دی۔

میں نے کوئی چیپ حرکت نہیں کی سمجھے آپ یہ سب اچانک ہوا تھا میری کوئی غلطی نہیں تھی آپ نے مجھ پہ ہاتھ اُٹھایا میری انسلٹ کی میں کبھی آپ کو معاف نہیں کروں گی اور نہ اب آپ کے ساتھ رہوں گی۔

شِٹ یار۔سکندر فائل کو دیکھنے لگا تو اُس کے کانوں میں آئرہ کی آواز گونجنے لگی جس پہ اُس کو شرمندگی کا گہرا احساس ہونے لگا۔

مجھے اُس پہ ہاتھ نہیں اُٹھانا چاہیے تھا۔سکندر کو پچھتاوا ہوا۔

جانے اب اُس نے گھر میں کیا بتایا ہوگا۔سکندر پریشانی سے بڑبڑایا اُٹھ کھڑا ہوا۔

سکندر کہاں جارہے ہو؟عبیر نے اُس کو تیزی باہر جاتا دیکھا تو پوچھا

امی ماما جان کے پاس آئرہ کو لینے۔سکندر نے بس یہ کہا

آئرہ کو لینے کیا وہ وہاں گئ ہے؟عبیر کو حیرانگی ہوئی۔

جی میں آتا ہوں۔سکندر اتنا کہتا گھر سے باہر نکلا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

تم نے پوچھا نہیں اُس سے؟اذہاد زوہا کی ساری بات سننے کے بعد بولا

پوچھا تھا پر وہ ناراض ہورہی تھی تبھی میں اپنے کمرے میں آگئ۔زوہا نے بتایا

شاید سکندر سے اُس کی لڑائی ہوگئ ہو۔اذہاد نے اندازہ لگایا

آئرہ کے گال پہ نشان ہے مجھے لگتا ہے سکندر بھائی نے آئرہ پہ ہاتھ اُٹھایا ہے ورنہ آج سے پہلے آئرہ کبھی اتنا خاموش نہیں ہوئی اور نہ مجھ سے روڈلی بات کی ہے۔زوہا کی بات سن کر اذہاد چونک پڑا

یو مین تم یہ کہنا چاہتی ہو سکندر نے آئرہ کو تھپڑ مارا ایسا ہو ہی نہیں سکتا مانا کے آئرہ جتنی شرارتی ہے سکندر اُتنا سنجیدہ مزاج کا ہے پر وہ کبھی آئرہ پہ ہاتھ نہیں اُٹھا سکتا۔اذہاد کو جیسے یقین نہیں آیا

میں نے آئرہ کے چہرے پہ نشان دیکھا جبھی کہا ویسے بھی آئرہ نے گھر میں کوئی بات نہیں کی میری بہن شرارتی ہے پر بے وقوف نہیں۔زوہا نے کہا

ہاں وہ تو مجھے پتا ہے چلو میں سکندر سے پوچھتا ہوں۔اذہاد نے کہا

نہیں میرے خیال سے یہ اُن کا پرسنل میٹر ہے تو ہم بیچ میں نہیں آتے کیا پتا وہ خود ہی بتادے۔زوہا نے کہا تو اذہاد اُس کی بات سے متفق ہوا۔

ہاں یہ ٹھیک رہے گا۔اذہاد نے کجھ سوچ کر کہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

السلام علیکم بڑے ابا۔سکندر جیسے ہی حنان مینشن پہنچا تو اُس کا ٹکراؤ عباد سے ہوا۔

وعلیکم السلام کیسے ہو برخودار۔عباد نے مسکراکر سلام کا جواب دے کر پوچھا

میں ٹھیک آپ بتائے بزنس ٹرپ سے کب واپس آئے مجھے پتا نہیں چلا ورنہ میں آپ سے ملنے آجاتا۔سکندر نے پوچھا

تمہارے بڑے ابا صاحب کو اِس عمر میں سرپرائز دینا کا شوق ہوا تھا تبھی اچانک کل رات بارہ بجے آگئے میں نے تو اب اِن کے سرپرائز پہ حیران ہونا ہی چھوڑدیا ہے۔جواب عباد کے بجائے سوہا نے دیا تھا جس پہ عباد اور سکندر دونوں مسکرا پڑے۔

