Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbatein (Episode 16)

Muhabbatein Season 3 by Rimsha Hussain

یہ ڈریس کیسا رہے گا؟اگر میں پہن کر جاؤں تو۔ آئرہ نے اسکن کلر کا فراق زوہا کے سامنے کرکے پوچھا

اچھا ہے اور ذرہ جلدی تیاری ختم کرو اپنی۔زوہا نے کہا

کرتی ہوں پیچھے ہی پڑجاتے ہیں سب مجھ معصوم کے۔ آئرہ اپنا ڈریس پکڑ کر منہ بناکر بولتی واشروم میں گُھس گئ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آپ لوگ جا تو رہے ہیں میرا کیا کام وہاں۔ سکندر تیار ہوجانے کے بعد عبیر اور تبریز سے بولا

تمہارا جانا ضروری ہے کیا پتا لڑکی کے والدین کو کوئی سوال وغیرہ کرنا ہو۔عبیر نے مسکراکر بتایا

اچھا میں سوچو لڑکی کو تو میں جانتا ہوں پھر میرے جانے کی کیا تٙک بنتی ہے۔ سکندر سرجھٹک کر بولا

ویسے ایک بات بتاؤ تم کبھی ملے ہو اُن سے؟تبریز نے سنجیدگی سے پوچھا

یونیورسٹی لائیف میں ایک دو بار کمبائن اسٹڈی کی وجہ سے آنا جانا تھا تو ملاقات ہوئی تھی ورنہ نہیں۔سکندر نے بتایا تو تبریز نے گہری سانس خارج کی

اسلام علیکم۔آئرہ اندر داخل ہوتی پرجوش انداز میں سلام کرنے لگی۔

وعلیکم السلام اچھا ہوا وقت پہ آگئ۔عبیر نے سلام کا جواب دینے کے بعد مسکراکر کہا

چلیں۔سکندر نے ہاتھ میں پہنی گھڑی پہ وقت دیکھ کر کہا

آپ تو بڑے بے تاپ ہورہے ہیں جانے کو خیر تو ہے۔آئرہ شریر نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولی

فضول مت بولوں۔سکندر نے گھور کر کہا تو اُس نے آنکھیں گُھمائی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

کہی باہر ملے؟اذہاد کال پہ زوہا سے بولا

نہیں۔جواب فورن سے آگیا تھا۔

کیوں؟اذہاد کو ایسے جواب کی توقع نہیں تھی۔

ملنا کیوں ہے؟جواب دینے کے بجائے زوہا نے اُلٹا اُس سے سوال کیا

ملا کیوں جاتا ہے؟اذہاد نے چلاکی سے سوال دوبارہ سے اُس کی جانب کیا۔

مجھے کیا پتا ملنا آپ کو ہے آپ کو بہتر پتا ہوگا۔زوہا نے مسکراہٹ دباکر کہا

یار زوہا کیا مسئلہ ہے مجھے بہت ضروری بات کرنی ہے تم سے اِس لیے ملنا چاہتا ہوں۔اذہاد تنگ ہوتا بولا

یونی میں کرلینا بات ابھی میں مل نہیں سکتی بہت کام ہیں مجھے۔زوہا نے مصروف انداز میں کہا

ٹیکسٹ سینڈ کررہا ہوں وقت پہ پہنچ جانا۔اذہاد حکیمہ انداز میں بولا

یہ کیا بات ہوئی میں نے کہا جو نہیں آسکتی۔زوہا نے تیز آواز میں کہا

اِس کو کہتے ہیں جیسے کو تیسا پیار سے میری بات سمجھ نہیں آئی نہ۔اذہاد اتنا کہتا کال کٹ کرگیا جب کی زوہا حیرت سے فون کی اسکرین کو گھورنے لگی تھوڑی دیر بعد میسج موصول ہوا تو ناچار وہ اُٹھ کھڑی ہوئی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

السلام علیکم !وہ جیسے ہی گاڑی سے نکلے تو حنا کے والدین دروازے کے پاس اُن کے ویلکم کے لیے کھڑے تھے۔

وعلیکم السلام !تبریز اور سکندر نے خوشدلی سے سلام کا جواب دیا جب کی آئرہ اور عبیر کی نظریں حنا کے والد پہ جمی ہوئی تھی عبیر کو تو یہ چہرہ دیکھا دیکھا ہوا سا لگ رہا تھا جب کی آئرہ کو یہ سوچ رہی تھی شاید حنا کے والد نے بھی پولیو کا انجیکشن نہیں لگوایا ہوگا۔

آپ سرفراز ہیں؟عبیر سے رہا نہیں گیا تو بالآخر پوچھ بیٹھی اُس کے سوال پہ سب عبیر کو دیکھنے لگے تو بلاوجہ کنفیوز ہونے لگی۔

جی سرفراز نام ہے پر آپ کو کیسے پتا؟جواب حنا کی ماں خالدہ نے دیا تھا۔

ہم یونی فرینڈز تھے۔عبیر کے کجھ بولنے سے پہلے سرفراز بول پڑا جس پہ باقی سب سرہلانے لگے پر تبریز تیکھی نظروں سے سرفراز کو دیکھنے لگا۔

میری بیگم کبھی یونی نہیں گئ اور کالج میں میرے علاوہ اِس کا کوئی فرینڈ نہیں تھا شاید کوئی غلطفہمی ہوئی ہے آپ کو۔تبریز دانت پہ دانت جمائے سرفراز سے بولا

اندر کب چلے گے۔آئرہ نے بیچ میں مداخلت کرنا لازمی سمجھا

یہ کیا آپ کی بہن ہے؟خالدہ نے سکندر سے سوال کیا جو کھاجانے والی نظروں سے آئرہ کو دیکھ رہا تھا۔

نہیں نہیں یہ میرے کزن ہیں میرا کوئی بھائی نہیں اور نہ ان کی کوئی بہن۔آِئرہ جلدی سے بتانے لگی۔

اچھا اچھا آپ لوگ اندر آئے نہ۔خالدہ نے کہا

شکر خیال تو آیا۔تبریز بڑبڑایا جو آئرہ نے باخوبی سن لیا تھا۔

اندر آنے کے بعد آئرہ ایکسرے کرتی نظروں سے گھر کا جائزہ لینے لگی۔

آپ نے گھر بہت اچھے سے ڈیکوریٹ کیا ہے مگر ایک خامی ہے۔آئرہ کی اچانک کہی بات پہ وہ سب چونکس ہوئے۔

کیسی خامی اتنا اچھا تو ڈیکوریٹ ہے حنا نے خود اپنی نگرانی میں کروایا ہے اور تو اور سارے گھر کے پردے ہم روز بدلا کرتے ہیں۔خالدہ آئرہ کی بات پہ فورن سے بولی۔

شو آف۔تبریز ناگواری سے عبیر سے بولا تو وہ منت بھری نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی۔

صوفے ایسے سیٹ نہ کرتے تھوڑی اِسپیس وغیرہ دینی چاہیے تھی اور دیوار کا کلر اگر وائٹ ہیں تو آپ لوگوں

کام کی بات کریں۔آِئرہ ابھی اپنے مشورے سے اُن کو نواز ہی رہی تھی جب سکندر بیچ میں ٹوک کر بولا

ضرور۔سرفراز نے کہا پر عبیر کو اب اُن سے اچھی ویبز نہیں آرہی تھی پر سکندر کی خوشی کی خاطر مجبور تھی اِس لیے خاموش تھی۔

حنا نے کہا ہے اُس کو تو بلوائے۔عبیر نے مسکراکر حنا کا پوچھا

وہ اپنی فرینڈ کی برتھ ڈے پارٹی پہ گئ ہے۔خالدہ کا جواب سن کر سب کو تعجب ہوا سکندر خود اپنی جگہ شرمندہ ہوگیا۔

لو جی یہ کیا بات ہوئی آپ لوگوں نے اُس کو بتایا نہیں تھا اُس کو دیکھنے کے لیے مستقبل کے سسرال والے آرہے ہیں تھوڑا صبر کرلیتی پہلے ہم سے تو ملتی پھر پارٹی وغیرہ میں شرکت کرتی۔آئرہ کو یہ بات خاص پسند نہیں آئی۔

بیٹا بڑوں کو بات کرنے دو۔خالدہ بیگم نے زبردستی مسکراہٹ سے اُس کو دیکھ کر کہا

آئرہ کی بات ٹھیک ہے ہم تو بتاکر آئے ہیں پھر حنا کی غیرموجودگی کا ہم کیا مطلب اخد کرے۔تبریز نے پہلی بار باتوں میں حصہ لیا۔

ہم اُس کو کال کرتے ہیں راستے میں ہی ہوگی۔سرفراز نے بات سنبھالی۔

ہم دراصل بات پکی کرکے جائے گے۔عبیر نے کہا

جیسا آپ سب کو مناسب لگے پر ہماری کجھ شرائط ہیں۔سرفراز نے کہا

رشتے شرائطوں پہ نہیں ہوتے۔عبیر نے کہا

جی درست فرمایا آپ نے پر بات یہ ہے کے ہم چاہتے ہیں کے نکاح میں جو حق مہر ہوگا وہ آپ کو بتادے۔خالدہ نے کہا

جی تو بتائے۔عبیر نے کہا

ایک کڑور حق مہر ہونا چاہیے ساتھ میں جو گھر ہے آپ کا وہ ہماری بیٹی کے نام کرنا ہوگا ایز سیکیورٹی کے لیے۔خالدہ نے کہا اُن کی بات سن کر آئرہ کا پورا منہ حیرت سے کھل گیا عبیر نے تبریز کو دیکھا جو بے تاثر نظروں سے بیٹھا تھا۔جب کی سکندر یکدم سیدھا ہوا تھا۔

حق مہر تو ٹھیک پر رہی بات گھر نام کروانے کی تو ہم دوسرا فلیٹ اُس کے نام کردے گے۔عبیر نے تبریز کو خاموش دیکھا تو خود ہی کہا

یہ بھی ٹھیک ہے میاں بیوی الگ رہے گے تو پرائیویسی بھی مل جایا کرے گی ان کو۔خالدہ نے جیسے اُن پہ احسان کیا۔

سوچنے کی بات ہے انسان پرائیویسی کہتا کس کو ہے سارا دن ہمیں ہمارا خدا دیکھتا ہے ہمارے ہر اعمال کی اُن کو خبر ہوتی ہے ہمارے دائیں بائیں کندھے پہ ملائک بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں تو پرائیویسی کیسی۔اِیک بار پھر آئرہ نے باتوں میں حصہ لیا سرفراز اور خالدہ کو وہ ان سب کی دادی ماں لگنے لگی۔

میں اپنے ماں باپ کے ساتھ رہنا چاہوں گا شادی کے بعد بھی مجھے ایسی کوئی پرائیویسی نہیں چاہیے جو انسان کو اُس کے ماں باپ سے الگ رہنے پہ مجبور کرے۔سکندر نے سپاٹ انداز میں کہا

واہ کیا ڈائیلاگ مارے ہیں لگتا ہے چوری چوری یہ بھی ڈرامے دیکھا کرتے ہیں۔آئرہ داد دیتی نظروں سے سکندر کو دیکھتی دل ہی دل میں سوچنے لگی۔

ہمیں آپ کی ہر شرط منظور اگر آپ بھی ہماری شرائط قبول کرے تو۔تبریز کا انداز دیکھ کر عبیر ٹھٹک کر اُس کو دیکھنے لگی۔

آپ بتائے۔سرفراز نے کہا

آپ لوگ سلامی میں سکندر کو ایک گاڑی دینگے یہ گھر اُس کے نام پہ کرے گے کجھ کیش بھی دینا ہوگا دوسری بات اپنی جائداد کا کجھ حصہ بھی اُس کے نام کرے گے میرے خیال سے آپ کی بیٹی کے لیے یہ زیادہ سیکیور ہوگا۔تبریز شیطانی مسکراہٹ چہرے پہ سجاکر اُن دونوں کے چودہ طبق روشن کرگیا عبیر اور سکندر نے اپنا ماتھا پیٹ لیا پتا تھا انہیں تبریز اپنی پہ آگیا ہے۔

واہ پھوپھاں جان نے تو میدان ہی مارلیا کیا شرائط رکھی ہیں۔آئرہ تو تبریز سے ایمپریس ہی ہوگئ۔

یہ کیا بات ہوئی بھلا۔سرفراز گڑبڑا کر بولا

بلکل یہ کیا بات ہوئی رشتہ پکا ہوا نہیں اور آپ چاہتے ہیں ہمارا بیٹا الگ گھر میں رہے اگر لالچ اتنی ہی تھی تو شادی تک کا صبر کرلیتے ابھی سے آپ کا یہ حال ہے تو شادی کے بعد تو جانے کیا کہو گے تم۔تبریز ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوکر سخت لہجے میں بولا آپ کہنے کی زحمت اُس نے گوارہ نہیں کی اُس اُٹھتا دیکھ کر عبیر سکندر اور آئرہ بھی اُٹھ کھڑے ہوئے۔اُسی وقت حنا بھی اندر داخل ہوئی۔

السلام علیکم !حنا نے سب کو سلام کیا

وعلیکم السلام جواب عبیر اور آئرہ نے دیا۔

خداحافظ۔تبریز اتنا کہتا باہر کے راستے چل دیا حنا تعجب سے اُن کو جاتا دیکھنے لگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھوپھاں جان آپ نے بلکل ٹھیک کیا ایسے لوگوں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے اُن کے یہاں ہوتا ہوگا الگ رہنا ہمارے یہاں تھوڑی ہوتا ہے یہ سب۔وہ سب گاڑی میں بیٹھے تو آئرہ ڈرائیونگ کرتے تبریز سے بولی

کین یو پلیز کیپ کوائیٹ۔فرنٹ سیٹ پہ بیٹھا سکندر اشتعال میں آیا

آئے کین ناٹ۔ آئرہ نے بنا تاخیر کیے ناک منہ چڑھا کر جواب دیا تو تبریز کو پہلی بار اُس کی اِس حاضری جوابی پہ ہنسی آئی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

کیا بات کرنی ہے تمہیں۔زوہا نے اذہاد سے پوچھا

بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔اذہاد شوخ نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا

اذہاد پلیز کم ٹو دا پوائنٹ۔زوہا نے سنجیدگی سے کہا جب کی اپنی تعریف سن کر اُس نے شرمانے کی زحمت نہیں کی جس پہ اذہاد ٹھنڈی سانس لیکر رہ گیا۔

اوکے دراصل بات یہ ہے کے میں شادی کرنا چاہتا ہوں۔اذہاد نے کہا

تو کرلوں۔زوہا نے آرام سے کہا

تمہیں یہ پوچھنا چاہیے تھا کس سے؟اذہاد بدمزہ ہوکر بولا

اچھا بتاؤ کس سے؟زوہا نے فرمانبرداری سے پوچھا

تم سے۔اذہاد اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر بولا تو زوہا نے جلدی سے اپنے ہاتھوں کو کھینچا

یہ کیسا مذاق ہے؟زوہا یہاں وہاں دیکھ کر بولی

یہ مذاق نہیں میں سیریس ہوں۔اذہاد نے اپنے خالی ہاتھ کو دیکھ کر کہا۔

میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی۔زوہا نے کہا

وجہ؟اذہاد سنجیدہ ہوا

میں پڑھنا چاہتی ہوں تمہاری پڑھائی مکمل ہوئی ہے میری نہیں۔زوہا نے کہا

یہ کوئی خاص وجہ نہیں تم شادی کے بعد بھی پڑھائی جاری رکھ سکتی ہو میرے والدین پاکستان میں نہیں ہوتے میں اکیلا ہی ہوتا ہوں۔اذہاد نے کہا

میں سوچ کر بتاؤں گی۔زوہا کو ابھی جواب دینا مناسب نہیں لگا۔

شیور پر جواب ہاں میں ہونا چاہیے۔اذہاد مسکراکر بولا

💕
💕
💕
💕
💕
💕

مطلب انکار ہوا؟معصومہ آئرہ کی بات سن کر بولی

یہی سمجھ لے پھوپھاں جان نہیں مانے گے میرا تو یہی خیال ہے۔آئرہ نے کندھے اُچکاکر کہا

چلو شکر اِس بندے نے کبھی عقل کا بھی استعمال کیا۔معصومہ سرجھٹک کر بولا

ایسا تو نہ بولے کیا شخصیت ہے ان کی پہلے تو ایسے خاموش بیٹھے تھے جیسے اِن کے علاوہ کوئی شریف ہی نہیں پھر ایک ہی پل میں ان کی بولتی بند کرواگئے۔آئرہ جھٹ سے بولی

میں امی کو بتا آؤں۔معصومہ اتنا کہتی اُٹھ کھڑی ہوئی۔آئرہ بھی اپنے کمرے میں جانے لگی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

یہ تھی تمہاری؟تبریز سخت نظروں سے سکندر کو دیکھ کر بولا تو وہ اپنا سرجھکا گیا۔

آپ غصہ تو نہ ہو۔عبیر نے آہستہ آواز میں کہا

کیسے نہ ہوں غصہ میں نے بس فیصلہ کرلیا ہے اُس خاندان میں رشتہ نہیں ہوگا جن میں رشتوں کا پاس نہ ہو۔تبریز فیصلہ کن انداز میں بولا

اتنی جلدبازی میں فیصلہ نہیں لینا چاہیے۔عبیر نے سمجھانا چاہا

ہم کل تمہارے گھر جائے گے سکندر اور آئرہ کی بات پکی کرنے۔تبریز نے اچانک اُن دونوں پہ بم گِرایا

نو ڈیڈ میں آئرہ سے ہرگز شادی نہیں کروں گا۔سکندر نفی میں سرہلاتا بولا

تم سے پوچھ نہیں بلکہ بتارہا ہوں اگر اختلاف ہے تو اُس لڑکی کے پاس جاسکتے ہو کیونکہ میں پھر تمہیں جائداد سے عاق کرلوں گا۔تبریز کا انداز اٹل تھا۔

آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتے۔سکندر نے احتجاج کیا

میں کیا کرسکتا ہوں اور کیا نہیں یہ تمہارا مسئلہ نہیں۔تبریز سرد انداز میں بولا تو سکندر خاموش ہوا۔

تبریز آپ جلدباز مت کریں یہ زندگی بھر کا معاملہ ہے۔عبیر کو سکندر کا مایوس ہونا پسند نہیں کیا۔

میں فیصلہ کرچکا ہوں۔تبریز نے اپنی بات پہ زور دیا۔تو سکندر گھر سے باہر نکل گیا۔

میں عماد کو کال کررہا ہوں۔تبریز عبیر کو بتاتا لان میں آیا۔

السلام علیکم خیریت ؟تبریز نے عماد کو کال کی تو عماد کال ریسیو کرتا بولا

کجھ بتانا تھا تمہیں۔تبریز نے کہا

بتاؤ پھر کیا بات کرنی ہے تم نے؟عماد لیپ ٹاپ بند کیے اُس کی جانب متوجہ ہوا۔

چھ سے سات اور سات سے آٹھ سال بڑا ہوگا میں تم سے۔تبریز نے دانت پہ دانت جماکر کہا

یہ بتانے کے لیے کال کی تھی؟عماد جان کر انجان بنا ہوا۔

نہیں تمہیں یہ بتانا تھا آج میں تمہارے رقیب سے مل کر آرہا ہوں۔تبریز چڑانے والے انداز میں اُس سے بولا

سرفراز کی بات کررہے ہو؟عماد نے دور کی کوڈی پھینکی۔

ہاہاہاہاہا کیا سیسن آف ہومر ہے تمہارا مطلب ابھی تک تمہیں وہ یاد ہے اتنے سالوں کے بعد بھی۔تبریز اُس کے درست تُکے پہ قہقہقہ لگائے بنا نہ رہ پایا۔

رقیب کوئی نہیں بھولتا۔عماد تھوڑا خجل ہوا۔

خیر تمہیں کجھ اور بتانا تھا ہم کل تمہاری طرف آرہے ہیں۔تبریز نے کہا

موسٹ ویلکم۔عماد نے سرسری لہجے میں کہا

بندہ وجہ ہی پوچھ لیتا ہے۔تبریز دانت پیس کر بولا

جی فرمائے کیا وجہ ہے جو آپ ہمارے گھر تشریف پدھار رہے ہیں۔عماد طنزیہ انداز میں پوچھنے لگا

بیوی کا خاصا اثر ہوا ہے۔تبریز ہنس کر بولا

میں کال کاٹ رہا ہوں۔عماد کال کاٹنے والا تھا جب تبریز بول پڑا

آئرہ کا رشتہ لینے سکندر کے لیے۔

او یاد آیا آج تو تم لوگوں نے لڑکی دیکھنے جانا تھا نہ پھر آئرہ کا رشتہ کیوں؟عماد اُس کی بات پہ حیران ہوا اُس کے پوچھنے پہ تبریز نے ساری بات اُس کے گوش گُزار کردی۔

ٹھیک ہے آجانا ہم سوچ کر جواب دینگے۔عماد نے نخرا دیکھایا

جسٹ فار فارملیٹی کے لیے آرہے ہیں ورنہ تمہاری ہمت نہیں اتنی انکار کی۔تبریز اُس کی بات سن کر تپ اُٹھا۔

ہمت کی بات تم نہ کرو تو اچھا ہے۔عماد نے چڑایا

عماد میں بڑا ہوں ہوں تم سے آپ کہا کرو۔تبریز زچ ہوا۔

میں آپ کو تم ہی کہوں گا تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں۔عماد اُس کی حالت کا مذہ لیتا بولا تو تبریز نے کال کٹ کردی

ٹوں

ٹوں

کی آواز پہ عماد کا قہقہقہ نکل گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *