Muhabbatein Season 3 by Rimsha Hussain NovelR50574 Muhabbatein (Episode 19)
Rate this Novel
Muhabbatein (Episode 19)
Muhabbatein Season 3 by Rimsha Hussain
جلدی سب تیاریاں کرو اب تک تو وہاں سب اُٹھ بھی گئے ہوگے۔سوہا ہال میں کھڑی ہوتی معصومہ کو آواز دینے لگی۔
جی سب تیاریاں ہے بس زوہا آجائے۔معصومہ سارا سامان گاڑی میں رکھواکر سوہا کو جواب دینے لگی۔
حماد اور فرشتے کہاں رہ گئے ہیں اگر اُن کو بھی آنا ہے تو جلدی کرو اور زوہا ابھی تک کہاں ہے؟
اُس کو کہو کجھ جلدی کرے ایسا نہ ہو وہ ناشتہ کرلے۔سوہا نے کہا
عبیر کو پتا ہے ناشتہ ہماری طرف سے آئے گا آپ پریشان نہ ہو وہ انتظار کرلے گی۔معصومہ نے تسلی کروائی۔
میں بھی تیار ہوں چلے۔زوہا سیڑھیاں اُترتی اُن دونوں سے بولی۔
ہاں چلو عماد انتظار کررہا ہے باہر۔معصومہ نے عجلت میں کہا۔
ہمیں تو آنے دو۔حماد اور فرشتے بھی ایک ساتھ ہال میں جمع ہوتے بولے۔
ابراہیم اور ارسل کیوں رہ گئے اُنہیں بھی ساتھ لے چلو۔سوہا نے سب پہ ایک نظر ڈال کر کہا
وہ پہلے سے ہی الگ گاڑی میں بیٹھ چُکے ہیں۔زوہا نے بتایا
ویسے ہم ناشتہ ڈرائیور کے ہاتھوں بھی بھجوا سکتے تھے۔فرشتے نے اپنی رائے دی۔
عبیر نے سب کو آنے کا کہا تھا اور اگر ہم نہیں جائے گے تو آئرہ بھی ناراض ہوگی کیونکہ واپسی پہ اُس کو بھی تو ساتھ آنا ہے۔سوہا نے بتایا
اچھا ٹھیک ہے۔فرشتے اُس کی بات سمجھ کر بولی






آئرہ اُٹھو دیکھو دروازے پہ کون ہے۔سکندر اپنے کان کے اُپر تکیہ رکھتا آئرہ سے بولا
آپ جائے مجھے ابھی سونا ہے۔آئرہ نے صاف چِٹا انکار کیا۔
آئرہ جاؤ یہ ایک مجازی خدا کا حکم ہے تمہیں۔سکندر نے کجھ روعب سے کہا
اِس مجازی خدا کو چاہیے اپنی بیگم کو آرام کرنے دے۔آئرہ نے منہ بسور کر کہا
آئرہ۔سکندر نے دانت پیسے
پلیز جائے آپ کا کمرہ ہے میں کیسے کھول سکتی ہوں۔آئرہ کی بات پہ سکندر نے جھٹ سے اپنی آنکھیں کھولی
کل رات تو بڑا کہہ رہی تھی یہ میرا کمرہ ہے میرا بیڈ ہے وغیرہ وغیرہ۔سکندر تاسف سے اُس کو پیٹھ کو گھورنے لگا
رات گئ بات گئ اب دروازے کھولے پھوپھو انتظار میں ہیں۔آئرہ اتنا کہتی بلینکٹ تان کر سوگئ جب کی پھوپھو لفظ پہ سکندر ہاتھ سر پہ مارتا جلدی سے بیڈ سے اُٹھ کھڑا ہوا۔
السلام علیکم امی۔سکندر نے دروازہ کھولا تو عبیر کو دیکھ کر سلام کیا۔
وعلیکم السلام آئرہ اُٹھ گئ ہے تو اُس کو کہو تیار ہوکر باہر آجائے معصومہ اور خالہ جان آنے والی ہیں سب نے ساتھ ناشتہ کرنا ہے۔عبیر نے مسکراکر کہا
آپ خود کہے یہ تو قسم کھاکر پیدا ہوئی ہیں دُنیا اِدھر سے اُدھر ہوجائے پر شوہر کی بات نہیں ماننی۔سکندر عبیر کو آنے کا راستہ دیتا خود واشروم کی جانب چلاگیا جب کی عبیر اُس کی بات پہ گھور کر رہ گئ۔
آئرہ
آئرہ
اُٹھ جاؤ بیٹا سب گھروالے آتے ہی ہوگے جلدی سے تیار ہوجاؤ۔عبیر آئرہ کو آواز دیتی اُٹھانے لگی۔
پھوپھو یار میں نے سونا ہے۔آئرہ اُس کی گود میں سر رکھتی بولی
خالہ جان حماد فرشتے عماد معصومہ زوہا ابراہیم ارسل یہ سب آنے والے ہیں اِن کے جانے کے بعد سوجانا پر ابھی اُٹھو شاباش تیار ہوجاؤ۔عبیر اُس کی بات سن کر مسکراکر سب کے نام بتاکر بولی۔
اچھا آپ کہتی ہیں تو اُٹھ جاتی ہوں۔آئرہ اُٹھ کر انگڑائی لیتی بولی۔
بڑا احسان ہے تمہارا۔واشروم سے باہر نکلتا سکندر اُس کی بات سن کر طنزیہ کرنے سے باز نہیں آیا۔
سکندر۔عبیر نے ٹوکا
پھوپھو میں نہانے جارہی ہوں۔آئرہ کھاجانے والی نظروں سے سکندر کو دیکھتی واشروم میں گُھس گئ۔
آرام سے بات کرتے ہیں۔آئرہ کے جانے کے بعد عبیر نے اُس کو سمجھایا۔
ایک رات میں جو اُس نے میرے دماغ کا کچومر بنایا ہے نہ آپ سوچ بھی نہیں سکتی میرا کیا حال ہوا ہے۔سکندر دُہائی دینے والے انداز میں بولا
کچومر؟یہ کیسی لینگویج یوز کرنے ہے ہو تم۔عبیر سکندر کی بات پہ ہنس پڑی کیونکہ ایسا پہلی بار ہوا تھا جو سکندر نے ایسے ورڈز یوز کیا ہوا۔
آپ کی بھتیجی کا اثر ہے اُس کی وجہ سے میری لینگویج بدل گئ ہے دیکھئے گا وہ دن بھی دور نہیں جب آپ لوگ مجھے پاگل خانے چھوڑ آئے گے۔سکندر اپنی خجالت مٹاتا سارا الزام آئرہ پہ ڈال کر بولا
اچھا اب فضول مت بولو نیچے آجاؤ تیار ہوکر۔عبیر اُس کو ہدایت دیتی باہر نکل گئ۔
میں پانچ منٹ میں آیا۔سکندر خود پہ پرفیوم اسپرے کرکے بولا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم امی جان۔سب لوگ پہنچ گئے تھے آئرہ تیار ہوکر باہر آئی تو معصومہ سے گرمجوشی سے مل کر سلام کرنے لگی۔
وعلیکم السلام ماشاءاللہ ایک دن میں ہی سُدھر گئ ہو۔معصومہ کی بات پہ آئرہ کا منہ بن گیا
آپ کیسی ہیں نانو۔آئرہ سوہا کی طرف آکر بولی
میں ٹھیک تم بتاؤ۔سوہا اُس کے سر پہ پیار کرتی محبت سے بولی
میں آپ کے سامنے۔آئرہ نے اپنی طرف اِشارہ کیے شوخ لہجے میں کہا پھر حماد فرشتے اور باقی سب سے ملنے لگی۔
ہم بھی کھڑے ہیں راہ انتظار میں۔زوہا نے اپنی موجودگی کا احساس کروانا ضروری سمجھا کیونکہ آئرہ اُس کے علاوہ سب سے مل چُکی تھی۔
ہائے میری بہنا تم کب بنوں گی دُلہنیاں۔آئرہ زوہا کے پاس آتی اُس کو زور سے گلے لگاتی شرارت سے بولی
جب تمہارے چار سے پانچ بچے ہوگے۔زوہا نے مسکراہٹ دبائے کہا
تمہارے منہ میں خاک۔آئرہ بدک کے اُس سے دور ہوئی۔
اگر ملنا ملانا ہوگیا ہو تو ناشتہ کرے۔تبریز جو بیزاری سے سب کا ملن دیکھ رہا تھا اب جب برداشت سے باہر ہوا تو بول پڑا۔
تبریز۔عبیر نے آہستہ آواز میں اُس کو ٹوکنے لگی۔
کیا تبریز کل رات ایک بجے تک سب ساتھ تھے اب ایسے مل رہے ہیں جیسے جانے کتنے سالوں کے بچھڑے ہوئے ہو۔تبریز اُس کو گھور کر بولا تو عبیر نے خاموش ہونے میں عافیت سمجھی۔جب کی تبریز کے بلکل پاس کھڑا سکندر جو جانے کس کو میسج کررہا تھا اپنے باپ کی بات پہ اُس کی ہنسی نکل گئ۔
سکندر جیجو آپ کا کیا خیال ہے ایجوکیشن کے بارے میں مطلب آپ نے اپنی بیوی کے طور پہ کیا امیجن کیا تھا کے وہ کسی ہو؟سب لوگ ناشتے کی ٹیبل پہ بیٹھے تو زوہا ایک نظر آئرہ پہ ڈال کر سنجیدگی کا مظاہرہ کیے سکندر سے پوچھنے لگی۔
ایجوکیشن کے بارے میں کیا کہوں بس اتنا کہوں گا ہر ایک کے لیے ضروری ہے اور رہی بات میں نے اپنی بیوی کے طور پہ کیا امیجن کیا تھا اُس کو تو رہنے ہی دو۔سکندر سر جھٹک کر بولتا آملیٹ کھانے لگا اُس بات سے انجان کے اُس کے آخری جُملے عماد کو کافی ناگوار گُزرے تھے۔
اچھا ٹھیک پر آپ کو آئرہ کے پڑھنے سے کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا؟زوہا آہستہ آہستہ اپنے مطلب کی بات پہ آنے لگی۔
مجھے کیا اعتراض ہونا ہے میں خود چاہوں گا آئرہ اپنی پڑھائی پوری کرے۔سکندر عام لہجے میں بولا۔جوس پیتی آئرہ کو زندگی میں پہلی بار جوس کا ٹیسٹ کڑوا لگا۔
اِن دونوں کا بس نہیں چل رہا تعلیم کو اپنی خوراک بنادے بھلا ناشتے کے وقت پڑھائی کی باتیں کون کرتا ہے اچھا بھلا ناشتے کا مزہ خراب کردیا۔ہاتھ میں پکڑے گلاس پہ اپنی انگلیاں پِھیرتی آئرہ تپ کے سوچنے لگی۔
پھر تو آپ کو واقع اعتراض نہیں ہوگا اگر آئرہ پڑھائی کے سلسلے میں کہی باہر جائے تو۔زوہا کی اِس بات پہ آئرہ کو اپنے آس پاس خطرے کی گھنٹیاں بجتی سُنائی دی۔
میں نے سوچ لیا ہے میں ایل ایل بی کروں گی۔
دماغ میں اپنے کہے الفاظ آئے تو یکدم اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی۔
آؤ زوہا میں تمہیں اپنا کمرہ دِکھاؤ۔آئرہ زبردستی مسکراہٹ چہرے پہ سجائے بولی
میں نے پورہ گھر دیکھا ہوا ہے تم بیٹھو ناشتہ کرو۔زوہا شیطانی مسکراہٹ اُس کی طرف اُچھال کر بولی۔
آئرہ نے کہا جانا ہے؟سکندر نے سلسلہ کلام وہی سے جاری کیا۔
دراصل آئرہ ایل ایل بی کرنا چاہتی ہے۔زوہا کی بات پہ پانی پیتے تبریز کو زبردستی قسم کا اچھو لگا۔
آرام سے۔تبریز کو کھانستا دیکھ کر عبیر اپنی جگہ سے اُٹھتی اُس کی پیٹھ سہلانے لگی کھانسنے کی وجہ سے اُس کی رنگت پل بھر میں سرخ ہوگئ تھی جس پہ سب کی نظریں تبریز پہ اٹک گئ تھی۔
کھانسی کا دورہ تو مجھے پڑنا چاہیے تھا پھوپھاں جان کو کیوں پڑا؟آئرہ تبریز کو دیکھتی خود سے بڑبڑاتی پانی پینے لگی تاکہ زوہا کی بات ہضم ہوسکے۔
آئرہ ایل ایل بی کا فل فارم تو بتانا۔تبریز کی حالت ٹھیک ہوئی تو اُس نے آئرہ سے سوال کیا جس کی سٹی گم ہوگئ تھی۔
ایل ایل بی کا فل فارم امی بتائے گی اُن کو زیادہ نالیج ہے۔آئرہ نے خود کے نشانے پہ پڑی بندوق کا رخ معصومہ کی جانب کیا۔
جی بتائے۔تبریز سنجیدگی کا مظاہرہ کرتا معصومہ کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا جو کچا چبانے والی نظروں سے آئرہ کو دیکھ رہی تھی۔
یہ صبح صبح کیا پڑھائی کا ذکر شروع کیا ہے خاموشی سے ناشتہ کرو سب اللہ کو کھانے کے درمیان بات کرنا پسند نہیں۔معصومہ نے خوبصورتی سے بات بدلنی چاہی جس پہ حماد داد دیتی نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا۔
لگتا ہے تمہیں بھی اُس کا فل فارم پتا نہیں۔تبریز نے مسکراکر طنزیہ کیا۔
Bachelor of Legislative law
اتنا بھی مشکل نہیں جو کسی کو آتا نہ ہو ہر بار میری بیوی یا بیٹی کا امتحان لینا ضروری نہیں وہ کسی جاہل خاندان سے تعلق نہیں رکھتی۔ناشتے سے ہاتھ اُٹھاتا عماد نے سپاٹ انداز میں بتایا۔
تمہاری آنکھوں میں لگے یہ خوبصورت گلاسس اُس بات کے گواہ ہیں کے تم کِتابی کیڑا رہے ہو۔تبریز نے عماد کو چِڑتا دیکھا تو مزید چڑایا
بلکل ویسے جیسے تمہاری عمر اِس بات کی گواہ ہے کے تم نے میڈیکل کے پانچ سال مر مر کے پاس کیے ہیں۔عماد نے بڑی چلاکی سے ایک ہی بار میں سارے حساب بے باک کیے جس پہ تبریز کی شکل دیکھنے لائق تھی۔
آئرہ زوہا ارسل ابراہیم یہ چاروں دلچسپ نظروں سے اُن کو ایک دوسرے پہ گولا باری کرتا دیکھ رہیں تھی فرشتے نے کوئی خاص ری ایکٹ نہیں کیا کیونکہ اب تک اُس کو اِن سب کی عادت ہوگئ تھی جب کی سکندر گہری سانس بھر کر رہ گیا اُس کو یہ بات تو سمجھ آگئ تھی جب بھی پورا خاندان جمع ہوتا ایک دوسرے پہ جب تک طنزیہ کے تیر نہ چلائے اُن کا کھانا پینا ہضم نہیں ہوتا.
اب ہمیں چلنا چاہیے۔عماد اُٹھ کھڑا ہوا تو سوہا اور معصومہ یہ سب بھی اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑے ہوئے۔
کجھ دیر بیٹھتے۔عبیر نے آہستہ آواز میں کہا
مجھے کسی ضروری کام سے جانا تھا۔عماد نے کہا۔
اچھا۔عبیر نے بس اتنا کہا
تم چلوں گی آئرہ ساتھ؟عماد نے آئرہ سے پوچھا
ہاں کیوں نہیں۔آئرہ فورن سے اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔
آرام سے۔ابراہیم نے اُس کی پُھرتی دیکھ کر کہا
کل ولیمے سے پہلے آجائے گی۔عماد نے عبیر سے کہا تو اُس نے سر کو ہاں میں جنبش دی۔
میں گاڑی میں انتظار کررہا ہوں تم سب آجانا۔عماد معصومہ کو دیکھ کر کہتا باہر نکل گیا سکندر نے اُس کو جاتا دیکھا تو پیچھے گیا۔
ماما جان۔سکندر نے آواز دی
ہاں کہوں کیا کوئی بات کرنی ہے؟عماد رُک کر سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا۔
سوری اگر آپ کو میری کوئی بات بُری لگی ہو تو۔سکندر نے کہا
سوری کی کوئی بات نہیں پر سب کے سامنے یہ جتانا نہیں چاہیے کے تمہاری جس سے شادی ہوئی ہے وہ تمہاری ان چاہی بیوی ہے۔عماد نے سنجیدگی سے کہا تو سکندر کو شرمندگی نے آ گھیرا
میرا وہ مطلب نہیں تھا۔سکندر نے وضاحت کرنا چاہی۔
جو بھی مطلب تھا اگر تمہیں اِس شادی سے اعتراض تھا تو عبیر کے پاس جانے کے بجائے میرے پاس آتے میری بیٹی مجھ پہ بوجھ نہیں تھی جو زبردستی تمہارے ساتھ باندھ دیتا۔عماد نے کہا
ایسی بات نہیں ماما جان میں بس سوچنے کے لیے وقت چاہتا تھا آئرہ امچیور ہے میں تبھی شادی کے حق میں نہیں تھا پر میں آپ کو یقین دلاتا ہوں آئرہ کو خوش رکھوں گا۔سکندر نے کہا
تمہیں اُس کو خوش رکھنا بھی چاہیے بیوی ہے وہ تمہاری۔عماد نے مسکراکر اُس کا کندھا تھپتھپایا۔











منہ دیکھائی میں کیا ملا؟ گھر آکر آئرہ سیدھا اپنے کمرے میں آئی تھی تبھی زوہا اُس کے پیچھے آتی تجسس بھرے لہجے میں پوچھنے لگی۔
منہ دیکھائی مطلب؟آئرہ ناسمجھی سے زوہا کو دیکھنے لگی
ڈونٹ ٹیل می آئرہ کے تمہیں منہ دیکھائی کا نہیں پتا کیونکہ میں یقین نہیں کروں گی منہ دیکھائی کا تو ہر ایک کو پتا ہوتا ہے زیادہ تر لڑکیاں تو منہ دیکھائی کی وجہ سے شادی کرتی ہیں۔زوہا حیران نظروں سے آئرہ کو دیکھ کر بولی
نہیں مجھے سچ میں نہیں پتا منہ دیکھائی کا وہ کیا ہوتی ہے اور مجھے کس نے دینا تھا کیا دینا تھا۔آئرہ گود میں رکھا تکیہ دور کرتی زوہا کے قریب ہوئی۔
پہلے تم یہ بتاؤ کل رات تم نے اور سکندر بھائی نے کیا کیا؟زوہا نے پوچھا
یہ تم کجھ پرسنل نہیں ہورہی؟آئرہ نے آئبرو اُپر کرکے گھور کر سوال کیا۔
واہ جی واہ یہ معلوم ہوگیا کے میں پرسنل ہو رہی ہوں پر تمہیں یہ نہیں پتا کے منہ دیکھائی کیا ہوتی ہے۔زوہا نے میٹھا سا طنزیہ کیا۔
یار زوہا فضول مت بکو یہ بتاؤ منہ دیکھائی کیا ہوتی ہے۔آئرہ نے تنگ آکر کہا
منہ دیکھائی ہر بِیوی کا حق ہوتی ہے جو شوہر شادی کی پہلی رات اپنی بیوی کا چہرہ دیکھ کر دیتا ہے چاہے پھر وہ انگھوٹی ہو بریسلیٹ ہو کجھ بھی ہوسکتا ہے۔زوہا نے بتایا
ہر کوئی ہر ایک کو دیتا ہے؟آئرہ نے کنفرم کرنا چاہا
ہاں۔زوہا نے کہا
انہوں نے مجھے نہیں دیا وہ میرا حق کھاگئے میں ابھی جاتی ہوں اور اُن کا گریبان پکڑتی ہوں وہ آخر میرے ساتھ ایسے کیسا کرسکتے ہیں میری شکل دیکھائی کیسے کھاسکتے ہیں۔آئرہ زوہا کی بات سن کر جوش میں آکر بیڈ سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔
بے وقوف شکل دیکھائی نہیں منہ دیکھائی۔زوہا نے اُس کی عقل پہ ماتم کیا۔
شکل چہرہ فیس اور منہ ایک ہی ہے الگ الگ تھوڑی ہے۔آئرہ نے اُلٹا اُس کی عقل پہ ماتم کیا۔
اچھا اب سکون سے بیٹھو کیا پتا کل ولیمے کے بعد دے آج اُن کو یاد نہ ہو۔زوہا نے اُس کو بیٹھانا چاہا
وہ بڑے چلاک ہیں مجھ سے ذکر تک نہیں کیا وہ میری معصومیت کا فائدہ اُٹھارہے تھے پر میں بھی آئرہ ہوں شکل سے بس معصوم ہو ورنہ دماغ تو شیطان کی ٹکر کا ہے میں ابھی جاتی ہوں اور پوچھتی ہوں۔آئرہ اُس کی بات سُنے بنا بولی
ابھی جاؤں گی تو سب سوال کرینگے کے اچانک کیوں جارہی ہو۔زوہا نے کہا
تو میں بتادوں گی میرے امیر شوہر اور غریب دل والے شوہر نے شکل دیکھائی نہیں دی۔آئرہ نے جواب دیا۔
منہ دیکھائی۔زوہا نے دانت پیس کر کہا
جو بھی ہے ملی تو نہیں نہ مجھے۔آئرہ اتنی کہتی کمرے سے باہر نکل گئ۔
یااللہ اِس کو عقل دے۔زوہا بیڈ پہ گِرنے والے انداز میں لیٹتی دعا کرنے لگی۔







ارے آئرہ تم واپس آگئ۔عبیر کچن سے تبریز اور سکندر کے لیے کافی لا رہی تھی جب اُس نے آئرہ کو آتا دیکھا تو حیرانی سے کہا۔
کس کے ساتھ آئی ہو؟سکندر اور تبریز بھی متوجہ ہوئے۔
آپ تو مجھ سے بات ہی مت کرے۔آئرہ نے منہ بناکر کہا
آئرہ ایسے بات نہیں کرتے۔عبیر نے ٹوکا
پھپھو جان آپ کو پتا ہے کل سکندر بھائی نے مجھے میرا حق نہیں دیا۔آئرہ کی بات پہ وہ تینوں سٹپٹاگئے۔
میری کافی کمرے میں بھیجنا۔تبریز عبیر سے اتنا کہتا وہاں سے چلاگیا جب کی سکندر آنکھیں پھاڑ کر آئرہ کو دیکھنے لگا۔
آئرہ پہلے تو آپ بھائی لفظ استعمال مت شکلوں اور سب کے سامنے ایسی بات نہیں کرتے۔عبیر نے زبردستی مسکراکر بولی
میرے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے انہوں نے مجھے شکل دیکھائی نہیں وہ کیا کہتے ہیں۔آئرہ اتنا کہتی سوچنے لگی۔
چہرہ دیکھائی ہاں وہ منہ دیکھائی مجھے نہیں دی جو میرا حق تھا مجھے چاہیے منہ دیکھائی آپ کہے اِن سے۔آئرہ کی بات پہ ساری بات سمجھ آنے پہ سکندر اور عبیر کی اٹکی سانس بحال ہوئی۔
تو ایسا بولوں نہ منہ دیکھائی نہیں دی سکندر کیوں نہیں دی آئرہ کو۔عبیر آئرہ سے کہتی سکندر سے مخاطب ہوئی۔
بھول گیا تھا۔سکندر تیکھی نظر آئرہ پہ ڈال کر بولا
جو بھی اب آئرہ کو ساتھ لے جاؤ اور پسند کا تحفہ لیکر دو۔عبیر نے حکیمہ انداز میں کہا تو سکندر نے سر اثبات میں ہلایا دوسری طرف آئرہ کا چہرہ کِھل اُٹھا۔