اچھا تو آپ یہ بتائے بڑے ابا نے آپ کو پہلا سرپرائز کیا دیا تھا۔سکندر اپنے آنے کا مقصد بھولتا دلچسپی سے سوہا سے پوچھنے لگا کیونکہ اُس نے جتنا عبیر سے عباد اور سوہا کی محبت کا سُنا تھا اُس کو دلچسپی سے ہوتی تھی ساری بات جاننے کی اور آج سالوں بعد اُس کو یہ موقع میسر آیا تھا کیونکہ پہلے یا تو وہ مصروف ہوتا تھا یہ عباد کام سلسلے میں کبھی شہر سے باہر تو کبھی مُلک سے باہر ہوتا تھا۔

سکندر نے تو جیسے سوہا کی دُکھتی رگ پہ ہاتھ رکھا تھا اُس کو جانے آج کے دن کیا کجھ یاد نہیں آیا تھا۔

پہلا سرپرائز۔سوہا نے بات کا آغاز کیا۔

ایسے اچانک کون کسی لڑکی کے بیڈ پہ آکر لیٹ جاتا ہے اگر مجھے ہارٹ اٹیک آجاتا تو۔سوہا بنا یہ خیال کیے وہ کتنے وقت بعد آیا ہے بس شروع ہوگئ تھی۔

تمہارا تو پتا نہیں مگر جس طریقے سے تم چیخے مار رہی تھی مجھے ضرور ہارٹ اٹیک آجانا تھا۔عباد نے گھور کر کہا

واہ جی واہ اُلٹا چور سوہا کو مارے۔سوہا مہاورے کی ٹانگیں توڑ مڑور کر بولی۔

سوہا فلحال میں تھکا ہوا ہوں سونا چاہتا ہوں تم اپنا لڑائی کا سیکشن صبح تک ملتوی کرلوں۔عباد جمائی لیتا بولا۔

آپ کب آئے ویسے کسی نے بتایا تو نہیں آپ کے آنے کا۔سوہا عباد کو دیکھتی بولی جو کافی بدلا ہوا لگ رہا تھا۔

ماشااللہ کتنا جلدی خیال آیا تمہیں کے یہ بھی پوچھنا ہے۔عباد میٹھا طنزیہ کیے بولا

سوہا جیسے جیسے سب بتاتی جارہی تھی سکندر حیرت سے عباد کو دیکھنے لگا جو خود کو لاپرواہ ظاہر کررہا تھا۔

کیا آپ لوگ لڑتے تھے اتنا؟سکندر کو جیسے یقین نہیں آیا

ہاں اُس زمانے میں تمہارے بڑے ابا کو لڑائی کا بڑا شوق ہوتا تھا۔سوہا نے سارا الزام عباد کے سر پہ ڈالا تو عباد نے اُس کو آنکھیں دیکھائی۔

اُس کے بعد کیا ہوا آئے مین دوسرا سرپرائز۔سکندر کی دلچسپی مزید بڑھی۔

ابھی جو میں بتانے والی ہوں وہ میرے لیے سرپرائز تو نہیں البتہ صدمہ ضرور تھا وہ بھی گہرا۔سوہا نے معصوم شکل بنائے کہا تو سکندر غور سے اُس کی بات سُننے میں لگ گیا۔

کیا یہ مذاق ہے؟سوہا کو اپنی آواز کھائی سے آتی محسوس ہوئی۔

اٹس ٹرو حقیقت۔عباد نے مزے سے بتایا

یہ کیا ہے۔سوہا دوبار سے بولی اُس کو اپنی بینائی پہ شک ہوا۔

تمہاری فضول سوچو کا علاج۔عباد نے بھی پھر سے مزے سے بتایا سوہا بے یقینی سے کبھی عباد کو کبھی ہاتھ میں موجود پیپرز کو دیکھ رہی تھی۔

منہ دیکھائی میں کونسا شوہر بیوی کو میڈیکل کالج کا فارم پکڑاتا ہے۔سوہا کی حالت رونے والی ہوگئ اُس کو اپنی آنکھوں کے سامنے موٹی موٹی کتابیں نظر آنے لگی تو اُس کا دل کیا کہیں بھاگ جائے دن میں تارے کیسے نظر آتے ہیں یہ بات اُس کو آج سمجھ آئی۔

مطلب یہ سچ ہے آپ کو سچ میں منہ دیکھائی میں میڈیکل کا فارم ملا تھا مجھے تو لگتا تھا امی مذاق کرتی ہیں۔سکندر کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔

کاش یہ مذاق ہوتا۔سوہا حسرت سے بولی

اُس کے بعد میں سوہا کو جانے کیا کجھ دیا تھا میں نے مگر اِس کو اُن میں سے کجھ یاد نہیں سِوائے اِس کے کہ میں نے منہ دیکھائی میں میڈیکل فارم دیا تھا۔عباد نے جیسے اپنی صفائی دی۔

سب سے ضروری اور اول تو منہ دیکھائی کا تحفہ ہوتا ہے نہ۔سوہا نے اپنا دفاع کیا۔

بلکل۔سکندر نے بھرپور سوہا کی حمایت کی۔

تم نے کیا دیا تھا آئرہ کو عماد نے تو معصومہ کو گولڈن کی انگھوٹی دی تھی۔سوہا نے مسکراکر پوچھا

یہ بھی تو بتاؤ اِس گولڈن کی انگھوٹی دینے کے چکر میں عماد نے کجھ نہیں جھیلا تھا۔عباد نے طنزیہ کہا

تو وہ خوددار تھا اِس لیے اپنے ہی آفس میں ایز آ امپلوئے کی حیثیت سے رہا۔سوہا نے جلدی سے کہا تو سکندر نے بیچ میں مداخلت کی۔

میں نے آئرہ کو بریسلٹ گفٹ کیا تھا جو اُس نے خود پسند کیا تھا۔

اِس کا مطلب میڈیکل کا فارم بس میرے نصیب میں تھا۔سوہا کی بات پہ سکندر چہرہ نیچے کرتا مسکرادیا۔

اچھا بڑے ابا وہ مجھے یہ پوچھنا تھا نانا بھی آئے ہیں؟سکندر نے عمار کا پوچھا

ہاں وہ اپنے کمرے میں سو رہا ہے۔عباد نے بتایا

اچھا میں ذرہ آئرہ سے مل لوں۔سکندر اتنا کہتا اُٹھ کھڑا

کیا تم دونوں کے درمیان لڑائی ہوئی ہے کیونکہ آئرہ تو ابھی آئی ہے اور تم اُس سے ملنے چلے آئے۔سوہا نے کجھ سنجیدگی سے پوچھا تو سکندر کجھ حیران ہوا اُس کو لگا تھا آئرہ نے سب کو بتادیا ہوگا۔

آپ سے آئرہ نے کجھ کہا ہے؟سکندر نے احتیاطاً پوچھا

نہیں وہ تو جب سے آئی ہے اپنے کمرے میں ہے۔سوہا نے مایوسی سے جواب دیا۔

میں دیکھتا ہوں۔سکندر اتنا کہہ کر آئرہ کے کمرے کی طرف گیا۔وہ جیسے ہی کمرے کے پاس آیا وہ اندر سے لاک تھا۔

آئرہ

آئرہ

دروازہ کھولوں میں ہوں سکندر مجھے تم سے بات کرنی ہے۔سکندر دروازہ نوک کرتا اُس کو آوازیں دینے لگا۔

آئرہ جو بیڈ پہ لیٹی رونے کا شغل فرما رہی تھی سکندر کی آواز پہ چونک پڑی۔

مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی آپ پلیز جائے یہاں سے۔آئرہ دروازے کے پاس آتی اُس سے بولی

آئرہ کیا تم روئی ہو؟سکندر نے اُس کی آواز میں نمی محسوس کی تو فکرمند ہوا۔

نہیں روئی میں اور آپ پلیز آپ جائے۔آئرہ نے اپنی حالت پہ قابوں پائے کہا

تم ایک مرتبہ دروازہ کھولوں ورنہ سب گھروالوں کس شک ہوگا مجھے تم سے معافی مانگنی ہے پلیز دروازہ کھولوں۔سکندر کا لہجہ منت بھرا ہوگیا جس کو محسوس کیے آئرہ کو حیرت ہوئی تھی تبھی کجھ سوچ کر اُس نے دروازہ اِن لاک کیا۔

شکر ہے تم دروازہ کھولا اور یہ کیا تمہاری آنکھیں اتنی لال کیوں ہورہی ہیں۔سکندر کمرے میں آتا اُس کا چہرہ دیکھ کر بولا

مجھے آپ سے بات نہیں کرنی۔آئرہ اپنا رخ موڑ کر بولی تو سکندر اُس کے سامنے کھڑا ہوا

آئرہ آئم ریئلی سوری میں اپنی غلطی مانتا ہوں مجھے تم پہ ہاتھ نہیں اُٹھانا چاہیے تھا مگر جانے کیسے میرا ہاتھ اُٹھ گیا۔سکندر اُس کا ہاتھ تھام کر معذرت خواہ ہوا۔

میں معاف نہیں کروں گی آپ نے مجھے ہرٹ کیا ہے۔آئرہ نے اپنے ہاتھ اُس کے ہاتھوں سے آزاد کروانے چاہے

سوری۔سکندر نے کہا

نہیں چاہیے۔آئرہ نے کہا

اچھا میں ایسا کیا کروں جو تم مجھے معاف کردوں گی۔سکندر گہری سانس بھر کر کہا

میری بات کی کونسا آپ کی نظر میں اہمیت ہے اور کونسا آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں جو میں جو کہوں گی وہ آپ کرے گے آپ ٹھیرے حنا کے دیوانے۔آئرہ نروٹھے پن سے بولی

میری بیوی تم ہو کوئی اور نہیں اور میری نظر میں تمہاری اہمیت ہے۔سکندر نے سنجیدگی سے کہا

ہوتی تو یوں تھپڑ نہ مارتے۔آئرہ کی سوئی تھپڑ پہ اٹکی ہوئی تھی۔

اُس کے لیے ایکسکیوز کر تو رہا ہوں تمہاری ہر بات بھی مانوں گا۔سکندر نے کہا

نہیں مانے گے۔آئرہ نے چیلنج کیا۔

مانوں گا تم ایک بار کہہ کر تو دیکھو۔سکندر اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر مضبوط لہجے میں بولا

آپ کو مرغہ بننا ہوگا۔آئرہ اتنا کہتی زور سے آنکھوں کو میچ گئ۔

کیاااااا۔سکندر کی چیخ بے ساختہ تھی۔

نہیں میرے کہنے کا مطلب سمپل یہ ہے کے آپ اپنے کان پکڑے اور دس مرتبہ اُٹھک بیٹھک کر اُس کے بعد آپ کا معافی نامہ قبول ہوگا ورنہ نہیں۔آئرہ فورن سے وضاحت دی۔

یہ کجھ زیادہ ہورہا ہے۔سکندر نے احتجاج کیا۔

جو آپ نے میرے ساتھ کیا وہ بھی زیادہ سے زیادہ ترین تھا۔آئرہ نے جتایا تو ناچار سکندر نے ہار مان لی۔

پہلے پرامس کرو جو یہاں ہوگا وہ تم کسی کو نہیں بتاؤ گی۔سکندر نے واعدہ لینا چاہا

تھپڑ کا نہیں بتایا نہ تو یہ بھی نہیں بتاؤں گی۔آئرہ دوبارہ اپنی ٹون میں آئی۔

میں تمہیں ہنی مون لیکر جاؤں گا بس تم یہ اُٹھک بیٹھک کرنے کا نہ کہو۔سکندر نے جیسے اُس کو لالچ دی۔

آپ کو اگر اُٹھک بیٹھک نہیں کرنی تو جائے تو دروازہ کُھلا ہوا ہے۔آئرہ کی بات پہ سکندر نے ٹھنڈی سانس خارج کرکے اُس کے کہنے پہ اُٹھک بیٹھک کرنے لگا۔

ایک۔

آئرہ اپنی مسکراہٹ ضبط کرتی بولی

ہنسو مت۔سکندر نے آنکھیں دیکھائی۔

اچھا اب نہیں ہنستی۔آئرہ نے اپنے ہونٹوں پہ انگلی رکھی۔

دو

تین

اور یہی آئرہ کی بس ہوئی اُس نے زور سے قہقہقہ لگایا تھا جس پہ سکندر تپ کے اُسکی جانب آیا۔

بہت خراب ہو تم۔سکندر اُس کے سر پہ کھڑا ہوتا بولا

ہاہاہاہا پر آپ بہت کیوٹ ہے اسپیشلی تب زیادہ لگے جب اُٹھک بیٹھک کررہے تھے۔آئرہ نے ہنسی کے درمیان کہا

اچھا اب چلو۔سکندر اُس کا ہاتھ پکڑ کر کہا

کہاں؟آئرہ نے پوچھا

کیا مطلب کہا ہمارے گھر۔سکندر نے جیسے یاد کروایا۔

زوہا کی شادی ہے۔آئرہ نے بتایا

تو؟سکندر نے آئبرو ریز کیے۔

تو یہ میں تب تک یہی رہوں گی آپ کل آجانا مجھے شاپنگ کروانے کے لیے۔آئرہ نے شانِ بے نیازی سے کہا

شادی میں ابھی وقت ہے تم پھر آجانا ابھی میرے ساتھ چلو۔سکندر نے ایک بار پھر کہا

میں نے گھر میں سب کو یہ بتایا ہے میں زوہا کی شادی تک یہی رہوں گی۔آئرہ نے جیسے بات ختم کردی تو سکندر نے مزید بحث نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اتنی جلدی صلح ہوگئ۔سکندر کے جانے کے بعد آئرہ ٹی وی لاوٴنج میں آئی تو زوہا نے پوچھا

ہاں جی ہوگئ۔آئرہ نے پاپ کارن کھاتے ہوئے بتایا

جھگڑا ہوا کیوں تھا۔زوہا نے جاننا چاہا

بس اب تو سب ٹھیک ہوگیا نہ۔آئرہ نے ٹالا تو زوہا نے مسکراکر سرہلایا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

رات کے وقت سکندر گھر آکر اپنے کمرے میں آیا تو خاموشی نے اُس کا استقبال کیا اُس کو اپنی شادی کی پہلی رات یاد آئی جب آئرہ نے اُس کے چہرے پہ کشن پھینکا تھا یہ لمحہ یاد آتے ہی اُس کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی آج اُس کو اپنا کمرہ آئرہ کے بنا خالی خالی سا لگ رہا تھا۔

ہیں ہیں مجھے کیا آپ نے انڈین ڈراموں کی سُوشیل بہو سمجھا ہوا ہے جو اپنے درہم پتنی کے آرام کا سوچتی خود قُربانی کا بکرا بن کر اتنے چھوٹے سے صوفے پہ ایڈجسٹ کرلوں گی۔

سکندر آئرہ کی باتیں یاد کرتا کبھی خالی بیڈ کو دیکھتا تو کبھی صوفے کو۔پھر چلتا ہوا وہ بیڈ پپ آئرہ کی سائیڈ پہ لیٹ گیا۔

بہت دیر تک اُس کو نیند نہیں آئی تو اُس نے اپنا موبائیل اُٹھایا اور آئرہ کے نمبر پہ میسج چھوڑا

جاگ رہی ہو؟

دوسری طرف آئرہ کو بھی نیند نہیں آرہی تھی اِس لیے وہ موبائل میں کینڈی کرش گیم کِھیلنے میں مصروف تھی جب سکندر کا میسج دیکھ کر اُس نے جلدی سے میسج اوپن کیا۔

نہیں سو رہی ہو۔آئرہ نے مسکراکر میسج ٹائپ کیا

کبھی سیریس ہوکر بات کرلیا کرو۔سکندر نے اُس کا میسج دیکھ کر رپلائے کیا۔

اچھا اب سیریس ہوں آپ یہ بتائے جاگ کیوں رہے ہیں روز تو جلدی سوجاتے تھے؟آئرہ نے پوچھا

کیونکہ آج لڑنے کے لیے یہاں کوئی نہیں جو ٹی وی آن کرتا یا بیڈ بلینکٹ کی وجہ سے مجھ سے لڑتا۔سکندر نے میسج لکھ کر سینڈ کیا

پھر تو آپ کو سکون بھری نیند آجانی چاہیے تھی لڑنے والا کوئی نہیں سکون ہی سکون ہوگا وہاں۔آئرہ نے مسکراکر میسج ٹائپ کیا

زندگی میں پہلی بات مجھے یہ سکون پسند نہیں آرہا۔سکندر کا میسج دیکھ کر آئرہ کے چہرے پہ موجود مسکراہٹ گہری ہوئی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

کجھ دن بعد!

کجھ دن بعد!

اذہاد اور زوہا کے نکاح کی رسم ہوگئ تھی وہ دونوں اب اسٹیج پہ بیٹھ کر سب سے مبارک وصول کررہے تھے۔

ڈیڈ بڑے ابا چھوٹے ابا موم نانوں پھپھو پھاپھا جان آپ سب لوگ اسٹیج پہ آئے۔آئرہ اپنی ساڑھی کا پلو سنبھالتی اُن سب سے بولی

کیوں خیریت ہیں؟عمار نے پوچھا

جی خوشی کا موقع ہے سب ساتھ ہیں فیملی مکمل ہے تو فیملی پِک تو بنتی ہے نہ۔آئرہ نے پرجوش لہجے میں کہا

زندگی میں پہلی بار میری بیٹی نے عقلمندی کے بات کی ہے۔معصومہ آئرہ کے واری صدقے ہوئی

جی اور یہ میری صحبت کا نتیجہ ہے۔سکندر نے فخریہ لہجے میں کہا

کوئی نہیں میں پیدائشی دانا ہوں۔آئرہ نے منہ کے زاویئے بناکر کہا۔

اچھا اچھا اب لڑنے مت لگ جانا ہمیں اسٹیج پہ جانا چاہیے۔ابراہیم نے ایکسائٹڈ ہوکر کہا تو سب بڑے اُٹھ کھڑے ہوئے آئرہ بھی اسٹیج کی جانب بھاگنے لگی۔

آرام سے گِرجاؤں گی۔سکندر جلدی سے اُس تک پہنچ کر ہاتھ تھام کر بولا

جلدی چلے ایسا نہ ہو جگہ نہ بچے۔آئرہ کی بات پہ سکندر کو ہنسی آئی

فکر نہیں کرو جگہ بہت ہے۔سکندر نے اُس کے تسلی کروائی۔اور وہاں آئے جہاں سب کپل کی صورت میں کھڑے ہوگئے تھے۔عباد سوہا۔عمار کے ساتھ ابراہیم اور ارسل تھے۔فیصل اپنی بیوی کے ساتھ ۔تبریز عبیر عماد اور معصومہ۔حماد روٹھی ہوئی فرشتے کے ساتھ کھڑا تھا جس نے اپنے فیشل کے غم میں اُس سے بول چال ختم کردی تھی پھر اُن سب کے آگے سکندر اور بلکل پاس مسکراتی آئرہ کھڑی تھی اُن سب کے ساتھ ہی فوٹوگرافر نے یہ خوبصورت منظر کیمرہ میں قید کیا۔

شکریہ۔سوہا آہستہ آواز میں عباد سے بولی

کیوں۔عباد فوٹوگرافر کی جانب دیکھتا پوچھنے لگا۔

اگر آپ مجھے منہ دیکھائی میں میڈیکل فارم نہ دیتے تو میں کبھی اپنے قدموں پہ کھڑی نہ ہوتی۔سوہا مشکور لہجے میں بولی تو عباد کے چہرے پہ گہری مسکراہٹ آئی۔

سب کتنے خوش ہیں نہ؟معصومہ نے عماد سے کہا

ماشااللہ اللہ ایسے ہی سب کو خوش رکھے۔عماد نے مسکراکر کہا

آمین مجھے خوشی ہوتی ہے کے اللہ نے ہمیں اتنی پیاری فیملی دی ہے۔معصومہ کے لہجے میں تشکر تھا جب کے اِس لمحے عماد کو زویا کی یاد شدت سے آئی تھی۔

تمہارا بیٹا خوش ہے سب خوش ہیں تمہاری پوری فیملی ساتھ ہے پھر تمہاری آنکھوں میں نمی کیوں ہے۔تبریز نے سنجیدگی سے عبیر سے پوچھا جس کے ہونٹوں پہ تو مسکراہٹ تھی مگر آنکھوں میں اُداسی تھی۔

مجھے امی کی یاد آرہی ہے کاش وہ بھی ہمارے ساتھ ہوتی۔عبیر حسرت بھرے لہجے میں بولی

جو نہیں ہے اُس کا غم کرنے کے بجائے جو ہے اُس پہ شکر کرو۔تبریز اُس کی حالت سمجھتا اپنے ساتھ لگائے بولا

مسکراؤ۔حماد نے فرشتے کے کان کے پاس سرگوشی کی۔

مجھے نہیں مسکرانا۔فرشتے نے منہ بناکر کہا

مسکراؤ کیونکہ میں نے تمہارے لیے وہ ایکسپینسو فیشل خریدہ ہے جو ضائع کیا تھا۔حماد نے مسکراہٹ دباتا بولا تو فرشتے سامنے دیکھنے کے بجائے خوشی اور حیرت سے حماد کو دیکھنے لگی۔

سچی۔فرشتے نے پرجوش انداز میں پوچھا

مُچی۔حماد اُس کا چہرہ کیمرے کی طرف کرتا اُس کے انداز میں بولا تو فرشتے کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔

مجھے یقین نہیں آرہا اب میں بیوی والا ہوگیا ہوں۔اذہاد شوخ لہجے میں زوہا سے بولا

مجھے بھی یقین نہیں آرہا ہے تم اپنی شادی کے دن بھی اتنے بے یقین ہوگے۔زوہا نے جوابً کہا

اچھا ان سب کو چھوڑو بہت پیاری لگ رہی ہو خاص طور پہ تمہارا یہ حجاب کرنا مجھے نہیں تھا پتا تم آج کے دن بھی حجاب کرو گی۔اذہاد محبت بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا

مجھے حجاب کرنا اچھا لگتا ہے اور میری یہی دعا ہوتی ہے کے اللہ مجھے پردہ کرنے کی توفیق دے۔زوہا اذہاد کی بات سن کر بولی تو اذہاد کو اپنی پسند پہ رشک ہوا۔

فیملی پِک کا خیال تمہارے دماغ میں کیسے آیا۔سکندر نے مسکراکر آئرہ سے پوچھا

ویسے ہی آگیا سب ساتھ تھے تو میں نے سوچا کیوں نہ الگ الگ لینے کے بجائے ایک مکمل فیملی پکچر ہو۔آئرہ نے بتایا۔

بہت اچھا سوچا۔سکندر نے داد دی تو اُس کی گردن تن گئ۔

آج تم میرے ساتھ چل رہی ہو۔سکندر کو اچانک خیال آیا تو کہا

کیوں؟آئرہ نے مصنوعی حیرت سے پوچھا

کیا کیوں مجھے تمہارے بنا اپنا کمرہ سونا سونا سا لگ رہا ہے۔سکندر نے جلدی سے بتایا

بس کمرہ سونا سونا لگ رہا ہے نہ دل تو نہیں نہ دل میں کونسا محبت ہے میرے لیے۔آئرہ کو جیسے افسوس ہوا۔

کمرہ سونا سونا ہے تو سمجھ لو مجھے تمہاری عادت ہوگئ ہے اور عادت محبت سے زیادہ جان لیوہ ہوتی ہے۔سکندر اُس کو اپنے حصار میں لیتا بولا

ہاں صحیح ہے محبتیں تو بدلتی رہتی ہیں جیسے پہلے آپ کی محبت حنا تھی۔آئرہ نے اُس کو چڑانے کی خاطر حنا کا نام لیا۔

بھول جاؤ اب اُس حنا کو وہ پہلے بس مجھے پسند تھی پر اب میری بیوی تم ہو تو میری پسند اور محبت کی حقدار تم ہو۔سکندر اُس کے ماتھے پہ بوسہ دیتا بولا تو آئرہ پرسکون ہوئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *