Muhabbatein Season 3 by Rimsha Hussain NovelR50574 Muhabbatein (Episode 09)
Rate this Novel
Muhabbatein (Episode 09)
Muhabbatein Season 3 by Rimsha Hussain
اگلے دن یونیورسٹی میں سکندر کو سب کے اسائمنٹ مل گئے تھے سوائے آئرہ کے تبھی وہ کلاس لینے کے بعد آئرہ کو اپنے کیبن میں آنے کا کہا تھا جو پانچ منٹ بعد اُس کے کیبن میں موجود بھی تھی۔
میں نے تمہیں ایک اسائمنٹ بنانے کا کہا تھا۔ سکندر اپنے کیبن میں بیٹھتا تیکھے چتون سے پرسکون کھڑی آئرہ کو دیکھ کر پوچھنے لگا۔
مجھے کجھ بنانا نہیں آتا امی نے کہا جب وہ میری شادی کروائے گی اُس سے دو ماہ پہلے کچن میں کیا کیا پکتا ہے وہ سکھائے گی۔ آِئرہ نے انوکھا جواب دیا
مامی جان سے کہنا دو ماہ پہلے گھرداری سکھانے کی بھی زحمت نہ کرے
وہی تو میں بھی بولتی ہوں اُن سے بھلا میرا کیا کام جو میں کھانا بنانا سیکھو ظاہر ہے وہاں ملازم بھی تو ہوگے وہ کام کرے گے۔ آئرہ اُس کی بات بیچ میں کاٹتی پرجوش آواز میں بتانے لگی۔اپنی بات کٹ جانے پہ سکندر خونخوار نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا۔
میرا کہنے کا مطلب تھا اسائمنٹ لکھنے کا کہا تھا وہ کیوں نہیں لکھا جب کی ساری کلاس نے لکھا ہے۔ سکندر دانت پہ دانت جماتا ہوا بولا۔
وہ میں کمپیوٹر پہ لکھا
واٹ کمپیوٹر تمہارے پاس کمپیوٹر کہاں سے آگیا۔ اب کی سکندر اُس کی بات کاٹتا حیرت سے بولا
اُستاد کی ٹیچر کے چیئر پہ بیٹھے ہیں کیا اتنا نہیں پتا کسی کی بات درمیان میں نہیں کاٹی جاتی بلکہ تحمل سے سنی جاتی ہے۔ آئرہ نے اُس عمل پہ سکندر کو شرمندہ کردیا جو عمل کجھ دیر پہلے وہ خود سرانجام دے چُکی تھی۔
تمہارے پاس کمپیوٹر تو نہیں
لیپ ٹاپ تو ہے نہ۔ آئرہ نے جھٹ سے بتایا
اچھا تو اسائمنٹ لیپ ٹاپ پہ لکھ کر وہ یہاں لاتی۔ سکندر نے میٹھا سا طنزیہ کیا۔
ارے نہیں آپ کو تو پتا ہے میری رائٹنگ کا کتنی خوبصورت ہے خوامخواہ آپ کی نظر لگ جاتی اور آپ کمپلیکس کا شکار ہوتے اِس لیے میں نے سوچا لیپ ٹاپ پہ لکھ کر فائل بناکر چھپوا کر آپ کو دون گی۔آئرہ کی بات پہ سکندر اپنے بال نوچنے کے قریب تھا۔
یو مین پرنٹ کرواکر۔ سکندر خود کو پرسکون کرتا بولا
ہاں وہی پرنٹ کوئی مسئلہ تو نہیں تھا نہ؟ بات کرتے کرتے آئرہ کو فکر لاحق ہوئی۔
تمہیں دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کے تم انگلش اسکول میں پڑھی ہوں۔ سکندر افسوس بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا
آپ کے علاوہ ہر کوئی کہہ سکتا ہے۔ آئرہ نے جھٹ سے جواب دیا۔
تو مجھے بھی کوئی وجہ ایسی دو تاکہ مجھے بھی لگے واقع تم کسی انگلش اسکول کی شاگرد رہ چُکی ہو
آپ کو وجہ دے کر مجھے کتنی نیکیوں کا ثواب ملے گا۔سکندر کی بات پہ آئرہ پرسوچ لہجے میں گویا ہوئی۔
دیکھو آئرہ بی سیریس ماما جان کا کوئی بیٹا نہیں اُن کی ساری امیدیں تم دونوں بہنوں سے وابستہ ہے اگر تم ایسا کروں گی تمہیں اندازہ ہے اگر تمہارے اس بچپن میں تمہارا کیریئر بھی داؤ پہ لگ سکتا ہے زوہا کی طرف سے کوئی پریشانی نہیں وہ اپنے پاؤں پہ کھڑی ہوجائے گی تم بھی اپنی اسٹڈی کو سیریسلی لو تاکہ آگے چل کر تم بھی اپنے پیروں پہ کھڑی ہوسکو جس پہ ماما جان کو اپنہ بیٹیوں پہ فخر ہو۔سکندر اب کی نرم لہجے میں اُس کو سمجھانے لگا۔
اب بھی میں اپنے پیروں پہ کھڑی ہوں کسی سے رینٹ پہ نہیں لیے۔آئرہ کی سوئی آخری بات پہ اٹک گئ تبھی اپنے پیروں کی جانب اِشارہ کرتی ہوئی بولی۔
نکلو یہاں سے۔سکندر اُس کے جواب پہ غصے سے لال پیلا ہوتا بولا مطلب حد تھی وہ تنی سنجیدگی سے اُس کو سمجھارہا تھا پر آئرہ نے کجھ سیریسلی لیا ہی نہیں تھا۔
سچ میں یہ میرے آفیشل فُٹ ہے۔اب کی اپنی بات پہ یقین دلانے کے لیے آئرہ نے انگلش کا سہارہ لیا
فُٹ کی کجھ لگتی میں نے کہا باہر جاؤ ورنہ میرا بی پی شوٹ کرجائے گا۔سکندر تیز آواز میں بولا تو آئرہ نے باہر جانے میں ہی عافیت جانی۔اُس کے جانے کے بعد سکندر نے ایک سانس میں پانی کا گلاس اپنے حلق میں انڈیلا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔
ہائے۔آئرہ کیفے جارہی تھی جب اذہاد اُس کے ہمقدم ہوتا بولا
بائے۔آئرہ نے فٹ سے جواب دیا۔
تم ہر وقت سڑی ہوئی کیوں رہتی ہو؟اذہاد نے بے تکلفی سے جواب دیا
تم میری بہن اور اُس کڑیلے کے دوست ہو تو اُس کے ساتھ فری رہو میرے ساتھ فری ہونے کی ضرورت نہیں تمہیں۔آئرہ نے گھور کر کہا
اچھا پھر تم بھی فرینڈشپ کرلوں فائدے میں رہو گی۔اذہاد رک کر اپنا ہاتھ اُس کی جانب بڑھاتا بولا
مثلاً کونسا فائدہ؟آئرہ ایک نظر اُس کا ہاتھ دیکھ کر بولی۔
مثلًا تمہاری اور میری نیچر ایک جیسی ہے تمہیں بھی فن پسند ہے مجھے بھی پسند ہے تم بھی مست مولا ہو اور میں بھی مست مولا ہوں تو ہماری خوب جمے گی۔اذہاد نے مسکراکر بتایا
یہ میرے لیے کوئی فائدیمند نہیں۔آئرہ نے صاف چٹ جواب دیا۔
ہیں وہ کیوں؟اذہاد کا منہ بن گیا
کیونکہ مجھے تم سے دوستی کرنے میں دلچسپی نہیں وجہ یہ کے تم اُس کڑیلے کے فرینڈ ہو۔آئرہ نے منہ بناکر کہا
تو یہ سوچ کر دوستی کرو میں تمہاری بہن کا بھی فرینڈ ہوں۔اذہاد نے اب کی دور کی کوڈی اُچھالی جو کام بھی کرگئ۔
یا رائٹ پھر تو ہم اچھے کرائم پارٹنر بھی بن سکتے ہیں۔آئرہ پرجوش ہوئی
رائت یہی تو میں بول رہا ہوں۔اذہاد شکر کا سانس خارج کرتا بولا
دوستی کرنے سے پہلے میری ایک شرط ہے۔آئرہ انگلی اُٹھا کر بولی
دوستیاں شرطوں پہ نہیں کی جاتی۔اذہاد نے گھورا
ارے نہیں کرائم پارٹنر بننے کی شرائط کی بات کررہی ہو۔آئرہ گِڑبڑاکر بولی
بتاؤ پھر۔اذہاد نے جاننا چاہا
اگر میں سکندر بھائی کو تنگ کرنا چاہوں تو تم میرا بھرپور ساتھ دو گے یہ نہیں سوچو گے کے وہ تمہارا بڈی ہے؟آئرہ نے غور سے اُس کی طرف دیکھ کر کہا
اوکے ڈن پر میری بھی کجھ شرائط ہیں؟اذہاد نے موقعے پہ چونکا مارنا چاہا۔
مجھے منظور ہے۔آئرہ نے خوشدلی کا مظاہرہ کیا
پہلے سن تو لو۔اذہاد نے دانت پیسے۔
آئرہ عماد کسی کی نہیں سنتی وہ سننے سے زیادہ سُنانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔آئرہ شانِ بے نیازی سے کہتی کیفے میں داخل ہوئی پیچھے اذہاد ہکا بُکا اُس کی بات پہ غور کرتا رہا
اذہاد پُتر تیرا مستقبل بڑا ٹف ہونے والا ہے۔اذہاد کان کی لو کُھجاتا بڑبڑایا
