Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbatein (Episode 01)

Muhabbatein Season 3 by Rimsha Hussain

آئرہ

آئرہ

معصومہ پورے گھر میں چکر لگاتی آئرہ کو تلاش کررہی تھی جو جانے کس کونے میں چُھپی ہوئی پھر اچانک اُس کے سامنے آئی تو معصومہ کا ہاتھ بے ساختہ اپنے سینے پہ پڑا۔

انسان کی بچی بن جاؤ۔معصومہ نے اُس کو گھورا

اللہ اللہ میں بس آپ کی اور ڈیڈی کی بیٹی ہوں۔آئرہ اپنے کانوں کو ہاتھ لگاتی بولی

زوہا کہاں ہیں۔معصومہ نے سرجھٹک کر بولا

ہوگی یہی کہی چھوٹی بچی تو ہے نہیں جو رینگتی پِھر رہی ہوگی۔آئرہ نے دانتوں کی نمائش کرنا ضروری سمجھا۔

یہ جو تم نے کل سکندر کے ساتھ

میں نے کجھ نہیں کیا خود آگیا تھا سامنے۔معصومہ کی بات بیچ میں کاٹتی آئرہ نے اپنا دفاع کیا۔

آگیا تھا نہیں آگئے تھے بڑا ہے تم سے۔معصومہ نے جھڑکا

اچھا نہ آپ نے بلایا کس لیے۔آئرہ کان کی لو کُھجاتی پوچھنے لگی۔

کل ہم عبیر کے پاس جارہے

ہیں واقع۔آئرہ کا چہرہ کِھل اُٹھا تبھی دوبارہ سے معصومہ کی بات کاٹی۔

ہاں واقع مگر تم نے وہاں کوئی حرکت کی نہ تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا۔معصومہ نے اُس کو وارن کیا۔

میں کہاں کجھ کرتی ہوں بس ہوجاتا ہے۔آئرہ نے معصوم شکل بنائی۔

بس شکل ہی معصوم ہے۔معصومہ نفی میں سرہلاتی اپنے کمرے کی طرف بڑھی۔

بس شکل ہی معصوم ہے ورنہ دماغ تو اللہ میاں نے شیطان کی ٹکر کا دیا ہے۔ہاہاہاہا۔آئرہ اپنی بات پہ قہقہقہ لگاتی زوہا کے کمرے کی طرف گئ تو دیکھا وہ نماز پڑھ رہی تھی۔

چل بیٹا اب یہ تو نہیں اُٹھنے والی۔آئرہ اتنا کہتی بیڈ پہ لیٹ گئ

تم اتنی لمبی دعا میں مانگتی کیا ہو اللہ نے اتنی پیاری بہن تو دی ہے اُس پہ شکر صبر کرو۔کجھ دیر بعد زوہا نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تو آئرہ نے ناک سکوڑ کر کہا

ضروری تو نہیں انسان دعا میں بس مانگتا ہو کجھ لوگ صبر مانگتے ہیں اور کجھ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر گُزار کرتے ہیں۔زوہا اپنے ازلی نرم اور دھیمی لہجے میں بولی جتنا آئرہ تیز بول کر پورے گھر کو ہلا دیتی تھی اُس کی بہن زوہا اتنی ہی دھیمی مزاج کی تھی بولتی اتنا آہستہ کے سننا والا پہلی دفع میں کجھ سمجھ نہ پاتا۔

اچھا سسٹر میں نے تم سے ایک کام کہا تھا۔آئرہ فورن اپنے مطلب کی بات پہ آئی۔

آرو جتنا تم مجھ سے جھوٹ بلواتی ہو نہ میں نے پکا جہنم میں جانا ہے۔آئرہ کی بات سن کر زوہا روہانسے لہجے میں بولی

فکر کیوں کرتی ہو میں جو اللہ میاں کی نیک بندھی ہوں جنت میں تمہاری سفارش بھی کروادوں گی بس ابھی یہ بتاؤ میرا کام کیا۔آئرہ نے اپنی طرف سے اُس کو پرسکون کرنا چاہا پر زوہا کا منہ بن گیا۔

ہاں ڈیڈ سے کہا تھا۔

ہاے جُگ جُگ جیو میری پیاری بہنا۔زوہا نے ابھی اتنا ہی کہا تھا جب آئرہ بیڈ سے اُترتی اُس کو ہگ کرتی بولی

یہ لاسٹ تھا۔زوہا نے وارن کیا۔

ہاں آج کے لیے لاسٹ تھا۔آئرہ نے مزے سے کہا تو زوہا نے اُس کے سر پہ چپت لگائی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

تمہاری جوائننگ کب ہے؟تبریز نے سنجیدگی سے رغبت سے کھانا کھاتے سکندر سے پوچھا

کس چیز کی جوائننگ۔سکندر بے خیالی میں بولا تو تبریز نے اُس کو گھورا

کس چیز میں تمہاری سلیکشن ہوئی ہے؟تبریز نے میٹھا سا طنزیہ کیا۔

اوو اچھا یہ پوچھ رہے تھے دراصل کل سے ڈیوٹی ہے میری۔سکندر خجل ہوتا بولا۔

سکندر تبریز جو نا تو اپنے باپ کی طرح سنجیدہ تھا اور نہ اپنی ماں کی طرح کم گو اور معصوم تھا وہ جیسے کے ساتھ تیسا تھا۔حال میں ہی اُس نے پولیس میں جانے کا شوشا چھوڑا تھا جس پہ تبریز ناچاہتے ہوئے بھی راضی ہوگیا تھا وہ اپنی مرضی اپنے بیٹے پہ مسلط کرنا نہیں چاہتا تھا اِس لیے سکندر کو سپورٹ کیا سکندر ٹیسٹ میں پاس ہوگیا تھا اُس کی سلیکشن ہوگئ تھی اِس بات پہ عبیر خوش بھی تھی اور پریشان بھی کیونکہ اُس کو لگتا تھا پولیس والوں کی زندگی ہر وقت خطرے میں رہتی ہے پر تبریز نے اُس کو سمجھادیا تھا جس پہ وہ سمجھ بھی گئ تھی۔

کہاں جارہے ہو کھانا تو ٹھیک سے کھاؤ۔عبیر نے اُس کو اُٹھتا دیکھا تو فکرمندی سے بولی۔

میرا ہوگیا اور مجھے اپنے دوست سے ملنے جانا ہے۔سکندر اُس کی طرف آتا ماتھے پہ بوسہ دے کر بولا جس پہ عبیر نے مسکراکر سرہلایا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

سکندر اپنے دوست اذہاد کے فلیٹ آیا تو افسوس سے سر کو جنبش دی کیونکہ پورے گھر کا ہال بگڑا ہوا تھا وہ جتنا نفاست پسند تھا اُس کا دوست اُتنا ہی گند پِھیلانے میں ماہر تھا اذہاد کا گھر اور اُس کا ایک دوسرے کے قریب تھا جس وجہ سے وہ کسی بھی وقت ایک دوسرے کے پاس آجاتے۔

اُٹھ سالے۔سکندر اوندھے منہ میں لیٹے ہوئے اذھاد کے سر پہ کھڑا ہوتا بولا

میری کوئی بہن نہیں اپنے لیے کوئی اور ڈھونڈ۔اذہاد جو پہلے ہی جاگ رہا تھا سکندر کی آواز پہ انگرائی لیتا آگاہی دینے لگا۔

بکواس مت کرو۔سکندر نے ایک مُکہ اُس کے بازوں پہ جڑدیا۔

یہ اپنا بلڈوزز جیسا ہاتھ میرے سے دور کرو۔اذہاد اپنا بازوں سہلاتا سخت بے زار ہوا

ہاں تم اتنے نازک۔سکندر اتنا کہتا بیڈ پہ بیٹھا

آج مجھ ناچیز کی یاد کیسے آئی۔

کل سے میں نے پولیس جوائن کرنی ہے۔سکندر نے بتایا

تو۔اذہاد نے آئبرو ریز کیے۔

تو آج پارٹی کرتے ہیں سب دوستوں کے ساتھ۔سکندر نے بتایا

چلو تم نے اپنی جیب سے پئسے نکالنے کا بھی سوچا۔اذہاد بے قائدہ ہاتھ اُپر کرتا شکر ادا کرنے لگا۔

ہاں ہاں آج سے پہلے تو تم ریسٹورنٹ میں جیسے اپنے پئسو سے کھانا ٹھونستے تھے نہ۔سکندر اُس کی بات پہ گھور کر بولا

توبہ ہے ایک دفعہ بیس روپئے کا جوس کیا لیکر دیا تم تو گلے ہی پڑگئے ہو

سیریسلی بیس روپئے کا جوس تھا؟سکندر بیس روپئے پہ بونچکار کے رہ گیا۔

اور نہیں تو کیا اب یہ مت کہنا برینڈڈ جوس تھا۔اذہاد اپنی بات پہ قائم تھا۔

تمہارے پاس آکر میں نے غلطی کردی۔سکندر کو جیسے افسوس ہوا۔

اچھا نہ ناراض کیوں ہوتے ہو چلتے ہیں میں بس کپڑے بدل لوں۔اذہاد تھوڑا سنجیدہ ہوا۔

💕
💕
💕
💕
💕

ابراہیم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فرشتے ہاتھ میں ابراہیم کی مارک شیٹ پکڑ کر چلا کر اُس کا نام پُکارا تو سترہ سالہ ابراہیم خود کو ہمت دیتا نیچے آیا۔

آپ نے یاد فرمایا۔ابراہیم ادب سے سر جھکاکر پوچھا تو فرشتے نے گھور کر اپنے ڈرامائی بیٹے کو دیکھا

یہ کیا ہے۔فرشتے نے مارک شیٹ اُس کے سامنے لہراکر پوچھا۔

مارک شیٹ۔ابراہیم نے معصومیت سے بتایا تو فرشتے تپ اُٹھی۔

وہ تو مجھے نظر آرہا ہے تمہیں پتا ہے تم سی گریڈ آئے ہو۔فرشتے اُس کو گھور کر بتانے لگی۔

ہیں واقع سی گریڈ شکر اللہ کا ڈی گریڈ نہیں آیا۔ابراہیم اپنی ماں کے غصے کا اثر لیے بنا شکر ادا کرتا بولا۔

نالائق اولاد میں نے کیا کہا تھا اِس بار فرسٹ آنا تو کیوں تیاری نہیں کی امتحان کی۔اب اُس کا کان پکڑتی بولی تو ابراہیم بُری طرح پھسا۔

قسم سے امی مجھ سے جتنا ہوسکا میں نے پڑھا اب سی گریڈ آیا تو میرا کیا قصور آپ یہ دیکھے آخر میں گریڈ لفظ ہے پھر اے ون گریڈ ہو یا پھر سی کیا فرق پڑتا ہے۔ ابراہیم اپنا کان آزاد کرواتا چہرے پہ مسکینیت طاری کرتا بولا

تمہاری ایک ماہ کی پاکٹ منی بند۔فرشتے نے اُس کی دُکھتی رگ پہ ہاتھ رکھا جس پہ وہ تڑپ اُٹھا

نو امی۔ابراہیم کے چہرے کا رنگ اُڑا۔

نو آرگیومنٹ۔فرشتے ہاتھ جہاڑ کر کہتی کمرے کی طرف بڑھی پیچھے ابراہیم کی حالت رونے والی ہوگئ۔

کزن کیا ہوا۔آئرہ جو باہر جانے والی تھی ابراہیم کی لٹکی شکل دیکھی تو اُس کے پاس آئی۔

سی گریڈ آیا ہوں میں۔ابراہیم غمگین لہجے میں بتانے لگا۔

واقع مبارک ہو۔آئرہ خوش ہوتی مبارک باد دینے لگی۔

شاید آپ نے ٹھیک سے سُنا نہیں میں نے کہا سی گریڈ آیا ہوں۔ابراہیم نے دوبارہ بتایا۔

تو اے ہو بی ہو یا سی ہو کیا فرق پڑتا ہے میں بھی تو گُزرے سال ڈی گریڈ آئی تھی کیا ہوا کجھ بھی نہیں۔آئرہ کی بات پہ ابراہیم خوش ہوا

بس آپ ہی ہیں جو مجھے سمجھتی ہیں۔ابراہیم مشکور نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا جس پہ آئرہ کی گردن تن گئ۔

کیا کروں کزن تمہارا غم اور میرا غم ایک جیسا ہے اور انسان جب تک خود ایک غم سے نہ گُزرے تب تک دوسرے کا سمجھ نہیں پاتا اب مجھے دیکھو ہر سال اِس غم سے گُزرتی ہوں کیا ہوتا ہے بس امی ایک ماہ کی پاکٹ منی بند کردیتی ہے۔آئرہ ایک سانس میں بتانے لگی۔

سانس لو بہن اتنا جذباتی کیوں ہورہی ہو اِس بار میں اِس غم سے گُزر رہا ہوں۔ابراہیم تسلی کروانے لگا۔

اچھا سنو میں دوستوں کے ساتھ جارہی ہوں ریسٹورنٹ وہ بھی ڈیڈی کی گاڑی میں۔آئرہ نے گاڑی کی چابی اُس کے سامنے لہراکر پرجوش آواز میں بتایا

میں چلوں۔ابراہیم نے پوچھا

نو

واےےےے۔ابراہیم کا منہ بن گیا۔

بکاز وہاں بس لڑکیاں ہوگی تمہارا کیا کام۔آئرہ نے آنکھیں چھوٹی کیے بتایا۔

اوکے۔ابراہیم منہ بناکر بولا تو وہ اُس کے بال بگاڑ باہر آئی تو گیٹ سے ایک گاڑی آتی نظر آئی جو کسی اور کی نہیں تبریز سکندر کی تھی۔

ایک تو اِس کڑیلے کو اپنے گھر چین نہیں۔آئرہ سکندر کو دیکھ کر بڑبڑائی

کہاں کی سواری ہے؟سکندر سرتا پیر اُس کو گھور کر پوچھنے لگا۔

وہ میری ایک یتیم دوست ہے اُس کے باپ کی طبیعت خراب تو بس اُس کی عیادت کرنے جارہی ہوں۔آئرہ بنا اپنے جُملے پہ غور کیے پٹر پٹر بولی۔

یتیم دوست کا باپ ہے تو وہ یتیم کیسی ہوئی؟سکندر نے اُس کی عقل پہ ماتم کیا تو آئرہ نے لب دانتوں تلے دبائے

ورڈ مسٹیک یتیم نہیں مسکین بیس سال پہلے اُس کی ماں فوت ہوگئ تھی۔آئرہ نے جلدی سے بتایا۔

اوو بڑے افسوس کی بات ہے پھر تو یہ کتنی ایج ہے تمہاری دوست کی؟سکندر مصنوعی دکھ سے پوچھنے لگا۔

اٹھارہ سال۔آئرہ اپنے نا آتے آنسو صاف کرتی بولی۔

ماشااللہ مرنے کے سال بعد بیٹی پیدا کرگئ۔سکندر طنزیہ بولا

ہاں بس اللہ کو جو منظور اب میں چلتی ہوں۔آئرہ اتنا کہہ کر پورچ کی طرف بڑھی اُس نے سکندر کے لفظوں پہ زیادہ غور نہیں کیا تھا۔

پاگل۔سکندر بڑبڑاتا گھر کے اندر جانے لگا

ارے سکندر بھائی آپ اسلام علیکم۔زوہا نے سکندر کو آتا دیکھا تو مسکراکر سلام کیا۔

وعلیکم اسلام کیسی ہو؟سکندر نے بھی جوابً مسکراکر پوچھا۔

میں الحمداللہ ٹھیک آپ بیٹھے۔زوہا نے بیٹھنے کا کہا۔

بیٹھنے نہیں آیا تمہیں اور ابراہیم اور ارسل کو لینے آیا ہوں(ارسل فرشتے اور حماد کا دوسرا بیٹا تھا)سکندر نے آنے کا مقصد بتایا

لینے کیوں کہاں جانے ہے؟زوہا نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا۔

کل سے میری جاب سٹارٹ ہے سوچا تم سب کزنز کو ٹریٹ دوں پہلے میرا ارادہ دوستوں کو پہلے دینے کا تھا پھر سوچا تم لوگوں کو بھی ساتھ لیں چلتا ہوں۔سکندر نے بتایا

وہ سب تو ٹھیک ہے پر آئرہ نہیں اِس لیے میں نہیں چل سکتی۔زوہا نے اپنی طرف سے انکار کیا۔

پتا ہے وہ نہیں اپنی یتیم دوست کے باپ کی عیادت کو گئ ہے۔سکندر طنزیہ بولا تو زوہا کو بلکل سمجھ نہیں آئی۔

آپ کیا کہنے چاہ رہے ہیں؟

میں یہ کہنا چاہ رہا ہوں کے آئرہ نہیں تو کیا ہوا تم تو چلو نہ۔سکندر بات بدل کر بولا

وہ ناراض ہوگی ویسے بھی آپ سب لڑکے ہوگے تو ایزی فیل بھی نہیں کروں گی۔زوہا نے ایک اور نقطہ نکالا۔

اچھا پر اُن دونوں کو تو بُلاؤ۔سکندر نے زیادہ بحث کرنا مناسب نہیں سمجھا۔

میں بُلاتی ہوں۔زویا کہہ کر دونوں کے کمرے کی طرف بڑھ گئ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *