Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbatein (Episode 06)

Muhabbatein Season 3 by Rimsha Hussain

کان کے پردے پھاڑو گی کیا؟زوہا اپنے کان پہ ہاتھ رکھتی اُس کو گھورنے لگی۔

تمہیں ذرہ احساس ہے تمہاری بات سے مجھے ہارٹ اٹیک بھی آسکتا تھا کیوں تم مجھے بھری جوانی میں محرومہ بنانا چاہتی ہوں ابھی تو میں نے دُنیا بھی نہیں دیکھی دُنیا کی تو چھوڑو ابھی اپنا سسرال تک نہیں دِکھا۔آئرہ اپنے دل پہ ہاتھ رکھتی بولی

ہارٹ اٹیک کیوں آجاتا میں نے خوشی کی خبر سُنائی ہے۔زوہا منہ بناکر بولی

کیا خاک خوشی کی خبر ہے ہمارا استاد وہ بھی سکندر بھائی عرف سڑا ہوا کریلہ۔آئرہ عجیب منہ کے زاویئے بناکر بولی

آئرہ تم دن بدن بدتمیزی ہوتی جارہی ہو شرم کرو وہ بڑے ہیں ہم سے۔زوہا نے ٹوک کر کہا

اب میں نے کیا بدتمیزی کردی زوہا تمہیں پتا تو ہے سکندر بھائی کتنی مجھ سے خار کھاتے ہیں ایسے میں اگر وہ میرے ٹیچر بن جائے تو سوچو کیا سلوک کریں گے وہ میرے ساتھ پورا رائٹ ہوگا اُن کے پاس کوئی کجھ بول بھی نہیں سکتا پھر اُن کو۔آئرہ کو اپنی جان کے لالے پڑے۔

نہ وہ اتنے ظالم ہیں اور نہ تم اتنی معصوم جو وہ تم پہ ظلم کریں گے اور تم اللہ میاں کی گائے کی طرح سرجھکائے کھڑی رہوگی۔زوہا نے اچھا خاصا اُس کو شرمندہ کرنا چاہا۔

یہ بات تو ہے میں بس شکل سے معصوم ہوں ورنہ دماغ تو اللہ نے شیطان کی ٹکر کا دیا ہے۔آئرہ اپنے بال جھٹک کر ایک اِدا سے بولی تو زوہا نے آنکھیں گُھمائی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

سکندر ایک چکر پولیس اسٹیشن لگانے کے بعد یونی کے راستے نکل پڑا تھا ڈپارٹمنٹ اور کلاس کا اُس کو پتا تھا تبھی ڈائریکٹ کلاس کی جانب چل پڑا تھا کیونکہ پہلی کلاس اُس کی تھی جو اُس کو لینی تھی سکندر جیسے ہی کلاس میں داخل ہوا تو سب سے پہلے نظر بورڈ پہ پڑی جہاں وائٹ بورڈ پہ بلیک مارکر سے بڑا سا خوبصورت ڈیزائن میں سڑا ہوا کریلا لکھا ہوا تھا جس کو دیکھ کر تبریز کو اپنے دماغ کی شرارے پھٹتی محسوس ہوئی اُس کو اب اندازہ ہوا تھا جو کلاس اُس کو لینی تھی وہاں آئرہ نامی بلا بھی ہوگی۔

What a hell is this ?

اپنے ہاتھ میں پکڑی فائلیں وہ زور سے ڈیسک پہ رکھ کر دھاڑا کلاس میں جو پہلے کھی کھی کی آوازیں گونج رہی تھی یکدم خاموشی چھاگئ پھر ہمت کرکے ببل چباتی آئرہ کھڑی ہوئی پوری کلاس کو سلام کرتی گلا کھنکھارنے لگی اِس بیچ سکندر کھاجانے والی نظروں سے اُس کو دیکھ کم گھور زیادہ رہا تھا۔

سر یہ ہم ہے یہ آپ ہےیہ آپ کے پیچھے بورڈ ہے یہ آپ کے بلکل عین سامنے ڈیسک ہے اور یہ پوری کلاس ہے جہاں ہم موجود ہے۔آئرہ کبھی اُس کی طرف کبھی اپنی طرف ہاتھوں کا اشارہ کرتی بتانے لگی جس پہ پورا کلاس قہقہقہ لگانے لگا سکندر تبریز کا دل چاہا سامنے کھڑی چھٹانگ بھر لڑکی کا منہ نوچ لیں جس نے اُس کی زندگی اجیرن کررکھی تھی پر ہائے رے قسمت وہ بس سوچ سکتا تھا کر نہیں سکتا تھا کیونکہ سامنے کھڑی وہ چھٹانگ بھر لڑکی میں اُس کی ماں کی جان تھی۔

بورڈ پہ کیوں اور کس نے یہ لکھا ہے؟سکندر نے کاٹ دار لہجے میں سوال پوچھا اُس کے اتنے شد عمل پہ پورے کلاس میں سناٹا چھاگیا تھا۔ایک زوہا تھی جو آئرہ کو خشمگین نظروں سے اُس کو دیکھ رہی تھی دوسری آئرہ تھی جو بڑے مزے سے سکندر کا لال بھبھو چہرہ دیکھ رہی تھی جیسے سامنے کوئی پسندیدہ ڈرامہ چل رہا ہو۔

سر وہ یہ میں نے لکھا آج آپ کا پہلا دن تھا تو سوچا آپ کا ویلکم کیا جائے۔آئرہ آنکھیں پٹپٹاکر معصومیت سے بولی۔

بیٹھ جائے۔سکندر ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ کر دانت پیس کر بولا۔

آج ہمیں پڑھے گے

سر شاید آپ کو پتا نہیں پہلے دن پڑھائی نہیں بلکہ انٹرڈیوس ہوتا ہے۔سکندر جو سنجیدگی سے کجھ کہنے والا تھا آئرہ کھڑی ہوکر جلدی سے اُس کو بتانے لگی تو زوہا نے زبردستی اُس کو بیٹھانا چاہا۔

اُس کی بات پہ سکندر کو کجھ شرمندگی ہوئی کیونکہ بورڈ پہ نظر پڑنے کے بعد اُس کا خوشگوار موڈ خراب ہوگیا تھا جس سے پورے کلاس کو نہ اُس نے سلام کا جواب دیا تھا اور نہ اُن میں سے کسی سے اپنا تعارف کیا تھا اور نہ پوچھا تھا۔

شکریہ اب آپ بیٹھ جائے۔سکندر نے کہا تو وہ بیٹھ گئ اُس کے بعد بیٹھنے کے بعد سکندر نے اپنا گلا کھنکھارا

میرا نام سکندر تبریز ہے میں یہاں ایز اٙ پروفیسر کی حیثیت سے بس چند ماہ ہوں اُمید ہے آپ سب کے ساتھ یہ ماہ اچھے گُزرے گے۔سکندر آخری بات پہ آئرہ کو وارن کرتی نظروں سے دیکھ کر بولا جو بہت غور سے اُس کو بولتا دیکھ رہی تھی۔

سر میرا نام آئرہ عماد ہے اور میں یہاں ایز ا اسٹوڈنٹ کی حیثیت سے چار سے پانچ سال یہی ہوں اُمید ہے ہم آپ کی اُمیدوں پہ پورا اُترے گے آپ کو کبھی بھی ۔۔۔۔کسی۔۔۔۔بھی بات کی شکایت نہیں ہوگی۔آئرہ کھڑی ہوکر لفظوں کو کھینچ کر ادا کرنے لگی اُس کی پہلے ہی دن والی حرکتیں دیکھ کر سکندر نے اپنے اندر بدلا لینے کا عزم کرلیا تھا کیونکہ وہ اچھے سے آئرہ کی کمزوری جانتا تھا۔

سب اسٹوڈنس نے اپنا اپنا تعارف کروا لیا تو سکندر ایک شیطانی مسکراہٹ سے آئرہ کو دیکھ کر پوری کلاس کی جانب متوجہ ہوا۔

جیسا کے آپ کی کلاس کو سٹارٹ ہوئے کافی عرصہ ہوا ہے پر میں یہاں کسی کی ذہانت سے واقف نہیں تو میں نے سوچا کیوں نہ آپ سب کو ایک اسائمنٹ بنانے کہہ دیا جائے آج کی کلاس کا وقت تو ہوگیا ہے تو آپ کو پتا ہوگا اسائمنٹ کس بیس پہ ہوگا تو کل مجھے میرے آفس میں آپ سب کے اسائمنٹ جمع چاہیے۔سکندر کی بات پہ پوری کلاس میں بڑبڑانے کی آوازیں آنے لگی مگر اصل بم تو آئرہ پہ گِرا تھا اُس کی شکل دیکھ کر سکندر اپنی مسکراہٹ دباتا خداحافظ کہہ کر کلاس سے باہر چلاگیا۔

اور کرو مستیاں۔زوہا کلاس سے باہر نکل کر اؐس کے بازوں پہ تھپڑ رسید کرتی بولی اُس سے پہلے آئرہ جواب میں کجھ کہتی اُس کے موبائل پہ میسج ٹون ہوئی آئرہ نے اپنے موبائیل کی اسکرین پہ سڑا ہوا کریلہ کا میسج دیکھا تو حیرانی کی انتہا نہ رہی کیونکہ پہلی بار سکندر نے اُس کو کوئی میسج کیا تھا دونوں کے پاس ایک دوسرے کا نمبر تو تھا پر کبھی بات کرنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا تجسس کے مارے آئرہ نے جلدی سے میسج اُوپن کیا تو اُس کا خون کھول اُٹھا۔

اُمید اب تم کلاس میں ادب کے دائرے میں رہوں گی ورنہ آج تو ایک اسائمنٹ دیا ہے دوسری بار کیا سزا ہوگی اُس کا اندازہ بھی تمہیں نہیں ہوگا۔

میسج پڑھنے کے بعد اُس نے بے دلی سے فون اپنے بیگ میں رکھا۔

کیا ہوا؟زوہا جو اُس کی کاروائی ملاحظہ فرمارہی تھی اُس کی لٹکی شکل دیکھ کر استفسار کرنے لگی۔

پہلے دن کون دیتا ہے اسائمنٹ۔آئرہ نے منہ بسور کر کہا۔

تم یہ بتاؤ جو کجھ تم نے کلاس میں کیا وہ اچھا تھا؟کیا کوئی اور پروفیسر ہوتا اُس کے ساتھ بھی تم ایسا کرتی تو تمہیں پتا ہے کلاس سے باہر کی جاتی۔زوہا نے اؐس کو عقل دلانی چاہی

کزن تھا اگر چھوٹا سا مذاق کرلیا تو کونسی بڑی بات ہوگئ۔آئرہ نے جلدی سے کہا

سکندر بھائی کو ایسے مذاق پسند نہیں تو تم مت کیا کرو۔زوہا نے سمجھایا

اُن کو پسند کیا ہوتا ہے۔آئرہ نے منہ بنایا۔

اچھا پریشان نہ ہو میں ہیلپ کردوں گی تمہاری۔زوہا نے اُس کو دلاسہ دلوایا۔

زوہا تم میرے ساتھ چلو کام ہے۔اذہاد اُن دونوں کے پاس آکر بولا

بندہ سلام ہی کردیتا ہے۔آئرہ نے اُس کو شرمندہ کرنا چاہا

جی تو کرلیں سلام۔اذہاد نے کہا

اسلام علیکم۔اُس سے پہلے وہ لڑنا شروع ہوتے زوہا نے مداخلت کی۔

وعلیکم اسلام۔اذہاد نے سر کو خم دے کر جواب دیا۔

زوہا تمہارے ساتھ کہی نہیں جائے گی ہمارا کینٹین جانے کا اِرادہ ہے۔آئرہ زوہا کا ہاتھ پکڑ کر بولی

میں بھی کینٹین لیجانے والا تھا آپ ہمیں جوائن کرسکتی ہیں۔اذہاد نے دانت پیس کر کہا

نو تھینکس آپ کسی اور کے پاس جائے۔آئرہ نے صاف چِٹا انکار کیا۔

تم چلو میرے ساتھ۔اذہاد زوہا کا دوسرا ہاتھ پکڑ کر بولا

میری بہن تمہارے پاس نہیں آئے گی۔آئرہ زوہا کو اپنی طرف کھینچ کر بولی

ایسے کیسے نہیں آئے گی زوہا کو آنا پڑے گا۔اذہاد نے اپنی طرف اُس کو کھینچا۔

زوہا پریشان ہوتی کبھی ازہاد کی جانب کھینچی جاتی تو کبھی آئرہ کی جانب۔

چھوڑو میرے ہاتھ۔زوہا نے احتجاج کیا۔

تمہیں بول رہی ہیں

تمہیں بول رہی ہیں۔

دونوں نے ایک ساتھ ایک دوسرے کو کہا تو زوہا تنگ آکر دونوں سے اپنے ہاتھ کھینچ کر الگ ہوکر کھڑی ہوئی۔

دونوں سے بول رہی ہو اللہ کی پناہ پتا نہیں کیا سمجھا ہوا ہے مجھے میں کوئی پتنگ ہوں جو دونوں کھینچ رہے تھے۔زوہا سختی سے کہتی وہاں سے چلی گئ اُس کے جانے کے بعد وہ دونوں ایک دوسرے کو خونخوار نظروں سے دیکھنے لگے۔

ہونہہ۔آئرہ ناک چڑھا کر کہتی رائٹ سائیڈ کی طرف چلی گئ جہاں اُس کی دوستیں بیٹھی ہوئی تھی۔

ہونہہ کی بچی۔اذہاد بھی بڑبڑاتا گراؤنڈ کی طرف چلاگیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

سر آج آپ لیٹ آئے ہیں خیریت تھی؟سکندر پولیس یونیفارم پہنے پولیس اسٹیشن آیا تو کانسٹبل نے پوچھا

ہاں اب اِسی ٹائم آؤں گا کجھ عرصے تک۔سکندر جواب دیتا اپنے کیبن کی طرف چلاگیا۔وہ جیسے ہی بیٹھ کر کیس کی فائل دیکھنے لگا تو اُس کا سیل فون بجنے لگا۔

موبائل اسکرین پہ حِنا کالنگ دیکھ کر اُس کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی۔

بڑے دنوں بعد یاد آئی ہے میری۔سکندر کال اٹینڈ کرتا شرارت سے بولا اگر آئرہ اِس وقت اُس کو ایسے دیکھتی تو اپنی آنکھوں پہ یقین نہ کرتی۔

میں نے تو پھر بھی کردیا پر تم نے تو نہیں کیا۔دوسری طرف حِنا ناراض لہجے میں بولی۔

سوری یار میری جاب کا مسئلہ ہے۔سکندر نے کہا

آج کہی باہر جانے کا پلان کریں؟حنا نے کہا

اُتوار کو سارا دن تمہارے ساتھ پر آج مصروف ہوں۔سکندر نے کہا

اچھا بھلا کافی تو ایک ساتھ پی سکتے ہیں نہ۔حِنا نے اسرار کیا۔

اچھا شام میں ملتے ہیں۔سکندر اب کی انکار نہیں کرپایا

اوکے ڈن مجھے شاپنگ بھی کرنی ہے۔حنا خوش ہوتی بولی

یہ ناانصافی ہے تم نے بس کافی کا کہا تھا۔سکندر جلدی سے بولا

ایوری تھنگ از فیئر ان لو۔حِنا دلکش انداز میں بولی

پتا نہیں کس جاہل نے کہا ہے۔سکندر جل کے بولا تو وہ ہنس پڑی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

شام کا وقت تھا زوہا اور آئرہ شاپنگ مال آئی تھیں جہاں اُن کو کجھ کپڑے خریدنے تھے آئرہ تو اپنا سارا سامان لے چُکی تھی بس زوہا تھی جس کو کوئی چیز پسند نہیں آرہی تھی۔

یار زوہا جلدی کرو دیر ہورہی ہے۔آئرہ تنگ آتی بولی۔

پہلے دیر نہیں ہورہی تھی جب خود کی شاپنگ کررہی تھی تو۔زوہا نے طنزیہ کیا۔

نہیں کیونکہ تب میں نے جلدی سے لی تھی تمہاری طرح اتنا وقت نہیں لگایا تھا۔آئرہ فخریہ لہجے میں کہا

میری بھی ہوجاتی اگر تم مجھے ڈسٹرب نہ کرتی۔ زوہا نے جتایا

اچھا لڑو تو نہیں تم آرام سے خریدو جو تمہیں لینا ہے تب تک میں فوڈ کارنر جاتی ہوں بھوک لگی ہے بہت۔ آئرہ نے کہا

ٹھیک ہے میں بھی وہاں آجاؤں گی۔زوہا نے کہا تو آئرہ نے اپنے قدم فوڈ کارنر کی طرف بڑھائے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. . ۔۔۔۔۔

تم نے یونیورسٹی کی جاب بھی کرلی اور مجھے بتایا تک نہیں۔حنا نے حیرت سے اُس کو دیکھ کر کہا وہ دونوں شاپنگ کے بعد فوڈ کارنر آئے تھے سکندر نے جب اُس کو اپنے یونی جانے کا بتایا تو وہ بہت حیران ہوئی۔

جاب کہا بس کجھ ماہ تک۔سکندر نے بتایا

جو بھی تمہارے لیے تو بہت مشکل ہوگا دونوں کو ایک ساتھ ایڈجسٹ کرنا۔حنا نے کجھ سوچ کر کہا

ابھی تو ایک دن گُزرا ہے دیکھتا ہوں آگے کیا ہوتا ہے سر نے اتنی اُمید اور خلوس سے کہا میں انکار بھی نہیں کرسکتا تھا۔سکندر نے مسکراکر کہا

یہ تو ہے تم اُن کے موسٹ فیورٹ اسٹوڈنٹ تھے اِس لیے تو ابھی تک یاد ہو انہیں اور یہ کام تمہیں دیا۔حِنا اُس کی بات پہ بولی۔

ہمم ٹھیک کہا۔

ویسے لگتا ہے اب مجھے بھی یونی دوبارہ سے جوائن کرنی چاہیے اِسی بہانے ہم ساتھ تو ہوگے۔حنا پرسوچ لہجے میں بولی تو سکندر کا قہقہقہ چھوٹ گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ کون چھپلی سکندر بھائی کے ساتھ ہے ۔آئرہ جو ابھی فوڈ کارنر آئی تھی وہاں پہلے سے سکندر کو کسی لڑکی کے ساتھ دیکھا تو اندر کا جاسوس جاگا۔

یہاں کیوں کھڑی ہوں وہاں جاتی ہوں اور پتا کرتی ہوں۔آئرہ اپنے سر پہ ہاتھ مارتی اپنے قدم اُن دونوں کی طرف بڑھائے۔

سکندر بھائی آپ یہاں ایک لڑکی کے ساتھ آپ کو شرم آنی چاہیے ہماری عزت یوں ڈیٹنگ کرکے نیلام کرنے پہ۔آئرہ اپنے ہاتھ کمر پہ ٹکاتی مشکوک نظروں سے اُن دونوں کو دیکھ کر بولی۔

سکندر جو حنا کے ساتھ باتوں میں مگن تھا اچانک آئرہ کو اپنے سامنے دیکھ کر حیران ہوا

تم یہاں کیا کررہی ہو اکیلے؟سکندر سخت لہجے میں استفسار کرنے لگا۔حِنا ناسمجھی سے کبھی آئرہ کو دیکھتی تو کبھی اپنے سامنے بیٹھے سکندر کو۔

اتنے سارے لوگ بیٹھے ہوئے آپ کو نظر نہیں آرہے ہیں کیا؟ سچ کہتے ہیں کہنے والے محبوب اگر سامنے ہو تو آس پاس بیٹھے لوگ نظر نہیں آتے۔آئرہ نے اپنی طرف طنزیہ کا تیز چھوڑا جس کو سمجھے بنا حنا شرمانے لگی پر اُس کی بات سکندر کو اچھا خاصا تپا چُکی تھی۔

بیٹھو۔سکندر خود پہ ضبط کرتا بولا

آپ کی گود میں یا اِس کی گود میں۔آئرہ نے معصومیت سے پوچھا

اُس ٹیبل پہ ایک چیئر ایکسرا ہے وہ لیکر آؤ۔سکندر حِنا کا لحاظ کرتا دانت پہ دانت جمائے بولا ورنہ اُس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ دو تھپڑ لگادیتا آئرہ کے کان کے نیچے

اچھا اچھا۔آئرہ دانتوں کی نمائش کرتی وہاں سے چیئر اُٹھاتی ان دونوں کے بلکل بیچ میں رکھا جس سے نہ سکندر حنا کو دیکھ سکتا تھا اور نہ حِنا سکندر کو۔

تم بہت کیوٹ ہو۔حنا آئرہ کو دیکھ کر مسکراکر بولی

کیوٹ تو میں انتہا کی تھی پر بچپن میں اب تو میں بہت خوبصورت اور معصوم ہو شریف سیدھی سادھی۔آئرہ اپنی تعریف سن کر بڑھا چڑھا کر بولی جس کو سن کر سکندر نے کانوں کو ہاتھ لگایا۔

تمہاری باتیں بھی دلچسپ ہے۔حِنا ہنس کر بولی

میری چھوڑی آپ بتائے اتنی پتلی کیوں ہیں ماچس کی تیلی کی طرح۔آئرہ کی بات پہ حنا کی مسکراہٹ یکدم غائب ہوئی۔سکندر نے معذرت خواہ نظروں سے حنا کو دیکھا جو آئرہ کو کھاجانے والی نظروں سے اب دیکھ رہی تھی۔

اِس کو سمارٹنس کہتے ہیں۔حنا نے جتایا تو آئرہ سمجھنے والے انداز میں سرہلانے لگی۔

اُردو میں پولیو کا مرض رائٹ۔آئرہ کی بات پہ وہ آگ بگولہ ہوئی سکندر جو خود پہ ضبط کیے ہوئے تھے یکدم اُٹھ کھڑا ہوا پر آئرہ کہنے سے باز نہیں آئی۔

آپ کو بچپن میں پولیو ہوا تھا کیا ٹیکا نہیں لگواتی ہوگی نہ میری ماں تو ہم دو بہنوں کو لگواتی تھی یہ سکندر بھائی ہیں نہ یہ بھی لگواتے تھے تبھی تو ہٹے کٹے ہیں۔

اُٹھو تمہیں گھر چھوڑ آؤں۔سکندر تکھی نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا

ہم بات کررہے ہیں۔آئرہ منمناکر بولی

میں نے کہا اُٹھو تو مطلب اُٹھو۔سکندر اُس کو بازوں سے پکڑتا سخت لہجے میں بولا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *