Muhabbatein Season 3 by Rimsha Hussain

سکندر اپنے دوست اذہاد کے فلیٹ آیا تو افسوس سے سر کو جنبش دی کیونکہ پورے گھر کا ہال بگڑا ہوا تھا وہ جتنا نفاست پسند تھا اُس کا دوست اُتنا ہی گند پِھیلانے میں ماہر تھا اذہاد کا گھر اور اُس کا ایک دوسرے کے قریب تھا جس وجہ سے وہ کسی بھی وقت ایک دوسرے کے پاس آجاتے۔
اُٹھ سالے۔سکندر اوندھے منہ میں لیٹے ہوئے اذھاد کے سر پہ کھڑا ہوتا بولا
میری کوئی بہن نہیں اپنے لیے کوئی اور ڈھونڈ۔اذہاد جو پہلے ہی جاگ رہا تھا سکندر کی آواز پہ انگرائی لیتا آگاہی دینے لگا۔
بکواس مت کرو۔سکندر نے ایک مُکہ اُس کے بازوں پہ جڑدیا۔
یہ اپنا بلڈوزز جیسا ہاتھ میرے سے دور کرو۔اذہاد اپنا بازوں سہلاتا سخت بے زار ہوا
ہاں تم اتنے نازک۔سکندر اتنا کہتا بیڈ پہ بیٹھا
آج مجھ ناچیز کی یاد کیسے آئی۔
کل سے میں نے پولیس جوائن کرنی ہے۔سکندر نے بتایا
تو۔اذہاد نے آئبرو ریز کیے۔
تو آج پارٹی کرتے ہیں سب دوستوں کے ساتھ۔سکندر نے بتایا
چلو تم نے اپنی جیب سے پئسے نکالنے کا بھی سوچا۔اذہاد بے قائدہ ہاتھ اُپر کرتا شکر ادا کرنے لگا۔
ہاں ہاں آج سے پہلے تو تم ریسٹورنٹ میں جیسے اپنے پئسو سے کھانا ٹھونستے تھے نہ۔سکندر اُس کی بات پہ گھور کر بولا
توبہ ہے ایک دفعہ بیس روپئے کا جوس کیا لیکر دیا تم تو گلے ہی پڑگئے ہو
سیریسلی بیس روپئے کا جوس تھا؟سکندر بیس روپئے پہ بونچکار کے رہ گیا۔
اور نہیں تو کیا اب یہ مت کہنا برینڈڈ جوس تھا۔اذہاد اپنی بات پہ قائم تھا۔
تمہارے پاس آکر میں نے غلطی کردی۔سکندر کو جیسے افسوس ہوا۔
اچھا نہ ناراض کیوں ہوتے ہو چلتے ہیں میں بس کپڑے بدل لوں۔اذہاد تھوڑا سنجیدہ ہوا۔

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *